عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ چار حضرات ، عبداللہ بن مسعود ، ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم ، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل سے قرآن کی تعلیم حاصل کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
علقمہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں شام پہنچا تو میں نے دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کی : اے اللہ ! مجھے کسی صالح ساتھی کی ہم نشینی نصیب فرما ، میں لوگوں کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا ، چنانچہ ایک بزرگ آئے اور وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے ، میں نے کہا : یہ کون صاحب ہیں ؟ انہوں نے بتایا : ابودرداء ہیں ، میں نے کہا : میں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ وہ مجھے کسی صالح شخص کی ہم نشینی نصیب فرمائے تو اس نے مجھے آپ کی ہم نشینی عطا فرمائی ۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ میں نے کہا : کوفی ہوں ، انہوں نے کہا : کیا تمہارے ہاں ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) صاحب النعلین صاحب و سادہ و مطہرہ (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین اٹھانے والے ، آپ کا بستر درست کرنے والے اور آپ کے وضو کے لیے پانی کا اہتمام کرنے والے) نہیں ہیں ؟ اور تم میں وہ بھی ہیں جنہیں اللہ نے اپنے نبی کی دعا کے ذریعے شیطان سے پناہ دے دی ہے یعنی عمار بن یاسر ، کیا تم میں راز دان نہیں ہیں ؟ ان رازوں کو ان کے سوا کوئی نہیں جانتا یعنی حذیفہ ؓ ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے جنت دکھائی گئی ، میں نے ابوطلحہ ؓ کی اہلیہ دیکھیں ، اور اپنے آگے بلال کے جوتوں کی آواز سنی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم چھ افراد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ، مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ ان لوگوں کو یہاں سے دور کر دو اور یہ ہماری موجودگی میں آنے کی جرأت نہ کریں ، راوی بیان کرتے ہیں (ان میں) میں ، ابن مسعود ، ہذیل قبیلے کا ایک آدمی ، بلال اور دو آدمی اور تھے جن کا میں نام نہیں لیتا ، اللہ نے جو چاہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں خیال آیا اور آپ نے اپنے دل میں کوئی بات سوچی تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ آپ ان لوگوں کو دور نہ کریں جو صبح و شام اپنے رب کو ، اس کی رضا مندی کے حصول کے لیے پکارتے رہتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ ابوموسیٰ ! آپ کو آل داؤد کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں چار افراد نے قرآن کو جمع کر لیا تھا : ابی بن کعب ، معاذ بن جبل ، زید بن ثابت اور ابوزید ؓ ، انس ؓ سے پوچھا گیا : ابوزید کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میرے ایک چچا ہیں ۔ متفق علیہ ۔
خباب بن ارت ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ، ہم اللہ کی رضا مندی چاہتے تھے ، چنانچہ ہمارا اجر اللہ کے ہاں ثابت ہو گیا ، ہم میں سے کچھ (جلد) وفات پا گئے اور انہوں نے اپنے (دنیوی) اجر (مال غنیمت وغیرہ) سے کچھ نہ پایا ، مصعب بن عمیر ؓ بھی انہی میں سے ہیں ، وہ غزوۂ احد میں شہید ہو گئے تھے ، انہیں کفن دینے کے لیے صرف ایک دھاری دار چادر میسر آئی ، جب ہم ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے دونوں پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب ہم ان کے دونوں پاؤں ڈھانپتے تو ان کا سر ننگا ہو جاتا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس سے ان کا سر ڈھانپ دو اور ان کے پاؤں پر گھاس ڈال دو ۔‘‘ اور ہم میں سے وہ بھی ہیں کہ ان کے لیے پھل پک چکے ہیں اور وہ انہیں چن رہے ہیں ۔ (قتوحات کے بعد دنیوی فوائد بھی حاصل کر رہے ہیں) متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سعد بن معاذ ؓ کی وفات پر عرش ہل گیا تھا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ سعد بن معاذ ؓ کی موت پر رحمن کا عرش ہل گیا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ریشمی جوڑا بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو صحابہ اسے چھونے لگے اور اس کی ملائمیت پر تعجب کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم اس کی ملائمیت پر تعجب کرتے ہو ۔ سعد بن معاذ کے جنت میں رومال اس سے زیادہ بہتر ہیں اور زیادہ ملائم ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ام سلیم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! انس ؓ آپ کا خادم ہے ، اس کے لیے اللہ سے دعا فرمائیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اس کے مال و اولاد میں اضافہ فرما ، اور تو نے جو اسے عطا فرمایا ہے اس میں برکت فرما ۔‘‘ انس ؓ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میرا مال بہت زیادہ ہے ، اور آج میرے بیٹے اور میرے پوتے سو سے زیادہ ہیں ۔ متفق علیہ ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عبداللہ بن سلام ؓ کے علاوہ روئے زمین پر چلنے والے کسی اور شخص کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ ’’ وہ اہل جنت میں سے ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
قیس بن عباد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مدینہ کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اس کے چہرے پر خشوع کے آثار تھے ۔ حاضرین نے کہا : یہ آدمی اہل جنت میں سے ہے ، چنانچہ اس نے اختصار کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں ، پھر وہ چلا گیا ۔ میں اس کے پیچھے پیچھے گیا ، تو میں نے کہا : جس وقت آپ مسجد میں تشریف لائے تھے تو لوگوں نے کہا تھا کہ یہ آدمی اہل جنت میں سے ہے ۔ اس آدمی نے کہا : اللہ کی قسم ! کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ایسی بات کہے جسے وہ جانتا نہیں ، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ایسے کیوں ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں خواب دیکھا تو میں نے اسے آپ سے بیان کیا : میں نے دیکھا کہ گویا میں ایک باغ میں ہوں ، انہوں نے اس کی وسعت اور اس کی شادابی کا ذکر کیا ، اس کے وسط میں لوہے کا ستون ہے ، اس کا نچلا حصہ زمین میں ہے اور اس کا اوپر والا حصہ آسمان میں ہے ، اس کی چوٹی پر ایک حلقہ (کڑا) ہے ، مجھے کہا گیا : اس پر چڑھو ، میں نے کہا : میں استطاعت نہیں رکھتا ، میرے پاس ایک خادم آیا اس نے پیچھے سے میرے کپڑے اٹھائے تو میں اوپر چڑھ گیا ، حتیٰ کہ میں نے اس کی چوٹی پر پہنچ کر حلقے (کڑے) کو پکڑ لیا ، مجھے کہا گیا : مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو ، میں اسے پکڑے ہوئے تھا کہ میں بیدار ہو گیا ، میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ باغ اسلام ہے ، اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے اور وہ حلقہ مضبوط حلقہ ہے تم تا دم مرگ اسلام پر رہو گے ۔‘‘ اور وہ آدمی عبداللہ بن سلام ؓ تھے ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ثابت بن قیس بن شماس ؓ انصار کے خطیب تھے ، چنانچہ جب یہ آیت :’’ اے ایمان والو ! اپنی آوازوں کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے بلند نہ کرو ۔‘‘ نازل ہوئی تو ثابت ؓ اپنے گھر میں بیٹھ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آنا بند کر دیا ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سعد بن معاذ ؓ سے فرمایا :’’ ثابت ؓ کا کیا معاملہ ہے کیا وہ بیمار ہے ؟‘‘ سعد ؓ ان کے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کہا تھا اس کے متعلق انہیں بتایا تو ثابت ؓ نے فرمایا : یہ آیت نازل ہوئی اور تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے میری آواز تم سب سے زیادہ بلند ہوتی ہے ، لہذا میں (اس آیت کے مطابق) جہنمیوں میں سے ہوں ، سعد ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں (ایسے نہیں) بلکہ وہ تو اہل جنت میں سے ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب سورۂ جمعہ نازل ہوئی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، جب یہ آیت (وَاخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ) نازل ہوئی تو ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ان سے کون لوگ مراد ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں ، سلمان فارسی ؓ ہمارے درمیان موجود تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلمان ؓ پر اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا :’’ اگر ایمان ثریا پر بھی ہو گا تو تب بھی ان لوگوں میں سے کچھ حضرات اس تک پہنچ جائیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اپنے اس بندے یعنی ابوہریرہ اور ان کی والدہ کو اپنے مومن بندوں کا محبوب بنا دے اور مومنوں کو ان کا محبوب بنا دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائذ بن عمرو سے روایت ہے کہ ابوسفیان سلمان ، صہیب اور بلال ؓ کے پاس سے گزرے اس وقت اور صحابہ کرام بھی موجود تھے ، انہوں نے کہا : اللہ کی تلواروں نے اللہ کے دشمن کی گردن سے اپنا حق وصول نہیں کیا ۔ ابوبکر ؓ نے فرمایا : کیا تم ایسی بات قریش کے معتبر اور سردار شخص کے بارے میں کہتے ہو ؟ ابوبکر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ابوبکر ! شاید کہ تم نے انہیں ناراض کر دیا ہے ، اگر تم نے انہیں ناراض کیا تو تم نے اپنے رب کو ناراض کر دیا ۔‘‘ وہ ان کے پاس آئے اور کہا : بھائیو ! کیا میں نے تمہیں ناراض کر دیا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، بھائی ! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے ۔ رواہ مسلم ۔
انس ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انصار سے محبت علامت ایمان ہے ، اور عداوت انصار علامت نفاق ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ انصار سے صرف مومن شخص ہی محبت کرتا ہے جبکہ انصار سے صرف منافق شخص ہی عداوت رکھتا ہے ، چنانچہ جس نے ان سے محبت کی تو اللہ اس سے محبت کرے گا اور جس نے ان سے عداوت کی تو اللہ اس سے عداوت کرے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہوازن قبیلے کے اموال میں سے غنیمت عطا فرمائی اور آپ قریش کے (نو مسلم) افراد کو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگوں نے کہا : اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مغفرت فرمائے ، آپ قریشیوں کو تو عطا فرما رہے ہیں جبکہ ہمیں چھوڑ رہے ہیں ، اور صورت حال یہ ہے کہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ابھی تک ٹپک رہا ہے ، ان کی یہ گفتگو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتائی گئی تو آپ نے انصار کو بلا بھیجا اور انہیں چمڑے کے ایک خیمے میں جمع کیا اور آپ نے ان کے علاوہ کسی اور کو وہاں نہ بلایا ، جب وہ اکٹھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا :’’ تمہارے متعلق مجھے کیا خبر پہنچی ہے ؟‘‘ ان (انصار) کے سمجھ دار لوگوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہمارے سنجیدہ لوگوں نے تو کوئی بات نہیں کی ، البتہ ہمارے چند نو عمر لڑکوں نے کہا ہے : اللہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معاف فرمائے کہ وہ قریشیوں کو دے رہے ہیں اور انصار کو چھوڑ رہے ہیں ، جبکہ ہماری تلواروں سے ان (قریشیوں) کا خون ٹپک رہا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے نو مسلموں کو ان کی تالیف قلبی کے لیے دیا ہے ، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ لوگ تو مال و دولت لے کر واپس جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساتھ لے کر اپنے گھروں کو واپس جاؤ ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! ہم اس پر راضی ہیں ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک آدمی ہوتا ، اگر سارے لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا ، انصار استر ہیں جبکہ باقی لوگ اوپر کا کپڑا ہیں ، بے شک تم لوگ میرے بعد ترجیح دیکھو گے (کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی) تم صبر کرنا حتیٰ کہ تم حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کرو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔