Back to Mishkat Al-Masabih

Virtues

كتاب المناقب

Chapter 29

Hadith 6259
sahih
وَعَن جَابر قا ل: كَانَ عُمَرُ يَقُولُ: أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا يَعْنِي بِلَالًا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ فرمایا کرتے تھے : ہمارے سردار ابوبکر ؓ نے ہمارے سردار یعنی بلال ؓ کو آزاد کیا ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 6260
sahih
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ بِلَالًا قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِنَفْسِكَ فَأَمْسِكْنِي وَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِلَّهِ فَدَعْنِي وَعمل الله. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

قیس بن ابی حازم ؓ سے روایت ہے کہ بلال ؓ نے ابوبکر ؓ سے کہا : اگر تو آپ نے مجھے اپنی ذات کے لیے خریدا ہے تو پھر آپ مجھے روک رکھیں ، اور اگر آپ نے مجھے اللہ کی خاطر خریدا ہے تو پھر مجھے چھوڑ دیں اور اللہ کے راستے میں عمل کرنے دیں ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 6261
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ إِنِّي مَجْهُودٌ فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ وَقُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «من يضيفه وي» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ قَالَتْ لَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي قَالَ فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ وَنَوِّمِيهِمْ فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَرِيهِ أَنا نَأْكُل فَإِذا أَهْوى لِيَأْكُلَ فَقُومِي إِلَى السِّرَاجِ كَيْ تُصْلِحِيهِ فَأَطْفِئِيهِ فَفعلت فقعدوا وَأكل الضَّيْف فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ أَوْ ضَحِكَ اللَّهُ مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانَةٍ» وَفِي رِوَايَةٍ مِثْلَهُ وَلَمْ يُسَمِّ أَبَا طَلْحَةَ وَفِي آخِرِهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى [وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ] مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، مجھے شدید بھوک لگی ہوئی ہے ، چنانچہ آپ نے اپنی کسی زوجہ محترمہ کے پاس پیغام بھیجا تو انہوں نے عرض کیا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ! میرے پاس تو صرف پانی ہے پھر آپ نے دوسری محترمہ کے پاس پیغام بھیجا تو اس نے بھی اسی طرح کہا ، اور تمام ازواج مطہرات نے یہی جواب دیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو اس کی مہمان نوازی کرے گا اللہ اس پر رحم فرمائے گا ۔‘‘ انصار میں سے ابوطلحہ نامی ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول میں ، وہ اسے اپنے گھر لے گئے اور اپنی اہلیہ سے فرمایا : کیا تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کوئی چیز ہے ؟ اس نے کہا : صرف میرے بچوں کے لیے کھانا ہے ، انہوں نے فرمایا : کسی چیز کے ذریعے انہیں دلاسا دے کر سلا دو ۔ جب ہمارا مہمان داخل ہو تو اسے ظاہر کرنا کہ ہم کھا رہے ہیں ، جب وہ کھانے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھائے تو چراغ درست کرنے کے بہانے اسے بجھا دینا ، چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا ، وہ بیٹھ گئے ، مہمان نے کھانا کھا لیا اور ان دونوں (میاں بیوی) نے بھوکے رہ کر رات بسر کی ، جب صبح کے وقت وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے فلاں مرد اور فلاں عورت (کے ایثار) پر تعجب فرمایا ، یا اللہ ان دونوں پر ہنس پڑا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے : آپ نے ابوطلحہ کا نام نہیں لیا ، اور اس روایت کے آخر میں ہے : اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ وہ اپنی جانوں پر دوسرے کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود بھی ضرورت ہوتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6262
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ هَذَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟» فَأَقُولُ: فُلَانٌ. فَيَقُولُ: «نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا» وَيَقُولُ: «مَنْ هَذَا؟» فَأَقُولُ: فُلَانٌ. فَيَقُولُ: «بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا» حَتَّى مَرَّ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» فَقُلْتُ: خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ. فَقَالَ: «نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفٌ مِنْ سيوف الله» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو لوگ ادھر ادھر پھرنے لگے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے :’’ ابوہریرہ ! یہ کون ہے ؟‘‘ میں عرض کرتا : فلاں ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے :’’ یہ اللہ کا بندہ اچھا ہے ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پوچھتے :’’ یہ کون ہے ؟‘‘ میں عرض کرتا : فلاں ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے :’’ یہ اللہ کا بندہ برا ہے ۔‘‘ حتیٰ کہ خالد بن ولید گزرے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ کون ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : خالد بن ولید ؓ ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کا بندہ خالد بن ولید اچھا ہے ، وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6263
sahih
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَتْبَاعٌ وَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاكَ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا منا فَدَعَا بِهِ رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، انصار نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! ہر نبی کے پیروکار ہوتے ہیں ، ہم نے بھی آپ کی اتباع کی ہے ، آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہمارے متبعین کو ہم میں شریک فرما دے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی دعا فرمائی ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 6264
sahih
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ مَا نَعْلَمُ حَيًّا مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ أَكْثَرَ شَهِيدًا أَعَزَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْأَنْصَارِ. قَالَ: وَقَالَ أَنَسٌ: قُتِلَ مِنْهُمْ يَوْمَ أُحُدٍ سَبْعُونَ وَيَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ سَبْعُونَ وَيَوْمَ الْيَمَامَةِ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ سَبْعُونَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم قبائل عرب میں سے کوئی ایسا قبیلہ نہیں جانتے جس کے شہداء کی تعداد انصار سے زیادہ ہو ، روز قیامت سب سے زیادہ معزز قبیلہ انصار کا قبیلہ ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، انس ؓ نے فرمایا : غزوۂ احد میں ان کے ستر آدمی شہید ہوئے ، بئرمعونہ کے واقعہ میں ستر شہید ہوئے ، اور ابوبکر ؓ کے عہد میں یمامہ کی لڑائی میں ستر شہید ہوئے ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 6265
sahih
وَعَن قيس بن حَازِم قَالَ: كَانَ عَطَاءُ الْبَدْرِيِّينَ خَمْسَةُ آلَافٍ. وَقَالَ عُمَرُ: لَأُفَضِّلَنَّهُمْ على مَنْ بَعدَهم. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

قیس بن ابی حازم ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام کا وظیفہ پانچ پانچ ہزار تھا ، اور عمر ؓ نے فرمایا : میں ان کو ان کے بعد والوں پر فضیلت دوں گا ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 6266
sahih
عَن عمر بن الْخطاب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ: أُوَيْسٌ لَا يَدَعُ بِالْيَمَنِ غَيْرَ أُمٍّ لَهُ قَدْ كَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَدَعَا اللَّهَ فَأَذْهَبَهُ إِلَّا مَوْضِعَ الدِّينَارِ أَوِ الدِّرْهَمِ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُولُ: إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: أُويس وَله والدةٌ وَكَانَ بِهِ بَيَاض فَمُرُوهُ فليستغفر لكم . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یمن سے اویس نامی شخص تمہارے پاس آئے گا ، وہ یمن میں صرف اپنی والدہ کو چھوڑ آئے گا ، اسے برص تھا ، اس نے اللہ سے دعا کی تو اس نے دینار یا درہم کے برابر جگہ کے علاوہ اس مرض کو ختم کر دیا ، جو شخص اس سے ملاقات کرے تو وہ تمہارے لیے اس سے دعائے مغفرت کی درخواست کرے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے ، فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تابعین میں سے سب سے بہتر شخص اویس ہے ، اس کی والدہ ہے ، اسے برص کا مرض تھا ، تم اس سے درخواست کرنا کہ وہ تمہارے لیے دعائے مغفرت کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 6267
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَاكُم أهلُ الْيمن هم أَرقُّ أفئدَةً وَأَلْيَنُ قُلُوبًا الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أهل الْغنم» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابوہریرہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یمن والے تمہارے پاس آئے ہیں ، وہ رقیق القلب اور نرم دل ہیں ، ایمان یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمن والوں کی ہے ، فخر و غرور اونٹ والوں میں ہوتا ہے جبکہ سکینت و وقار بکری والوں میں ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6268
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ» مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کفر کا سرچشمہ مشرق میں ہے ، فخر و غرور گھوڑے والوں ، اونٹ والوں اور جاگیر داروں جو اونٹ کے بالوں سے بنے ہوئے خیموں میں رہتے ہیں ان میں ہوتا ہے ، اور سکینت بکری والوں میں ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6269
sahih
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنْ هَهُنَا جَاءَتِ الْفِتَنُ - نَحْوَ الْمَشْرِقِ - وَالْجَفَاءُ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

ابومسعود انصاری ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس طرف یعنی مشرق کی طرف سے فتنے نمودار ہوں گے ، جفا اور سخت دلی جنگل میں رہنے والے خیمہ نشینوں ربیعہ اور مضر (قبیلوں) سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں میں ہو گی جو اونٹوں اور بیلوں کی دموں کے پیچھے چل رہے ہوں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6270
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي الْمَشْرِقِ وَالْإِيمَانُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دلوں کی سختی اور جفا مشرق والوں میں ہے ، اور ایمان اہل حجاز میں ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 6271
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفِي نَجْدِنَا؟ فَأَظُنُّهُ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِهَا يَطْلُعُ قرن الشَّيْطَان» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! ہمارے شام میں برکت فرما ، اے اللہ ! ہمارے یمن میں برکت فرما ۔‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہمارے نجد میں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! ہمارے شام میں برکت فرما ، اے اللہ ! ہمارے یمن میں برکت فرما ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہمارے نجد میں ، میرا خیال ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا :’’ وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے اور شیطان کا سینگ وہیں سے طلوع ہو گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 6272
sahih
عَنْ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ قِبَلَ الْيَمَنِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ وَبَارِكْ لَنَا فِي صاعِنا ومُدِّنا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

انس ؓ زید بن ثابت ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یمن کی طرف دیکھا تو فرمایا :’’ اے اللہ ! ان کے دلوں کو (ہماری طرف) متوجہ فرما ، اور ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت فرما ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6273
sahih
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طُوبَى لِلشَّامِ» قُلْنَا: لِأَيٍّ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لِأَنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهَا» رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
Urdu

زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شام کے لیے خوشحالی ہے ۔‘‘ ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ کس وجہ سے ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیونکہ رحمن کے فرشتے اس پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔

Hadith 6274
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتَخْرُجُ نَارٌ مِنْ نَحْوِ حَضْرَمَوْتَ أَوْ مِنْ حَضْرَمَوْتَ تَحْشُرُ النَّاسَ» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرنَا؟ قَالَ: «عَلَيْكُم بِالشَّام» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حضرموت کی طرف سے یا حضرموت سے آگ نکلے گی وہ لوگوں کو اکٹھا کرے گی ۔‘‘ ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم شام کی راہ اختیار کرنا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6275
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ فَخِيَارُ النَّاسِ إِلَى مُهَاجَرِ إِبْرَاهِيمَ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَخِيَارُ أَهْلِ الْأَرْضِ أَلْزَمُهُمْ مُهَاجَرَ إِبْرَاهِيمَ وَيَبْقَى فِي الْأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا تَلْفِظُهُمْ أَرَضُوهُمْ تَقْذَرُهُمْ نَفْسُ الله تَحْشُرهُمْ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ تَبِيتُ مَعَهُمْ إِذَا بَاتُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ إِذَا قَالُوا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہو گی ، بہترین لوگ وہ ہوں گے جو ابراہیم ؑ کی جگہ (شام) کی طرف ہجرت کریں گے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ زمین والوں میں سے سب سے بہتر لوگ وہ ہوں گے جن کے زیادہ تر لوگ ابراہیم ؑ کی جائے ہجرت (شام) کی طرف ہجرت کریں گے ، اور زمین پر بدترین لوگ رہ جائیں گے ، ان کی اراضی انہیں پھینک دیں گی ، اللہ انہیں ناپسند فرمائے گا ، آگ انہیں بندروں اور خنزیروں کے ساتھ اکٹھا کرے گی وہ (آگ) ان کے ساتھ رات بسر کرے گی ، جب وہ رات بسر کریں گے ، اور جب وہ قیلولہ کریں گے تو وہ ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 6276
sahih
عَن ابْنِ حَوَالَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «سيصير الْأَمر إِلَى أَنْ تَكُونُوا جُنُودًا مُجَنَّدَةً جُنْدٌ بِالشَّامِ وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ» . فَقَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ. فَقَالَ: «عَلَيْك بِالشَّامِ فَإِنَّهَا خِيَرَةُ اللَّهِ مِنْ أَرْضِهِ يَجْتَبِي إِلَيْهَا خِيَرَتَهُ مِنْ عِبَادِهِ فَأَمَّا إِنْ أَبَيْتُمْ فَعَلَيْكُمْ بِيَمَنِكُمْ وَاسْقُوا مِنْ غُدَرِكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ تَوَكَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

ابن حوالہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عنقریب امر (امر اسلام یا امر قتال) اس طرح ہو گا کہ تم لشکروں کا مجموعہ ہو گے ، ایک لشکر شام میں ہو گا ، ایک لشکر یمن میں اور ایک لشکر عراق میں ۔‘‘ ابن حوالہ ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اگر میں یہ صورت حال پا لوں تو آپ میرے لیے کسی لشکر کا انتخاب فرما دیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم شام کے لشکر کو لازم پکڑنا ، کیونکہ وہ اللہ کی سرزمین میں ایک پسندیدہ خطہ ہے اور وہ اپنے پسندیدہ بندوں کو اس کی طرف لائے گا ، ہاں اگر تم وہاں نہ جاؤ تو پھر تم یمن کا رخ کرنا اور اپنے حوضوں سے سیراب ہونا کیونکہ اللہ عزوجل نے شام اور اہل شام کی محافظت کی مجھے ضمانت دی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

Hadith 6277
sahih
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: ذُكِرَ أَهْلُ الشَّام عِنْد عليٍّ [رَضِي الله عَنهُ] وَقِيلَ الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: لَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ رَجُلًا يُسْقَى بِهِمُ الْغَيْثُ وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الأعداءِ وَيصرف عَن أهل الشَّام بهم الْعَذَاب»
Urdu

شریح بن عبید ؒ بیان کرتے ہیں ، علی ؓ کے پاس اہل شام کا ذکر کیا گیا اور عرض کیا گیا ، امیر المومنین ! ان پر لعنت بھیجیں ، انہوں نے فرمایا : نہیں ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ابدال شام میں ہوں گے ، اور وہ چالیس افراد ہیں جب ایک آدمی فوت ہو جائے گا تو اللہ اس کی جگہ دوسرے آدمی کو لے آئے گا ، ان کی وجہ سے بارش برستی ہے ، ان کے ذریعے دشمنوں سے بدلہ لیا جاتا ہے اور ان کی وجہ سے شام سے عذاب دور کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 6278
sahih
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَتُفْتَحُ الشَّامُ فإِذا خُيِّرْتم المنازلَ فِيهَا فَعَلَيْكُم بِمَدِينَة يُقَال لَهُ دِمَشْقُ فَإِنَّهَا مَعْقِلُ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْمَلَاحِمِ وَفُسْطَاطُهَا مِنْهَا أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا: الْغُوطَةُ . رَوَاهُمَا أَحْمَدُ
Urdu

صحابہ ؓ میں سے ایک آدمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سرزمین شام فتح ہو گی ، اگر تمہیں وہاں کسی جگہ کو پسند کرنے کا اختیار دیا جائے تو پھر دمشق نامی جگہ کو پسند کرنا ، کیونکہ وہ حرب و قتال سے مسلمانوں کی جائے پناہ ہے اور اس کا بڑا شہر ہے ، وہاں ایک جگہ ہے جسے الغوطہ کہا جاتا ہے ۔‘‘ دونوں احادیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد ۔