Back to Mishkat Al-Masabih

Purification

كتاب الطهارة

Chapter 3

Hadith 301
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وضو کے بغیر نماز قبول کی جاتی ہے نہ مال حرام سے صدقہ ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 302
sahih
وَعَن عَليّ قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً فَكُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَيتَوَضَّأ»
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں : مجھے کثرت مذی آتی تھی ، لیکن میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے شرم محسوس کرتا تھا کیونکہ آپ میرے سسر تھے ، پس میں نے مقداد ؓ سے کہا تو انہوں نے آپ سے دریافت کیا ، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ شرم گاہ دھوئے اور وضو کرے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۶۹) و مسلم ۔

Hadith 303
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «توضؤوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَالَ الشَّيْخُ الإِمَام الْأَجَل محيي السّنة C: هَذَا مَنْسُوخ بِحَدِيث ابْن عَبَّاس:
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے پر وضو کرو ۔‘‘ الشیخ الامام الاجل محی السنہ ؒ نے فرمایا : مذکورہ بالا حدیث ابن عباس ؓ سے مروی حدیث کی وجہ سے منسوخ ہے ۔ رواہ مسلم و فی مصابیح السنہ (۲۰۵) ۔

Hadith 304
sahih
قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صلى وَلم يتَوَضَّأ
Urdu

ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بکری کے شانے کا گوشت کھایا ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی اور (نیا) وضو نہ کیا ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۰۷) و مسلم ۔

Hadith 305
sahih
وَعَن جَابر بن سَمُرَة أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: «إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَتَوَضَّأْ» . قَالَ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: «نَعَمْ فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ» قَالَ: أُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: أُصَلِّي فِي مبارك الْإِبِل؟ قَالَ: «لَا» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ کسی شخص نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا : کیا ہم بکری کا گوشت کھا کر وضو کریں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم چاہو وضو کرو اور اگر چاہو تو نہ کرو ۔‘‘ اس نے پھر دریافت کیا : کیا ہم اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کریں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کر ۔‘‘ اس شخص نے پوچھا : کیا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ اس نے پوچھا : اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھوں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 306
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي بَطْنِهِ شَيْئًا فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ أَخَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لَا فَلَا يَخْرُجَنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے پیٹ میں کچھ گڑبڑ محسوس کرے اور اس پر معاملہ مشتبہ ہو جائے کہ آیا اس سے کوئی چیز نکلی ہے یا نہیں تو وہ مسجد سے نہ نکلے حتیٰ کہ وہ کوئی آواز سن لے یا بدبو محسوس کرلے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 307
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ وَقَالَ: «إِنَّ لَهُ دسما»
Urdu

عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دودھ پیا تو کلی کی اور فرمایا :’’ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۱۱) و مسلم ۔

Hadith 308
sahih
وَعَنْ بُرَيْدَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصَّلَوَات يَوْم الْفَتْح بِوضُوء وَاحِد وَمسح عل خُفَّيْهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: لَقَدْ صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ فَقَالَ: «عَمْدًا صَنَعْتُهُ يَا عمر» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے روز ایک وضو سے (متعدد) نمازیں پڑھیں اور موزوں پر مسح کیا ، تو عمر ؓ نے عرض کیا ، آپ نے اس طرح پہلے تو کبھی نہیں کیا تھا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عمر ! میں نے عمداً ایسے کیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 309
sahih
وَعَن سُوَيْد ابْن النُّعْمَان: أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بالصهباء وَهِي أَدْنَى خَيْبَرَ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِيَ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا ثمَّ صلى وَلم يتَوَضَّأ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

سوید بن نعمان ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ، حتیٰ کہ خیبر کے زیریں علاقے صہبا پر پہنچے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز عصر ادا کی ، پھر آپ نے زاد راہ طلب کیا تو صرف ستو آپ کی خدمت میں پیش کیے گئے آپ کے فرمان کے مطابق انہیں بھگو دیا گیا تو پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور ہم نے اسے کھایا ، پھر آپ نماز مغرب کے لیے کھڑے ہوئے تو کلی کی اور ہم نے بھی کلی کی ، پھر آپ نے نماز پڑھی اور (نیا) وضو نہ فرمایا ۔ رواہ البخاری (۲۰۹) ۔

Hadith 310
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آواز یا بدبو (محسوس ہونے) کی صورت میں وضو واجب ہوتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد (۲ /۴۱ ح ۹۳۰۱) و الترمذی (۷۴) و ابن ماجہ (۵۱۵) ۔

Hadith 311
sahih
وَعَن عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْمَذْيِ فَقَالَ: «مِنَ الْمَذْيِ الْوُضُوءُ وَمِنَ الْمَنِيِّ الْغسْل» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے مذی کے متعلق نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مذی سے وضو اور منی سے غسل واجب ہوتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۱۴) و ابن ماجہ (۵۰۴) و ابوداؤد (۲۱۰) و البخاری (۱۳۲ ، ۲۶۹) و مسلم یغنی عنہ ۔

Hadith 312
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ والدارمي
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ طہارت نماز کی چابی ، تکبیر (اللہ اکبر) اس کی تحریم (اس تکبیر سے نماز شروع کرنے سے پہلے جو کام مباح تھے وہ حرام ہو جاتے ہیں ) اور تسلیم (السلام علیکم ورحمۃ اللہ) اس کی تحلیل ہے :‘‘ (یعنی سلام پھیرنے سے نماز کی صورت میں حرام ہونے والے کام حلال ہو جاتے ہیں ) حسن ، رواہ ابوداؤد۶۱) و الترمذی (۳) و الدارمی (۱ /۱۷۵ ح ۶۹۳) و ابن ماجہ (۲۷۵) و البیھقی (۲ /۱۶) ۔

Hadith 313
sahih
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْهُ وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ
Urdu

ابن ماجہ نے علی ؓ اور ابوسعید ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ (۲۷۶) ۔

Hadith 314
sahih
وَعَن عَليّ بن طلق قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا فسا أحدكُم فَليَتَوَضَّأ وَلَا تأتو النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
Urdu

علی بن طلق ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں کوئی آواز کے بغیر ہوا خارج کرے تو وہ وضو کرے ، اور تم عورتوں سے ان کی پیٹھ میں مجامعت نہ کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۱۶۴) و ابوداود (۲۰۵) و ابن حبان (۲۰۳) ۔

Hadith 315
sahih
وَعَن مُعَاوِيَة بن أبي سُفْيَان أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ: «إِنَّمَا الْعَيْنَانِ وِكَاءُ السَّهِ فَإِذَا نَامَتِ الْعَيْنُ اسْتطْلقَ الوكاء» . رَوَاهُ الدِّرَامِي
Urdu

معاویہ بن ابی سفیان ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آنکھیں دبر کا تسمہ ہیں ، جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو تسمہ کھل جاتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱ /۱۸۴ ح ۷۲۸) ۔

Hadith 316
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وِكَاءُ السَّهِ الْعَيْنَانِ فَمَنْ نَامَ فَليَتَوَضَّأ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد قَالَ الشَّيْخ الإِمَام محيي السّنة C: هَذَا فِي غير الْقَاعِد لما صَحَّ:
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پیٹھ کا تسمہ دونوں آنکھیں ہیں ، پس جو شخص سو جائے تو وہ وضو کرے ۔‘‘ الشیخ الامام محی السنہ ؒ نے فرمایا : صحیح حدیث کی روشنی میں یہ حکم لیٹ کر سونے والے شخص کے لیے ہے ، (بیٹھے بیٹھے سو جانے والے کے لیے نہیں ہے) سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۰۳) و ابن ماجہ (۴۷۷) ۔

Hadith 317
sahih
عَن أنس قَالَ: كَانَ أَصَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُونَ الْعشَاء حَتَّى تخفق رؤوسهم ثمَّ يصلونَ وَلَا يتوضؤون. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ إِلَّا أَنه ذكرفيه: ينامون بدل: ينتظرون الْعشَاء حَتَّى تخفق رؤوسهم
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نمازِ عشاء کا انتظار کرتے رہتے حتیٰ کہ (نیند کی وجہ سے) ان کے سر جھک جاتے ، پھر وہ نماز پڑھتے لیکن وہ (نیا) وضو نہ کرتے ۔ البتہ امام ترمذی ؒ نے روایت میں انتظار کے بدلے سو جانے کا ذکر کیا ہے ، کہ وہ عشاء کے وقت بیٹھے سو جاتے حتیٰ کہ ان کے سر جھک جاتے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۲۰۰) و الترمذی (۷۸) و مسلم ۔

Hadith 318
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْوُضُوءَ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مفاصله. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک جو شخص چت لیٹ کر سو جائے ، اس پر وضو کرنا لازم ہے ، کیونکہ جب وہ چت لیٹ جاتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں :‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۷۷) و ابوداؤد (۲۰۲) ۔

Hadith 319
sahih
وَعَن بسرة قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه والدارمي
Urdu

بسرہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگائے تو وہ وضو کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک (۱ /۴۲ ح ۸۸) و احمد (۶ / ۴۰۶ ، ۴۰۷ ح ۲۷۸۳۶ ، ۲۷۸۳۸) و ابوداؤد (۱۸۱) و الترمذی (۸۲) و النسائی (۱ / ۱۰۰ ح ۱۶۳) و ابن ماجہ (۴۷۹) و الدارمی (۱ / ۱۸۴ ح ۷۳۰) ۔

Hadith 320
sahih
وَعَن طلق بن عَليّ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ. قَالَ: «وَهَلْ هُوَ إِلَّا بَضْعَةٌ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ نَحوه قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ مُحْيِي السُّنَّةِ رَحِمَهُ اللَّهُ: هَذَا مَنْسُوخٌ لِأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَسْلَمَ بَعْدَ قدوم طلق
Urdu

طلق بن علی ؓ بیان کرتے ہیں ، آدمی کے وضو کر لینے کے بعد اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگانے کے متعلق رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا گیا ، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ (شرم گاہ) بھی اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا ہے ۔‘‘ الشیخ الامام محی السنہ ؒ نے فرمایا : یہ منسوخ ہے ، کیونکہ ابوہریرہ ؓ طلق ؓ کی آمد کے بعد مسلمان ہوئے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۱۸۲) و الترمذی (۸۵) و النسائی (۱ / ۱۰۱ ح ۱۶۵) و ابن ماجہ (۴۸۳) ۔