Back to Mishkat Al-Masabih

Virtues

كتاب المناقب

Chapter 29

Hadith 6179
sahih
وَعَن أنس قَالَ: أَتَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ فَجُعِلَ فِي طَسْتٍ فَجَعَلَ يَنْكُتُ وَقَالَ فِي حُسْنِهِ شَيْئًا قَالَ أَنَسٌ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنَّهُ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَخْضُوبًا بِالْوَسِمَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِقَضِيبٍ فِي أَنْفِهِ وَيَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حسنا. فَقلت: أما إِنَّهُ كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيب
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، حسین ؓ کے سر کو عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا تو اسے ایک طشت میں رکھ دیا گیا ، وہ (چھڑی کے ساتھ) مارنے لگا اور اس نے ان کے حسن کے بارے میں کچھ کہا ، انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! وہ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مشابہ تھے ، اور اس وقت ان کے سر مبارک پر وسمہ لگا ہوا تھا ۔ ترمذی کی روایت میں ہے ، انہوں نے کہا : میں ابن زیاد کے پاس تھا کہ حسین ؓ کا سر لایا گیا ، تو وہ آپ کی ناک پر چھڑی مارنے لگا ، اور کہنے لگا : میں نے ایسا حسن نہیں دیکھا ، میں نے کہا : سن لے ! یہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے ۔ انہوں نے فرمایا : یہ حدیث صحیح حسن غریب ہے ۔ رواہ البخاری و الترمذی ۔

Hadith 6180
sahih
وَعَن أمِّ الْفضل بنت الْحَارِث أَنَّهَا دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ حُلْمًا مُنْكَرًا اللَّيْلَةَ. قَالَ: «وَمَا هُوَ؟» قَالَتْ: إِنَّهُ شَدِيدٌ قَالَ: «وَمَا هُوَ؟» قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ قِطْعَةً مِنْ جَسَدِكَ قُطِعَتْ وَوُضِعَتْ فِي حِجْرِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتِ خَيْرًا تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غُلَامًا يَكُونُ فِي حِجْرِكِ» . فَوَلَدَتْ فَاطِمَةُ الْحُسَيْنَ فَكَانَ فِي حِجْرِي كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَدَخَلْتُ يَوْمًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ ثُمَّ كَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ فَإِذَا عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَهْرِيقَانِ الدُّمُوعَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا نبيَّ الله بِأبي أَنْت وَأمي مَالك؟ قَالَ: أَتَانِي جِبْرِيل عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّتِي سَتَقْتُلُ ابْنِي هَذَا فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ وَأَتَانِي بِتُرْبَةٍ من تربته حَمْرَاء
Urdu

ام الفضل بنت حارث ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے رات ایک عجیب سا خواب دیکھا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : وہ بہت شدید ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں نے دیکھا کہ گویا گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جو آپ کے جسم اطہر سے کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا ہے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم نے خیر دیکھی ہے ، ان شاء اللہ فاطمہ بچے کو جنم دیں گی اور وہ تمہاری گود میں ہو گا ۔‘‘ فاطمہ ؓ نے حسین ؓ کو جنم دیا اور وہ میری گود میں تھا جیسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا ۔ ایک روز میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے حسین ؓ کو آپ کی گود میں رکھ دیا ۔ پھر میں کسی اور طرف متوجہ ہو گئی ، اچانک دیکھا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ، وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! میرے والدین آپ پر قربان ہوں ! آپ کو کیا ہوا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جبریل ؑ میرے پاس تشریف لائے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت عنقریب میرے اس بیٹے کو شہید کر دے گی ۔ میں نے کہا : اس (بچے) کو ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! اور انہوں نے مجھے اس (جگہ) کی سرخ مٹی لا کر دی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

Hadith 6181
sahih
وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: رَأَيْت النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وسل فِيمَا يَرَى النَّائِمُ ذَاتَ يَوْمٍ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا هَذَا؟ قَالَ: «هَذَا دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ وَلَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْم» فأحصي ذَلِك الْوَقْت فأجد قبل ذَلِكَ الْوَقْتِ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي «دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ» وَأحمد الْأَخير
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے ایک روز نصف النہار کے وقت نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ کے بال پراگندہ ہیں اور جسم اطہر غبار آلود ہے ، آپ کے ہاتھ میں خون کی بوتل ہے ، میں نے عرض کیا ، میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، یہ کیا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے ، میں آج صبح سے اسے اکٹھا کر رہا ہوں ۔‘‘ میں نے اس وقت کو یاد رکھا اور بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اسی وقت انہیں شہید کیا گیا تھا ۔ دونوں احادیث کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے اور آخری حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ و احمد ۔

Hadith 6182
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ فَأَحِبُّونِي لِحُبِّ اللَّهِ وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لحبِّي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ سے محبت کرو کہ اس نے تمہیں نعمتوں سے نوازا ہے ، اور اللہ کی محبت کی خاطر مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کی خاطر میرے اہل بیت سے محبت کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6183
sahih
وَعَن أبي ذرٍ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِبَابِ الْكَعْبَةِ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَلَا إِنَّ مِثْلَ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مِثْلُ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَهَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هلك» . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : اس حال میں کہ وہ کعبہ کے دروازے کو پکڑے ہوئے تھے ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سن لو ! تم میں میرے اہل بیت کی مثال کشتی نوح کی طرح ہے ، جو اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا اور جو اس سے رہ گیا وہ ہلاک ہو گیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد فی فضائل الصحابۃ ۔

Hadith 6184
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ» مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: وَأَشَارَ وَكِيعٌ إِلَى السَّمَاء وَالْأَرْض
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ (اپنے زمانے میں) مریم بنت عمران سب سے بہتر خاتون تھیں ، اور (اس زمانے میں) خدیجہ بنت خویلد سب سے بہتر خاتون ہیں ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے : ابوکریب بیان کرتے ہیں ، وکیع ؒ نے آسمان اور زمین کی طرف اشارہ فرمایا ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 6185
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا رسولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدام وَطَعَام فَإِذَا أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جبریل ؑ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا :’’ اللہ کے رسول ! خدیجہ ؓ آ رہی ہیں ، ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن ہے اور کھانا ہے ، جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے رب کی طرف سے اور میری طرف سے انہیں سلام کہنا ، اور انہیں جنت میں خول دار موتی کے گھر کی بشارت دینا جس میں کوئی شور و شغب ہو گا نہ کوئی تھکن ہو گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6186
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ وَمَا رَأَيْتُهَا وَلَكِنْ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَهَا وَرُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ ثُمَّ يُقَطِّعُهَا أَعْضَاءً ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صدائق خَدِيجَة فَيَقُول: «إِنَّهَا كَانَت وَكَانَت وَكَانَتْ وَكَانَ لِي مِنْهَا وُلْدٌ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کسی زوجہ محترمہ کے بارے میں اتنا رشک نہیں کیا جتنا خدیجہ ؓ کے معاملے میں کیا ، حالانکہ میں نے انہیں دیکھا نہیں ، لیکن آپ اکثر ان کا ذکر کیا کرتے تھے ، بسا اوقات آپ بکری ذبح کرتے پھر اس کے ٹکڑے کرتے پھر انہیں خدیجہ کی سہیلیوں کے ہاں بھیجتے تھے ، کبھی کبھار میں آپ سے یوں عرض کرتی : گویا دنیا میں خدیجہ کے سوا کوئی عورت ہی نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے :’’ وہ ایسی تھیں ، وہ ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6187
sahih
وَعَن أبي سَلمَة أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشُ هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ» . قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ. قَالَتْ: وَهُوَ يَرَى مَا لَا أَرَى مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عائشہ ! جبریل ؑ تمہیں سلام کہتے ہیں ۔‘‘ انہوں نے فرمایا : و علیہ السلام و رحمۃ اللہ ! اور انہوں نے فرمایا : جو چیزیں آپ دیکھتے تھے وہ مجھے نظر نہیں آتی تھیں ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 6188
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: أُريتُكِ فِي الْمَنَامِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يَجِيءُ بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَقَالَ لِي: هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَكَشَفْتُ عَنْ وَجْهِكِ الثَّوْبَ فَإِذَا أَنْتِ هِيَ. فَقُلْتُ: إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا :’’ تم مجھے خواب میں تین راتیں دکھائی گئیں ۔ فرشتہ ریشم کے ٹکڑے میں تمہیں اٹھائے ہوئے ہے اور اس نے مجھے کہا : یہ آپ کی اہلیہ ہے ، میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا اٹھایا تو وہ آپ تھیں ۔‘‘ میں نے کہا : اگر یہ (خواب) اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا فرما دے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6189
sahih
وَعَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَتْ: إِنَّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ حِزْبَيْنِ: فَحِزْبٌ فِيهِ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ وَصَفِيَّةُ وَسَوْدَةُ وَالْحِزْبُ الْآخَرُ أُمُّ سَلَمَةَ وَسَائِرُ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَ حِزْبُ أُمِّ سَلَمَةَ فَقُلْنَ لَهَا: كَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَيَقُولُ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْيُهْدِهِ إِلَيْهِ حَيْثُ كَانَ. فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ لَهَا: «لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّ الْوَحْيَ لَمْ يَأْتِنِي وَأَنَا فِي ثَوْبِ امْرَأَةٍ إِلَّا عَائِشَةَ» . قَالَتْ: أَتُوب إِلَى الله من ذَاك يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ إِنَّهُنَّ دَعَوْنَ فَاطِمَةَ فَأَرْسَلْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَ: «يَا بُنَيَّةُ أَلَا تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ؟» قَالَتْ: بَلَى. قَالَ: «فَأَحِبِّي هَذِهِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَذَكَرَ حَدِيثُ أَنَسٍ «فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ» فِي بَابِ «بَدْءِ الْخَلْقِ» بِرِوَايَةِ أبي مُوسَى
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ صحابہ کرام اپنے تحائف پیش کرنے کے لیے عائشہ ؓ کی باری کا دن تلاش کیا کرتے تھے اور وہ اس کے ذریعے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خوشی حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ اور انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات کے دو گروہ تھے ، ایک گروہ میں عائشہ ، حفصہ ، صفیہ اور سودہ ؓ تھیں جبکہ دوسرے گروہ میں ام سلمہ ؓ اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی باقی ازواج مطہرات تھیں ، ام سلمہ ؓ کے گروہ نے مشورہ کیا اور انہوں نے ام سلمہ ؓ سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کریں کہ آپ لوگوں سے فرما دیں کہ جو شخص رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجنا چاہے تو وہ آپ کی خدمت میں وہیں ہدیہ بھیجے جہاں آپ تشریف فرما ہوں ۔ انہوں (ام سلمہ ؓ) نے آپ سے بات کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا :’’ مجھے عائشہ کے بارے میں تکلیف نہ پہنچاؤ ، کیونکہ عائشہ کے علاوہ کسی زوجہ محترمہ کے کپڑے میں مجھ پر وحی نہیں آتی ۔‘‘ انہوں (ام سلمہ ؓ) نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ کو تکلیف پہنچانے کی وجہ سے میں اللہ کے حضور توبہ کرتی ہوں ۔ پھر انہوں نے فاطمہؓ کو بلایا اور انہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا انہوں نے آپ سے بات کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بیٹی ! کیا تم وہ چیز پسند نہیں کرتی ہو جو میں پسند کرتا ہوں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، ضرور (پسند کرتی ہوں) آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس (عائشہ ؓ) سے محبت کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور انس ؓ سے مروی حدیث : ((فضل عائشۃ علی النساء)) باب بدء الخلق میں ابوموسی ؓ کی سند سے ذکر کی گئی ہے ۔

Hadith 6190
sahih
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ محمَّد وآسية امْرَأَة فِرْعَوْن» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جہان کی خواتین میں سے (کمال کے اعتبار سے) مریم بنت عمران ، خدیجہ بنت خویلد ، فاطمہ بنت محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اور آسیہ زوجہ فرعون ؓ تمہارے لیے کافی ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6191
sahih
وَعَن عَائِشَة أَن جِبْرِيل جَاءَ بِصُورَتِهَا فِي خِرْقَةِ حَرِيرٍ خَضْرَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «هَذِهِ زَوْجَتُكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جبریل ؑ سبز ریشمی کپڑے میں میری تصویر لے کر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا :’’ یہ دنیا و آخرت میں آپ کی زوجہ محترمہ ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6192
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ: بِنْتُ يَهُودِيٍّ فَبَكَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ؟» فَقَالَتْ: قَالَتْ لِي حَفْصَةُ: إِنِّي ابْنَةُ يَهُودِيٍّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِنَّك ابْنة نَبِيٍّ وَإِنَّ عَمَّكِ لَنَبِيٌّ وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ؟» ثُمَّ قَالَ: «اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، صفیہ ؓ کو پتہ چلا کہ حفصہ ؓ نے (انہیں) کہا ہے : یہودی کی بیٹی ، وہ رونے لگیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم کیوں رو رہی ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، حفصہ ؓ نے مجھے کہا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم ایک نبی کی بیٹی ہو ، تمہارا چچا بھی نبی اور تم نبی کی اہلیہ بھی ہو ۔ وہ کس بارے میں تم سے فخر کرتی ہیں ؟‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حفصہ ! اللہ سے ڈرتی رہو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی فی الکبریٰ ۔

Hadith 6193
sahih
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ عَامَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا فَبَكَتْ ثُمَّ حَدَّثَهَا فَضَحِكَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا. قَالَتْ: أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَمُوتُ فَبَكَيْتُ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
Urdu

ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فاطمہ ؓ کو بلایا اور ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ رو پڑیں ، پھر ان سے کوئی بات کی تو وہ ہنس پڑی ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تو میں نے ان کے رونے اور ان کی ہنسی کے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتایا تھا کہ میں فوت ہو جاؤں گا تو میں رو پڑی ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بتایا کہ مریم بنت عمران کے علاوہ اہل جنت کی خواتین کی میں سردار ہوں ۔‘‘ اس پر میں ہنس دی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6194
sahih
عَن أبي مُوسَى قَالَ: مَا أُشْكِلَ عَلَيْنَا أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ قَطُّ فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب
Urdu

ابوموسی ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : ہم پر یعنی رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ پر جب بھی کوئی حدیث مشتبہ ہو جاتی تو ہم عائشہ ؓ سے دریافت کرتے تو ہم اس کے متعلق ان کے ہاں علم پاتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6195
sahih
وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
Urdu

موسی بن طلحہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے فصاحت و بلاغت میں عائشہ ؓ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا ۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے حسن صحیح غریب کہا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6196
sahih
عَن عبد الله بن عمر قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدِي سراقَة مِنْ حَرِيرٍ لَا أَهْوِي بِهَا إِلَى مَكَانٍ فِي الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ أَخَاكِ رَجُلٌ صَالِحٌ - أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالح -» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میرے ہاتھ میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہے ، میں جنت میں جس جگہ جانے کا قصد کرتا ہوں تو وہ مجھے اڑا کر وہاں لے جاتا ہے ، میں نے حفصہ ؓ سے اس کا ذکر کیا تو حفصہ ؓ نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارا بھائی نیک آدمی ہے ۔‘‘ یا فرمایا :’’ عبداللہ نیک آدمی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6197
sahih
وَعَن حذيفةَ قَالَ: إِنَّ أَشْبَهَ النَّاسِ دَلًّا وَسَمْتًا وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَابْنُ أم عبدٍ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى أَنْ يرجع إِلَيْهِ لَا تَدْرِي مَا يصنع أَهله إِذا خلا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، چال ڈھال اور سیرت و ہدایات میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) ہیں ، اور ان کے گھر سے نکلنے سے لے کر واپس گھر جانے تک یہی صورت رہتی ہے ، جب وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ خلوت میں ہوتے ہیں تو معلوم نہیں وہ کیا کرتے ہیں ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 6198
sahih
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ فَمَكَثْنَا حِينًا مَا نَرَى إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا نُرَى مِنْ دُخُولِهِ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اور میرا بھائی یمن سے واپس آئے تو کچھ مدت تک ہم یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت کے ایک فرد ہیں ۔ وہ اس لیے کہ ان کا اور ان کی والدہ کا بکثرت نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا جانا ہم دیکھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔