Back to Mishkat Al-Masabih

Virtues

كتاب المناقب

Chapter 29

Hadith 6099
sahih
وَعَن أم عطيَّة قَالَتْ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا فِيهِمْ عَلِيٌّ قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُرِيَنِي عليّاً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ام عطیہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا ، اس میں علی ؓ بھی تھے ، ام عطیہ ؓ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! مجھے موت نہ دینا حتیٰ کہ تو مجھے علی ؓ کو دکھا دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6100
sahih
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَافِقٌ وَلَا يُبْغِضُهُ مُؤْمِنٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيب إِسْنَادًا
Urdu

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ منافق شخص علی سے محبت کرے گا نہ مومن شخص ان سے دشمنی رکھے گا ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث سند کے لحاظ سے حسن غریب ہے ۔ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔

Hadith 6101
sahih
وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي» . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے علی کو برا بھلا کہا تو اس نے مجھے برا بھلا کہا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 6102
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِيكَ مَثَلٌ مِنْ عِيسَى أَبْغَضَتْهُ الْيَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي لَيْسَتْ لَهُ» . ثُمَّ قَالَ: يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں عیسیٰ ؑ کی ایک مشابہت ہے ، یہودی ان سے دشمنی رکھتے ہیں ، حتیٰ کہ وہ ان کی والدہ (مطہرہ) پر تہمت لگاتے ہیں جبکہ نصاریٰ ان سے محبت کرتے ہیں ، حتیٰ کہ انہوں نے انہیں ایسے مقام پر فائز کر دیا جس کے وہ حق دار نہیں ۔‘‘ پھر علی ؓ نے فرمایا : دو قسم کے لوگ میرے (حق کے) متعلق ہلاک ہو جائیں گے ، افراط سے کام لینے والا محبّ وہ میرے متعلق ایسا افراط کرے گا جو مجھ میں نہیں ہے ، اور دشمنی رکھنے والا کہ میری دشمنی اسے اس پر آمادہ کرے گی کہ وہ مجھ پر بہتان لگائے گا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 6103
sahih
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ بِغَدِيرِ خُمٍّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» . فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ: هَنِيئًا يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كلَّ مُؤمن ومؤمنة. رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

براء بن عازب اور زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب غدیر خم پر پڑاؤ ڈالا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے علی ؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :’’ کیا تم نہیں جانتے کہ میرا مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق ہے ؟‘‘ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور ہے ، پھر فرمایا :’’ کیا تم نہیں جانتے کہ میرا ہر مومن پر اس کی جان سے بھی زیادہ حق ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ! ضرور ہے ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! میں جس شخص کا دوست ہوں علی اس کے دوست ہیں ، اے اللہ ! جو شخص اس کو دوست بنائے تو اسے دوست بنا ، اور جو شخص اس سے دشمنی رکھے تو انہیں دشمن بنا ۔‘‘ اس کے بعد عمر ؓ علی سے ملے تو انہوں نے علی ؓ سے کہا : ابن ابی طالب ! آپ کو مبارک ہو آپ صبح و شام (ہر وقت) ہر مومن اور ہر مومنہ کے دوست بن گئے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 6104
sahih
وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: خطب أبي بَكْرٍ وَعُمَرُ فَاطِمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا صَغِيرَةٌ» ثُمَّ خَطَبَهَا عليٌّ فزوَّجها مِنْهُ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ
Urdu

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر و عمر ؓ نے فاطمہ ؓ سے شادی کا پیغام بھیجا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ تو چھوٹی (کم سن) ہیں ۔‘‘ پھر علی ؓ نے انہیں پیغام بھیجا تو آپ نے ان کی شادی ان سے کر دی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی ۔

Hadith 6105
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے باب علی کے سوا تمام دروازے بند کرنے کا حکم فرمایا ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6106
sahih
وَعَن عَليّ قَالَ: كَانَتْ لِي مَنْزِلَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ آتِيهِ بِأَعْلَى سَحَرٍ فَأَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَإِنْ تَنَحْنَحَ انْصَرَفْتُ إِلَى أَهْلِي وَإِلَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں جو میرا مقام و مرتبہ تھا وہ مخلوق میں سے کسی اور کا نہیں تھا ، میں سحری کے اول وقت (رات کے آخری چھٹے حصے) میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتا تو میں کہتا ، اللہ کے نبی ! آپ پر سلامتی ہو ، اگر آپ کھانس دیتے تو میں اہل خانہ کے پاس واپس چلا جاتا ، ورنہ میں آپ کے ہاں داخل ہو جاتا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔

Hadith 6107
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي وَإِن كَانَ متأخِّراً فارفَعْني وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ قُلْتَ؟» فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَا قَالَ فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ عَافِهِ - أَوِ اشْفِهِ -» شَكَّ الرَّاوِي قَالَ: فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي بَعْدُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مریض تھا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے ، اور اس وقت میں کہہ رہا تھا ، اے اللہ ! اگر میری موت کا وقت آ چکا ہے تو مجھے (موت کے ذریعے) راحت عطا فرما ، اور اگر ابھی دیر ہے تو پھر مجھے صحت عطا فرما ، اور اگر یہ آزمائش ہے تو پھر مجھے صبر عطا فرما ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم نے کیسے کہا ہے ؟‘‘ میں نے آپ کو دوبارہ سنا دیا ، آپ نے اسے اپنا پاؤں مارا اور فرمایا :’’ اے اللہ ! انہیں عافیت عطا فرما ۔‘‘ یا فرمایا :’’ اسے شفا عطا فرما ۔‘‘ راوی کو اس میں شک ہوا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں ، اس کے بعد مجھے تکلیف نہیں ہوئی ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 6108
sahih
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ فَسَمَّى عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَالزُّبَيْرَ وَطَلْحَةَ وَسَعْدًا وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
Urdu

عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ان حضرات سے ، جن پر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مرتے دم تک خوش رہے ، اس امر خلافت کا کوئی شخص حق دار نہیں ، انہوں نے نام گنوائے ، علی ، عثمان ، زبیر ، طلحہ ، سعد اور عبد الرحمن ؓ ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 6109
sahih
وَعَن قيس بن حازِم قَالَ: رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ وَقَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

قیس بن ابی حازم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے طلحہ ؓ کا ہاتھ شل دیکھا جس کے ساتھ انہوں نے غزوۂ احد میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو (دشمن کے وار سے) بچایا تھا ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 6110
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ؟» قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيَّاً وحَوَاريَّ الزبيرُ» مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ احزاب کے روز فرمایا :’’ کون شخص میرے پاس لشکر کی خبر لائے گا ؟‘‘ زبیر ؓ نے عرض کیا : میں ! نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر نبی کا ایک حواری (مخلص معاون) ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر ؓ ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6111
sahih
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَأْتِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَيَأْتِينِي بِخَبَرِهِمْ؟» فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا رَجَعْتُ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ فَقَالَ: «فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کون شخص بنو قریظہ جائے اور ان کے متعلق خبر میرے پاس لائے ؟‘‘ میں گیا ، اور جب میں واپس آیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے لیے فرمایا :’’ تجھ پر میرے والدین فدا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6112
sahih
وَعَن عليٍّ قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ: «يَا سَعْدُ ارْمِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سعد بن مالک ؓ کے علاوہ کسی اور شخص کے لیے اپنے والدین کو ایک ساتھ جمع کرتے (یعنی میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں) نہیں سنا ، کیونکہ غزوۂ احد کے موقع پر میں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سعد ! تیر اندازی کرو ، میرے والدین تم پر قربان ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6113
sahih
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيل الله. مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، اللہ کی راہ میں تیر چلانے والا میں پہلا عربی شخص ہوں ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 6114
sahih
وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدِمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً فَقَالَ: «لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا يَحْرُسُنِي» إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ سِلَاحٍ فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قَالَ: أَنَا سَعْدٌ قَالَ: «مَا جَاءَ بِكَ؟» قَالَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (کسی غزوہ سے واپس) مدینہ آئے تو رات بھر جاگتے رہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کاش کوئی مرد صالح میرے لیے پہرہ دیتا ، اتنے میں ہم نے ہتھیاروں کی آواز (جھنکار) سنی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ کون ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں سعد ہوں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آپ یہاں کیسے آئے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میرے دل میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے متعلق خوف سا پیدا ہوا تو میں آپ کے لیے پہرہ دینے آیا ہوں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سو گئے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 6115
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجراح. مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر امت کے لیے ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 6116
sahih
وَعَن ابْن أبي مليكَة قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَسُئِلَتْ: مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْلِفًا لَوِ اسْتَخْلَفَهُ؟ قَالَت: أَبُو بكر. فَقيل: ثُمَّ مَنْ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَتْ: عُمَرُ. قِيلَ: مَنْ بَعْدَ عُمَرَ؟ قَالَتْ: أَبُو عُبَيْدَةَ بن الْجراح. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابن ابی ملیکہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے اس وقت سنا جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ اگر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی کو خلیفہ نامزد کرتے تو آپ کسے نامزد فرماتے ؟ انہوں نے فرمایا : ابوبکر ؓ ، پوچھا گیا : پھر ابوبکر ؓ کے بعد کون ؟ انہوں نے فرمایا : عمر ؓ ، پوچھا گیا : عمر ؓ کے بعد کون ؟ انہوں نے فرمایا : ابوعبیدہ بن جراح ؓ ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 6117
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ» . وَزَادَ بَعْضُهُمْ: وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَلَمْ يَذْكُرْ عَلِيًّا. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، طلحہ اور زبیر ؓ حرا پر تھے کہ پتھر نے حرکت کی تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ٹھہر جا ، تجھ پر نبی ، صدیق اور شہید ہیں ۔‘‘ اور بعض راویوں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کا اضافہ نقل کیا ہے اور علی ؓ کا ذکر نہیں کیا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 6118
sahih
عَن عبد الرَّحْمَن بن عَوْف أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْجَنَّةِ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فِي الْجَنَّةِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ابوبکر جنت میں ، عمر جنت میں ، عثمان جنت میں ، علی جنت میں ، طلحہ جنت میں ، زبیر جنت میں ، عبد الرحمن بن عوف جنت میں ، سعد بن ابی وقاص جنت میں ، سعید بن زید جنت میں اور ابوعبیدہ (عامر) بن جراح جنت میں ہیں ۔‘‘ اسناہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔