Back to Mishkat Al-Masabih

Virtues

كتاب المناقب

Chapter 29

Hadith 6139
sahih
وَعَن المِسور بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي» وَفِي رِوَايَةٍ: «يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذاها» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اس سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے دشمنی رکھی ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جو چیز اسے قلق میں مبتلا کر دیتی ہے وہی چیز مجھے قلق میں مبتلا کر دیتی ہے اور جو چیز اسے ایذا پہنچاتی ہے وہی چیز مجھے ایذا پہنچاتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6140
sahih
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَاءٍ يُدْعَى: خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ: أمَّا بعدُ أَلا أيُّها النَّاس فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللَّهِ وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ: «وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي» وَفِي رِوَايَة: «كتاب الله عز وَجل هُوَ حَبْلُ اللَّهِ مَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ عَلَى الْهُدَى وَمَنْ تَرَكَهُ كَانَ عَلَى الضَّلَالَةِ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز مکہ اور مدینہ کے درمیان پانی کی جگہ پر خم نامی مقام پر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، وعظ و نصیحت کی پھر فرمایا :’’ امابعد ! لوگو ! سنو ! میں بھی انسان ہوں ، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد آئے اور میں اس کی بات قبول کر لوں ، میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ، ان دونوں میں سے پہلی چیز اللہ کی کتاب ہے ، اس میں ہدایت اور نور ہے ، تم اللہ کی کتاب کو پکڑو اور اس سے تمسک اختیار کرو ۔‘‘ آپ نے اللہ کی کتاب (پر عمل کرنے) پر ابھارا اور اس کے متعلق ترغیب دلائی ، پھر فرمایا :’’ (دوسری چیز) میرے اہل بیت ، میں اپنے اہل بیت کے متعلق تمہیں اللہ سے ڈراتا ہوں ، اپنے اہل بیت کے متعلق میں تمہیں اللہ سے ڈراتا ہوں ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ اللہ کی کتاب ، وہ اللہ کی رسی ہے ، جس نے اس کی اتباع کی وہ ہدایت پر ہے ، اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہی پر ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 6141
sahih
وَعَن ابْن عمر أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَلَّمَ عَلَى ابْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: السَّلَام عَلَيْك يَا ابْن ذِي الجناحين. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب وہ ابن جعفر ؓ کو سلام کیا کرتے تھے تو یوں کہتے تھے : ذوالجناحین (جعفر ؓ کا لقب) کے بیٹے ! تم پر سلام ہو ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 6142
sahih
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ» مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

براء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا اس وقت حسن بن علی ؓ آپ کے کندھے پر تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے :’’ اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6143
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنَ النَّهَارِ حَتَّى أَتَى خِبَاءَ فَاطِمَةَ فَقَالَ: «أَثَمَّ لُكَعُ؟ أَثَمَّ لُكَعُ؟» يَعْنِي حَسَنًا فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ يَسْعَى حَتَّى اعْتَنَقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، دن کے کسی حصے میں میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوا حتیٰ کہ آپ فاطمہ ؓ کے گھر تشریف لے گئے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا :’’ کیا یہاں چھوٹا بچہ ہے کیا یہاں چھوٹا بچہ یعنی حسن ہے ؟‘‘ تھوڑی دیر گزری تھی کہ وہ دوڑتے ہوئے آئے حتیٰ کہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے ساتھی کو گلے لگایا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! بے شک میں اس سے محبت کرتا ہوں ، تو بھی اس سے محبت رکھنے والے سے محبت فرما ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6144
sahih
وَعَن أبي بكرَة قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَى جَنْبِهِ وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ أُخْرَى وَيَقُولُ: «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منبر پر دیکھا جبکہ حسن بن علی ؓ آپ کے پہلو میں تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک مرتبہ لوگوں کی طرف توجہ فرماتے اور دوسری مرتبہ ان حسن ؓ کی طرف توجہ فرماتے ، اور فرماتے :’’ بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہے ، امید ہے کہ اللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 6145
sahih
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ قَالَ: سمعتُ عبدَ اللَّهِ بن عُمَرَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْمُحْرِمِ قَالَ شُعْبَةُ أَحْسَبُهُ يَقْتُلُ الذُّبَابَ؟ قَالَ: أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونِي عَنِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ بِنْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُمَا رَيْحَانَّيَّ مِنَ الدُّنْيَا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

عبد الرحمن بن ابی نعم ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے اس وقت سنا جب ان سے کسی آدمی نے محرم (حالت احرام والے شخص) کے متعلق مسئلہ دریافت کیا ، شعبہ بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ وہ پوچھ رہا تھا (اگر محرم) مکھی مار دے (تو اس پر کیا کفارہ ہو گا ؟) انہوں نے فرمایا : اہل عراق مکھی (مارنے) کے متعلق مجھ سے مسئلہ دریافت کرتے ہیں جبکہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نواسے کو قتل کر دیا ، اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا :’’ وہ دونوں (حسن و حسین ؓ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 6146
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحَسَنِ بن عليّ وَقَالَ فِي الْحسن أَيْضًا: كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، حسن بن علی ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے ۔ اور انہوں نے حسین ؓ کے بارے میں بھی فرمایا : وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ان سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 6147
sahih
وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: ضَمَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِهِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ» وَفِي رِوَايَة: «علمه الْكتاب» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سینے سے لگا کر فرمایا :’’ اے اللہ ! اسے حکمت کی تعلیم عطا فرما ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ اسے کتاب کی تعلیم عطا فرما ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 6148
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْخَلَاءَ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ: «مَنْ وَضَعَ هَذَا؟» فَأُخْبِرَ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ فقهه فِي الدّين» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت الخلا میں داخل ہوئے تو میں نے طہارت کے لیے پانی رکھ دیا ، چنانچہ جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے تو فرمایا :’’ یہ کس نے رکھا تھا ؟‘‘ آپ کو بتایا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا فرما ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6149
sahih
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُهُ وَالْحَسَنَ فَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَحِبَّهُمَا فَإِنِّي أُحبُّهما» وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُنِي فَيُقْعِدُنِي عَلَى فَخِذِهِ وَيُقْعِدُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى فَخِذِهِ الْأُخْرَى ثُمَّ يَضُمُّهُمَا ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ ارْحَمْهُمَا فَإِنِّي أرحمُهما» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

اسامہ بن زید ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ مجھے اور حسن کو پکڑ کر فرماتے :’’ اے اللہ ! ان سے محبت فرما کیونکہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھا لیتے تھے اور حسن بن علی ؓ کو اپنی دوسری ران پر بٹھا لیتے پھر انہیں ملا کر فرماتے :’’ اے اللہ ! ان دونوں پر رحم فرما کیونکہ میں ان پر شفقت و رحمت فرماتا ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 6150
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمَارَتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَأَيْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ» مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ نَحْوُهُ وَفِي آخِره: «أوصيكم بِهِ فَإِنَّهُ من صالحيكم»
Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک لشکر بھیجا تو اس پر اسامہ بن زید ؓ کو امیر مقرر فرمایا ، کچھ لوگوں نے ان کی امارت کے بارے میں اعتراض کیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے والد کی امارت کےبارے میں بھی اعتراض کر چکے ہو ۔ اللہ کی قسم ! بلاشبہ وہ امارت کے زیادہ لائق تھا اور وہ تمام لوگوں سے مجھے زیادہ محبوب تھا اور اس کے بعد یہ بھی مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہے ۔‘‘ اور صحیح مسلم کی روایت میں بھی اسی طرح ہے ، اور اس کے آخر میں ہے :’’ میں اس کے متعلق تمہیں وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ تمہارے صالحین میں سے ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6151
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ زَيْدٍ بْنِ حَارِثَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّى نزل الْقُرْآن [أُدعوهم لِآبَائِهِمْ] مُتَّفق عَلَيْهِ وَذكر حَدِيث الْبَراء قَالَ لعليّ: «أَنْتَ مِنِّي» فِي «بَابِ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهِ»
Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ ؓ کو قرآن کریم کی اس آیت ’’ ان کو ان کے آباء کے نام سے بلاؤ ۔‘‘ کے نازل ہونے تک ہم زید بن محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) کہہ کر بلایا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔ اور براء ؓ سے مروی حدیث کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے علی ؓ سے فرمایا ((أنت منی)) باب بلوغ الصغیر و حضانتہ میں ذکر ہو چکی ہے ۔

Hadith 6152
sahih
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا: كِتَابَ اللَّهِ وعترتي أهل بيتِي . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے روز آپ کی اونٹنی قصواء پر خطاب فرماتے ہوئے دیکھا ، میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ لوگو ! میں نے تم میں ایسی چیز چھوڑی ہے جب تک تم اسے تھامے رکھو گے گمراہ نہیں ہو گے ، وہ اللہ کی کتاب اور میری عترت میرے اہل بیت ہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6153
sahih
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ: كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
Urdu

زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں تم میں ایسی چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم اس کے ساتھ تمسک اختیار رکھو گے تو میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے ، ان میں سے ایک دوسری سے عظیم تر ہے ، اللہ کی کتاب جو کہ ایک ایسی رسی ہے جو آسمان سے زمین کی طرف دراز کی گئی ہے ، اور میری عترت اہل بیت ، یہ دونوں الگ نہیں ہوں گے حتیٰ کہ حوض (کوثر) پر میرے پاس آئیں گے ۔ دیکھو کہ تم ان دونوں کے بارے میں میری کیسی جانشینی نبھاتے ہو ۔‘‘ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6154
sahih
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ: «أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَهُمْ وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے علی ، فاطمہ اور حسن اور حسین ؓ کے بارے میں فرمایا :’’ جس نے ان سے لڑائی کی میں اس سے لڑنے والا ہوں ، اور جس نے ان سے مصالحت کی میں اس سے مصالحت کرنے والا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6155
sahih
وَعَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلْتُ: أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: فَاطِمَةُ. فَقِيلَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَتْ: زَوْجُهَا إِنْ كَانَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

جمیع بن عمیر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اپنی پھوپھی کے ساتھ عائشہ ؓ کے پاس گیا تو میں نے پوچھا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ کس سے محبت تھی ؟ انہوں نے فرمایا : فاطمہ ؓ سے ، پوچھا گیا : مردوں میں سے ؟ انہوں نے فرمایا : ان کے شوہر (علی ؓ) سے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6156
sahih
إِلَّا الْجُمْلَة الْأَخِيرَة فصحيحة) وَعَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ الْعَبَّاسَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالَ: «مَا أَغْضَبَكَ؟» قَالَ: يَا رَسُول الله مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشَرَةٍ وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ؟ فَغَضِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يحبكم لله وَلِرَسُولِهِ» ثمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ آذَى عَمِّي فَقَدْ آذَانِي فَإِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَفِي «المصابيح» عَن الْمطلب
Urdu

عبد المطلب بن ربیعہ سے روایت ہے کہ عباس ؓ غصے کی حالت میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، میں اس وقت آپ کے پاس ہی تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آپ کو کس نے ناراض کیا ؟‘‘ انہوں نے فرمایا : اللہ کے رسول ! ہمارا (بنو ہاشم) اور باقی قریشیوں کا کیا معاملہ ہے ؟ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں ، اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اس طرح نہیں ملتے ، چنانچہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی غصے میں آ گئے حتیٰ کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا ۔ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت کرے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ لوگو ! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی ، آدمی کا چچا اس کے باپ کے مانند ہوتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور مصابیح میں مطلب سے مروی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6157
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَبَّاسُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6158
sahih
وَزِيَادَة رزين مُنكرَة) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: «إِذَا كَانَ غَدَاةَ الِاثْنَيْنِ فَأْتِنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ حَتَّى أَدْعُوَ لَهُمْ بِدَعْوَةٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا وَوَلَدَكَ» فَغَدَا وَغَدَوْنَا مَعَهُ وَأَلْبَسَنَا كِسَاءَهُ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَوَلَدِهِ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً لَا تُغَادِرُ ذَنْبًا اللَّهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَزَادَ رَزِينٌ: «وَاجْعَلِ الْخِلَافَةَ بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ» وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عباس ؓ سے فرمایا :’’ جب پیر کا دن ہو تو آپ اور آپ کی اولاد میرے پاس آنا ، میں تمہارے لیے دعا کروں گا جس کے ذریعے اللہ تمہیں اور تمہاری اولاد کو فائدہ پہنچائے گا ۔‘‘ ہم ان کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اپنی چادر میں لے کر دعا فرمائی :’’ اے اللہ ! عباس اور اس کی اولاد کی تمام ظاہری و باطنی لغزشیں معاف فرما ، ان کا کوئی گناہ باقی نہ چھوڑ ، اے اللہ ! ان کا سایہ ان کی اولاد پر قائم فرما ۔‘‘ اور رزین نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ اور ان کی اولاد میں خلافت باقی رکھ ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و رزین ۔ْ