ام عطیہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا ، اس میں علی ؓ بھی تھے ، ام عطیہ ؓ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! مجھے موت نہ دینا حتیٰ کہ تو مجھے علی ؓ کو دکھا دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ منافق شخص علی سے محبت کرے گا نہ مومن شخص ان سے دشمنی رکھے گا ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث سند کے لحاظ سے حسن غریب ہے ۔ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے علی کو برا بھلا کہا تو اس نے مجھے برا بھلا کہا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں عیسیٰ ؑ کی ایک مشابہت ہے ، یہودی ان سے دشمنی رکھتے ہیں ، حتیٰ کہ وہ ان کی والدہ (مطہرہ) پر تہمت لگاتے ہیں جبکہ نصاریٰ ان سے محبت کرتے ہیں ، حتیٰ کہ انہوں نے انہیں ایسے مقام پر فائز کر دیا جس کے وہ حق دار نہیں ۔‘‘ پھر علی ؓ نے فرمایا : دو قسم کے لوگ میرے (حق کے) متعلق ہلاک ہو جائیں گے ، افراط سے کام لینے والا محبّ وہ میرے متعلق ایسا افراط کرے گا جو مجھ میں نہیں ہے ، اور دشمنی رکھنے والا کہ میری دشمنی اسے اس پر آمادہ کرے گی کہ وہ مجھ پر بہتان لگائے گا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
براء بن عازب اور زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب غدیر خم پر پڑاؤ ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی ؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :’’ کیا تم نہیں جانتے کہ میرا مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق ہے ؟‘‘ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور ہے ، پھر فرمایا :’’ کیا تم نہیں جانتے کہ میرا ہر مومن پر اس کی جان سے بھی زیادہ حق ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ! ضرور ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! میں جس شخص کا دوست ہوں علی اس کے دوست ہیں ، اے اللہ ! جو شخص اس کو دوست بنائے تو اسے دوست بنا ، اور جو شخص اس سے دشمنی رکھے تو انہیں دشمن بنا ۔‘‘ اس کے بعد عمر ؓ علی سے ملے تو انہوں نے علی ؓ سے کہا : ابن ابی طالب ! آپ کو مبارک ہو آپ صبح و شام (ہر وقت) ہر مومن اور ہر مومنہ کے دوست بن گئے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر و عمر ؓ نے فاطمہ ؓ سے شادی کا پیغام بھیجا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ تو چھوٹی (کم سن) ہیں ۔‘‘ پھر علی ؓ نے انہیں پیغام بھیجا تو آپ نے ان کی شادی ان سے کر دی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باب علی کے سوا تمام دروازے بند کرنے کا حکم فرمایا ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں جو میرا مقام و مرتبہ تھا وہ مخلوق میں سے کسی اور کا نہیں تھا ، میں سحری کے اول وقت (رات کے آخری چھٹے حصے) میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا تو میں کہتا ، اللہ کے نبی ! آپ پر سلامتی ہو ، اگر آپ کھانس دیتے تو میں اہل خانہ کے پاس واپس چلا جاتا ، ورنہ میں آپ کے ہاں داخل ہو جاتا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مریض تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے ، اور اس وقت میں کہہ رہا تھا ، اے اللہ ! اگر میری موت کا وقت آ چکا ہے تو مجھے (موت کے ذریعے) راحت عطا فرما ، اور اگر ابھی دیر ہے تو پھر مجھے صحت عطا فرما ، اور اگر یہ آزمائش ہے تو پھر مجھے صبر عطا فرما ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے کیسے کہا ہے ؟‘‘ میں نے آپ کو دوبارہ سنا دیا ، آپ نے اسے اپنا پاؤں مارا اور فرمایا :’’ اے اللہ ! انہیں عافیت عطا فرما ۔‘‘ یا فرمایا :’’ اسے شفا عطا فرما ۔‘‘ راوی کو اس میں شک ہوا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں ، اس کے بعد مجھے تکلیف نہیں ہوئی ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ان حضرات سے ، جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرتے دم تک خوش رہے ، اس امر خلافت کا کوئی شخص حق دار نہیں ، انہوں نے نام گنوائے ، علی ، عثمان ، زبیر ، طلحہ ، سعد اور عبد الرحمن ؓ ۔ رواہ البخاری ۔
قیس بن ابی حازم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے طلحہ ؓ کا ہاتھ شل دیکھا جس کے ساتھ انہوں نے غزوۂ احد میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (دشمن کے وار سے) بچایا تھا ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احزاب کے روز فرمایا :’’ کون شخص میرے پاس لشکر کی خبر لائے گا ؟‘‘ زبیر ؓ نے عرض کیا : میں ! نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر نبی کا ایک حواری (مخلص معاون) ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر ؓ ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کون شخص بنو قریظہ جائے اور ان کے متعلق خبر میرے پاس لائے ؟‘‘ میں گیا ، اور جب میں واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے فرمایا :’’ تجھ پر میرے والدین فدا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سعد بن مالک ؓ کے علاوہ کسی اور شخص کے لیے اپنے والدین کو ایک ساتھ جمع کرتے (یعنی میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں) نہیں سنا ، کیونکہ غزوۂ احد کے موقع پر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سعد ! تیر اندازی کرو ، میرے والدین تم پر قربان ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، اللہ کی راہ میں تیر چلانے والا میں پہلا عربی شخص ہوں ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کسی غزوہ سے واپس) مدینہ آئے تو رات بھر جاگتے رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کاش کوئی مرد صالح میرے لیے پہرہ دیتا ، اتنے میں ہم نے ہتھیاروں کی آواز (جھنکار) سنی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ کون ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں سعد ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آپ یہاں کیسے آئے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میرے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق خوف سا پیدا ہوا تو میں آپ کے لیے پہرہ دینے آیا ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سو گئے ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر امت کے لیے ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن ابی ملیکہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے اس وقت سنا جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کو خلیفہ نامزد کرتے تو آپ کسے نامزد فرماتے ؟ انہوں نے فرمایا : ابوبکر ؓ ، پوچھا گیا : پھر ابوبکر ؓ کے بعد کون ؟ انہوں نے فرمایا : عمر ؓ ، پوچھا گیا : عمر ؓ کے بعد کون ؟ انہوں نے فرمایا : ابوعبیدہ بن جراح ؓ ۔ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، طلحہ اور زبیر ؓ حرا پر تھے کہ پتھر نے حرکت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ٹھہر جا ، تجھ پر نبی ، صدیق اور شہید ہیں ۔‘‘ اور بعض راویوں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کا اضافہ نقل کیا ہے اور علی ؓ کا ذکر نہیں کیا ۔ رواہ مسلم ۔
عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ابوبکر جنت میں ، عمر جنت میں ، عثمان جنت میں ، علی جنت میں ، طلحہ جنت میں ، زبیر جنت میں ، عبد الرحمن بن عوف جنت میں ، سعد بن ابی وقاص جنت میں ، سعید بن زید جنت میں اور ابوعبیدہ (عامر) بن جراح جنت میں ہیں ۔‘‘ اسناہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔