عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا ، آپ اس کے ساتھ وضو کے بعد اپنے اعضاء صاف کیا کرتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث صحیح نہیں ، ابومعاذ راوی ، محدثین کے نزدیک ضعیف ہے ۔ ضعیف ۔
ثابت بن ابوصفیہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابوجعفر محمد الباقر ؒ سے کہا ، جابر ؓ نے آپ کو یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایک مرتبہ ، دو دو مرتبہ اور تین تین مرتبہ وضو کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ ضعیف ۔
عبداللہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو دو مرتبہ وضو کیا اور فرمایا :’’ وہ نور پرنور (سونے پہ سہاگہ) ہے ۔‘‘ لااصل لہ ، روواہ رزین (لم اجدہ)
عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین تین مرتبہ وضو کیا اور فرمایا :’’ یہ میرا ، مجھ سے پہلے انبیا علیہم السلام اور ابراہیم ؑ کا وضو ہے ۔ رزین نے دونوں روایتیں کیں ، جبکہ امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں دوسری روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ ضعیف ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے ، جبکہ ہمارے کسی کے لیے (پہلا) وضو کافی رہتا ہے جب تک اس کا وضو نہ ٹوٹے ۔ صحیح ، رواہ الدارمی و البخاری ۔
محمد بن یحی ٰ بن حبان ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر سے کہا : تم نے عبداللہ بن عمر ؓ کو ہر نماز کے لیے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ قطع نظر اس کے کہ وہ پہلے ہی باوضو تھے یا بے وضو نیز انہوں نے یہ مسئلہ کہاں سے لیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اسماء بنت زید بن خطاب نے انہیں حدیث بیان کی کہ عبداللہ بن حنظلہ بن ابی عامر الغسیل نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو ہونے یا وضو نہ ہونے ہر دو صورتوں میں ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا ، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ گراں گزرا تو آپ کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیا گیا اور وضو کا حکم ختم کر دیا گیا البتہ وضو نہ ہونے کی صورت میں وضو کرنے کا حکم باقی رہا ، راوی بیان کرتے ہیں ، عبداللہ ؓ سمجھتے تھے کہ انہیں ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے کی استطاعت حاصل ہے لہذا وہ مرتے دم تک اس پر عمل پیرا رہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سعد ؓ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ وضو کر رہے تھے ، آپ نے فرمایا :’’ سعد ! یہ کیسا اسراف ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : کیا وضو کرنے میں بھی اسراف ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، خواہ تم نہر رواں پر ہوں ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ ، ابن مسعود اور ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے وضو کیا اور بسم اللہ پڑھی اس نے اپنا پورا جسم پاک کر لیا ، اور جو شخص وضو کرے لیکن بسم اللہ نہ پڑھے تو وہ صرف اعضائے وضو ہی پاک کرتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے وضو کرتے تو آپ اپنی انگوٹھی کو انگلی میں ہلاتے تھے ۔ ضعیف ۔ دونوں روایتوں کو دارقطنی نے روایت کیا ہے ، اور ابن ماجہ نے آخری کو روایت کیا ہے ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اس (یعنی اپنی اہلیہ) کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھے ، پھر اسے مشقت میں مبتلا (یعنی جماع) کرے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ، خواہ انزال نہ ہو :‘‘ متفق علیہ ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پانی (غسل) پانی (منی کے نکلنے) سے ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ الشیخ الامام محی السنہ ؒ نے فرمایا : یہ حدیث منسوخ ہے ۔
ابن عباس ؓ نے فرمایا : پانی پانی سے ہے ، یہ احتلام کے بارے میں ہے ۔ ترمذی ، اور میں نے اسے صحیحین میں نہیں پایا ۔ ضعیف ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ام سلیم ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! بے شک اللہ حق بات سے نہیں شرماتا ، جب عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر غسل کرنا واجب ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، جب وہ پانی (منی کے آثار) دیکھے ۔‘‘ (یہ سن کر) ام سلمہ ؓ نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ، تو پھر اس کا بچہ اس سے کیسے مشابہت اختیار کرتا ؟‘‘ متفق علیہ ۔
امام مسلم ؒ نے ام سلیم ؓ کے طریق سے جو روایت بیان کی ہے اس میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ آدمی کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے ، جبکہ عورت کا پانی پتلا زرد ہوتا ہے ، پس ان دونوں میں سے جس کا پانی غالب آ جائے یا سبقت لے جائے تو بچے کی مشابہت اسی پر ہو جاتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل جنابت فرماتے تو آپ سب سے پہلے ہاتھ دھوتے ، پھر وضو فرماتے جیسے نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے ، پھر اپنی انگلیاں پانی میں داخل کرتے اور اس سے اپنے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے ، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے ، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے ۔ متفق علیہ ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھوں کو کسی برتن میں ڈالنے سے پہلے دھوتے ، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرم گاہ کو دھوتے ، پھر وضو فرماتے ۔
ابن عباس ؓ بیان ؓ کرتے ہیں ، میمونہ ؓ نے فرمایا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے غسل کرنے کے لیے پانی رکھا ، اور ایک کپڑے سے آپ پر پردہ کیا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا تو انہیں دھویا ، پھر آپ نے اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا تو انہیں دھویا ، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر شرم گاہ کو دھویا ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر ملا اور اسے دھویا ، پھر آپ نے کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، اپنا چہرہ اور بازو دھوئے ، پھر سر پر پانی ڈالا ، اور سارے جسم پر پانی بہایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جگہ سے ہٹ کر پاؤں دھوئے ، میں نے آپ کو کپڑا دیا لیکن آپ نے نہ لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہاتھوں سے پانی صاف کرتے تشریف لے گئے ۔ اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، انصار کی ایک خاتون نے غسل حیض کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بتایا کہ وہ کیسے غسل کرے گی ، پھر فرمایا :’’ کستوری لگا ہوا روئی کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے طہارت حاصل کرو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میں اس سے کیسے طہارت حاصل کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس سے طہارت حاصل کرو ۔‘‘ اس نے پھر عرض کیا : میں اس سے کیسے طہارت حاصل کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سبحان اللہ ! اس سے طہارت حاصل کرو ۔‘‘ (عائشہ ؓ فرماتی ہیں) پس میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور بتایا : اسے خون کی جگہ (شرم گاہ) پر رکھ لے ۔ متفق علیہ ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ میں اپنے سر کے بالوں کو مضبوط گوندھتی ہوں ، تو کیا میں غسل جنابت کے لیے اسے کھول دیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ تم اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالو ، پھر اپنے جسم پر پانی بہا لو ، پس تم پاک ہو جاؤ گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مد (تقریباً چھ سو گرام/ ملی لیٹر) سے وضو اور ایک صاع (چار مد) سے پانچ مد تک پانی سے غسل کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
معاذہ بیان کرتی ہیں ، عائشہ ؓ نے فرمایا : میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک برتن سے ، جو کہ ہمارے درمیان ہوتا تھا ، غسل کیا کرتے تھے ، آپ مجھ سے جلدی فرماتے تھے حتیٰ کہ میں کہتی : میرے لیے (پانی) رہنے دیں ، میرے لیے رہنے دیں ، جبکہ وہ دونوں جنبی ہوتے تھے ۔ متفق علیہ ۔