عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ان گھروں کے دروازے مسجد کے دوسری طرف کر لو ، کیونکہ میں حائضہ اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال قرار نہیں دیتا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس گھر میں تصویر ، کتا اور جنبی ہوں وہاں (رحمت و برکت کے) فرشتے نہیں جاتے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
عمار بن یاسر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تین قسم کے لوگ ہیں کہ (رحمت و برکت کے) فرشتے ان کے قریب بھی نہیں جاتے ، کافر کی لاش ، خلوق (زعفران کی خوشبو) سے لتھڑے ہوئے شخص اور جنبی الا یہ کہ وہ وضو کر لے ۔‘‘ ضعیف ۔
عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرو بن حزم کے نام جو خط لکھا اس میں تحریر تھا :’’ صرف پاک شخص ہی قرآن کو ہاتھ لگا سکتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ مالک و الدار قطنی ۔
نافع بیان کرتے ہیں ، میں کسی کام کی غرض سے ابن عمر ؓ کے ساتھ گیا ، پس جب ابن عمر ؓ نے اپنا کام مکمل کر لیا تو انہوں نے اس دن ایک حدیث سنائی کہ ایک آدمی کسی گلی سے گزرا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا جبکہ آپ بول و براز سے فارغ ہو کر آ رہے تھے ، اس شخص نے آپ کو سلام کیا ، لیکن آپ نے اسے جواب نہ دیا ، حتیٰ کہ قریب تھا کہ وہ آدمی گلی میں سے اوجھل ہو جاتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور انہیں اپنے چہرے پر ملا ، پھر دوبارہ ہاتھ مارے تو انہیں بازوؤں پر مل لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کے سلام کا جواب دیا ، اور فرمایا :’’ تمہارے سلام کا جواب دینے میں صرف یہی ایک رکاوٹ تھی کہ میں اس وقت با وضو نہیں تھا ۔‘‘ ضعیف ۔
مہاجر قنفذ ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ پیشاب کر رہے تھے ، پس انہوں نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے وضو کر لینے تک سلام کا جواب نہ دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے معذرت کی اور فرمایا :’’ میں نے وضو کے بغیر اللہ کا ذکر کرنا نا پسند کیا ۔‘‘ ابوداؤد ۔ ضعیف ۔ اور امام نسائی ؒ نے ((حتی توضا)) تک روایت کیا ، اور فرمایا : جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا تو اس کے سلام کا جواب دیا ۔
شعبہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ جب ابن عباس ؓ غسل جنابت کرتے تو وہ سات مرتبہ دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے ، پھر شرم گاہ دھوتے ، پس وہ یہ بھول گئے کہ انہوں نے کتنی مرتبہ پانی ڈالا ، انہوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا : میں نہیں جانتا ، انہوں نے کہا : تیری ماں نہ رہے ، تمہیں کس نے روکا کہ تم نہ جانو ، پھر وہ نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے ، پھر اپنے جسم پر پانی بہاتے ، پھر فرماتے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح غسل کیا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز اپنی ازواج مطہرات کے پاس گئے ، اور ہر ایک کے پاس جاتے وقت غسل فرمایا ، وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیوں نہ آپ سب سے آخر پر ایک ہی غسل فرما لیتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ زیادہ پاکیزہ ، زیادہ اچھا اور زیادہ صاف ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
حکم بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرد کو عورت کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و الترمذی ۔ ابوداؤد ، ابن ماجہ ، ترمذی اور انہوں نے کچھ اضافہ نقل کیا ، یا فرمایا :’’ اس کے جوٹھے سے ۔‘‘ اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حمید الحمیری بیان کرتے ہیں ، میں ایک آدمی سے ملا جسے ابوہریرہ ؓ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چار سالہ صحبت کا شرف حاصل تھا ، اس نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت کو مرد کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے اور مرد کو عورت کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے سے منع فرمایا ۔‘‘ مسدد نے اضافہ نقل کیا :’’ چاہیے کہ دونوں اکٹھے چلو بھریں ۔‘‘ ابوداؤد ، نسائی ۔ صحیح ۔ اور امام احمد نے اس کے شروع میں یہ اضافہ نقل کیا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر روز کنگھی کرنے یا غسل خانے میں پیشاب کرنے سے ہمیں منع فرمایا ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں جو کہ بہتا نہ ہو ، پیشاب نہ کرے ، پھر وہ اس میں غسل کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے ۔’’ تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں غسل جنابت نہ کرے ۔‘‘ لوگوں نے پوچھا : ابوہریرہ ؓ ! وہ کیسے کرے ؟ فرمایا : وہ وہاں سے پانی لے اور (دوسری جگہ پر غسل کرے)۔
سائب بن یزید ؓ بیان کرتے ہیں ، میری خالہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئیں اور انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میرا بھانجا مریض ہے ، چنانچہ آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کے لیے دعا کی ، پھر آپ نے وضو کیا ، تو میں نے آپ کے وضو کا پانی پیا ، پھر میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے مابین چکور کے انڈے کی مثل مہر نبوت دیکھی ۔ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس پانی کے متعلق دریافت کیا گیا جو جنگل میں ہو اور وہاں چوپائے اور درندے پانی پینے کے لیے آتے جاتے ہوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب پانی دو مٹکے (تقریباً ساڑے چھ من) ہو تو وہ نجاست قبول نہیں کرتا ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، دارمی ، ابن ماجہ ۔ اور ابوداؤد کی دوسری روایت میں ہے :’’ وہ نجس نہیں ہوتا ۔‘‘ صحیح ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا گیا : کیا ہم بضاعہ کے کنویں سے وضو کر لیا کریں جبکہ وہ ایسا کنواں ہے ، جہاں حیض آلود کپڑے ، کتوں کے گوشت اور بدبو دار چیزیں پھینکی جاتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک پانی پاک ہے ، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا ، ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور تھوڑا سا پانی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ، اگر ہم اس سے وضو کرتے ہیں تو پھر پیاسے رہ جاتے ہیں ، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کریں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ابوزید ، عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ جس رات جن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ تمہاری چھاگل میں کیا ہے ؟‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : نبیذ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کھجور عمدہ چیز ہے پانی پاک ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، امام احمد ، اور امام ترمذی نے یہ اضافہ نقل کیا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے وضو فرمایا ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : ابوزید مجہول ہے ۔ ضعیف ۔