Back to Mishkat Al-Masabih

Virtues

كتاب المناقب

Chapter 29

Hadith 6059
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيين وَالْمُرْسلِينَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ابوبکر اور عمر ؓ اہل جنت کے اولین و آخرین کے عمر رسیدہ لوگوں کے سردار ہوں گے البتہ انبیا ؑ اور رسول اس سے مستثنیٰ ہوں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6060
sahih
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ
Urdu

امام ابن ماجہ ؒ نے اسے علی ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔

Hadith 6061
sahih
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَا أَدْرِي مَا بَقَائِي فِيكُمْ؟ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي: أَبِي بكر وَعمر . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نہیں جانتا کہ میں تم میں کتنی دیر باقی رہوں گا ، میرے بعد تم ابوبکر اور عمر دونوں کی اقتدا کرنا ۔‘‘ حسن ، راہ الترمذی ۔

Hadith 6062
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ لَمْ يَرْفَعْ أَحَدٌ رَأْسَهُ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانَا يَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مسجد میں تشریف لاتے تو ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کے سوا کوئی اپنا سر نہ اٹھاتا وہ دونوں آپ کی طرف دیکھ کر مسکراتے اور آپ ان دونوں کی طرف دیکھ کر مسکراتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6063
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَهُوَ آخِذٌ بِأَيْدِيهِمَا. فَقَالَ: «هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (گھر سے) باہر نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے ۔ اور ابوبکر و عمر ؓ میں سے ایک آپ کے دائیں طرف تھا اور ایک آپ کے بائیں طرف تھا ، آپ ان دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت ہم اسی طرح اٹھائے جائیں گے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6064
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ: «هَذَانِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسلا
Urdu

عبداللہ بن حنطب ؒ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوبکر اور عمر ؓ کو دیکھا تو فرمایا :’’ یہ دونوں سمع و بصر (کی طرح) ہیں ۔‘‘ امام ترمذی نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6065
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
Urdu

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر نبی کے آسمان والوں سے دو وزیر ہیں اور زمین والوں سے دو وزیر ہیں ۔ آسمان والوں سے میرے دو وزیر جبریل ؑ اور میکائیل ؑ ہیں ، اور زمین والوں میں سے ابوبکر اور عمر ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6066
sahih
إِن سلم من عنعنة الْحسن الْبَصْرِيّ) وَعَن أبي بكرَة أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرَجَحْتَ أَنْتَ وَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَحَ عُمَرُ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فَسَاءَهُ ذَلِكَ. فَقَالَ: «خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا ، میں نے (خواب میں) دیکھا کہ گویا ایک ترازو آسمان سے اترا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابوبکر ؓ سے وزن کیا گیا تو آپ بھاری رہے ، ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کا وزن کیا گیا تو ابوبکر ؓ بھاری رہے ، عمر ؓ اور عثمان ؓ کا وزن کیا گیا تو عمر ؓ بھاری رہے ، پھر ترازو اٹھا لی گئی ۔ اس سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غمگین ہوئے ، یعنی اس (خواب) نے آپ کو غمگین کر دیا ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نبوت کا خلافت کی جانب اشارہ ہے ، پھر اللہ جسے چاہے گا بادشاہت عطا فرمائے گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

Hadith 6067
sahih
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» . فَاطَّلَعَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ: «يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَاطَّلَعَ عُمَرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
Urdu

ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اہل جنت میں سے ایک آدمی تمہارے پاس ظاہر ہو گا ۔‘‘ ابوبکر ؓ تشریف لائے ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اہل جنت میں سے ایک آدمی تمہارے پاس ظاہر ہو گا ۔‘‘ عمر ؓ تشریف لائے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6068
sahih
وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: بَيْنَا رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حجري لَيْلَةٍ ضَاحِيَةٍ إِذْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَكُونُ لِأَحَدٍ مِنَ الْحَسَنَاتِ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ؟ قَالَ: «نَعَمْ عُمَرُ» . قُلْتُ: فَأَيْنَ حَسَنَاتُ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَ: «إِنَّمَا جَمِيعُ حَسَنَاتِ عُمَرَ كَحَسَنَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْ حَسَنَاتِ أَبِي بَكْرٍ» رَوَاهُ رزين
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں چاندنی رات میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مبارک میری گود میں تھا کہ اچانک میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا کسی شخص کی آسمان کے ستاروں کے برابر نیکیاں ہوں گی ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، عمر ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، ابوبکر ؓ کی نیکیاں کہاں گئیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عمر کی ساری نیکیاں ، ابوبکر کی نیکیوں کے مقابلے میں ایک نیکی کی مانند ہیں ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ رزین ۔

Hadith 6069
sahih
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِهِ كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ - أَوْ سَاقَيْهِ - فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ كَذَلِكَ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَّى ثِيَابَهُ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَان فَجَلَست وسوَّيت ثِيَابك فَقَالَ: «أَلا أستحي من رجل تَسْتَحي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ؟» وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالَةِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجته» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے گھر میں لیٹے ہوئے تھے اور اس وقت آپ کی رانوں یا پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا ہوا تھا ، ابوبکر ؓ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو انہیں اجازت دے دی گئی اور آپ اسی حالت میں رہے ، انہوں نے بات چیت کی ، پھر عمر ؓ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور آپ اسی حالت میں رہے ، انہوں نے بات چیت کی ، پھر عثمان ؓ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے ، اپنے کپڑے درست کیے ، جب وہ (آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے اٹھ کر) چلے گئے تو عائشہ ؓ نے عرض کیا ، ابوبکر ؓ آئے تو آپ نے ان کی خاطر کوئی حرکت نہ کی اور نہ ان کی کوئی پرواہ کی ، پھر عمر ؓ تشریف لائے تو آپ نے ان کی خاطر کوئی حرکت کی نہ ان کی کوئی پرواہ کی ، پھر عثمان ؓ تشریف لائے تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کیے ، (کیا معاملہ ہے ؟) آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں ؟‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے : آپ نے فرمایا :’’ عثمان حیا دار شخص ہے ، مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے انہیں اسی حالت میں اندر آنے کی اجازت دے دی تو ہو سکتا ہے کہ (شرم کے مارے) وہ اپنے کسی کام کے بارے میں اپنی بات مجھے نہ پہنچا سکیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 6070
sahih
عَن طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ وَرَفِيقِي - يَعْنِي فِي الْجنَّة - عُثْمَان» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

طلحہ بن عبید اللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر نبی کا ایک رفیق (خاص) ہوتا ہے اور میرے رفیق یعنی جنت میں ، عثمان ؓ ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6071
sahih
وَرَاه ابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَهُوَ مُنْقَطع
Urdu

اور ابن ماجہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ، اور ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور اس کی سند قوی نہیں ، اور وہ منقطع ہے ۔ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔

Hadith 6072
sahih
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحُثُّ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: يَا رَسُول الله عَلَيَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ حَضَّ عَلَى الْجَيْشِ فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: عَلَيَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ حَضَّ فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: عَلَيَّ ثَلَاثُمِائَةِ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: «مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

عبد الرحمن بن خباب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ غزوۂ تبوک کے لیے آمادہ کر رہے تھے ، عثمان ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! سو اونٹ مع سازو سامان اللہ کی راہ میں میرے ذمے ہیں ، پھر آپ نے لشکر کے لیے آمادہ کیا تو عثمان ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ، اللہ کی راہ میں دو سو اونٹ مع سازو سامان میرے ذمے ہیں ، پھر آپ نے ترغیب دلائی تو عثمان ؓ کھڑے ہوئے تو عرض کیا ، اللہ کی راہ میں تین سو اونٹ میرے ذمے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر سے اترتے فرما رہے تھے :’’ عثمان ؓ نے اس کے بعد جو بھی عمل کیا اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ، عثمان ؓ اس کے بعد جو بھی عمل کرے اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6073
sahih
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ فِي كُمِّهِ حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَنَثَرَهَا فِي حِجْرِهِ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهِ وَيَقُولُ: «مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ» مرَّتَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

عبد الرحمن بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جیش العسرہ تیار فرمایا تو عثمان نے اپنی جیب میں ایک ہزار دینار لا کر آپ کی خدمت میں پیش کیے اور آپ کی گود میں ڈھیر کر دیے ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی گود میں انہیں پلٹ رہے تھے اور فرما رہے تھے :’’ عثمان نے جو بھی عمل کیا آج کے بعد وہ اس کے لیے نقصان دہ نہیں ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو مرتبہ ایسے فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔

Hadith 6074
sahih
وَعَن أنسٍ قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَبَايَعَ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن عُثْمَانَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةِ رَسُولِهِ» فَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى فَكَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ خَيْرًا من أَيْديهم لأَنْفُسِهِمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیعت رضوان کے لیے حکم فرمایا تو عثمان ؓ مکہ کی طرف رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قاصد بن کر گئے تھے ، صحابہ کرام ؓ نے بیعت کی ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بلاشبہ عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام گئے ہوئے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ ، عثمان ؓ کی خاطر ان کے اپنی ذات کی خاطر ہاتھوں سے بہتر تھا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6075
sahih
وَعَن ثُمامة بن حَزْنٍ الْقشيرِي قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ فَقَالَ: أنْشدكُمْ بِاللَّه وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرُ بِئْرِ رُومَةَ؟ فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ يَجْعَلُ دَلْوَهُ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟» فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نعم. فَقَالَ: أنْشدكُمْ بِاللَّه وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ فَيَزِيدُهَا فِي الْمَسْجِد بِخَير مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟» . فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهَا رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نعم. قَالَ: أنْشدكُمْ بِاللَّه وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ مَالِي؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكُمُ بِاللَّه وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى ثَبِيرِ مَكَّةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ حَتَّى تَسَاقَطَتْ حِجَارَتُهُ بِالْحَضِيضِ فَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ قَالَ: «اسْكُنْ ثَبِيرُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيُّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ» . قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ شَهِدُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَنِّي شَهِيدٌ ثَلَاثًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ وَالدَّارَقُطْنِيّ
Urdu

ثمامہ بن حزن قشیری ؒ بیان کرتے ہیں ، میں اس وقت گھر کے پاس تھا ، جب عثمان ؓ نے (اپنے گھر سے) جھانک کر فرمایا : میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں ، کیا تم جانتے ہو کہ جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینے تشریف لائے تو رومہ کنویں کے علاوہ وہاں میٹھا پانی نہیں تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص رومہ کنویں کو خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے گا تو اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر ہو گا ۔‘‘ میں نے اپنے خالص مال سے اسے خریدا ، اور آج تم مجھے اس کا پانی پینے سے روک رہے ہو حتیٰ کہ میں سمندری پانی پی رہا ہوں ، انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ایسے ہی ہے ، پھر عثمان ؓ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں : کیا تم جانتے ہو کہ مسجد اپنے نمازیوں کے لیے تنگ تھی ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص آل فلاں سے زمین کا قطعہ خرید کر اس سے مسجد کی توسیع کر دے گا تو اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر ہو گا ۔‘‘ میں نے اپنے خالص مال سے اسے خریدا ، اور آج تم مجھے اس میں دو رکعت نماز ادا کرنے سے روک رہے ہو ، انہوں نے کہا : ہاں ! ایسے ہی ہے ، آپ نے فرمایا : میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر تمہیں پوچھتا ہوں ، کیا تم جانتے ہو کہ جیش العسرہ کو میں نے اپنے مال سے تیار کیا تھا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! عثمان ؓ نے فرمایا : میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں : کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ کے پہاڑ پر تھے ، اور اس وقت ابوبکر ، عمر اور میں آپ کے ساتھ تھے ، پہاڑ نے حرکت کی حتیٰ کہ زمین پر کچھ ٹکڑے گر گئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پاؤں سے اسے ٹھوکر مار کر فرمایا :’’ پہاڑ ٹھہر جا ، تجھ پر ایک نبی ہے ، ایک صدیق ہے اور دو شہید ہیں ؟‘‘ انہوں نے کہا : ہاں ! ایسے ہی ہے ، آپ نے تین بار فرمایا : اللہ اکبر ! رب کعبہ کی قسم ! انہوں نے گواہی دے دی کہ میں شہید ہوں ۔ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی و الدارقطنی ۔

Hadith 6076
sahih
وَعَن مرّة بن كَعْب قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذكر الْفِتَن فقر بهَا فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي ثَوْبٍ فَقَالَ: «هَذَا يَوْمئِذٍ على هدى» فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ. قَالَ: فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ. فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن صَحِيح
Urdu

مرہ بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ، آپ نے فتنوں کا ذکر کیا اور ان کے قریب ہونے کا ارشاد فرمایا ، اتنے میں ایک آدمی گزرا ، اس نے ایک کپڑا لپیٹ رکھا تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا یہ شخص اس (فتنے کے) دن ہدایت پر ہو گا ۔‘‘ میں ان کی طرف گیا ، دیکھا کہ وہ عثمان بن عفان ؓ ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے ان کا چہرہ آپ کی طرف پھیر کر عرض کیا : یہ وہ (آدمی) ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

Hadith 6077
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا عُثْمَانُ إِنَّهُ لَعَلَّ اللَّهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ فِي الحَدِيث قصَّة طَوِيلَة
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عثمان ! امید ہے کہ اللہ تمہیں قمیص پہنائے گا ، اگر وہ تم سے اسے اتروانا چاہیں تو تم ان کی خاطر اسے نہ اتارنا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، اور امام ترمذی نے فرمایا : حدیث میں طویل قصہ ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

Hadith 6078
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً فَقَالَ: «يُقْتَلُ هَذَا فِيهَا مَظْلُومًا» لِعُثْمَانَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک فتنے کا ذکر کیا تو فرمایا :’’ یہ یعنی عثمان اس میں مظلوم شہید کر دیے جائیں گے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن ہے اس کی سند غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔