ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص میت کو غسل دے تو وہ خود بھی غسل کرے ۔‘‘ ابن ماجہ ، احمد ، ترمذی اور ابوداؤد نے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ جو شخص اسے کندھا دے تو وہ وضو کرے ۔‘‘ صحیح ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار چیزوں : جنابت ، جمعہ کے دن ، سینگی لگوانے اور میت کو غسل دینے ، سے غسل کیا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
قیس بن عاصم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ پانی میں بیری کے پتے ڈال کر غسل کریں ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
عکرمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اہل عراق سے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے عرض کیا : ابن عباس ! کیا آپ جمعہ کے روز غسل کرنا واجب سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں ، لیکن پاکیزگی کا باعث اور بہتر ہے ، اور جو شخص غسل نہ کرے تو اس پر واجب نہیں ، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ غسل کا آغاز کیسے ہوا ، لوگ محنت کش تھے ، اونی لباس پہنتے تھے ، وہ اپنی کمر پر بوجھ اٹھاتے تھے ، ان کی مسجد تنگ تھی اور چھت اونچی نہیں تھی ، بس وہ ایک چھپر سا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرمیوں کے دن تشریف لائے تو لوگ اس اونی لباس میں پسینے سے شرابور تھے ، حتیٰ کہ ان سے بو پھیل گئی اور وہ ایک دوسرے کے لیے باعث اذیت بن گئی ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بو محسوس کی تو فرمایا :’’ لوگو ! جب یہ (جمعہ کا) دن ہو تو غسل کرو اور جو بہترین تیل اور خوشبو میسر ہو وہ استعمال کرو ۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا : پھر اللہ نے مال عطا کر دیا تو انہوں نے غیر اونی کپڑے پہن لیے ، کام کرنے کی ضرورت نہ رہی ۔ ان کی مسجد کی توسیع کر دی گئی اور ایک دوسرے کو اذیت پہنچانے والی وہ پسینے کی بو جاتی رہی ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، یہودیوں کا یہ طرز عمل تھا کہ جب ان میں کسی عورت کو حیض آ جاتا تو وہ اس کے ساتھ کھاتے نہ انہیں گھر میں ساتھ رکھتے ، پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے آپ سے مسئلہ دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ وہ آپ سے حیض کے بارے میں مسئلہ دریافت کرتے ہیں ۔‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جماع کے علاوہ سب کچھ کرو ۔‘‘ چنانچہ یہودیوں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے کہا یہ آدمی (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا چاہتا ہے یہ تمام معاملات میں ہماری مخالفت ہی کرتا ہے ۔ چنانچہ اُسید بن حُضیر اور عبادہ بن بشیر ؓ حاضر خدمت ہوئے تو انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہودی یہ یہ کہتے ہیں ، کیا ہم ان سے (حالت حیض میں) جماع نہ کریں ؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا ، حتیٰ کہ ان دونوں نے خیال کیا کہ آپ ان دوں پر ناراض ہو گئے ہیں ، پس وہ وہاں سے چل دیے ، انہیں دودھ کا ہدیہ ملا جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا گیا تھا ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی شخص کو ان کے پیچھے بھیجا اور انہیں دودھ پلایا جس سے انہوں نے پہچان لیا کہ آپ ان پر ناراض نہیں ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے ، جبکہ ہم دونوں جنبی ہوتے تھے ، آپ مجھے حکم دیتے تو میں ازار پہن لیتی ، پھر آپ میرے ساتھ لیٹ جاتے جبکہ میں حیض سے ہوتی ، آپ اعتکاف کی حالت میں اپنا سر مبارک میری طرف کر دیتے ، تو میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں حیض سے ہوتی تھی ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں حالت حیض میں کوئی چیز پیتی پھر میں اسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دے دیتی تو آپ اسی جگہ اپنا منہ لگاتے ، جہاں میں نے منہ لگایا تھا ۔ اور میں ہڈی والی بوٹی کھاتی جبکہ میں حیض سے ہوتی تھی ، پھر میں اسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دے دیتی تو آپ اسی جگہ منہ لگاتے جہاں میرا منہ لگا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری گود میں ٹیک لگاتے ، اور قرآن حکیم کی تلاوت فرماتے حالانکہ میں اس وقت مخصوص ایام میں ہوتی تھی ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ مجھے مسجد سے چٹائی پکڑا دو ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، میں حیض سے ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک اونی چادر میں نماز پڑھا کرتے تھے ، اس کا کچھ حصہ مجھ پر ہوتا اور کچھ آپ پر ہوتا ، جبکہ میں حیض سے تھی ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے حائضہ سے جماع کیا یا عورت سے لواطت کی یا وہ کسی کاہن کے پاس گیا تو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کی گئی شریعت کا انکار کر دیا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ حسن ۔ اور ابن ماجہ اور دارمی کی روایت میں ہے :’’ اگر اس نے اس (کاہن کی) بات کو سچا جانا تو بلاشبہ اس نے کفر کیا ۔‘‘ امام ترمذی نے فرمایا : ہم یہ حدیث صرف حکیم الاثرم عن ابی تمیمہ عن ابی ہریرہ کی سند سے جانتے ہیں ۔
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! جب میری اہلیہ حالت حیض میں ہو تو اس کی کیا چیز میرے لیے حلال ہے ؟ آپ نے فرمایا :’’ جو چیز ازار سے اوپر ہے ، لیکن اس سے بھی بچنا افضل ہے ۔‘‘ رزین نے اسے روایت کیا اور محی السنہ نے فرمایا : اس کی اسناد قوی نہیں ۔ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی اپنی اہلیہ سے ایام حیض میں مجامعت کرے تو وہ نصف دینار صدقہ کرے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا :’’ جب (حیض کا) خون سرخ ہو تو (جماع کرنے کی صورت میں) ایک دینار اور جب خون زرد ہو تو نصف دینار ۔‘‘ ضعیف ۔
زید بن اسلم ؒ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے عرض کیا : جب میری اہلیہ حالت حیض میں ہو تو اس کی کیا چیز میرے لیے حلال ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کا ازار کس کر باندھ ، پھر اس سے اوپر کا حصہ تیرے لیے حلال ہے ۔‘‘ مالک اور دارمی نے مرسل روایت کیا ہے ۔ حسن ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب مجھے حیض آتا تو میں بستر سے چٹائی پر آ جاتی ، اور جب تک ہم پاک نہ ہو جاتیں ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب نہ جاتیں ۔ ضعیف ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، فاطمہ بنت ابی حبیش نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں استحاضہ کی مریض ہوں ، میں پاک نہیں رہتی ، کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، وہ تو ایک رگ کا خون ہے ، حیض نہیں ، پس جب تمہیں حیض آئے تو نماز چھوڑ دو ، اور جب وہ جاتا رہے تو خون صاف کر (یعنی غسل کر) اور پھر نماز پڑھ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عروہ بن زبیر ؒ فاطمہ بنت ابی حبیش ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں استحاضہ کا مرض تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ جب حیض کا خون ہو گا تو وہ سیاہ رنگ کا ہو گا اور وہ آسانی سے پہچانا جاتا ہے ، جب وہ ہو تو نماز نہ پڑھ اور جب دوسرا (خون) ہو تو پھر وضو کر اور نماز پڑھ ، وہ تو محض رگ کا خون ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں ایک عورت کو استحاضہ کا خون آتا تھا ، ام سلمہ ؓ نے اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا :’’ اسے چاہیے کہ اس مرض میں مبتلا ہونے سے پہلے ، اسے مہینے میں جتنے دن حیض کا خون آتا تھا ، انہیں شمار کر کے اتنے دن مہینے میں نماز چھوڑ دے ، اور جب وہ دن گزرجائیں تو وہ غسل کرے اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے اور پھر نماز پڑھے ۔‘‘ مالک ، ابوداؤد ، دارمی ، جبکہ نسائی نے بھی اسی معنی میں روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
عدی بن ثابت اپنے باپ سے اور وہ اس (عدی) کے دادا سے روایت کرتے ہیں ، یحیی بن معین نے کہا : عدی کے دادا کا نام دینار ہے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استحاضہ میں مبتلا عورت کے بارے میں فرمایا :’’ وہ اپنے ایام حیض کا لحاظ رکھتے ہوئے اتنے دن نماز نہ پڑھے ، پھر وہ غسل کرے ، اور ہر نماز کے لیے وضو کرے ۔ اور وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے ۔‘‘ ضعیف ۔