ابن ماجہ ؒ نے اسے سعید بن زید ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
انس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت میں سے میری امت پر سب سے زیادہ مہربان ابوبکر ہیں ، اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں ، ان میں سے سب سے زیادہ با حیا عثمان ہیں ، علم میراث کے سب سے بڑے عالم زید بن ثابت ہیں ، سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں ، حلال و حرام کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھنے والے معاذ بن جبل ہیں ، اور ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔ اور معمر سے قتادہ کی سند سے مرسل روایت ہے ، اور اس میں ہے : قضا میں سب سے زیادہ عالم علی ؓ ہیں ۔‘‘
زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوۂ احد کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو زرہیں پہنی ہوئی تھیں ، آپ ایک چٹان کی طرف متوجہ ہوئے لیکن آپ اس پر چڑھ نہ سکے تو طلحہ ؓ آپ کے نیچے بیٹھ گئے حتیٰ کہ آپ اس چٹان پر پہنچ گئے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ طلحہ نے (جنت کو) واجب کر لیا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طلحہ بن عبیداللہ ؓ کی طرف دیکھا تو فرمایا :’’ جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ روئے زمین پر چلتے ہوئے ایسے شخص کو دیکھے جو اپنا عہد نبھا چکا تو وہ اس شخص کو دیکھ لے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جو شخص روئے زمین پر چلتے پھرتے شہید کو دیکھنا چاہے تو وہ طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو دیکھ لے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میرے کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ طلحہ اور زبیر جنت میں میرے ہمسائے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احد کے موقع پر فرمایا :’’ اے اللہ ! اس (سعد ؓ) کو تیر اندازی میں قوی بنا اور اس کی دعا قبول فرما ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! سعد جب تجھ سے دعا کرے تو تو اس کی دعا قبول فرما ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف سعد ؓ کے لیے اپنے والدین کو (فدا ہونے پر) اکٹھا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احد کے موقع پر انہیں فرمایا :’’ میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں تیر اندازی کرو ۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ قوی نوجوان ! تیر پھینکو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، سعد ؓ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ میرے ماموں ہیں ، کوئی مجھے ان جیسا اپنا ماموں دکھائے ۔‘‘ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : سعد ؓ بنو زہرہ قبیلے سے تھے ، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ محترمہ بھی بنو زہرہ قبیلے سے تھیں ، اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ میرے ماموں ہیں ۔‘‘ اور مصابیح میں ((فَلْیُرِنِیْ)) کے بجائے : ((فَلْیُکْرِمَنَّ)) کے الفاظ ہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
قیس بن ابی حازم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو فرماتے ہوئے سنا : میں عرب میں سب سے پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر اندازی کی ، اور ہماری یہ حالت تھی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے تھے اور ہمارا کھانا کیکر کا پھل اور کیکر کے پتے ہوتے تھے ، اور ہم میں سے ہر شخص بکری کی طرح اجابت (مینگنیاں) کیا کرتا تھا وہ (خشک ہونے کی وجہ سے) ایک دوسری کے ساتھ جڑی ہوئی نہیں ہوتی تھیں ، پھر یہ وقت آیا کہ بنو اسد میرے اسلام کے متعلق مجھ پر نکتہ چینی کرتے ہیں ، اگر ایسے ہو تو میں نامراد ہوا اور میرے عمل برباد ہو گئے ، اور وہ (بنو اسد) ان (سعد ؓ) کے متعلق عمر ؓ سے شکایت کیا کرتے تھے اور وہ یہ کہ وہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں جانتا ہوں کہ اسلام قبول کرنے والا میں تیسرا شخص ہوں ، جس دن میں نے اسلام قبول کیا اسی روز دوسرے بھی اسلام میں داخل ہوئے ، اور میں سات دن تک اسی حالت میں رہا کہ میں اسلام قبول کرنے والا تیسرا شخص ہوں ۔ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ازواج مطہرات سے فرمایا کرتے تھے :’’ میں اپنے بعد تمہارے بارے میں بہت فکر مند ہوں ، صبر کرنے والے اور صدیقین ہی ان مشکل معاملات میں تمہارا ساتھ دیں گے ۔‘‘ عائشہ ؓ نے فرمایا : یعنی صدقہ کرنے والے ، پھر عائشہ ؓ نے ابوسلمہ بن عبد الرحمن ؓ سے فرمایا : اللہ تمہارے والد کو جنت کے چشمے سلسبیل سے پلائے ، اور ابن عوف ؓ نے امہات المومنین کے لیے ایک باغ وقف کیا تھا جو چالیس ہزار میں فروخت کیا گیا تھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی ازواج مطہرات سے فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص میرے بعد تم پر خرچ کرے گا تو وہ شخص سچا اور احسان کرنے والا ہے ، اے اللہ ! عبد الرحمن بن عوف کو جنت کے چشمے سلسبیل سے جام پلا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نجران والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کسی امین شخص کو ہماری طرف مبعوث فرمانا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں تمہاری طرف ایسے امین شخص کو بھیجوں گا جو کہ حقیقی معنی میں امین ہو گا ۔‘‘ صحابہ کرام ؓ اس (امارت) کے خواہش مند تھے ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ نے ابوعبیدہ بن جراح کو بھیجا ۔ متفق علیہ ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ہم آپ کے بعد کسے خلیفہ مقرر فرمائیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم ابوبکر کو امیر بنا لو تو تم انہیں امین ، دنیا سے بے رغبتی رکھنے والا اور آخرت سے رغبت رکھنے والا پاؤ گے ۔ اور اگر تم عمر کو امیر مقرر کرو گے تو تم انہیں قوی امین پاؤ گے ، وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہیں ہوتے ۔ اور اگر تم علی کو امیر بناؤ گے ، حالانکہ میں نہیں سمجھتا کہ تم انہیں بناؤ گے ، تو تم انہیں ہادی اور ہدایت یافتہ پاؤ گے ، وہ تمہیں صراط مستقیم پر چلائیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے ، انہوں نے اپنی بیٹی سے میری شادی کی ، دار ہجرت کی طرف مجھے اٹھا کر (اپنے اونٹ پر سوار کر کے) لے گئے ، غار میں میرے ساتھ رہے ، اور اپنے مال سے بلال کو آزاد کرایا ۔ اور عمر پر رحم فرمائے ، وہ حق فرماتے ہیں خواہ وہ کڑوا ہو ، حق گوئی نے انہیں تنہا چھوڑ دیا اس لیے ان کا کوئی دوست نہیں ، اللہ عثمان پر رحم فرمائے ، فرشتے بھی ان سے حیا کرتے ہیں ، اللہ علی پر رحم فرمائے ، اے اللہ ! وہ جہاں بھی جائیں حق ان کے ساتھ ہی رہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، جب یہ آیت (نَدْعُ اَبْنَاءَ نَا وَ اَبْنَاءَ کُمْ) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین ؓ کو بلایا اور فرمایا :’’ اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اس وقت آپ پر کالے بالوں سے بنی ہوئی نقش دار چادر تھی ، اس دوران حسن بن علی ؓ تشریف لائے تو آپ نے انہیں اپنے ساتھ اس (چادر) میں داخل فرما لیا ، پھر حسین ؓ آئے تو آپ نے انہیں بھی داخل فرما لیا ، پھر فاطمہ ؓ آئیں تو آپ نے انہیں بھی داخل فرما لیا ، پھر علی ؓ تشریف لائے تو آپ نے انہیں بھی داخل فرما لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اللہ صرف یہی چاہتا ہے ، اے اہل بیت ! کہ وہ تم سے گناہ کی گندگی دور فرما دے اور تمہیں مکمل طور پر پاک صاف کر دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لخت جگر ابراہیم فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ان کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات ؓ آپ کی خدمت میں حاضر تھیں ، فاطمہ ؓ آئیں ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گئیں ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا :’’ پیاری بیٹی ! خوش آمدید ۔‘‘ پھر آپ نے انہیں بٹھا لیا ، پھر ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ بہت زیادہ رونے لگیں ، جب آپ نے ان کا غم دیکھا تو آپ نے دوسری مرتبہ ان سے سرگوشی فرمائی وہ ہنس دیں ، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں نے فاطمہ ؓ سے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارے ساتھ کیا سرگوشی فرمائی ؟ انہوں نے فرمایا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز کو افشاں نہیں کروں گی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تو میں نے کہا : میرا آپ پر جو حق ہے اس حوالے سے میں آپ کو قسم دے کر پوچھتی ہوں کیا آپ مجھے نہیں بتائیں گی ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ! اب ٹھیک ہے ، جہاں تک اس پہلی سرگوشی کا تعلق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا کہ ’’ جبریل ؑ ہر سال مجھ سے ایک مرتبہ قرآن کا دور کیا کرتے تھے جبکہ اس سال انہوں نے دو مرتبہ دور کیا ہے ، اور میں سمجھتا ہوں کہ وقت پورا ہو چکا ہے ، تم اللہ سے ڈرتی رہنا اور صبر کرنا ، اور میں تمہارے لیے بہترین کارواں ہوں ۔‘‘ لیکن جب آپ نے میری گھبراہٹ دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری مرتبہ سرگوشی کی اور فرمایا :’’ فاطمہ ! کیا تم اس پر خوش نہیں کہ تم اہل جنت کی خواتین یا مومنوں کی خواتین کی سردار ہوں گی ؟‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے سرگوشی کی تو مجھے بتایا کہ اسی تکلیف میں ان کی روح قبض کی جائے گی تو اس پر میں رو پڑی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے سرگوشی کی تو مجھے بتایا کہ آپ کے اہل بیت میں سے سب سے پہلے میں آپ کے پیچھے آؤں گی ، تو اس پر میں ہنس پڑی ۔ متفق علیہ ۔