Back to Mishkat Al-Masabih

Purification

كتاب الطهارة

Chapter 3

Hadith 321
sahih
وَقد روى أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى ذَكَرِهِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا شَيْءٌ فَلْيَتَوَضَّأْ» . رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ والدراقطني
Urdu

ابوہریرہ ؓ کی سند سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مروی ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص اپنا ہاتھ اپنی شرم گاہ کو لگائے جبکہ اس (ہاتھ) اور اس (شرم گاہ) کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو تو وہ وضو کرے ۔‘‘ حسن ، رواہ الشافعی (۱ / ۱۹) و الدار قطنی (۱ / ۱۴۷ ح ۵۲۵) و ابن حبان (۱۱۱۵) المستدرک (۱ / ۱۳۸ تحت ح ۴۷۹) و النسائی (۱ / ۱۰۰ ح ۱۶۳) ۔

Hadith 322
sahih
وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ بُسْرَةَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يذكر: «لَيْسَ بَينه بَينهَا شَيْء»
Urdu

امام نسائی نے اسے بسرہ ؓ سے روایت کیا ہے ، البتہ انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا ’’ اس کے اور اس کے مابین کوئی چیز حائل نہ ہو ۔‘‘ لم اجدہ ۔

Hadith 323
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَا يَصِحُّ عِنْدَ أَصْحَابِنَا بِحَالٍ إِسْنَادُ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَأَيْضًا إِسْنَادُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْهَا وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا مُرْسل وَإِبْرَاهِيم التَّيْمِيّ لم يسمع من عَائِشَة
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی کسی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے ، پھر آپ نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے ۔ اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : عروہ عن عائشہ ؓ ، اور ابراہیم التیمی عن عائشہ ؓ کی سند سے یہ حدیث ہمارے اصحاب کے ہاں صحیح نہیں ، اور ابوداؤد ؒ نے فرمایا : یہ حدیث مرسل ہے ، اور ابراہیم التیمی نے عائشہ ؓ سے نہیں سنا ۔ ضعیف ۔

Hadith 324
sahih
وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا ثُمَّ مَسَحَ يَده بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه وَأحمد
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دستی کا گوشت کھایا ، پھر اپنے نیچے بچھی ہوئی چادر سے اپنا ہاتھ صاف کیا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔ ضعیف ۔

Hadith 325
sahih
وَعَن أم سَلمَة أَنَّهَا قَالَتْ: قَرَّبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ
Urdu

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے بھنی ہوئی پسلی (چانپ) نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں سے تناول فرمایا ، پھر نماز کے لیے اٹھے اور وضو نہیں کیا ۔ صحیح ، رواہ احمد ۔

Hadith 326
sahih
عَن أبي رَافع قَالَ: أَشْهَدُ لَقَدْ كُنْتُ أَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَطْنَ الشَّاةِ ثُمَّ صلى وَلم يتَوَضَّأ. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے بکری کی کلیجی اور دل وغیرہ بھونا کرتا تھا ، (آپ نے اسے کھایا) پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 327
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: أُهْدِيَتْ لَهُ شَاةٌ فَجَعَلَهَا فِي الْقِدْرِ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا يَا أَبَا رَافِعٍ فَقَالَ شَاةٌ أُهْدِيَتْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَطَبَخْتُهَا فِي الْقِدْرِ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ يَا أَبَا رَافِعٍ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ ثُمَّ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ الْآخَرَ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ الْآخَرَ ثُمَّ قَالَ ناولني الذِّرَاع الآخر فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي ذِرَاعًا فَذِرَاعًا مَا سَكَتُّ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ فَاهُ وَغَسَلَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِمْ فَوَجَدَ عِنْدَهُمْ لَحْمًا بَارِدًا فَأَكَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً. رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، انہیں ایک بکری ہدیہ کے طور پر دی گئی ، تو انہوں نے اسے ہنڈیا میں ڈال دیا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو فرمایا :’’ ابورافع ! یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایک بکری ہمیں بطور ہدیہ دی گئی تھی تو میں نے اسے ہنڈیا میں پکایا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ابورافع ! مجھے دستی دو ۔‘‘ میں نے دستی آپ کو دے دی ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے دوسری دستی دو ۔‘‘ میں نے دوسری دستی بھی آپ کو دے دی ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے اور دستی دو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! بکری کی صرف دو دستیاں ہوتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا :’’ اگر تم خاموش رہتے اور جب تک خاموش رہتے تو مجھے یکے بعد دیگرے دستی ملتی رہتی ۔‘‘ پھر آپ نے پانی منگوایا ، کلی کی اور اپنی انگلیوں کے کنارے دھوئے ، پھر کھڑے ہوئے تو نماز پڑھی ، پھر دوبارہ ان کے پاس تشریف لائے تو ان کے ہاں ٹھنڈا گوشت پایا تو اسے کھایا ، پھر آپ مسجد میں تشریف لے گئے تو نماز پڑھی ، اور پانی کو ہاتھ تک نہ لگایا ۔ ضعیف ۔

Hadith 328
sahih
وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ إِلَى آخِرِهِ
Urdu

دارمی نے ابوعبید سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے :’’ پھر پانی منگایا ۔‘‘ سے آخر تک ذکر نہیں کیا ۔ ضعیف ۔

Hadith 329
sahih
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأَبِي وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوسًا فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوءٍ فَقَالَا لِمَ تَتَوَضَّأُ فَقُلْتُ لِهَذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا فَقَالَا أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ لَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْك. رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ، ابی بن کعب اور ابوطلحہ ؓ بیٹھے ہوئے تھے ، پس ہم نے گوشت روٹی کھائی ، پھر میں نے وضو کے لیے پانی منگایا ، تو ان دونوں نے کہا : تم وضو کیوں کرتے ہو ؟ میں نے کہا : اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایا ہے ، تو انہوں نے کہا : کیا تم پاکیزہ چیزوں سے وضو کرتے ہو ؟ یہ چیزیں کھا کر تو اس شخصیت (یعنی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) نے وضو نہیں کیا جو تم سے بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔

Hadith 330
sahih
وَعَن ابْن عمر كَانَ يَقُولُ: قُبْلَةُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَجَسُّهَا بِيَدِهِ مِنَ الْمُلَامَسَةِ. وَمَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَسَّهَا بِيَدِهِ فَعَلَيهِ الْوضُوء. رَوَاهُ مَالك وَالشَّافِعِيّ
Urdu

ابن عمر ؓ کہا کرتے تھے : آدمی کا اپنی اہلیہ کا بوسہ لینا اور اسے اپنے ہاتھ سے چھونا ملامسہ کے زمرے میں ہے ، اور جو شخص اپنی اہلیہ کا بوسہ لے یا اسے اپنے ہاتھ سے چھوئے تو اس پر وضو کرنا لازم ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک و الشافعی ۔

Hadith 331
sahih
وَعَن ابْن مَسْعُود كَانَ يَقُولُ: مِنْ قُبْلَةِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ الْوُضُوءُ. رَوَاهُ مَالك
Urdu

ابن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے : اپنی اہلیہ کا بوسہ لینے سے وضو کرنا ضروری ہے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔

Hadith 332
sahih
وَعَن ابْن عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِن الْقبْلَة من اللَّمْس فتوضؤوا مِنْهَا
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا : بے شک بوسہ لینا ، لمس کے زمرے میں آتا ہے ، پس اس (وجہ) سے وضو کرو ۔ ضعیف ۔

Hadith 333
sahih
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ تَمِيمِ الدَّارِيّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوُضُوءُ مِنْ كُلِّ دَمٍ سَائِلٍ» . رَوَاهُمَا الدَّارَقُطْنِيُّ وَقَالَ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَلَا رَآهُ وَيَزِيدُ بن خَالِد وَيزِيد بن مُحَمَّد مَجْهُولَانِ
Urdu

عمر بن عبدالعزیز ؒ تمیم داری ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر قسم کے بہتے خون کی وجہ سے وضو کرنا ضروری ہے ۔‘‘ دونوں حدیثوں کو دارقطنی نے روایت کیا ، اور انہوں نے کہا : عمر بن عبدالعزیز ؒ نے تمیم داری ؓ سے سنا نہ انہیں دیکھا ، جبکہ یزید بن خالد اور یزید بن محمد دونوں مجہول ہیں ۔ ضعیف ۔

Hadith 334
sahih
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا» قَالَ الشَّيْخ الإِمَام محيي السّنة C: هَذَا الْحَدِيثُ فِي الصَّحْرَاءِ وَأَمَّا فِي الْبُنْيَانِ فَلَا بَأْس لما رُوِيَ:
Urdu

ابوایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو قبلہ کی طرف منہ کرو نہ پشت ، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔ الشیخ الامام محی السنہ ؒ نے فرمایا : یہ حدیث صحراء کے بارے میں ہے ، رہا عمارت وغیرہ میں قضائے حاجت کرنا تو اس میں کوئی حرج نہیں ، جیسا کہ عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے ۔

Hadith 335
sahih
عَن عبد الله بن عمر قَالَ: ارْتَقَيْتُ فَوْقَ بَيْتِ حَفْصَةَ لِبَعْضِ حَاجَتِي فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقْضِي حَاجته مستدبر الْقبْلَة مُسْتَقْبل الشَّام
Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اپنی کسی ضرورت کے تحت ام المومنین حفصہ ؓ کے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قبلہ کی طرف پشت اور شام کی طرف منہ کر کے قضائے حاجت کرتے ہوئے دیکھا ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 336
sahih
وَعَن سلمَان قَالَ: نَهَانَا يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ أَوْ بَوْل أَو أَن نستنتجي بِالْيَمِينِ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بول و براز کے لیے قبلہ کی طرف منہ کرنے یا دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے یا تین سے کم ڈھیلوں سے استنجا کرنے یا لید یا ہڈی کے ساتھ استنجا کرنے سے ہمیں منع فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 337
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخبث والخبائث»
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت الخلا میں داخل ہوتے تو فرماتے :’’ اے اللہ ! میں ناپاک جنوں اور ناپاک مادہ جنات سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 338
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحدهمَا فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ - وَفِي رِوَايَةٍ لمُسلم: لَا يستنزه مِنَ الْبَوْلِ - وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثمَّ أَخذ جَرِيدَة رطبَة فَشَقهَا نِصْفَيْنِ ثُمَّ غَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً قَالُوا يَا رَسُول الله لم صنعت هَذَا قَالَ لَعَلَّه يُخَفف عَنْهُمَا مَا لم ييبسا
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے ، اور انہیں کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا ، ان میں سے ایک پیشاب کرتے وقت پردہ نہیں کیا کرتا تھا ، اور مسلم کی روایت میں ہے : پیشاب کرتے وقت احتیاط نہیں کیا کرتا تھا ، جبکہ دوسرا شخص چغل خور تھا ۔‘‘ پھر آپ نے ایک تازہ شاخ لے کر اس کے دو ٹکڑے کر دیے ، پھر ہر قبر پر ایک ٹکڑا گاڑ دیا ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے یہ کیوں کیا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ممکن ہے ان کے خشک ہونے تک ان کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 339
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّقُوا اللَّاعِنَيْنِ. قَالُوا: وَمَا اللَّاعِنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ . قَالَ: «الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاس أَو فِي ظلهم» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لعنت کا باعث بننے والی دو چیزوں سے بچو ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لعنت کا سبب بننے والی دو چیزیں کیا ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو لوگوں کی راہ گزر یا ان کے سائے کی جگہ میں بول و براز کرتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 340
sahih
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا شرب أحدكُم فَلَا ينتنفس فِي الْإِنَاءِ وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ»
Urdu

ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص کوئی چیز پیئے تو وہ برتن میں سانس نہ لے ، اور جب بیت الخلا میں جائے تو اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ کو مت چھوئے اور دائیں سے استنجا بھی مت کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔