عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق مسئلہ دریافت کیا گیا جو (اپنے جسم یا کپڑوں پر) نمی پاتا ہے لیکن اسے احتلام یاد نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ غسل کرے گا ۔‘‘ اور پھر اس شخص کے متعلق مسئلہ دریافت کیا گیا جو سمجھتا ہے کہ اسے احتلام ہوا ہے لیکن وہ کوئی نمی نہیں پاتا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس پر غسل لازم نہیں ۔‘‘ ام سلیم ؓ نے عرض کیا : کیا آپ عورت پر بھی یہ غسل واجب سمجھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، کیونکہ عورتیں بھی (تخلیق و طبع میں) مردوں کی طرح ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی اور ابن ماجہ نے ((لا غسل علیہ)) تک روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب مرد کی شرم گاہ عورت کی شرم گاہ میں داخل ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ، میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کیا تو ہم نے غسل کیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی وابن ماجہ ۔
Hadith 443
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «تَحت كل شَعْرَة جَنَابَةٌ فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ وَأَنْقُوا الْبَشْرَةَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَالْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ الرَّاوِي وَهُوَ شيخ لَيْسَ بذلك
Urdu
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر بال کے نیچے جنابت ہے ، بال دھوؤ اور جسم کو صاف کرو ۔‘‘ ضعیف ۔ ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ۔ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، حارث بن وجیہ راوی عمر رسیدہ ہے ، اور اس کی روایت کی توثیق نہیں کی جاسکتی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے بال برابر جائے جنابت چھوڑ دی اور اسے نہ دھویا تو اسے جہنم میں اس اس طرح کی سزا دی جائے گی ۔‘‘ علی ؓ نے فرمایا : میں نے اسی لیے اپنا سر منڈا لیا ، میں نے اسی لیے اپنا سر منڈا لیا ، میں نے اسی لیے اپنا سر منڈا لیا یہ جملہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا ۔ ابوداؤد ، احمد ، دارمی ۔ اسنادہ حسن ۔ البتہ ان دونوں (احمد اور دارمی) نے میں نے اسی لیے اپنا سر منڈا لیا ‘‘ کا تکرار ذکر نہیں کیا ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطمی سے اپنا سر دھویا کرتے تھے جبکہ آپ جنبی ہوتے تھے ، آپ اسی پر اکتفا فرماتے اور اس پر پانی نہیں ڈالتے تھے ۔ ضعیف ۔
یعلیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی شخص کو کھلے میدان میں (عریاں) غسل کرتے ہوئے دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ بے شک اللہ حیادار ، پردہ پوشی کرنے والا ہے ، وہ حیاداری اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے ، پس جب تم میں سے کوئی نہائے تو وہ پردہ کرے ۔‘‘ ابوداؤد ، نسائی ۔ صحیح ۔ اور نسائی کی ایک روایت میں ہے :’’ بے شک اللہ پردہ پوشی کرنے والا ہے ، پس جب تم میں سے کوئی غسل کرنا چاہے تو وہ کسی چیز سے پردہ کر لے ۔‘‘
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، پانی (غسل) ، پانی (انزال) کی وجہ سے واجب ہوتا ہے ، اس بارے میں شروع اسلام میں رخصت تھی ، پھر اس سے منع کر دیا گیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، میں نے غسل جنابت کیا اور میں نے نماز فجر ادا کی ، پھر میں نے ناخن برابر جگہ خشک دیکھی جہاں پانی نہیں پہنچا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم اپنا گیلا ہاتھ اس پر پھیر دیتے تو وہ تمہارے لیے کافی ہوتا ۔‘‘ ضعیف ۔
Hadith 450
sahih
وَعَن عبد الله بن عمر قَالَ كَانَتِ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ سبع مرار وَغسل الْبَوْل من الثَّوْب سبع مرار فَلَمْ يَزَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ حَتَّى جعلت الصَّلَاة خمْسا وَالْغسْل من الْجَنَابَة مرّة وَغسل الْبَوْل من الثَّوْب مرّة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں نمازیں پچاس تھیں ، غسل جنابت سات مرتبہ تھا ، کپڑے سے پیشاب دھونا بھی سات مرتبہ تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل (تخفیف کے لیے اپنے رب سے) سوال کرتے رہے حتیٰ کہ نمازیں پانچ ، غسل جنابت ایک مرتبہ اور پیشاب کی وجہ سے کپڑے کا دھونا ایک مرتبہ کر دیا گیا ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی میں اس وقت جنبی تھا ، پس آپ نے مجھے ہاتھ سے پکڑا تو میں نے آپ کے ساتھ چلنا شروع کیا حتیٰ کہ آپ بیٹھ گئے تو میں وہاں سے چپکے سے اٹھا اور گھر آ کر غسل کر کے پھر خدمت میں حاضر ہوا تو آپ وہیں تشریف فرما تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ابوہریرہ ! تم کہاں تھے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سبحان اللہ ! مومن نجس نہیں ہوتا ۔‘‘ یہ بخاری کے الفاظ ہیں ۔ اور مسلم کی روایت بھی اس کے ہم معنی ہے ۔ اور انہوں نے ’’ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا ‘‘ کے بعد درج ذیل کا اضافہ نقل کیا ہے :’’ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ملے تو میں جنبی تھا ، پس میں نے غسل کیے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہم نشین ہونا ناپسند کیا ۔‘‘ بخاری کی دوسری روایت بھی اسی طرح ہے ۔ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ وہ رات کو جنبی ہو جاتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ وضو کر ، استنجا کر اور سو جا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنبی ہوتے اور آپ کھانے یا سونے کا ارادہ فرماتے تو آپ نماز کے وضو جیسا وضو فرماتے ۔ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ سے جماع کرے اور پھر وہ دوبارہ جماع کرنا چاہے تو وہ ان دونوں کے درمیان وضو کر لے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر حالت میں اللہ عزوجل کا ذکر کیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔ اور ابن عباس ؓ سے مروی حدیث ہم ان شاء اللہ تعالیٰ ، کتاب الاطعمہ میں ذکر کریں گے ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے ایک ٹب میں غسل کیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے غسل کرنا چاہا تو انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں تو جنبی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پانی جنبی نہیں ہوتا ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، جبکہ دارمی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل جنابت کیا کرتے پھر آپ مجھ سے گرمائش حاصل کرتے جبکہ میں نے ابھی غسل نہیں کیا ہوتا تھا ۔ ابن ماجہ ، ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں ۔ ضعیف ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت الخلا سے باہر تشریف لاتے تو ہمیں قرآن پڑھاتے اور ہمارے ساتھ گوشت تناول فرماتے اور جنابت کے علاوہ کوئی اور چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن سے مانع نہیں تھی ۔ ابوداؤد ، نسائی ، جبکہ ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ۔