ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص وضو کرے تو وہ ناک جھاڑے اور جو ڈھیلوں سے استنجا کرے تو وہ ڈھیلے طاق عدد میں لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت الخلا میں جاتے تو میں اور ایک دوسرا لڑکا پانی کا برتن اور برچھی اٹھاتے ، اور آپ پانی سے استنجا کرتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیت الخلا میں جانے کا ارادہ فرماتے تو آپ اپنی انگوٹھی اتار دیتے ۔ اسے ابوداؤد ، نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے ۔ اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، اور ابوداؤد ؒ نے فرمایا : یہ روایت منکر ہے ، ان کی روایت میں ((نزع)) کے بجائے ((وضع)) کا لفظ ہے ۔ ضعیف ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بول و براز کا ارادہ فرماتے تو آپ (صحرا کی طرف) چلتے جاتے حتیٰ کہ آپ نظروں سے اوجھل ہو جاتے ۔ ضعیف ۔
ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا ، آپ نے پیشاب کرنے کا ارادہ کیا تو آپ دیوار کی بنیاد کے پاس نرم جگہ آئے اور پیشاب کیا ۔ پھر فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی پیشاب کرنے کا ارادہ کرے تو وہ پیشاب کرنے کے لیے مناسب جگہ تلاش کرے ۔‘‘ ضعیف ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو آپ (بیٹھتے وقت) زمین کے قریب ہو کر اپنا کپڑا اٹھایا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں تمہارے لیے اسی طرح ہوں جس طرح والد اپنے بچے کے لیے ہوتا ہے ، میں تمہیں سکھا سکتا ہوں ، جب تم بول و براز کے لیے جاؤ تو قبلہ کی طرف منہ کرو نہ پشت ، آپ نے (استنجا کے لیے) تین پتھر استعمال کرنے کا حکم فرمایا ، آپ نے لید اور ہڈی سے (استنجا کرنے سے) منع فرمایا اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع فرمایا ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ و الدارمی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دایاں ہاتھ وضو ، اور کھانے کے لیے تھا ، جبکہ بایاں ہاتھ استنجا اور ناپسندیدہ کاموں کے لیے تھا ۔‘‘ ضعیف ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی بول و براز کے لیے جائے تو وہ استنجا کرنے کے لیے اپنے ساتھ تین ڈھیلے لے جائے ، یہ اس کے لیے کافی ہوں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی و الدارمی ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ گوبر اور ہڈی کے ساتھ استنجا نہ کرو ، کیونکہ وہ تمہارے جن بھائیوں کی خوراک ہے ۔‘‘ ترمذی ، نسائی ۔ البتہ امام نسائی نے ’’ تمہاری جن بھائیوں کی خوراک ‘‘ کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی و مسلم ۔
رویفع بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ رویفع ! شاید میرے بعد تمہاری عمر دراز ہو جائے ، لوگوں کو بتا دینا کہ جس نے اپنی داڑھی کو گرہ دی یا گلے میں تانت ڈالی یا جانور کی لید یا ہڈی سے استنجا کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے بری ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص سرمہ لگائے تو وہ طاق عدد میں لگائے ، جس نے ایسے کیا اس نے اچھا کیا ، اور جس نے ایسے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ، جو شخص ڈھیلے سے استنجا کرے تو وہ بھی طاق عدد میں ڈھیلے استعمال کرے ، جس نے ایسے کیا تو اس نے اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ، جو شخص کوئی چیز کھائے تو جو اجزا خلال کرنے سے نکلیں انہیں پھینک دے اور جو اپنی زبان کے ذریعے نکالے تو انہیں نگل جائے ، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا ، اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ، اور جو شخص بول و براز کے لیے جائے تو وہ پردہ کرے ، اگر وہ کوئی چیز نہ پائے تو وہ ریت کا ایک ٹیلہ سا بنائے اور اس کی طرف پشت کر لے کیونکہ شیطان ، اولاد آدم کی مقعد کے ساتھ کھیلتا ہے ، جس نے ایسے کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
عبداللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی اپنے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے ، پھر وہ اس میں غسل کرے یا وضو کرے ، کیونکہ زیادہ تر وسوسے اسی (پیشاب) سے ہوتے ہیں ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ۔ البتہ ان دونوں نے ’’ پھر اس میں غسل کرے یا وضو کرے ۔‘‘ کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ ضعیف ۔
Hadith 354
sahih
وَعَن عبد الله بن سرجس قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي جُحْرٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
Urdu
عبداللہ بن سرجس ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی بل (کیڑے مکوڑوں کی جگہ) میں پیشاب نہ کرے ۔‘‘ ضعیف ۔
معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تین باتوں سے بچو ، جن کے کرنے والے پر لعنت کی جاتی ہے ، پانی کے گھاٹ ، راستے کے درمیان اور سائے میں بول و براز کرنے سے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو شخص بول و براز کرتے وقت عریاں حالت میں باہم باتیں نہ کریں ، کیونکہ اللہ ایسا کرنے پر ناراض ہوتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ان مقامات پر جنات کی آمدو رفت رہتی ہے لہذا جب تم میں سے کوئی بیت الخلا جائے تو یہ دعا پڑھے :’’ میں نر اور مادہ ناپاک جنات سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب ان میں سے کوئی بیت الخلا میں جائے تو وہ ((بسم اللہ)) کہے ۔ یہ جنوں کی آنکھوں اور اولاد آدم کی پردہ کی چیزوں (شرم گاہ وغیرہ ) کے درمیان پردہ اور آڑ ہے ۔‘‘ ترمذی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے، اور اس کی اسناد قوی نہیں ۔ ضعیف ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت الخلا سے باہر تشریف لاتے تو یہ دعا : ((غفرانک))’’ میں تیری مغفرت چاہتا ہوں ۔‘‘ پڑھا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت الخلا جاتے تو میں مٹی کے برتن یا چمڑے کی چھاگل میں آپ کو پانی پیش کرتا ، آپ استنجا کرتے ، پھر اپنا ہاتھ زمین پر پھیرتے ، پھر میں ایک دوسرا برتن پیش خدمت کرتا تو آپ وضو فرماتے ۔‘‘ ابوداؤد ، دارمی اور نسائی نے بھی انہی کے معنی میں روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔