سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواتین سے بیعت لی تو ایک با وقار (بلند قامت) خاتون کھڑی ہوئی گویا وہ مضر قبیلے کی خاتون تھی ، اس نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! ہم اپنے باپوں ، بیٹوں اور شوہروں پر بوجھ ہیں ، سو ان کے اموال میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تروتازہ چیزیں جو تم کھاتی ہو اور ہدیہ کرتی ہو ۔‘‘ ضعیف ۔
ابی اللحم کے آزاد کردہ غلام عمیر بیان کرتے ہیں ، میرے آقا نے گوشت بنانے کے متعلق مجھے حکم فرمایا تو اتنے میں ایک مسکین میرے پاس آیا میں نے اس میں سے کچھ اسے کھلا دیا ، میرے آقا کو اس کا پتہ چلا تو اس نے مجھے مارا ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے یہ واقعہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا :’’ تم نے اسے کیوں مارا ؟‘‘ اس نے کہا : یہ میرا کھانا میرے حکم کے بغیر دیتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اجر تم دونوں کو ملتا ہے ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے : انہوں نے کہا : میں مملوک تھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا : کیا میں اپنے مالکوں کے مال میں سے کوئی چیز صدقہ کر لیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، اجر تمہارے درمیان نصف نصف ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے کسی شخص کو فی سبیل اللہ ایک گھوڑا بطور سواری عطا کیا تو اس نے اسے ضائع کر دیا ، میں نے اسے خریدنا چاہا اور مجھے خیال ہوا کہ وہ اسے ارزاں نرخوں پر فروخت کر دے گا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے خریدو ، نہ اپنا صدقہ واپس لو خواہ وہ اسے ایک درہم میں تمہیں عطا کرے ، کیونکہ اپنا صدقہ واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو اپنی قے چاٹ جاتا ہے ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ اپنا صدقہ واپس نہ لے ، کیونکہ اپنا صدقہ واپس لینے والا ، اپنی قے چاٹنے والے کی طرح ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا جب ایک خاتون آپ کے پاس آئی ، اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی صدقہ کی تھی اور وہ (یعنی والدہ) وفات پا گئی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارا اجر واجب ہو گیا اور وہ بطور میراث تمہارے پاس واپس آ گئی ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اگر ایک ماہ کے روزے اس کے ذمے ہوں تو کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کی طرف سے روزے رکھو ۔‘‘ اس عورت نے عرض کیا : اس نے تو حج بھی نہیں کیا تھا ، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، اس کی طرف سے حج کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔