عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مسواک منہ کو صاف کرنے والی اور رب کی رضا مندی کا باعث ہے ۔‘‘ شافعی ، احمد ، دارمی ، نسائی اور امام بخاری نے اسے اپنی صحیح میں معلق بیان کیا ہے ۔ صحیح ۔
ابوایوب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ چار چیزیں تمام رسولوں کی سنت ہیں : حیا ، کسی روایت میں ختنے کا ذکر ہے ، عطر لگانا ، مسواک کرنا اور نکاح کرنا ۔‘‘ ضعیف ۔
عائشہ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسواک کیا کرتے تھے ، پھر آپ مسواک مجھے دے دیتے تاکہ میں اسے دھو دوں تو میں دھونے سے پہلے خود مسواک کرتی ، پھر اسے دھو کر آپ کو لوٹا دیتی ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے اپنے آپ کو خواب میں مسواک کرتے ہوئے دیکھا چنانچہ اس دوران دو آدمی میرے پاس آئے ، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ، میں نے ان میں سے چھوٹے کو مسواک دے دی ، تو مجھے کہا گیا : بڑے کو دو ، چنانچہ میں نے بڑے کو دے دی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جبریل جب بھی میرے پاس تشریف لاتے تو آپ مجھے مسواک کرنے کا حکم فرماتے ، مجھے تو اندیشہ ہوا کہ میں کہیں اپنے منہ کا سامنا حصہ نہ چھیل دوں ۔‘‘ ضعیف ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسواک کر رہے تھے اور آپ کے پاس دو آدمی تھے ، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھوڑی ہوئی مسواک کے بارے میں آپ کی طرف وحی آئی کہ یہ بڑے کو دے دیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مسواک کر کے پڑھی گئی نماز ، مسواک کے بغیر پڑھی گئی نماز سے ستر گنا افضل ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوسلمہ ؒ ، زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور نماز عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرتا ۔‘‘ زید بن خالد مسجد میں نمازیں پڑھنے کے لیے آتے تو کاتب کے قلم کی طرح ان کی مسواک ان کے کان پر ہوتی تھی ، اور وہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے اور پھر اسے اس کی جگہ (کان) پر رکھ دیتے ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، البتہ انہوں نے ’’میں نماز عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرتا کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے حتیٰ کہ اسے تین مرتبہ دھو لے ، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں بسر کی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو کر وضو کرے تو وہ تین مرتبہ ناک جھاڑے ، کیونکہ شیطان اس کی ناک میں رات بسر کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ سے دریافت کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسے وضو کیا کرتے تھے ؟ پس انہوں نے وضو کے لیے پانی منگایا ، تو اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور دو دو مرتبہ ہاتھ دھوئے ، پھر تین مرتبہ کلی کی اور ناک جھاڑی ، پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا ، پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دو دو مرتبہ دھویا ، پھر اپنے ہاتھوں سے سر کا مسح کیا اور انہیں سر کی اگلی طرف سے گدی تک لے گئے اور پھر سر کی اگلی طرف جہاں سے شروع کیا تھا واپس لے آئے ، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے ۔ مالک ، نسائی ، اور ابوداؤد میں اسی طرح ہے ، صاحب ’’الجامع‘‘ نے بھی اسے ذکر کیا ہے ۔ متفق علیہ ۔
اور صحیحین میں ہے کہ عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ سے کہا گیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو کر کے دکھائیں ، پس انہوں نے پانی کا ایک برتن منگایا ، اور اس میں سے کچھ پانی اپنے ہاتھوں پر انڈیلا ، اور انہیں تین مرتبہ دھویا ، پھر اپنے ہاتھ کو پانی کے برتن میں ڈالا اور اس میں پانی لے کر ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ، انہوں نے یہ تین مرتبہ کیا ، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر اس سے پانی نکالا اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا ، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور پانی نکال کر دو دو مرتبہ ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا ، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر اس سے اور پانی نکال کر اپنے سر کامسح کیا ، اپنے ہاتھوں کو آگے لے گئے اور واپس لائے ، پھر انہوں نے ٹخنوں تک پاؤں دھوئے ، پھر انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو اسی کی مثل تھا ۔ ایک روایت میں ہے سر کا مسح کرتے وقت ہاتھوں کو سر کی اگلی جانب سے گدی تک لے گئے اور پھر انہیں وہیں واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا ، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے ۔ ایک دوسری روایت میں ہے : آپ نے تین مرتبہ کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا اور ناک جھاڑی اور ایسا تین چلو پانی کے ساتھ کیا ۔ ایک اور روایت میں ہے : آپ نے ایک چلو کے ساتھ ہی کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور آپ نے ایسا تین مرتبہ کیا ۔ بخاری کی روایت میں ہے : آپ نے سر کا مسح کیا ، آپ ہاتھوں کو آگے لے گئے اور واپس لائے ۔ آپ نے یہ ایک مرتبہ کیا ، پھر آپ نے ٹخنوں تک دونوں پاؤں دھوئے ، اور بخاری کی دوسری روایت میں ہے : آپ نے ایک ہی چلو سے تین مرتبہ کلی کی اور ناک جھاڑی ۔ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایک مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا ، اور اس سے زیادہ نہیں کیا ۔ رواہ البخاری ۔
عثمان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مقاعد (مدینہ کے پاس جگہ) پر وضو کیا ، تو فرمایا : کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ وضو نہ دکھاؤں ؟ چنانچہ انہوں نے وضو کرتے وقت تین تین بار اعضائے وضو کو دھویا ۔ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ واپس آ رہے تھے ، حتیٰ کہ ہم راستے میں پانی کے پاس سے گزرے ، کچھ لوگوں نے نماز عصر کے لیے جلدی کی ، پس انہوں نے عجلت میں وضو کیا ، چنانچہ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ان کی ایڑیاں (خشک ہونے کی وجہ سے) چمک رہی تھیں ، ان تک پانی نہیں پہنچا تھا ، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایڑیوں کے لیے جہنم کی آگ ہے ، وضو خوب اچھی طرح مکمل کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے تمام امور (مثلاً) وضو کرنے ، کنگھی کرنے اور جوتا پہننے میں دائیں طرف سے شروع کرنا مقدور بھر پسند کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔