Back to Mishkat Al-Masabih

Virtues

كتاب المناقب

Chapter 29

Hadith 6079
sahih
وَعَنْ أَبِي سَهْلَةَ قَالَ: قَالَ لِي عُثْمَانُ يَوْمَ الدَّارِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
Urdu

ابوسہلہ ؓ بیان کرتے ہیں ، عثمان ؓ نے محاصرے کے دن مجھے فرمایا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا اور اس پر میں قائم ہوں ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6080
sahih
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُرِيدُ حَجَّ الْبَيْتِ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا: هَؤُلَاءِ قُرَيْشٌ. قَالَ فَمَنِ الشَّيْخُ فِيهِمْ؟ قَالُوا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ. قَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ فَحَدِّثْنِي: هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ وَلَمْ يَشْهَدْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ؟ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: تَعَالَ أُبَيِّنْ لَك أما فِراره يَوْم أُحد فأشهدُ أَن اللَّهَ عَفَا عَنْهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيضَةً فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ» . وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَان وَكَانَت بَيْعةُ الرضْوَان بعدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى: «هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ» فَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ وَقَالَ: «هَذِه لعُثْمَان» . فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: اذْهَبْ بِهَا الْآنَ مَعَكَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

عثمان بن عبداللہ بن موہب ؒ بیان کرتے ہیں ، اہل مصر سے ایک آدمی حج کے ارادے سے آیا تو اس نے کچھ لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھ کر کہا : یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ قریشی ہیں ، اس نے کہا : ان میں الشیخ (معتبر عالم) کون ہے ؟ انہوں نے کہا : عبداللہ بن عمر ؓ ، اس آدمی نے کہا : ابن عمر ! میں تم سے کسی چیز کے متعلق سوال کرتا ہوں ، مجھے بتائیں ، کیا آپ جانتے ہیں کہ عثمان ؓ غزوۂ احد میں فرار ہو گئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، اس نے کہا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ غزوۂ بدر میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، اس نے کہا : کیا آپ جانتے ہیں کہ بیعت رضوان کے موقع پر بھی وہ موجود نہیں تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، اس نے کہا : اللہ اکبر : ابن عمر ؓ نے فرمایا : آؤ میں تمہیں واضح کرتا ہوں ، رہا ان کا غزوۂ احد سے فرار ہونا تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ نے انہیں معاف فرما دیا ہے ، رہا ان کا بدر سے غائب ہونا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی رقیہ ؓ ان کی اہلیہ تھیں اور وہ بیمار تھیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا :’’ آپ کے لیے غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے مجاہد کے برابر اجر و ثواب ہے اور اس کے برابر آپ کے لیے مال غنیمت میں سے حصہ بھی ہے ۔‘‘ رہا ان کا بیعت رضوان کے وقت موجود نہ ہونا ، تو اگر مکہ میں عثمان ؓ سے زیادہ کوئی معزز ہوتا تو آپ اسے بھیجتے ، لیکن رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عثمان ؓ کو بھیجا ، اور بیعت رضوان عثمان ؓ کے مکہ چلے جانے کے بعد ہوئی تھی ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کے متعلق فرمایا :’’ یہ عثمان کا ہاتھ ہے ۔‘‘ اور اسے اپنے ہاتھ پر مارا اور فرمایا :’’ یہ عثمان کے لیے ہے ۔‘‘ پھر ابن عمر ؓ نے فرمایا : اب یہ (جوابات) اپنے ساتھ لے جانا (اور انہیں یاد رکھنا) ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 6081
sahih
وَعَن أبي سلهة مولى عُثْمَان رَضِي الله عَنْهُمَا قَالَ: جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَى عُثْمَانَ وَلَوْنُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ فَلَمَّا كَانَ يَوْم الدَّار قُلْنَا: أَلا نُقَاتِل؟ قَالَ: لَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ أَمْرًا فَأَنَا صَابِرٌ نَفسِي عَلَيْهِ
Urdu

عثمان ؓ کے آزاد کردہ غلام ابوسہلہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عثمان ؓ سے مخفی طور پر کوئی بات کر رہے تھے ، اور عثمان ؓ کا رنگ متغیر ہو رہا تھا ، جب محاصرے کا دن تھا تو ہم نے کہا : کیا ہم لڑائی نہیں کریں گے ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں ، کیونکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک امر کی وصیت کی ہے اور میں اپنے آپ کو اس کا پابند رکھوں گا ۔ صحیح ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

Hadith 6082
sahih
وَعَن أبي حبيبةَ أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا - أَوْ قَالَ: اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً - فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنَ النَّاسِ: فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ أَوْ مَا تَأْمُرُنَا بِهِ؟ قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْأَمِيرِ وَأَصْحَابِهِ» وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي «دَلَائِل النبوَّة»
Urdu

ابو حبیبہ سے روایت ہے کہ وہ گھر میں داخل ہوئے جبکہ عثمان اس میں محصور تھے ، اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ کو سنا کہ وہ عثمان ؓ سے بات کرنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں ، انہیں اجازت مل گئی ، وہ کھڑے ہوئے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میرے بعد تم فتنہ اور اختلاف دیکھو گے ۔‘‘ یا فرمایا :’’ اختلاف اور فتنہ دیکھو گے ۔‘‘ کسی نے آپ سے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہمارے لیے کیا حکم ہے یا آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم امیر اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑو ۔‘‘ اور آپ اس (امیر) کے متعلق عثمان ؓ کی طرف اشارہ فرما رہے تھے ۔ امام بیہقی نے دونوں احادیث دلائل النبوۃ میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

Hadith 6083
sahih
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ فَقَالَ: «اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احد پہاڑ پر چڑھے ، ابوبکر و عمر اور عثمان ؓ بھی آپ کے ساتھ تھے ، اس نے حرکت کی تو آپ نے اس پر اپنا پاؤں مار کر فرمایا :’’ احد ! ٹھہر جاؤ ، تم پر ایک نبی ہے ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 6084
sahih
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» فَفَتَحْتُ لَهُ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ فَبَشَّرْتُهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» . فَفَتَحْتُ لَهُ فَإِذا هُوَ عُمَرُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ فَقَالَ لِي: «افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ» فَإِذَا عُثْمَانُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ ثمَّ قَالَ: الله الْمُسْتَعَان. مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مدینہ کے ایک باغ میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا ، ایک آدمی آیا اور اس نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کے لیے دروازہ کھول دو ، اور اسے جنت کی بشارت دو ۔‘‘ چنانچہ میں نے اس شخص کے لیے دروازہ کھول دیا تو وہ ابوبکر ؓ تھے ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان کے مطابق انہیں جنت کی بشارت سنائی تو انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی ، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے بھی دروازہ کھولنے کا کہا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کے لیے بھی دروازہ کھول دو ، اور اسے بھی جنت کی بشارت سناؤ ۔‘‘ چنانچہ میں نے اس کے لیے دروازہ کھولا تو وہ عمر ؓ تھے ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان کے مطابق انہیں بھی جنت کی بشارت سنائی تو انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی ، پھر ایک اور آدمی نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا :’’ اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے بھی جنت کی بشارت سنا دو ، ان مصائب کے بعد جن سے ان کا واسطہ پڑے گا ۔‘‘ تو وہ عثمان ؓ تھے ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان کے مطابق انہیں بتایا تو انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی ۔ پھر فرمایا : اللہ ہی سے مدد درکار ہے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 6085
sahih
عَن ابْن عمر قَالَ: كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ: أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِي الله عَنْهُم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات مبارکہ میں ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنھم کہا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6086
sahih
عَن جابرن أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُرِيَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ كَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنِيطَ عُمَرُ بِأَبِي بَكْرٍ وَنِيطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ» قَالَ جَابِرٌ: فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللَّهِ وَأَمَّا نَوْطُ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ فَهُمْ وُلَاةُ الْأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
Urdu

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ رات مجھے خواب میں ایک مرد صالح دکھایا گیا گویا وہ ابوبکر ؓ ہیں ، جو کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ معلق ہیں ، عمر ابوبکر کے ساتھ معلق ہیں ، اور عثمان عمر کے ساتھ معلق ہیں ۔‘‘ جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے اٹھے تو ہم نے کہا : مرد صالح سے مراد رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں ، اور دوسرے جو ایک دوسرے کے ساتھ معلق ہیں ، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس دین کے والی ہیں ، جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث فرمایا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 6087
sahih
عَن سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے علی ؓ سے فرمایا :’’ آپ میرے لیے ایسے ہیں جیسے موسی ؑ کے لیے ہارون ؑ تھے ، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6088
sahih
وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ: أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مؤمنٌ وَلَا بيغضني إِلَّا مُنَافِق. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

زر بن حبیش بیان کرتے ہیں ، علی ؓ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس نے دانے کو اگایا اور ہر ذی روح کو پیدا فرمایا ! نبی امی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے عہد دیا کہ مومن شخص ہی مجھ سے محبت کرے گا اور صرف منافق شخص ہی مجھ سے دشمنی رکھے گا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 6089
sahih
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهَ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ» . فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كلهم يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟» فَقَالُوا: هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ. قَالَ: «فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ» . فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ الله أقاتلهم حَتَّى يَكُونُوا مثلنَا؟ فَقَالَ: «انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِي اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَذكر حَدِيث الْبَراء قَالَ لعَلي: «أَنْت مني وَأَنا مِنْك» فِي بَاب «بُلُوغ الصَّغِير»
Urdu

سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ خیبر کے موقع پر فرمایا :’’ میں کل ایک ایسے شخص کو پرچم عطا کروں گا جس کے ہاتھوں اللہ فتح عطا فرمائے گا ، وہ شخص اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے ، اور اللہ اور اس کا رسول اسے محبوب رکھتے ہیں ۔‘‘ چنانچہ جب صبح ہوئی تو تمام لوگ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور وہ سب پرامید تھے کہ وہ (پرچم) اسے عطا کیا جائے گا ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ انہیں بلاؤ ۔‘‘ وہ آپ کے پاس لائے گئے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب لگایا تو وہ ایسے شفایاب ہوئے کہ گویا انہیں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پرچم انہیں عطا فرمایا تو علی ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا میں ان سے لڑتا رہوں حتیٰ کہ وہ ہمارے جیسے (یعنی مسلمان) ہو جائیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یونہی چلتے رہو حتیٰ کہ تم ان کے میدان میں اترو ، پھر انہیں اسلام کی دعوت پیش کرو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ کے کیا حقوق ان پر واجب ہیں ، اللہ کی قسم ! اگر تمہارے ذریعے اللہ کسی ایک آدمی کو ہدایت عطا فرما دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور براء ؓ سے مروی حدیث آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے علی ؓ سے فرمایا :’’ تو مجھ سے اور میں تم سے ہوں ‘‘ باب بلوغ الصغیر میں ذکر کی گئی ہے ۔

Hadith 6090
sahih
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ علی مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور وہ ہر مومن کے دوست ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6091
sahih
وَعَن زيد بن أَرقم أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ
Urdu

زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں جس کا دوست ہوں ، علی اس کے دوست ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔

Hadith 6092
sahih
وَعَن حبشِي بن جُنَادَة قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ وَلَا يُؤَدِّي عني إِلَّا أَنا وَعلي» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَرَوَاهُ أَحْمد عَن أبي جُنَادَة
Urdu

حُبشی بن جنادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ علی مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ، اور میری طرف سے کوئی ادائیگی نہ کرے سوائے میرے اور علی کے ۔‘‘ ترمذی ، اور امام احمد نے اسے ابوجناوہ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و احمد ۔

Hadith 6093
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ فَقَالَ: آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ وَلم تُؤاخِ بَيْنِي وَبَيْنَ أُحُدٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تو علی ؓ اشکبار آنکھوں کے ساتھ آئے اور عرض کیا : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ ؓ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ہے ، لیکن آپ نے میرے اور کسی اور کے درمیان بھائی چارہ قائم نہیں فرمایا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میرے دنیا اور آخرت میں بھائی ہو ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6094
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَيْرٌ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّيْرَ» فجَاء عَلِيٌّ فَأَكَلَ مَعَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک بھنا ہوا پرندہ تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اپنی مخلوق میں سے اپنے محبوب ترین شخص کو میرے پاس بھیج جو میرے ساتھ اس پرندے کو کھائے ۔‘‘ علی ؓ ان کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے آپ کے ساتھ تناول فرمایا ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6095
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ «حَسَنٌ غَرِيبٌ»
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی چیز طلب کرتا تو آپ مجھے عطا فرماتے اور جب میں خاموش رہتا تو آپ طلب کیے بغیر مجھے عطا فرما دیتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6096
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا دَارُ الْحِكْمَةِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَقَالَ: رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شَرِيكٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَحَدٍ مِنَ الثِّقَاتِ غَيْرَ شَرِيكٍ
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں دار حکمت ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ۔‘‘ امام ترمذی ؒ نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ، اور انہوں نے فرمایا : بعض راویوں نے اس حدیث کو شریک سے روایت کیا ہے ، اور انہوں نے اس میں عن الصنابحی کا ذکر نہیں کیا ، اور ہم شریک کے علاوہ یہ حدیث کسی ثقہ راوی سے نہیں جانتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6097
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا يَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَجَاهُ فَقَالَ النَّاسُ: لَقَدْ طَالَ نَجْوَاهُ مَعَ ابْنِ عَمِّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا انْتَجَيْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ انْتَجَاهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، طائف کے روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے علی ؓ کو بلایا اور ان سے سرگوشی فرمائی ۔ لوگوں نے کہا : آپ کی اپنے چچا زاد کے ساتھ سرگوشی طویل ہو گئی ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نے اس سے سرگوشی نہیں کی ، بلکہ اللہ نے اس سے سرگوشی کی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6098
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «يَا عَلِيُّ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُجْنِبُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرَكَ» قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ: فَقُلْتُ لِضِرَارِ بْنِ صُرَدٍ: مَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَسْتَطْرِقُهُ جُنُبًا غَيْرِي وَغَيْرَكَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے علی ؓ سے فرمایا :’’ علی ! میرے اور تمہارے سوا کسی کے لیے درست نہیں کہ وہ حالت جنابت میں اس مسجد میں سے گزرے ۔‘‘ علی بن منذر بیان کرتے ہیں ، میں نے ضرار بن صرد سے پوچھا : اس حدیث کا کیا معنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میرے اور تیرے سوا کسی کے لیے درست نہیں کہ وہ حالت جنابت میں مسجد سے راستے کا کام لے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔