Back to Mishkat Al-Masabih

Virtues

كتاب المناقب

Chapter 29

Hadith 6159
sahih
وَعنهُ أَنه رأى جِبْرِيل مَرَّتَيْنِ وَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مرَّتَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے جبریل کو دو مرتبہ دیکھا ہے ۔ نیز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے حق میں دو مرتبہ دعا فرمائی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6160
sahih
وَعَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: دَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤْتِيَنِي اللَّهُ الْحِكْمَة مرَّتَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو مرتبہ ان کے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ مجھے حکمت عطا فرمائے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6161
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ جَعْفَرٌ يُحِبُّ الْمَسَاكِينَ وَيَجْلِسُ إِلَيْهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُحَدِّثُونَهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَنِّيهِ بِأَبِي الْمَسَاكِين. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جعفر ؓ مساکین سے محبت کیا کرتے تھے ، ان کے ہاں بیٹھا کرتے تھے اور وہ ان سے بات چیت کیا کرتے تھے ۔ اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی کنیت ’’ابوالمساکین‘‘ رکھی تھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6162
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ جَعْفَرًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلَائِكَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6163
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شباب أهل الْجنَّة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حسن و حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6164
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَيَّ مِنَ الدُّنْيَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَدْ سبَق فِي الْفَصْل الأول
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حسن و حسین دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔‘‘ ترمذی ۔ یہ حدیث فصل اول میں بھی گزر چکی ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6165
sahih
وَعَن أسامةَ بنِ زيدٍ قَالَ: طَرَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى شَيْء وَلَا أَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي قُلْتُ: مَا هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ؟ فَكَشَفَهُ فَإِذَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى وَرِكَيْهِ. فَقَالَ: «هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِي اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فأحبهما وَأحب من يحبهما» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک رات کسی ضرورت کے تحت میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے تو آپ کسی چیز کو چھپائے ہوئے تھے ، میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا چیز تھی ؟ جب میں اپنے کام سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا : آپ نے یہ کیا چیز چھپا رکھی ہے ؟ آپ نے کپڑا اٹھایا تو آپ کے دونوں کولہوں پر حسن و حسین ؓ تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ دونوں میرے بیٹے ہیں ، اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں ، اے اللہ ! میں انہیں محبوب رکھتا ہوں ، تو بھی ان سے محبت فرما ، اور ان سے محبت رکھنے والے سے بھی محبت فرما ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6166
sahih
وَعَنْ سَلْمَى قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَهِي تبْكي فَقلت: مَا بيكيك؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَعْنِي فِي الْمَنَامِ - وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

سلمی بیان کرتی ہیں کہ میں ام سلمہ ؓ کے پاس گئی تو وہ رو رہی تھیں ، میں نے کہا : آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے خواب میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو آپ کے سر مبارک اور داڑھی پر مٹی تھی ۔ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ کا کیا حال ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں ابھی ابھی حسین کی شہادت کے واقعہ میں حاضر ہوا تھا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6167
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَي بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ» وَكَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ: «ادْعِي لِي ابْنَيَّ» فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا گیا ، آپ کے اہل بیت میں سے کون سا شخص آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حسن و حسین ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فاطمہ ؓ سے فرمایا کرتے تھے :’’ میرے بیٹوں کو بلاؤ ۔‘‘ آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے گلے سے لگاتے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6168
sahih
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «صَدَقَ اللَّهُ [إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ] نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
Urdu

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں خطاب فرما رہے تھے کہ اچانک حسن و حسین ؓ آئے ، انہوں نے سرخ قمیصیں پہن رکھی تھیں ، وہ چلتے اور گر پڑتے تھے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر سے اترے ، انہیں اٹھایا اور انہیں اپنے سامنے بٹھایا ، پھر فرمایا :’’ اللہ نے سچ فرمایا :’’ تمہارے اموال و اولاد باعث فتنہ ہیں ۔‘‘ میں نے ان دو بچوں کو چلتے اور گرتے ہوئے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا حتیٰ کہ میں نے اپنی بات کاٹ کر انہیں اٹھا لیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 6169
sahih
وَعَن يعلى بن مرَّة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا حُسَيْنٌ سِبَطٌ مِنَ الأسباط» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

یعلی بن مرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ، جو شخص حسین سے محبت کرتا ہے تو اللہ اس سے محبت کرے اور حسین میری اولاد سے ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6170
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: الْحَسَنُ أَشْبَهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَل من ذَلِك. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

علی ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : حسن ؓ سینے سے لے کر سر تک رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں جبکہ حسین ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس سے نچلے حصے سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6171
sahih
وَعَن حُذَيْفَة قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّي: دَعِينِي آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّي مَعَهُ الْمَغْرِبَ وَأَسْأَلُهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهُ فَسَمِعَ صَوْتِي فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟ حُذَيْفَةُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «مَا حَاجَتُكَ؟ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكِ إِنَّ هَذَا مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلِ الْأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ وَيُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اپنی والدہ سے کہا : مجھے چھوڑ دیں کہ میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے ساتھ نماز مغرب ادا کروں ، اور آپ سے درخواست کروں کہ آپ تمہارے لیے اور میرے لیے دعائے مغفرت فرمائیں ، میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ کے ساتھ نماز مغرب ادا کی ، آپ (نفل) نماز پڑھتے رہے حتیٰ کہ آپ نے نماز عشاء ادا کی ، پھر آپ واپس گھر جانے لگے تو میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے چل دیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری آواز سنی تو فرمایا :’’ کون ہے ؟ کیا حذیفہ ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تمہاری اور تمہاری والدہ کی مغفرت فرمائے ، کیا کام ہے ؟ (پھر فرمایا) یہ ایک فرشتہ ہے ، جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا ، اس نے اپنے رب سے اجازت طلب کی کہ وہ مجھے سلام کرے اور مجھے بشارت سنائے کہ فاطمہ اہل جنت کی خواتین کی سردار ہیں ۔ اور حسن و حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6172
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلًا الْحَسَنَ بْنَ عليٍّ على عَاتِقه فَقَالَ رَجُلٌ: نِعْمَ الْمَرْكَبُ رَكِبْتَ يَا غُلَامُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَنِعْمَ الرَّاكِبُ هُوَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حسن بن علی ؓ کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو کسی آدمی نے کہا : اے لڑکے ! کیا خوب سواری ہے جس پر تو سوار ہے ! نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سوار بھی کیا خوب ہے !‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6173
sahih
وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ فَرَضَ لِأُسَامَةَ فِي ثَلَاثَةِ آلَافٍ وَخَمْسِمِائَةٍ وَفَرَضَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي ثَلَاثَةِ آلَافٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِأَبِيهِ: لِمَ فَضَّلْتَ أُسَامَة عَليّ؟ فو الله مَا سَبَقَنِي إِلَى مَشْهَدٍ. قَالَ: لِأَنَّ زَيْدًا كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبِيكَ وَكَانَ أُسَامَةُ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ فَآثَرْتُ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حبي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسامہ ؓ کے لیے ساڑھے تین ہزار وظیفہ مقرر کیا ، اور (اپنے بیٹے) عبداللہ بن عمر ؓ کے لیے تین ہزار وظیفہ مقرر فرمایا تو عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنے والد سے عرض کیا : آپ نے اسامہ ؓ کو مجھ پر کیوں فوقیت دی ہے ؟ اللہ کی قسم ! انہوں نے کسی معرکے میں مجھ سے سبقت حاصل نہیں کی ۔ انہوں نے فرمایا : اس لیے کہ زید ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تمہارے والد سے زیادہ محبوب تھے ، اور اسامہ ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تم سے زیادہ محبوب تھے لہذا میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے محبوب کو اپنے محبوب پر ترجیح دی ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6174
sahih
وَعَن جبلة بن حارثةَ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ مَعِي أَخِي زَيْدًا. قَالَ: «هُوَ ذَا فَإِنِ انْطَلَقَ مَعَكَ لَمْ أَمْنَعْهُ» قَالَ زَيْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَا أَخْتَارُ عَلَيْكَ أَحَدًا. قَالَ: فَرَأَيْتُ رَأْيَ أَخِي أَفْضَلَ مِنْ رَأْيِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

جبلہ بن حارثہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرے بھائی زید کو میرے ساتھ بھیج دیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ حاضر ہے ، اگر وہ تمارے ساتھ جانا چاہے تو میں اسے منع نہیں کروں گا ۔‘‘ زید ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں آپ پر کسی کو ترجیح نہیں دیتا ۔ انہوں نے کہا : میں نے اپنے بھائی کی رائے کو اپنی رائے سے افضل پایا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6175
sahih
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَبَطْتُ وَهَبَطَ النَّاسُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُصْمِتَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ عَليّ يَدَيْهِ وَيَرْفَعُهُمَا فَأَعْرِفُ أَنَّهُ يَدْعُو لِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، کہ جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (بیماری کی وجہ سے) ضعیف ہو گئے تو میں نے اور صحابہ کرام نے مدینہ میں رہائش اختیار کر لی ، چنانچہ میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ خاموش تھے اور کسی سے کوئی بات نہیں کر رہے تھے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھ پر اپنے ہاتھ مبارک رکھتے اور انہیں اٹھا لیتے میں نے جان لیا کہ آپ میرے لیے دعا کر رہے ہیں ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6176
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَحِّي مُخَاطَ أُسَامَةَ. قَالَتْ عَائِشَةُ: دَعْنِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَفْعَلُ. قَالَ: «يَا عَائِشَةُ أَحِبِّيهِ فَإِنِّي أُحِبُّهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسامہ ؓ کی ناک صاف کرنا چاہی تو عائشہ ؓ نے عرض کیا : مجھے اجازت فرمائیں میں صاف کر دیتی ہوں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عائشہ اس سے محبت کیا کرو کیونکہ اس سے میں محبت کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6177
sahih
وَعَن أُسَامَة قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِذْ جَاءَ عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يستأذنان فَقَالَا لِأُسَامَةَ: اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ الله عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ يَسْتَأْذِنَانِ. فَقَالَ: «أَتَدْرِي مَا جَاءَ بهما؟» قلت: لَا. قَالَ: «لكني أَدْرِي فَأذن لَهما» فدخلا فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ أَيُّ أَهْلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ» فَقَالَا: مَا جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَهْلِكَ قَالَ: أَحَبُّ أَهْلِي إِلَيَّ مَنْ قَدْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتُ عَلَيْهِ: أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَا: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ» فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلْتَ عَمَّكَ آخِرَهُمْ؟ قَالَ: «إِنَّ عَلِيًّا سَبَقَكَ بِالْهِجْرَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَذَكَرَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ فِي «كتاب الزَّكَاة»
Urdu

اسامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں (باب رسالت پر) بیٹھا ہوا تھا کہ علی اور عباس ؓ اجازت طلب کرنے کے لیے تشریف لائے تو انہوں نے اسامہ ؓ سے فرمایا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ہمیں اجازت لے دیں ، میں نے (اندر جا کر) عرض کیا ، اللہ کے رسول ! علی اور عباس ؓ اندر آنے کی اجازت طلب کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ وہ کیوں آئے ہیں ؟ میں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لیکن میں جانتا ہوں ، ان دونوں کو اجازت دے دو ۔‘‘ وہ دونوں اندر آئے تو عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم آپ کی خدمت میں یہ دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ کو اپنے اہل خانہ میں سے کس سے زیادہ محبت ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ فاطمہ بنت محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم آپ کی خدمت میں آپ کے اہل خانہ کے متعلق پوچھنے نہیں آئے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میرے اہل (یعنی مردوں) میں سے وہ شخص مجھے زیادہ محبوب ہے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اور میں نے انعام کیا ، اسامہ بن زید ؓ ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، پھر کون ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پھر علی بن ابی طالب ؓ ۔‘‘ عباس ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے اپنے چچا کو ان سے مؤخر کر دیا ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس لیے کہ علی ؓ نے آپ سے پہلے ہجرت کی ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور یہ بات :’’ آدمی کا چچا اس کے والد کی مانند ہوتا ہے ۔‘‘ کتاب الزکوۃ میں گزر چکی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6178
sahih
عَن عقبةَ بن الْحَارِث قَالَ: صَلَّى أَبُو بَكْرٍ الْعَصْرَ ثُمَّ خَرَجَ يَمْشِي وَمَعَهُ عَلِيٌّ فَرَأَى الْحَسَنَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَحَمَلَهُ عَلَى عَاتِقِهِ. وَقَالَ: بِأَبِي شَبِيهٌ بِالنَّبِيِّ لَيْسَ شَبِيهًا بِعَلِيٍّ وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
Urdu

عقبہ بن حارث ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ نے نماز عصر پڑھی ، پھر باہر نکلے تو علی ؓ بھی ان کے ساتھ چل رہے تھے ، ابوبکر ؓ نے حسن ؓ کو بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوا دیکھا تو انہیں اپنے کندھے پر اٹھا لیا ، اور فرمایا : میرے والد قربان ہوں ، اس کی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت ہے ، علی ؓ سے مشابہت نہیں ، (یہ بات سن کر) علی ؓ مسکرا دیئے ۔ رواہ البخاری ۔