Back to Mishkat Al-Masabih

Virtues

كتاب المناقب

Chapter 29

Hadith 6279
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخِلَافَةُ بِالْمَدِينَةِ وَالْمُلْكُ بِالشَّام»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ خلافت مدینہ میں ہے جبکہ بادشاہت شام میں ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

Hadith 6280
sahih
وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ عَمُودًا مِنْ نُورٍ خَرَجَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي سَاطِعًا حَتَّى اسْتَقَرَّ بِالشَّامِ» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي «دَلَائِل النُّبُوَّة»
Urdu

عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نے اپنے سر کے نیچے سے نورانی ستون نکلتا ہوا دیکھا اور وہ اوپر کو بلند ہوا حتیٰ کہ وہ شام میں جا ٹھہرا ۔‘‘ دونوں روایات کو امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

Hadith 6281
sahih
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ فُسْطَاطَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ بِالْغُوطَةِ إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا: دِمَشْقُ مِنْ خَيْرِ مَدَائِنِ الشَّامِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جنگ و جدل کے دن مسلمانوں کا گروہ دمشق نامی شہر کی جانب الغوطہ کے مقام پر ہو گا ، یہ شام کا سب سے بہترین شہر ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 6282
sahih
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَيَأْتِي مَلِكٌ مِنْ مُلُوكِ الْعَجَمِ فَيَظْهَرُ عَلَى الْمَدَائِنِ كلِّها إِلا دمشق. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
Urdu

عبد الرحمن بن سلیمان بیان کرتے ہیں ، عجمی بادشاہ ظاہر ہو گا تو وہ دمشق کے علاوہ تمام شہروں پر غالب آ جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 6283
sahih
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلَا مِنَ الْأُمَمِ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ وَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا فَقَالَ: من يعْمل إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ النَّصَارَى مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ. ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ؟ أَلَا فَأَنْتُمُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ أَلَا لَكُمُ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فَقَالُوا: نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ عَطَاءً قَالَ الله تَعَالَى: هَل ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: فَإِنَّهُ فَضْلِي أُعْطِيهِ مَنْ شِئْتُ . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابن عمر ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارا زمانہ پچھلی امتوں کے مقابلے میں ایسا ہے جیسے نماز عصر سے غروب آفتاب تک کا وقت ہے ، اور تمہاری مثال اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسے ہے ، جیسے کسی شخص نے کچھ مزدور کام پر رکھے اور اس نے کہا : آدھے دن تک ایک ایک قراط کے بدلے میرا کام کون کرے گا ؟ ایک ایک قراط کے بدلے میں یہود نے نصف دن تک کام کیا ، پھر اس نے کہا : کون ہے جو ایک ایک قراط پر میرے لیے نصف دن سے نماز عصر تک کام کرے گا ؟ نصاریٰ نے نصف دن سے لے کر نماز عصر تک ایک ایک قراط پر کام کیا ، پھر اس نے کہا : نماز عصر سے غروب آفتاب تک دو دو قراط پر میرے لیے کون کام کرے گا ؟ سن لو ! وہ تم ہو جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک کام کرو گے ۔ سن لو ! ہمارے لیے دگنا اجر ہے ، (اس پر) یہود و نصاریٰ ناراض ہو گئے تو انہوں نے کہا : ہم کام زیادہ کریں اور اجر و مزدوری کم پائیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا میں نے تمہارے حق میں کوئی کمی کی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا ، نہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ میرا فضل و مہربانی ہے میں اسے جسے چاہوں گا عطا کروں گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 6284
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنْ أَشَدِّ أمتِي لي حُبَّاً نَاسا يَكُونُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِأَهْلِهِ وَمَاله» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میری امت میں سے مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد ہوں گے ان میں سے ہر ایک یہ خواہش رکھے گا کہ کاش میرے اہل و عیال اور میرے سارے مال کے بدلے میں وہ مجھے دیکھ لے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 6285
sahih
وَعَن مُعَاوِيَة قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَذُكِرَ حَدِيثُ أَنَسٍ «إِنَّ مِنْ عِبَادِ الله» فِي «كتاب الْقصاص»
Urdu

معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میری امت میں سے ایک جماعت اللہ کے دین پر قائم رہے گی ، انہیں بے یار و مددگار چھوڑنے والا انہیں نقصان پہنچا سکے گا نہ ان کی مخالفت کرنے والا حتیٰ کہ اللہ کا امر (موت کا وقت) آ جائے گا اور وہ اسی حالت پر ہوں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور انس ؓ سے مروی حدیث : ((ان من عباد اللہ)) کتاب القصاص میں ذکر کی گئی ہے ۔

Hadith 6286
sahih
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے ، معلوم نہیں اس کے اول میں خیر ہے یا اس کے آخر میں خیر ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6287
sahih
عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْشِرُوا إِنَّمَا مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْغَيْثِ لَا يُدْرَى آخِرُهُ خَيْرٌ أَمْ أَوَّلُهُ؟ أَوْ كَحَدِيقَةٍ أُطْعِمَ مِنْهَا فَوْجٌ عَامًا لَعَلَّ آخِرَهَا فَوْجًا أَنْ يكون أعرَضَها عرضا وَأَعْمَقَهَا عُمْقًا وَأَحْسَنَهَا حُسْنًا كَيْفَ تَهْلِكُ أُمَّةٌ أَنَا أَوَّلُهَا وَالْمَهْدِيُّ وَسَطُهَا وَالْمَسِيحُ آخِرُهَا وَلَكِنْ بَين ذَلِك فَيْجٌ أَعْوَج لَيْسُوا وَلَا أَنا مِنْهُم» رَوَاهُ رزين
Urdu

جعفر اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ خوش ہو جاؤ ، خوش ہو جاؤ ، میری امت کی مثال ، بارش کی طرح ہے ، معلوم نہیں اس کے آخر میں خیر ہے یا اس کے اول میں خیر ہے ، یا ایک باغ کی طرح ہے ، اس میں سے ایک سال ایک فوج کو خوراک دی گئی ، پھر ایک سال اس میں سے ایک اور فوج کو خوراک دی گئی ، شاید کہ آخری فوج پہنائی کے اعتبار سے زیادہ وسیع اور گہرائی کے لحاظ سے زیادہ گہری ہو اور خوبصورتی کے اعتبار سے زیادہ حسین ہو ، وہ امت کیسے ہلاک ہو گی جس کے شروع میں میں ہوں ، مہدی اس کے وسط میں ہے اور مسیح ؑ اس کے آخر میں ہے ، لیکن اس دوران ایک گروہ کج روا اور ٹیڑھا ہو گا وہ مجھ سے ہیں نہ میں ان سے ہوں ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔

Hadith 6288
sahih
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ الْخَلْقِ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيمَانًا؟» قَالُوا: فالنبيون قَالَ: «ومالهم لَا يُؤْمِنُونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ؟» قَالُوا: فَنَحْنُ. قَالَ: «ومالكم لَا تُؤْمِنُونَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟» قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن أَعْجَبَ الْخَلْقِ إِلَيَّ إِيمَانًا لَقَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي يَجِدُونَ صُحُفًا فِيهَا كِتَابٌ يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا»
Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے نزدیک کس مخلوق کا ایمان زیادہ اچھا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : فرشتوں کا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ انہیں کیا ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں جبکہ وہ اپنے رب کے پاس ہیں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : پھر انبیا ؑ ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ انہیں کیا ہے کہ وہ ایمان نہ لائیں حالانکہ ان پر وحی نازل ہوتی ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، پھر ہم ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہیں کیا ہے کہ ایمان نہ لاؤ جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا میرے نزدیک ان لوگوں کا ایمان سب سے اچھا ہے جو میرے بعد ہوں گے ، وہ صحیفے پائیں گے ان میں ایک کتاب ہو گی وہ اس کی ہر چیز پر ایمان لائیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

Hadith 6289
sahih
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَلَاءِ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي آخِرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ لَهُمْ مِثْلُ أَجْرِ أَوَّلِهِمْ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقَاتِلُونَ أَهْلَ الْفِتَنِ» رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّة
Urdu

عبد الرحمن بن العلاء حضرمی بیان کرتے ہیں ، مجھے اس شخص نے حدیث بیان کی جس نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اس امت کے آخر میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جن کے لیے ان کے پہلے لوگوں کا سا اجر ہو گا ، وہ نیکی کا حکم کریں گے ، برائی سے منع کریں گے اور وہ فتنے والوں سے قتال کریں گے ۔‘‘ امام بیہقی نے ان دونوں حدیثوں کو دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

Hadith 6290
sahih
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «طُوبَى لِمَنْ رَآنِي [وَآمَنَ بِي] وَطُوبَى لِمَنْ لَمْ يَرَنِي وَآمَنَ بِي» . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس شخص کے لیے بشارت ہے جس نے (حالت ایمان میں) مجھے دیکھا اور اس شخص کے لیے سات مرتبہ بشارت ہے جس نے مجھے دیکھا نہیں لیکن وہ مجھ پر ایمان لایا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 6291
sahih
وَعَن أبي مُحَيْرِيزٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جُمُعَةَ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: نَعَمْ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا جَيِّدًا تَغَدَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ. أَحَدٌ خَيْرٌ منَّا؟ أسلمْنا وَجَاهَدْنَا مَعَكَ. قَالَ: «نَعَمْ قَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَرَوَى رَزِينٌ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ مِنْ قَوْلِهِ: قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ. أَحَدٌ خَيْرٌ مِنَّا إِلى آخِره
Urdu

ابن محیریز ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے صحابہ میں سے ایک آدمی ابوجمعہ سے کہا : ہمیں ایک ایسی حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہو ، انہوں نے کہا ، ٹھیک ہے ، میں تمہیں ایک اچھی سی حدیث سناتا ہوں ، ہم نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھانا کھایا ، ابوعبیدہ بن جراح ؓ بھی ہمارے ساتھ تھے ، انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم میں سے بھی کوئی بہتر ہے ؟ ہم نے اسلام قبول کیا اور آپ کے ساتھ مل کر جہاد کیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں وہ لوگ جو تمہارے بعد آئیں گے اور وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ۔‘‘ اور رزین نے ابوعبیدہ ؓ سے ان الفاظ سے روایت کیا ہے ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا کوئی ہم سے بہتر ہے ؟ آخر حدیث تک ۔ حسن ، رواہ احمد و الدارمی و رزین ۔

Hadith 6292
sahih
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ وَلَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ» قَالَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ: هُمْ أَصْحَابُ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
Urdu

معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب اہل شام خراب ہو جائیں تو پھر تم میں (وہاں رہنے یا اس طرف جانے میں) کوئی بہتری نہیں ہو گی ، میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا ، انہیں بے یارو مددگار چھوڑ دینے والا ان کا کوئی نقصان نہیں کرے گا حتیٰ کہ قیامت قائم ہو جائے ۔‘‘ ابن المدینی نے فرمایا : وہ اصحاب الحدیث ہیں ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6293
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه وَالْبَيْهَقِيّ
Urdu

ابن عبا سؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے میری امت سے بھول چوک اور ایسے امور (یعنی گناہوں) سے جن پر انہیں مجبور کیا جائے درگزر فرمایا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی السنن الکبریٰ ۔

Hadith 6294
sahih
وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: [كُنْتُمْ خير أُمَّةٍ أًّخرجت للنَّاس] قَالَ: «أَنْتُمْ تُتِمُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ تَعَالَى» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ
Urdu

بہز بن حکیم ؒ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اللہ تعالیٰ کے فرمان : (کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) ’’ تم بہترین امت ہو ، لوگوں کے لیے نکالے گئے ہو ۔‘‘ کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا :’’ تم ستر امتوں کا تمتہ ہو ، تم اللہ تعالیٰ کے ہاں ان سب سے بہتر اور معزز ہو ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔