ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، فتح مکہ کے روز ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ابوسفیان کے گھر داخل ہو جائے تو وہ امن میں ہے ، جو ہتھیار ڈال دے وہ امن میں ہے ۔‘‘ انصار نے کہا : اس آدمی کو اپنے رشتہ داروں سے رحمت اور اپنے شہر کی محبت نے پکڑ لیا ، (ان کی اس بات کے متعلق) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے کہا ہے کہ اس آدمی کو اپنے کنبے سے شفقت اور اپنے شہر سے محبت نے پکڑ لیا ہے ، سن لو ، ایسے نہیں ، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ، میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ، میرا جینا مرنا تمہارے ساتھ ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کی قسم ! ہم نے تو محض اللہ اور اس کے رسول کی رفاقت کے حصول کے لیے ایسے کہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے رہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (انصار کے) کچھ بچوں اور خواتین کو کسی شادی کی تقریب سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا :’’ اے اللہ ! (تو جانتا ہے) تم تمام لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب ہو ، اے اللہ ! (تو جانتا ہے) تم یعنی انصار تمام لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر اور عباس ؓ انصار کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ اس وقت رو رہے تھے ۔ انہوں نے پوچھا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس کو یاد کیا جس میں ہم (بیٹھا کرتے) تھے ، ان دونوں میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے اس کے متعلق آپ کو بتایا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سر مبارک پر کپڑے کی پٹی باندھے ہوئے باہر تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے ، اور اس روز کے بعد آپ منبر پر تشریف نہ لا سکے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ میں انصار کے بارے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں ، وہ میرے جسم و جان (دست و بازو) ہیں ، وہ اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے ، اب ان کے حقوق باقی ہیں ، تم ان کے نیکوکاروں کی طرف سے (عذر) قبول کرنا اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرنا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مرض وفات میں باہر تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے ، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ امابعد ! باقی لوگ تو بہت زیادہ ہو جائیں گے جبکہ انصار کم ہو جائیں گے حتیٰ کہ وہ لوگوں میں نمک کے تناسب سے ہو جائیں گے ، تم میں سے جو شخص کسی ایسی چیز کا ذمہ دار و سرپرست ہو جس میں وہ کسی نقصان اور کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ان (انصار) کے نیکوکاروں کے نیک کاموں کو قبول کرے اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! انصار ، انصار کی اولاد اور انصار کی اولاد کی اولاد کی مغفرت فرما ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابواُسید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انصار کا سب سے بہترین قبیلہ بنو نجار کا قبیلہ ہے ، پھر بنو عبدالاشہل ، بنو حارث بن خزرج ، پھر بنو ساعدہ اور انصار کے ہر قبیلے میں خیر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو ، زبیر اور مقداد ؓ کو ، ایک دوسری روایت میں مقداد کے بجائے ابومرثد ؓ کا نام ہے ، کسی کام پر روانہ فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم چلتے جانا حتیٰ کہ تم روضہ خاخ پر پہنچ جاؤ ، وہاں ایک عورت ہو گی اس کے پاس ایک خط ہو گا تم وہ اس سے لے لینا ۔‘‘ ہم روانہ ہوئے ، ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے رہے حتیٰ کہ ہم روضہ خاخ پر پہنچ گئے ، اور وہاں ہمیں وہ عورت مل گئی ۔ ہم نے کہا : خط نکالو ، اس نے کہا : میرے پاس کوئی خط نہیں ، ہم نے کہا : خط نکال دو ورنہ ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے ، چنانچہ اس نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال دیا ، ہم وہ خط لے کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس میں لکھا ہوا تھا ، حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے اہل مکہ کے چند مشرکین کے نام ، انہوں نے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض امور کے متعلق انہیں خبر دی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حاطب یہ کیا (ماجرا) ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے متعلق جلدی نہ فرمانا ، میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میں قریش کا حلیف ہوں ، میں ان کے خاندان میں سے نہیں ہوں ، اور آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ، ان کی تو (ان سے) قرابت ہے جس کی وجہ سے وہ مکہ میں ان کے اموال اور اہل و عیال کی حفاظت کر رہے ہیں ، میں نے ان سے نسبی رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ پسند کیا کہ میں ان سے کوئی احسان کروں ، جس کی وجہ سے وہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کریں گے ۔ میں نے یہ کفر کی وجہ سے کیا ہے نہ اپنے دین سے ارتداد کی وجہ سے کیا ہے اور نہ ہی اسلام کے بعد کفر کو پسند کر کے کیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس نے تم سے سچی بات کی ہے ۔‘‘ عمر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے اجازت فرمائیں میں اس منافق کی گردن اڑا دوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس شخص نے غزوۂ بدر میں شرکت کی ہے ، اور تم نہیں جانتے کہ اللہ نے اہل بدر کے احوال پہلے سے جان لیے تھے ، اس لیے اس نے فرمایا :’’ جو چاہو سو کرو ، تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ میں تمہیں معاف کر چکا ۔‘‘ تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
رفاعہ بن رافع ؓ بیان کرتے ہیں ، جبریل ؑ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا :’’ تم اہل بدر کو اپنے ہاں کس درجہ میں شمار کرتے ہو ؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مسلمانوں میں سے سب سے افضل ۔‘‘ یا آپ نے اسی طرح کی بات فرمائی ۔‘‘ انہوں (جبریل ؑ) نے فرمایا :’’ اسی طرح جو فرشتے بدر میں شریک ہوئے ان کا بھی بلند درجہ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
حفصہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں امید کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ غزوۂ بدر اور صلح حدیبیہ میں شرکت کرنے والا کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے :’’ تم میں سے ہر شخص نے اس پر وارد ہونا ہے ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے سنا نہیں ، وہ فرماتا ہے : پھر وہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو بچا لے گا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ ان شاء اللہ اصحاب شجرہ جنہوں نے اس (درخت) کے نیچے بیعت کی تھی جہنم میں داخل نہیں ہوں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ نے فرمایا : صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم چودہ سو افراد تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا :’’ آج زمین والوں میں سے تم سب سے بہتر ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ثنیۃ المرار کی چوٹی پر چڑھے گا تو اس کے گناہ اس طرح ختم کر دیے جائیں گے جس طرح بنی اسرائیل کے گناہ ختم کر دیے گئے تھے ۔‘‘ بنو خزرج کا دستہ سب سے پہلے اس پر چڑھا ، پھر باقی لوگ متواتر پہنچتے رہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس سرخ اونٹ والے کے سوا تم سب کی مغفرت ہو گئی ۔‘‘ ہم اس شخص کے پاس آئے تو ہم نے کہا : آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے لیے مغفرت طلب کریں ، اس نے کہا : اگر میں اپنا گم شدہ اونٹ پا لوں تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ تمہارا ساتھی میرے لیے مغفرت طلب کرے ۔ رواہ مسلم ۔ اور انس ؓ سے مروی حدیث کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا کہ ’’ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں ۔‘‘ باب فضائل القرآن کے بعد ذکر کی گئی ہے ۔
ابن مسعود ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے بعد میرے دو صحابہ ابوبکر و عمر کی اقتدا کرنا ، عمار کی راہ پر چلنا ، ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) کی وصیت کو لازم پکڑنا ۔‘‘ حذیفہ ؓ کی روایت میں ہے :’’ ابن مسعود جو بات تم سے کہیں اس کی تصدیق کرنا ۔‘‘ اس میں ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) کی وصیت کو لازم پکڑنا ۔‘‘ کے الفاظ کے بجائے مذکورہ بالا الفاظ ہیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر میں کسی مشورہ کے بغیر کسی شخص کو امیر مقرر کرتا تو میں ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) کو ان کا امیر مقرر کرتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
خیثمہ بن ابی سبرہ بیان کرتے ہیں ، میں مدینہ آیا تو میں نے اللہ سے درخواست کی وہ کسی صالح شخص کی ہم نشینی اختیار کرنے کی توفیق بخشے ، چنانچہ اس نے میرے لیے ابوہریرہ ؓ کی ہم نشینی میسر فرما دی ، میں ان کے پاس بیٹھ گیا ، میں نے کہا : میں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ وہ مجھے کسی صالح شخص کی ہم نشینی میسر فرمائے ، مجھے تمہاری ہم نشینی نصیب ہوئی ہے ۔ انہوں نے فرمایا : تم کہاں سے (آئے) ہو ؟ میں نے کہا کوفہ سے اور میں خیر کی طلب و تلاش میں آیا ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : کیا تم میں مستجاب الدعوات سعد بن مالک ؓ نہیں ہیں ؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طہارت کے لیے وضو کا انتظام کرنے والے اور آپ کے جوتے اٹھانے والے ابن مسعود ؓ نہیں ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز دان حذیفہ ؓ اور عمار ؓ جنہیں اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر شیطان سے پناہ دی ہے ، اور صاحب کتابین یعنی انجیل و قرآن پر ایمان رکھنے والے سلمان نہیں ہیں ؟ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اچھا شخص ہے ابوبکر ، اچھا شخص ہے عمر ، اچھا شخص ہے ابوعبیدہ بن جراح ، اچھا شخص ہے اسید بن حضیر ، بہترین آدمی ہے ثابت بن قیس بن شماس ، بہترین آدمی ہے معاذ بن جبل اور اچھا شخص ہے معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنھم ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت تین اشخاص ، علی ، عمار اور سلمان ؓ کی مشتاق ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انہیں اجازت دے دو ۔ بہت ہی اچھے شخص کے لیے خوش آمدید ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عمار کو جب بھی دو امور میں سے کسی ایک کو پسند کرنے کا اختیار دیا گیا تو انہوں نے ان میں سے مشکل کام کو پسند کیا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب سعد بن معاذ ؓ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقوں نے کہا : اس کا جنازہ کس قدر ہلکا ہے ، اور یہ بنو قریظہ کے متعلق اس کے فیصلے کی وجہ سے ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہلکا اس لیے ہے کہ فرشتے اسے اٹھائے ہوئے تھے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آسمان تلے روئے زمین پر ابوذر سے زیادہ سچا آدمی کوئی نہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔