اور علقمہ سے صحیح سند سے ثابت ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : جس رات جن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ، میں اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نہیں تھا ۔ رواہ مسلم ۔
ابوقتادہ کے بیٹے کی اہلیہ کبشہ بنت کعب بن مالک سے روایت ہے ، کہ ابوقتادہ ؓ ان کے پاس تشریف لائے تو اس نے ان کے وضو کے لیے برتن میں پانی ڈالا ، اتنے میں ایک بلی آ کر اس سے پینے لگی تو انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا حتیٰ کہ اس نے پی لیا ، کبشہ بیان کرتی ہیں ، انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف دیکھ رہی ہوں ، تو انہوں نے فرمایا : بھتیجی ! کیا تم تعجب کرتی ہو ؟ وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے کہا : جی ہاں ، انہوں نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ نجس نہیں ، کیونکہ وہ تمہارے پاس کثرت سے آنے والے خادموں اور کثرت سے آنے والی لونڈیوں کے زمرے میں ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
داود بن صالح بن دینار ؒ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی آزاد کردہ لونڈی کے ہاتھ عائشہ ؓ کے لیے ہریسہ (حلیم کی طرح کا کھانا) بھیجا ، وہ بیان کرتی ہیں ، میں نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے پایا تو انہوں نے اسے رکھ دینے کا مجھے اشارہ فرمایا ، ایک بلی آئی اور اس نے اس میں سے کھا لیا ، جب عائشہ ؓ نماز سے فارغ ہوئیں تو انہوں نے اسی جگہ سے کھایا جہاں سے بلی نے کھایا تھا ، اور انہوں نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ نجس نہیں ، کیونکہ وہ تمہارے پاس کثرت سے آنے والے خادموں کے زمرے میں سے ہے ۔‘‘ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ضعیف ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا گیا : کیا ہم گدھے کے بچے ہوئے پانی سے وضو کر لیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، درندوں کے بچے ہوئے (جوٹھے) پانی سے بھی ۔‘‘ ضعیف ۔
ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میمونہ ؓ نے برتن میں غسل کیا جس میں آٹے کا نشان تھا ۔ ضعیف ۔
یحیی بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ عمر ؓ کچھ سواروں کے ساتھ ، جن میں عمرو بن عاص ؓ بھی تھے روانہ ہوئے حتیٰ کہ وہ ایک حوض پر پہنچے ، تو عمرو ؓ نےفرمایا : حوض کے مالک ! کیا تیرے حوض پر درندے بھی پانی پیتے آتے ہیں ؟ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا : حوض کے مالک ! ہمیں نہ بتانا ، کیونکہ درندوں کے بعد ہم پینے آ جاتے ہیں ، اور ہمارے بعد وہ آ جاتے ہیں ۔ ضعیف ۔
رزین نے کہا : بعض راویوں نے عمر ؓ کے قول میں یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو ان (درندوں) کے پیٹ میں چلا گیا ، وہ ان کا ، اور جو بچ رہا وہ ہمارے لیے پاک ہے اور باعث طہارت اور پینے کے لائق ہے ۔‘‘ لااصل لہ ، رواہ رزین لم اجدہ ۔
ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ان تالابوں سے طہارت حاصل کرنے میں مسئلہ دریافت کیا گیا جہاں سے درندے ، کتے اور گدھے پانی پیتے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انہوں نے جو پی لیا وہ ان کا اور جو بچ گیا وہ ہمارے لیے پاک ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں : دھوپ سے گرم کیے گئے پانی سے غسل نہ کرو کیونکہ وہ برص (پھل بہری) کا مرض پیدا کرتا ہے ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب کتا تمہارے کسی شخص کے برتن میں سے پی لے تو اسے سات مرتبہ دھوؤ ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ متفق علیہ ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ جب کتا تمہارے کسی شخص کے برتن میں منہ ڈال دے تو اس برتن کی پاکیزگی اس طرح حاصل ہو گی کہ اسے سات مرتبہ دھویا جائے ، ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے صاف کیا جائے ۔‘‘
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک دیہاتی کھڑا ہوا تو اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا ، لوگ اسے ڈانٹنے لگے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے کچھ نہ کہو ، اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو ، کیونکہ تمہیں تو آسانی کے لیے بھیجا گیا ، تنگی پیدا کرنے کے لیے نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس اثنا میں ایک اعرابی آیا اور وہ کھڑا ہو کر مسجد میں پیشاب کرنے لگا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے کہا : رک جا ، رک جا ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کا پیشاب نہ روکو ، اسے کچھ نہ کہو چھوڑ دو ۔‘‘ چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا حتیٰ کہ اس نے پیشاب کر لیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا :’’ یہ جو مساجد ہیں یہ پیشاب اور گندگی وغیرہ کے لیے موزوں نہیں ، یہ تو اللہ کے ذکر ، نماز اور قراءت قرآن کے لیے ہیں ۔‘‘ یا پھر جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں میں سے کسی شخص کو حکم فرمایا تو وہ پانی کا ڈول لے آیا تو آپ نے وہ اس (پیشاب) پر بہا دیا ۔ متفق علیہ ۔
اسماء بنت ابی بکر ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ اگر ہم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو وہ اسے ناخنوں سے کھرچ لے پھر اسے پانی کے ساتھ دھوئے اور پھر اس (کپڑے) میں نماز پڑھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
سلیمان بن یسار ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے کپڑے کو لگ جانے والی منی کے بارے میں عائشہ ؓ سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے دھو دیا کرتی تھی ، پس آپ نماز کے لیے تشریف لے جاتے ، جبکہ دھونے کا نشان آپ کے کپڑے میں ہوتا ۔ متفق علیہ ۔
اسود اور ہمام ؒ عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے سے منی رگڑ دیا کرتی تھی ۔ رواہ مسلم ۔
علقمہ بن اسود ؒ کی سند سے عائشہ ؓ سے اسی طرح مروی ہے ، نیز اس روایت میں یہ بھی ہے : پھر آپ اس (کپڑے) میں نماز پڑھتے ۔ رواہ مسلم ۔
ام قیس بنت محصن ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے چھوٹے شیر خوار بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا ، اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگا کر اس پر چھڑک دیا اور اسے دھویا نہیں ۔ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب چمڑے کو رنگ دیا جاتا ہے تو وہ پاک ہو جاتا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میمونہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقہ کے طور پر ایک بکری دی گئی ، پس وہ مر گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی ، پس تم اسے رنگ دیتے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، یہ تو مردار ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ صرف اس کا کھانا حرام قرار دیا گیا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ سودہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہماری بکری مر گئی تو ہم نے اس کی کھال کو رنگ لیا ، پھر ہم اس میں نبیذ تیار کرتے رہے حتیٰ کہ وہ بوسیدہ ہو گئی ۔ رواہ البخاری ۔