Back to Mishkat Al-Masabih

Purification

كتاب الطهارة

Chapter 3

Hadith 501
sahih
عَن لبَابَة بنت الْحَارِث قَالَتْ: كَانَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَبَال عَلَيْهِ فَقُلْتُ الْبَسْ ثَوْبًا وَأَعْطِنِي إِزَارَكَ حَتَّى أَغْسِلَهُ قَالَ: «إِنَّمَا يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْأُنْثَى وَيُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه
Urdu

لبابہ بنت حارث ؓ بیان کرتی ہیں ، حسین بن علی ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گود میں تھے ، انہوں نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا ، میں نے عرض کیا ، آپ دوسرا کپڑا پہن لیں ، اور اپنا ازار مجھے دے دیں تاکہ میں اسے دھو دوں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ صرف لڑکی کے پیشاب سے کپڑا دھویا جاتا ہے ، اور لڑکے کے پیشاب سے کپڑے پر چھینٹے مارے جاتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 502
sahih
وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيِّ عَنْ أَبِي السَّمْحِ قَالَ: يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ وَيُرَشُّ من بَوْل الْغُلَام
Urdu

ابوداؤد اور نسائی میں ابوالسمح ؓ سے مروی روایت میں ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بچی کے پیشاب سے کپڑا دھویا جاتا ہے جبکہ لڑکے کے پیشاب سے کپڑے پر چھینٹے مارے جاتے ہیں ۔‘‘ صحیح ۔

Hadith 503
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمْ بِنَعْلِهِ الْأَذَى فَإِنَّ التُّرَابَ لَهُ طَهُورٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَلِابْنِ مَاجَه مَعْنَاهُ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی شخص کے جوتے کو گندگی لگ جائے تو مٹی اسے پاک کر دیتی ہے ۔‘‘ ابوداؤد اور ابن ماجہ میں بھی اسی کے ہم معنی ہے ۔ ضعیف ۔

Hadith 504
sahih
وَعَن أم سَلمَة قَالَتْ لَهَا امْرَأَةٌ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالا: الْمَرْأَة أم ولد لإِبْرَاهِيم ابْن عبد الرَّحْمَن بن عَوْف
Urdu

ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے انہیں کہا : میں اپنے کپڑے کا دامن لمبا رکھتی ہوں ، جبکہ میں ناپاک جگہ سے گزرتی ہوں ، انہوں نے بتایا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو اس (نا پاک جگہ) کے بعد ہے وہ اسے پاک کر دے گی ۔‘‘ مالک ، احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی ۔ امام ابوداؤد اور امام دارمی نے بتایا کہ وہ عورت ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کی ام ولد تھیں ۔ حسن ۔

Hadith 505
sahih
وَعَن الْمِقْدَام بن معدي كرب قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
Urdu

مقدام بن معدیکرب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے درندوں کی کھال پہننے اور ان پر سواری کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 506
sahih
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ وَزَاد التِّرْمِذِيّ والدارمي: أَن تفترش
Urdu

ابوالملیح بن اسامہ اپنے والد سے اور وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے درندوں کی کھالوں (کے استعمال) سے منع فرمایا ہے ۔ احمد ، ابوداؤد ، نسائی ۔ امام ترمذی اور دارمی نے اضافہ نقل کیا ہے : یہ کہ ان کا بستر بنایا جائے ۔ حسن ۔

Hadith 507
sahih
وَعَن أبي الْمليح: أَنه ذكره ثمن جُلُود السبَاع. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ فِي اللبَاس من جَامعه وَسَنَده جيد
Urdu

ابوالملیح سے روایت ہے کہ آپ نے درندوں کی کھالوں کی قیمت (یعنی بیع) کو ناپسند فرمایا ہے ۔ اس روایت کو امام ترمذی نے ’’ آپ نے درندوں کے چمڑے کو ناپسند فرمایا ہے ‘‘ کہ الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اس کی سند جید ہے ۔ حسن ۔

Hadith 508
sahih
وَعَن عبد الله بن عكيم قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
Urdu

عبداللہ بن عکیم ؒ بیان کرتے ہیں ہمیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خط موصول ہوا کہ ’’ مردار کے چمڑے سے فائدہ اٹھاؤ نہ اس کے اعصاب (پٹھوں) سے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔

Hadith 509
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم فرمایا کہ ’’ جب مردار کا چمڑا رنگا جائے تب اس سے فائدہ حاصل کیا جائے ۔‘‘ حسن ، رواہ مالک و ابوداؤد ۔

Hadith 510
sahih
وَعَن مَيْمُونَة مر على النَّبِي الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا» قَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ والقرظ» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
Urdu

میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں قریش کے کچھ افراد اپنی (مردار) بکری کو گدھے کی مثل گھسیٹتے ہوئے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا :’’ تم اس کا چمڑا ہی اتار لیتے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : یہ مردار ہے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پانی اور قرظ (کیکر کے مشابہ درخت اور اس کے پتے) اسے پاک کر دیتے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

Hadith 511
sahih
وَعَن سَلمَة ابْن المحبق: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَة تَبُوك أَتَى على بَيْتٍ فَإِذَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَسَأَلَ الْمَاءَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ: «فَقَالَ دِبَاغُهَا طهورها» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
Urdu

سلمہ بن محبق ؓ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک گھرانے کے پاس تشریف لائے تو وہاں ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا ، آپ نے پانی طلب کیا ، تو انہوں نے آپ سے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ تو مردار ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے رنگ دینا ہی اس کی طہارت ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 512
sahih
وَعَن امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِد مُنْتِنَة فَكيف نَفْعل إِذا مُطِرْنَا قَالَ: «أَلَيْسَ بعْدهَا طَرِيق هِيَ أطيب مِنْهَا قَالَت قلت بلَى قَالَ فَهَذِهِ بِهَذِهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

بع عبدلاشہل کی ایک خاتون بیان کرتی ہیں میں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! مسجد کی طرف ہمارا جو راستہ ہے وہ انتہائی گندہ اور بدبو دار ہے جب بارش ہو جائے تو پھر ہم کیا کریں ؟ وہ بیان کرتی ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا اس کے بعد اس سے کوئی زیادہ بہتر اور پاکیزہ راستہ نہیں ؟‘‘ میں نے عرض کیا جی ہاں ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کی نجاست اس سے دور ہو جاتی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 513
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَتَوَضَّأ من الموطئ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اور ہم گندگی پر چل کر جانے کی وجہ سے وضو نہیں کیا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔

Hadith 514
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَتِ الْكِلَابُ تُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئا من ذَلِك. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ کے زمانے میں کتے مسجد میں آتے جاتے رہتے تھے اور وہ (صحابہ کرام) اس کی کسی چیز کو دھویا نہیں کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 515
sahih
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:: «لَا بَأْسَ بِبَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ»
Urdu

براء ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہو اس کے پیشاب میں کوئی مضائقہ نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 516
sahih
وَفِي رِوَايَةِ جَابِرٍ قَالَ: «مَا أُكِلَ لَحْمُهُ فَلَا بَأْس ببوله» . رَوَاهُ أَحْمد وَالدَّارَقُطْنِيّ
Urdu

جابر ؓ کی روایت میں ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس کا گوشت کھایا جائے اس کے پیشاب میں کوئی مضائقہ نہیں ۔‘‘ اسنادہ موضوع ۔

Hadith 517
sahih
عَن شُرَيْح بن هَانِئ قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

شریح بن ہانی بیان کرتے ہیں میں نے علی بن ابی طالب ؓ سے موزوں پر مسح کرنے (کی مدت ) کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن مدت مقرر فرمائی ہے ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 518
sahih
وَعَن عُرْوَة بن الْمُغيرَة بن شُعْبَة عَن أَبِيه قَالَ: أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ. قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَتَبَرَّزَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْغَائِط فَحملت مَعَه إدواة قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَمَّا رَجَعَ أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ من الإدواة فَغسل كفيه وَوَجْهَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَن ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كم الْجُبَّة فَأخْرج يَده مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ وَأَلْقَى الْجُبَّةَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ وَغسل ذِرَاعَيْهِ وَمسح بناصيته وعَلى الْعِمَامَة وعَلى خفيه ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْتُ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ قَامُوا فِي الصَّلَاة يُصَلِّي بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم ذهب يتَأَخَّر فَأَوْمأ إِلَيْهِ فصلى بهم فَلَمَّا سلم قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ فَرَكَعْنَا الرَّكْعَة الَّتِي سبقتنا. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شرکت کی مغیرہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر سے پہلے بول و براز کے لیے کھلی جگہ تشریف لے گئے میں پانی کا برتن اٹھا کر آپ کے ساتھ گیا ، پس جب آپ واپس تشریف لائے تو میں نے برتن سے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا ، تو آپ نے اپنے ہاتھ اور چہرہ دھویا ، آپ نے اونی جبہ پہن رکھا تھا ، آپ نے بازو ننگے کرنے کی کوشش کی ، لیکن جبہ کی آستین تنگ تھیں ، لہذا آپ نے جبہ کے نیچے سے ہاتھ نکالے اور جبے کو اپنے کندھوں پر ڈال لیا اور اپنے بازوں دھوئے ، پھر آپ نے پیشانی اور عمامہ پر مسح کیا ، میں آپ کے موزے اتارنے کے لیے جھکا تو آپ نے فرمایا :’’ انہیں چھوڑ دو ، کیونکہ میں نے انہیں حالت وضو میں پہنا تھا ۔‘‘ آپ نے ان پر مسح کیا ، پھر آپ سواری پر سوار ہوئے اور میں بھی سوار ہوا جب ہم لشکر کے پاس پہنچے تو وہ نماز کھڑی کر چکے تھے اور عبدالرحمن بن عوف ؓ انہیں نماز پڑھا رہے تھے ، اور وہ انہیں ایک رکعت پڑھا چکے تھے ، چنانچہ جب انہیں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد کا احساس ہوا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے ، آپ نے انہیں اشارہ کیا کہ نماز پڑھتے رہو ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک رکعت ان کے ساتھ پا لی ، جب انہوں (عبدالرحمن بن عوف ؓ) نے سلام پھیرا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو گئے ۔ اور میں بھی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھڑا ہو گیا ، تو ہم نے وہ رکعت پڑھی جو ہم سے پہلے پڑھی جا چکی تھی ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 519
sahih
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا تَطَهَّرَ فَلَبِسَ خُفَّيْهِ أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا. رَوَاهُ الْأَثْرَمُ فِي سُنَنِهِ وَابْنُ خُزَيْمَةَ وَالدَّارَقُطْنِيّ وَقَالَ الْخَطَّابِيُّ: هُوَ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ هَكَذَا فِي الْمُنْتَقى
Urdu

ابوبکرہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسافر کو تین دن اور مقیم کو ایک دن موزوں پر مسح کرنے کی رخصت عنایت فرمائی بشرطیکہ انہوں نے وضو کے بعد موزے پہنے ہوں ۔‘‘ اثرم نے اپنی سنن میں ، ابن خزیمہ اور دارقطنی نے اسے روایت کیا ہے ، خطابی نے کہا : وہ صحیح الاسناد ہے ۔ مثقیٰ میں بھی اسی طرح ہے ۔ اسنادہ حسن ۔

Hadith 520
sahih
وَعَن صَفْوَان بن عَسَّال قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
Urdu

صفوان بن عسال ؓ بیان کرتے ہیں جب ہم مسافر ہوتے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں حکم فرماتے کہ ہم جنابت کے علاوہ بول و براز اور نیند کی صورت میں تین دن تک اپنے موزے نہ اتاریں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی ۔