حکم بن سفیان ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیشاب کرتے تو وضو فرماتے اور اپنی شرم گاہ پر پانی کے چھینٹے مارتے تھے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
امیمہ بنت رقیقہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چارپائی کے نیچے لکڑی کا ایک پیالہ ہوتا تھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت پیشاب کیا کرتے تھے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا ، جبکہ میں کھڑا پیشاب کر رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عمر ! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو ۔‘‘ پس اس کے بعد میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا ۔ ضعیف ۔ الشیخ الامام محی السنہ ؒ نے فرمایا : یہ حدیث ثابت ہے ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی قوم کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر آئے تو آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۔ امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ (کھڑے ہو کر پیشاب کرنا) کسی عذر کی وجہ سے تھا ۔ متفق علیہ ۔
عائشہؓ نے فرمایا : جو شخص تمہیں یہ بتائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کیا کرتے تھے ، تو اس کی تصدیق نہ کرو ، آپ تو صرف بیٹھ کر پیشاب کیا کرتے تھے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی ۔
زید بن حارثہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ’’ جب جبرائیل پہلی مرتبہ ان کے پاس وحی لے کر آئے تو انہوں نے آپ کو وضو اور نماز سکھائی ، جب وضو سے فارغ ہوئے تو چلو میں پانی لیا اور اسے اپنی شرم گاہ پر چھڑک دیا ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جبریل میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آپ وضو کریں تو (اس کے بعد شرم گاہ پر) پانی چھڑک لیا کریں ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اور میں نے محمد یعنی امام بخاری ؒ سے سنا کہ حسن بن علی الہاشمی راوی منکر الحدیث ہے ۔ ضعیف ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشاب کیا تو عمر ؓ پانی کا لوٹا لیے آپ کے پیچھے کھڑے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عمر ! یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : پانی ہے ، آپ اس سے وضو فرمائیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب میں پیشاب کروں تو وضو بھی کروں ۔ اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت بن جائے گی ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوایوب ، جابر اور انس ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت :’’ اس میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ پاک صاف رہیں ، اور اللہ پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے :‘‘ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انصار کی جماعت ! اللہ نے پاکیزگی کے بارے میں تمہاری تعریف کی ہے ، تمہاری پاکیزگی کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم ہر نماز کے لیے وضو کرتے ہیں ، غسل جنابت کرتے ہیں اور پانی سے استنجا کرتے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پس یہی وجہ ہے ، چنانچہ تم اس کی پابندی کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی مشرک نے ازراہ مذاق کہا : میرا خیال ہے تمہارا ساتھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں بول و براز کے آداب بھی سکھاتا ہے ، میں نے کہا : ہاں بالکل ٹھیک ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی حکم دیا ہے کہ ہم بول و براز کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کریں اور ہم (استنجا کے لیے) تین ڈھیلوں سے کم استعمال نہ کریں ، اور ان میں لید اور ہڈی نہ ہو ۔‘‘ اسے مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے مذکورہ الفاظ احمد کے ہیں ۔ رواہ مسلم و احمد ۔
عبدالرحمن بن حسنہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ کے ہاتھ میں چمڑے کی ڈھال تھی ، آپ نے اسے رکھا ، پھر بیٹھ کر اس کی طرف رخ کر کے پیشاب کیا ، تو ان میں سے کسی نے کہا : انہیں دیکھو ، کیسے عورت کی طرح (چھپ کر) پیشاب کر رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات سن لی ، اور فرمایا :’’ تم پر افسوس ہے ، کیا تم اس سے باخبر نہیں جو بنی اسرائیل کے ایک ساتھی کے ساتھ ہوا کہ جب انہیں پیشاب لگ جاتا تو وہ اس حصے کو قینچی سے کاٹ دیا کرتے تھے ۔ چنانچہ اس شخص نے ان کو منع کر دیا جس کی وجہ سے اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا ۔‘‘ ضعیف ۔
امام نسائی نے یہ روایت ان (عبدالرحمن بن حسنہ ؓ) کی سند سے ابوموسیٰ ؓ سے روایت کی ہے ۔ ضعیف ۔
مروان اصفر ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی سواری کو قبلہ رخ بٹھایا ۔ پھر اس کے رخ بیٹھ کر پیشاب کیا ، میں نے عرض کیا : ابوعبدالرحمن ! کیا اس سے منع نہیں کیا گیا ؟ انہوں نے فرمایا : (نہیں) بلکہ صرف کھلی ٖفضا میں اس سے منع کیا گیا ہے ۔ اگر تمہارے اور قبلہ کے مابین کوئی ایسی چیز ہو جو تمہارے لیے پردہ ہو تو پھر (قبلہ رخ پیشاب کرنے میں) کوئی حرج نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت الخلا سے باہر تشریف لائے تو یہ دعا پڑھتے :’’ ہر قسم کی تعریف و شکر اللہ کے لیے ہے جس نے مجھ سے تکلیف دور کی اور مجھے عافیت عطا فرمائی ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، جب جنوں کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اپنی امت کو ہڈی یا لید یا کوئلے سے استنجا کرنے سے منع فرمائیں ، کیونکہ اللہ نے ان چیزوں میں ہمارے لیے رزق رکھا ہے ، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں نماز عشاء تاخیر سے پڑھنے اور ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم فرماتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
شریح بن ہانی ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے دریافت کیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لاتے تو آپ سب سے پہلے کون سا کام کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : مسواک ۔ رواہ مسلم ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات تہجد کے لیے اٹھتے تو آپ مسواک سے اپنے منہ کو صاف کرتے ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دس خصلتیں فطرت سے ہیں : موچھیں کترنا ، داڑھی بڑھانا ، مسواک کرنا ، ناک میں پانی چڑھانا ، ناخن کترنا ، انگلیوں کے جوڑ دھونا ، بغلوں کے بال اکھیڑنا ، زیر ناف بال مونڈنا اور استنجا کرنا ، راوی بیان کرتے ہیں ، دسویں خصلت میں بھول گیا ہوں ، ممکن ہے وہ کلی کرنا ہو ۔ ایک روایت میں داڑھی بڑھانے کے بجائے ختنوں کا ذکر ہے ۔ میں نے یہ روایت صحیحین میں پائی ہے نہ کتاب الحمیدی میں ، لیکن صاحب ’’الجامع‘‘ اور اسی طرح الخطابی نے ’’معالم السنن‘‘ میں اسے ذکر کیا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
ابوداؤد نے عمار بن یاسر ؓ کی روایت سے ذکر کیا ہے ۔ ضعیف ۔