ابوہریرہ ؓ کی سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص اپنا ہاتھ اپنی شرم گاہ کو لگائے جبکہ اس (ہاتھ) اور اس (شرم گاہ) کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو تو وہ وضو کرے ۔‘‘ حسن ، رواہ الشافعی (۱ / ۱۹) و الدار قطنی (۱ / ۱۴۷ ح ۵۲۵) و ابن حبان (۱۱۱۵) المستدرک (۱ / ۱۳۸ تحت ح ۴۷۹) و النسائی (۱ / ۱۰۰ ح ۱۶۳) ۔
امام نسائی نے اسے بسرہ ؓ سے روایت کیا ہے ، البتہ انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا ’’ اس کے اور اس کے مابین کوئی چیز حائل نہ ہو ۔‘‘ لم اجدہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے ، پھر آپ نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے ۔ اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : عروہ عن عائشہ ؓ ، اور ابراہیم التیمی عن عائشہ ؓ کی سند سے یہ حدیث ہمارے اصحاب کے ہاں صحیح نہیں ، اور ابوداؤد ؒ نے فرمایا : یہ حدیث مرسل ہے ، اور ابراہیم التیمی نے عائشہ ؓ سے نہیں سنا ۔ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دستی کا گوشت کھایا ، پھر اپنے نیچے بچھی ہوئی چادر سے اپنا ہاتھ صاف کیا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔ ضعیف ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے بھنی ہوئی پسلی (چانپ) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے تناول فرمایا ، پھر نماز کے لیے اٹھے اور وضو نہیں کیا ۔ صحیح ، رواہ احمد ۔
ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بکری کی کلیجی اور دل وغیرہ بھونا کرتا تھا ، (آپ نے اسے کھایا) پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، انہیں ایک بکری ہدیہ کے طور پر دی گئی ، تو انہوں نے اسے ہنڈیا میں ڈال دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا :’’ ابورافع ! یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایک بکری ہمیں بطور ہدیہ دی گئی تھی تو میں نے اسے ہنڈیا میں پکایا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ابورافع ! مجھے دستی دو ۔‘‘ میں نے دستی آپ کو دے دی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے دوسری دستی دو ۔‘‘ میں نے دوسری دستی بھی آپ کو دے دی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے اور دستی دو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! بکری کی صرف دو دستیاں ہوتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ اگر تم خاموش رہتے اور جب تک خاموش رہتے تو مجھے یکے بعد دیگرے دستی ملتی رہتی ۔‘‘ پھر آپ نے پانی منگوایا ، کلی کی اور اپنی انگلیوں کے کنارے دھوئے ، پھر کھڑے ہوئے تو نماز پڑھی ، پھر دوبارہ ان کے پاس تشریف لائے تو ان کے ہاں ٹھنڈا گوشت پایا تو اسے کھایا ، پھر آپ مسجد میں تشریف لے گئے تو نماز پڑھی ، اور پانی کو ہاتھ تک نہ لگایا ۔ ضعیف ۔
دارمی نے ابوعبید سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے :’’ پھر پانی منگایا ۔‘‘ سے آخر تک ذکر نہیں کیا ۔ ضعیف ۔
انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ، ابی بن کعب اور ابوطلحہ ؓ بیٹھے ہوئے تھے ، پس ہم نے گوشت روٹی کھائی ، پھر میں نے وضو کے لیے پانی منگایا ، تو ان دونوں نے کہا : تم وضو کیوں کرتے ہو ؟ میں نے کہا : اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایا ہے ، تو انہوں نے کہا : کیا تم پاکیزہ چیزوں سے وضو کرتے ہو ؟ یہ چیزیں کھا کر تو اس شخصیت (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو نہیں کیا جو تم سے بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
ابن عمر ؓ کہا کرتے تھے : آدمی کا اپنی اہلیہ کا بوسہ لینا اور اسے اپنے ہاتھ سے چھونا ملامسہ کے زمرے میں ہے ، اور جو شخص اپنی اہلیہ کا بوسہ لے یا اسے اپنے ہاتھ سے چھوئے تو اس پر وضو کرنا لازم ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک و الشافعی ۔
ابن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے : اپنی اہلیہ کا بوسہ لینے سے وضو کرنا ضروری ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا : بے شک بوسہ لینا ، لمس کے زمرے میں آتا ہے ، پس اس (وجہ) سے وضو کرو ۔ ضعیف ۔
عمر بن عبدالعزیز ؒ تمیم داری ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر قسم کے بہتے خون کی وجہ سے وضو کرنا ضروری ہے ۔‘‘ دونوں حدیثوں کو دارقطنی نے روایت کیا ، اور انہوں نے کہا : عمر بن عبدالعزیز ؒ نے تمیم داری ؓ سے سنا نہ انہیں دیکھا ، جبکہ یزید بن خالد اور یزید بن محمد دونوں مجہول ہیں ۔ ضعیف ۔
ابوایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو قبلہ کی طرف منہ کرو نہ پشت ، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔ الشیخ الامام محی السنہ ؒ نے فرمایا : یہ حدیث صحراء کے بارے میں ہے ، رہا عمارت وغیرہ میں قضائے حاجت کرنا تو اس میں کوئی حرج نہیں ، جیسا کہ عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اپنی کسی ضرورت کے تحت ام المومنین حفصہ ؓ کے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبلہ کی طرف پشت اور شام کی طرف منہ کر کے قضائے حاجت کرتے ہوئے دیکھا ۔ متفق علیہ ۔
سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بول و براز کے لیے قبلہ کی طرف منہ کرنے یا دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے یا تین سے کم ڈھیلوں سے استنجا کرنے یا لید یا ہڈی کے ساتھ استنجا کرنے سے ہمیں منع فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت الخلا میں داخل ہوتے تو فرماتے :’’ اے اللہ ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک مادہ جنات سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے ، اور انہیں کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا ، ان میں سے ایک پیشاب کرتے وقت پردہ نہیں کیا کرتا تھا ، اور مسلم کی روایت میں ہے : پیشاب کرتے وقت احتیاط نہیں کیا کرتا تھا ، جبکہ دوسرا شخص چغل خور تھا ۔‘‘ پھر آپ نے ایک تازہ شاخ لے کر اس کے دو ٹکڑے کر دیے ، پھر ہر قبر پر ایک ٹکڑا گاڑ دیا ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے یہ کیوں کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ممکن ہے ان کے خشک ہونے تک ان کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لعنت کا باعث بننے والی دو چیزوں سے بچو ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لعنت کا سبب بننے والی دو چیزیں کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو لوگوں کی راہ گزر یا ان کے سائے کی جگہ میں بول و براز کرتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص کوئی چیز پیئے تو وہ برتن میں سانس نہ لے ، اور جب بیت الخلا میں جائے تو اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ کو مت چھوئے اور دائیں سے استنجا بھی مت کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔