ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم لباس پہنو اور جب تم وضو کرو تو اپنی دائیں طرف سے شروع کرو ۔‘‘ ضعیف ۔
سعید بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص وضو کرتے وقت بسم اللہ نہ پڑھے اس کا وضو نہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
احمد اور ابوداؤد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ۔
اور دارمی نے ابوسعید خدری عن ابیہ کی سند سے روایت کیا ہے ، اور اس کے شروع میں اضافہ کیا ہے :’’ جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں ۔‘‘ حسن ۔
لقیط بن صبرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے وضو کے متعلق بتائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وضو اچھی طرح کرو ، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور روزہ کی حالت کے علاوہ ناک میں پانی خوب چڑھاؤ ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، اور ابن ماجہ اور دارمی نے ((بین الاصابع)) تک روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم وضو کرو تو اپنے ہاتھوں اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرو ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ، اور ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
مستورد بن شداد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو فرماتے تو اپنی چھوٹی انگلی کے ساتھ پاؤں کی انگلیوں کو خوب ملتے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو فرماتے تو چلو میں پانی لے کر ٹھوڑی کے نیچے داخل کرتے اور اس سے اپنی داڑھی کا خلال کرتے ، اور فرماتے :’’ میرے رب نے مجھے اسی طرح حکم فرمایا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
عثمان ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی داڑھی کا خلال کیا کرتے تھے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
ابوحیہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے علی ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے ہاتھ دھوئے اور انہیں خوب اچھی طرح صاف کیا ، پھر تین مرتبہ کلی کی ، تین بار ناک صاف کی ، تین بار چہرہ دھویا ، تین بار بازو دھوئے ، ایک مرتبہ سر کا مسح کیا ، پھر ٹخنوں تک پاؤں دھوئے ، پھر کھڑے ہوئے اور وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا ، پھر فرمایا : میں نے چاہا کہ تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو کیسے تھا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
عبد خیر ؒ بیان کرتے ہیں ، جب علی ؓ نے وضو کیا تو ہم بیٹھے انہیں دیکھ رہے تھے ، چنانچہ انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا (اور اس سے پانی لے کر) اپنے منہ اور ناک میں ڈالا پھر بائیں ہاتھ سے ناک صاف کی ، آپ نے تین مرتبہ ایسے ہی کیا ، پھر فرمایا :جسے پسند ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو دیکھے تو یہ آپ کا وضو ہے ۔ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
عبداللہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ، اور آپ نے تین مرتبہ ایسے ہی کیا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر کا مسح کیا ، اور آپ نے کانوں کے اندر کے حصوں کا شہادت کی انگلیوں سے اور باہر کے حصوں کا انگوٹھوں سے مسح کیا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
ربیع بنت معوذ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، انہوں نے کہا : آپ نے اپنے سر کی اگلی جانب اور پچھلی جانب (پورے سر) کا ، دونوں کنپٹیوں اور دونوں کانوں کا ایک مرتبہ مسح کیا ، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا تو اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں کے سوراخوں میں ڈالیں ۔ ابوداؤد ، ترمذی نے پہلی روایت بیان کی جبکہ احمد اور ابن ماجہ نے دوسری ۔ ضعیف ۔
عبداللہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور یہ کہ آپ نے اپنے ہاتھوں کے ساتھ لگے ہوئے پانی کے علاوہ الگ پانی سے سر کا مسح کیا ۔ ترمذی جبکہ مسلم نے کچھ زوائد کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی (۳۵) و مسلم (۱۹ /۲۳۶ )۔
ابوامامہ ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں گوشۂ چشم (دونوں آنکھوں کے ناک سے ملنے والے حصے) کا مسح کیا کرتے تھے ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ کان سر کاحصہ ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ (۴۴۴) وابوداؤد (۱۳۴) والترمذی (۳۷) ۔ اور دونوں (امام ابوداؤد اور امام ترمذی) نے ذکر کیا کہ حماد نے کہا : مجھے معلوم نہیں کہ ’’ کان سر کا حصہ ہیں ۔‘‘ یہ ابوامامہ کا قول ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے ۔
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے وضو کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین تین مرتبہ اعضائے وضو دھو کر اسے دکھائے ، پھر فرمایا :’’ اس طرح (مکمل) وضو ہے ، پس جس نے اس سے زیادہ مرتبہ کیا اس نے برا کیا ، حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا ۔‘‘ نسائی ، ابن ماجہ جبکہ ابوداؤد نے اسی معنی میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی وابن ماجہ و وابوداؤد و ابن خزیمہ ۔
عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کے دائیں طرف سفید محل کی درخواست کرتا ہوں ، تو انہوں نے فرمایا : بیٹا ! اللہ سے جنت کی درخواست کرو اور جہنم سے اس کی پناہ طلب کرو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ عنقریب میری امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو وضو (کے اعضاء دھونے ) اور دعا کرنے میں حد سے تجاوز کریں گے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد وابوداؤد وابن ماجہ ۔
ابی بن کعب ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دوران وضو وسوسہ ڈالنے والے شیطان کا نام ’’ ولہان ‘‘ ہے ، چنانچہ پانی کے استعمال کے وقت وسوسوں سے بچو ۔‘‘ ضعیف ۔ امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اس کی سند محدثین کے نزدیک قوی نہیں ، کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ خارجہ (راوی) کے علاوہ کسی اور نے اسے مرفوع روایت کیا ہے ، جبکہ وہ ہمارے اصحاب کے نزدیک قوی نہیں ۔
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا تو اپنے کپڑے کے کنارے سے اپنے چہرے کو صاف کیا ۔ ضعیف ۔