مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں میں نے غزوہ تبوک کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موزوں کے اوپر اور نیچے مسح کیا ۔ ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث معلول ہے میں نے ابوزرعہ اور محمد یعنی امام بخاری سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : یہ حدیث صحیح نہیں اور اسی طرح ابوداؤد نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ضعیف ۔
مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں کے اوپر مسح کرتے ہوئے دیکھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا اور آپ نے جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا ۔ ضعیف ۔
مغیرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا تو میں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! کیا آپ بھول گئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : (نہیں)، بلکہ تم بھولے ہو میرے رب عزوجل نے مجھے اسی کا حکم فرمایا ۔‘‘ ضعیف ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، اگر دین کا دارومدار عقل و رائے پر ہوتا تو موزوں پر نیچے مسح کرنا ان کے اوپر مسح کرنے سے افضل و بہتر ہوتا جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں کے اوپر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ابوداؤد ؛ اور دارمی نے بھی اسی معنی میں روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہمیں باقی امتوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے ، ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں جیسا قرار دیا گیا ، ہمارے لیے ساری زمین مسجد قرار دی گئی اور اس کی مٹی کو ، جب ہم پانی نہ پائیں ، باعث طہارت بنایا گیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عمران ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رفیق سفر تھے ، آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پس جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو الگ بیٹھا ہوا دیکھا جس نے با جماعت نماز نہیں پڑھی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ فلاں شخص ! تمہیں با جماعت نماز ادا کرنے سے کیا مانع تھا ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، میں جنبی ہو گیا تھا اور میں نے پانی نہیں پایا ، آپ نے فرمایا :’’ تم مٹی استعمال کرتے ، وہ تمہارے لیے کافی تھی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عمار ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : میں جنبی ہو گیا ہوں ، لیکن مجھے پانی نہیں ملا ، (یہ سن کر) عمار نے عمر ؓ سے کہا : کیا آپ کو یاد نہیں ، کہ ہم ایک مرتبہ سفر میں تھے ، آپ نے نماز نہ پڑھی ، جبکہ میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا ، اور نماز پڑھ لی ، پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے لیے اس طرح کرنا کافی تھا ۔‘‘ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور ان میں پھونک ماری ، پھر ان سے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کیا ۔ بخاری ۔ متفق علیہ ۔ اور مسلم میں بھی اسی طرح ہے ، اور اس میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے لیے کافی تھا کہ تم اپنے ہاتھ زمین پر مارتے ، پھر اس میں پھونک مارتے اور پھر ان کے ساتھ اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرتے ۔‘‘
ابوجہیم بن حارث بن صِمّہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا ، جبکہ آپ پیشاب کر رہے تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہ دیا ، حتیٰ کہ آپ ایک دیوار کی طرف گئے اور اپنی لاٹھی سے اسے کریدا ، پھر اپنے ہاتھ دیوار پر رکھے ، اور اپنے چہرے اور بازؤں کا مسح کیا ، پھر مجھے سلام کا جواب دیا ۔ یہ روایت مجھے صحیحین میں ملی نہ کتاب الحمیدی میں ، لیکن انہوں نے شرح السنہ میں اسے ذکر کیا ہے اور فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ ضعیف ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پاک مٹی ، مسلمان کے لیے وضو کے پانی کی طرح ہے خواہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے ، لیکن جب پانی دستیاب ہو جائے تب اس سے اپنی جلد تر کرے کیونکہ یہ بہتر ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد اور امام نسائی نے ((عشر سنین)) تک اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک سفر پر روانہ ہوئے تو ہم میں سے ایک آدمی کو پتھر لگا جس نے اس کا سر زخمی کر دیا ، اور اسی دوران اسے احتلام ہو گیا ، اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کرتے ہوئے کہا ، کیا تم میرے لیے تیمم کی رخصت پاتے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتے کیونکہ تمہیں پانی میسر ہے ۔ پس اس نے غسل کیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی ، جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ کو اس بارے میں بتایا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انہوں نے اسے مار ڈالا ، اللہ انہیں ہلاک کرے ، جب انہیں مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہوں نے پوچھا کیوں نہ ، لا علمی کا علاج پوچھ لینا ہے ، اس کے لیے یہی کافی تھا کہ وہ تیمم کرتا ، زخم پر پٹی باندھ لیتا ، پھر اس پر مسح کر لیتا اور باقی سارے جسم کو دھو لیتا ۔‘‘ ابوداؤد ۔ ضعیف ۔
ابن ماجہ نے عطاء بن ابی رباح کی سند سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، دو آدمی سفر پر روانہ ہوئے ، نماز کا وقت ہو گیا ، جبکہ ان کے پاس پانی نہیں تھا ، چنانچہ انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھی ، پھر انہوں نے نماز کے وقت ہی میں پانی پا لیا ، تو ان میں سے ایک نے وضو کر کے نماز لوٹائی ، جبکہ دوسرے نے نہ لوٹائی ، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کا تذکرہ کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے ، جس نے نماز نہ لوٹائی ، فرمایا :’’ تم نے سنت پر عمل کیا اور تمہاری نماز تمہارے لیے کافی ہے ۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ، جس شخص نے وضو کر کے نماز لوٹائی تھی ، اسے فرمایا :’’ تمہارے لیے دہرا اجر ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، دارمی ، اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ،
امام نسائی اور ابوداؤد نے بھی عطاء بن یسار سے مرسل روایت کیا ہے ۔ حسن ۔
ابوالجہیم بن حارث بن صِمّہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بئرجمل (کنویں کا نام) کی طرف سے آئے تو ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا ، اس نے آپ کو سلام کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے جواب نہ دیا حتیٰ کہ آپ دیوار کے پاس تشریف لائے ، اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا ، پھر اسے سلام کا جواب دیا ۔ متفق علیہ ۔
عمار بن یاسر ؓ سے روایت ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں نماز فجر کے لیے مٹی سے تیمم کیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ مٹی پر مارے ، پھر ایک مرتبہ اپنے چہروں پر مسح کیا ، پھر انہوں نے دوبارہ دوسری مرتبہ اپنے ہاتھ مٹی پر مارے تو اپنے سارے ہاتھوں پر کندھوں اور بغلوں سمیت مکمل طور پر مسح کیا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی (نماز) جمعہ کے لیے آئے تو وہ غسل کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ شخص پر واجب ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہفتہ میں ایک روز غسل کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے ، جس میں وہ اپنا سر اور جسم (اچھی طرح) دھوئے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے جمعہ کے روز وضو کیا تو اس نے اچھا کیا ، اور جس نے غسل کیا تو غسل کرنا افضل ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و الترمذی و النسائی و الدارمی ۔