Back to Mishkat Al-Masabih

Virtues

كتاب المناقب

Chapter 29

Hadith 6239
sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ وَلَا أَوْفَى مِنْ أَبِي ذَرٍّ شِبْهِ عِيسَى بن مَرْيَم» يَعْنِي فِي الزّهْد. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ كَالْحَاسِدِ: يَا رَسُولَ الله أفتعرف ذَلِك لَهُ؟ قَالَ: «نعم فَاعْرِفُوهُ لَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: حَدِيث حسن غَرِيب
Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آسمان تلے روئے زمین پر ابوذر ؓ سے زیادہ راست گو اور عہد وفا کرنے والا اور زہد میں عیسیٰ بن مریم ؑ سے زیادہ مشابہ کوئی نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6240
sahih
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ: الْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةٍ: عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَعِنْدَ سَلْمَانَ وَعِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ الَّذِي كَانَ يَهُودِيّا فَأسلم فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهُ عَاشِرُ عَشَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے ، جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا : چار اشخاص سے علم حاصل کرو ، عویمر ابودرداء سلمان ، ابن مسعود اور عبداللہ بن سلام سے اور عبداللہ بن سلام ؓ یہودی تھے ، پھر اسلام قبول کیا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آپ دس جنتیوں میں سے دسویں ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6241
sahih
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اسْتَخْلَفْتَ؟ قَالَ: «إِنِ اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْكُمْ فَعَصَيْتُمُوهُ عُذِّبْتُمْ وَلَكِنْ مَا حَدَّثَكُمْ حُذَيْفَةُ فَصَدِّقُوهُ وَمَا أقرأكم عبد الله فاقرؤوه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر آپ خلیفہ مقرر فرما دیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر میں نے تم پر خلیفہ مقرر کر دیا اور تم نے اس کی نافرمانی کی تو تم عذاب میں مبتلا ہو جاؤ گے ، لیکن حذیفہ جو تمہیں بتائیں اس کی تصدیق کرو اور عبداللہ جو تمہیں پڑھائیں اسے پڑھو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6242
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ تُدْرِكُهُ الْفِتْنَةُ إِلَّا أَنَا أَخَافُهَا عَلَيْهِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْلَمَةَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَضُرُّكَ الْفِتْنَةُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، محمد بن مسلمہ ؓ کے علاوہ ہر شخص کے متعلق اندیشہ ہے کہ اسے فتنہ نقصان پہنچائے گا ، لیکن ان کے متعلق کوئی اندیشہ نہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ فتنہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 6243
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَيْتِ الزُّبَيْرِ مِصْبَاحًا فَقَالَ: «يَا عَائِشَة ماأرى أَسْمَاءَ إِلَّا قَدْ نُفِسَتْ وَلَا تُسَمُّوهُ حَتَّى أُسَمِّيَهُ» فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ بِيَدِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زبیر ؓ کے گھر میں چراغ جلتا ہوا دیکھا تو فرمایا :’’ عائشہ ! میرا خیال ہے کہ اسماء کے ہاں ولادت ہوئی ہے ، تم اس بچے کا نام نہ رکھنا ، اس کا نام میں خود رکھوں گا ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس (بچے) کا نام عبداللہ رکھا اور اپنے ہاتھ سے کھجور کے ساتھ اسے گھٹی دی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6244
sahih
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

عبد الرحمن بن ابی عمیرہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے معاویہ ؓ کے متعلق فرمایا :’’ اے اللہ ! اسے ہادی اور ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعے ہدایت نصیب فرما ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6245
sahih
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمَ النَّاسُ وآمن عَمْرو بنُ الْعَاصِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وقا ل: هَذَا حَدِيث غَرِيب وَلَيْسَ إِسْنَاده بِالْقَوِيّ
Urdu

عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں نے اسلام قبول کیا اور عمرو بن عاص ایمان لائے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اس کی اسناد قوی نہیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6246
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا جَابِرُ مَا لي أَرَاك منكسراً» قلت يَا رَسُول الله اسْتشْهد أبي قتل يَوْم أحد وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا قَالَ أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِي الله بِهِ أَبَاك قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حجاب وَأَحْيَا أَبَاك فَكَلمهُ كفاحا فَقَالَ يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ قَالَ يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً قَالَ الرَّبُّ عز وَجل إِنَّه قد سبق مني أَنهم إِلَيْهَا لَا يرجعُونَ قَالَ وأنزلت هَذِهِ الْآيَةِ [وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا] الْآيَة. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے ملاقات کی تو فرمایا :’’ جابر ! کیا بات ہے کہ میں تمہیں مغموم دیکھ رہا ہوں ؟‘‘ میں نے عرض کیا : میرے والد شہید ہو گئے ہیں اور انہوں نے بچے اور قرض چھوڑا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں اس چیز کے متعلق خوشخبری نہ سناؤں جس کے ساتھ اللہ نے تیرے والد سے ملاقات فرمائی ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، ضرور اللہ کے رسول ! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے جس سے بھی کلام فرمایا ، پس پردہ کلام فرمایا ، اور تیرے والد کو زندہ کیا تو اس سے حجاب کے بغیر کلام فرمایا ، فرمایا : میرے بندے ! تمنا کر ، میں تجھے عطا کروں گا ۔ انہوں نے عرض کیا : رب جی ! تو مجھے زندہ فرما تا کہ میں تیری خاظر دوبارہ شہید کر دیا جاؤں ، رب تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : میری طرف سے فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ واپس نہیں جائیں گے ۔‘‘ تب یہ آیت نازل ہوئی :’’ اللہ کی راہ میں شہید ہو جانے والوں کو مردہ مت کہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6247
sahih
وَعنهُ قا ل: اسْتَغْفَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خمْسا وَعشْرين مرّة. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے لیے پچیس مرتبہ مغفرت طلب کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6248
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمْ مِنْ أَشْعَثَ أَغْبَرَ ذِي طِمْرَيْنِ لَا يَؤُبَّهُ لَهُ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ مِنْهُمُ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ» رواء التِّرْمِذِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّة
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کتنے ہی لوگ ہیں جو پراگندہ بال ہیں ، غبار آلود ہیں ان پر دو بوسیدہ کپڑے ہیں ، ان کی کوئی وقعت نہیں ہوتی لیکن اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا لیں تو وہ اسے پوری فرما دیتا ہے ، براء بن مالک بھی انہی میں سے ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

Hadith 6249
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا إِنَّ عَيْبَتِيَ الَّتِي آوِي إِلَيْهَا أَهْلُ بَيْتِي وَإِنَّ كَرِشِيَ الأنصارُ فاعفوا عَن مسيئهم واقبلوا من مُحْسِنِهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ
Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سن لو ! میرے اہل بیت میرے خاص ہیں جہاں میں پناہ لیتا ہوں ، اور میرے راز دان انصار ہیں ، ان کے خطاکاروں سے درگزر کرو اور ان کے نیکوکاروں سے (عذر) قبول کرو ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6250
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ أَحَدٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص انصار سے دشمنی نہیں رکھے گا ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6251
sahih
وَعَن أنس وَأبي طَلْحَةَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ مَا علمت أَعِفَّةٌ صُبُرٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

انس ؓ ، ابوطلحہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا :’’ اپنی قوم کو سلام کہو ، کیونکہ وہ سوال کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور لڑائی کے وقت صبر کرتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6252
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو حَاطِبًا إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّار فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كذبت لَا يدخلهَا فَإِنَّهُ شهد بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَة» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

جابر ؓ سے روایت ہے کہ حاطب ؓ کا غلام نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے آپ سے حاطب کی شکایت کرتے ہوئے کہا : اللہ کے رسول ! حاطب جہنم میں جائے گا ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تو جھوٹ کہتا ہے ، وہ اس میں داخل نہیں ہو گا ۔ کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 6253
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: [وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أمثالكم] قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَكَرَ اللَّهُ إِنْ تَوَلَّيْنَا اسْتُبْدِلُوا بِنَا ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَنَا؟ فَضَرَبَ عَلَى فَخِذِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ثُمَّ قَالَ: «هَذَا وَقَوْمُهُ وَلَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنَ الْفُرْسِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اگر تم پھر گئے تو اللہ تمہاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا ، پھر وہ تمہاری مانند نہیں ہوں گے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ کون لوگ ہیں جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے کہ اگر ہم پھر گئے تو وہ ہماری جگہ آ جائیں گے اور وہ ہماری طرح نہیں ہوں گے ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلمان فارسی ؓ کی ران پر ہاتھ مار کر فرمایا :’’ یہ اور ان کی قوم ، اگر دین ثریا پر بھی ہوا تو فارسی لوگ اسے حاصل کر لیں گے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6254
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: ذُكِرَتِ الْأَعَاجِمُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنَا بِهِمْ أَوْ بِبَعْضِهِمْ أَوْثَقُ مِنِّي بِكُمْ أَوْ بِبَعْضِكُمْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس عجمیوں کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں ان پر یا ان کے بعض لوگوں پر تم سے یا تمہارے بعض لوگوں سے زیادہ اعتماد کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6255
sahih
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ رُقَبَاءَ وَأُعْطِيْتُ أَنَا أَرْبَعَةَ عشرَة قُلْنَا: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: أَنَا وَابْنَايَ وَجَعْفَرٌ وَحَمْزَةُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَبِلَالٌ وَسَلْمَانُ وَعَمَّارٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأَبُو ذَر والمقداد. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر نبی کے سات برگزیدہ نگہبان ہوتے ہیں ، جبکہ مجھے چودہ عطا کیے گئے ہیں ، ہم نے عرض کیا ، وہ کون ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں اور میرے دو بیٹے (حسن و حسین ؓ) ، جعفر ، حمزہ ، ابوبکر ، عمر ، مصعب بن عمیر ، بلال ، سلمان ، عمار ، عبداللہ بن مسعود ، ابوذر اور مقداد ؓ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6256
sahih
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ كَلَامٌ فَأَغْلَظْتُ لَهُ فِي الْقَوْلِ فَانْطَلَقَ عَمَّارٌ يَشْكُونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ خَالِدٌ وَهُوَ يشكوه إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجَعَلَ يُغْلِظُ لَهُ وَلَا يَزِيدُهُ إِلَّا غِلْظَةً وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ فَبَكَى عَمَّارٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرَاهُ؟ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَسَهُ وَقَالَ: «مَنْ عَادَى عَمَّارًا عَادَاهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللَّهُ» . قَالَ خَالِدٌ: فَخَرَجْتُ فَمَا كَانَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ من رضى عمار فَلَقِيته بِمَا رَضِي فَرضِي
Urdu

خالد بن ولید ؓ بیان کرتے ہیں ، میرے اور عمار بن یاسر ؓ کے درمیان کسی معاملہ میں مکالمہ ہو گیا تو میں نے ان سے سخت لہجے میں بات کی تو عمار ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میری شکایت لگانے چلے گئے ، خالد ؓ آئے تو عمار ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خالد ؓ کی شکایت کر رہے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں ، خالد ؓ ان سے سخت لہجے میں بات کرنے لگے اور اس سختی میں اضافہ ہوتا چلا گیا جبکہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہیں کوئی بات نہیں کر رہے ، (اس پر) عمار ؓ رو پڑے اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ انہیں دیکھ نہیں رہے ؟ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھا کر فرمایا :’’ جس نے عمار سے عداوت رکھی اللہ اس سے عداوت رکھے گا اور جو شخص عمار سے بغض رکھے گا تو اللہ اس سے بغض رکھے گا ۔‘‘ خالد ؓ بیان کرتے ہیں میں وہاں سے نکلا تو عمار ؓ کی رضا مندی کے سوا مجھے کوئی چیز زیادہ محبوب نہیں تھی ۔ میں نے انہیں راضی کرنے کی کوشش کی حتیٰ کہ وہ راضی ہو گئے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔

Hadith 6257
sahih
وَعَن أبي عُبَيدةَ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَالِدٌ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَنِعْمَ فَتَى الْعَشِيرَةِ» . رَوَاهُمَا أَحْمد
Urdu

ابوعبیدہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ خالد اللہ عزوجل کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں ، اور اپنے قبیلے کے اچھے نوجوان ہیں ۔‘‘ دونوں احادیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 6258
sahih
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَمرنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ» . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِمْ لَنَا قَالَ: «عَلِيٌّ مِنْهُمْ» يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثًا «وَأَبُو ذَرٍّ وَالْمِقْدَادُ وَسَلْمَانُ أَمرنِي بحبِّهم وَأَخْبرنِي أَنه يحبُّهم» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
Urdu

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تبارک و تعالیٰ نے چار اشخاص سے محبت کرنے کا مجھے حکم فرمایا ہے ، اور اس نے مجھے بتایا کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ہمیں ان کے نام بتا دیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ علی ان میں سے ہیں ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار ان کا نام لیا ،’’ (باقی) ابوذر ، مقداد اور سلمان ہیں ، اس نے مجھے ان سے محبت کرنے کا حکم فرمایا ہے اور اس نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔