عبیداللہ بن عدی بن خیار بیان کرتے ہیں ، دو آدمیوں نے مجھے بتایا کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ اس وقت صدقہ تقسیم فرما رہے تھے ، انہوں نے آپ سے صدقہ کی درخواست کی تو آپ نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں طاقت ور دیکھ کر فرمایا :’’ اگر تم چاہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن اس میں کسی مال دار شخص اور کمائی کی طاقت رکھنے والے شخص کے لیے کوئی حصہ نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ بوداؤد و النسائی ۔
عطاء بن یسار ؒ مرسل روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پانچ اشخاص کے سوا کسی مال دار شخص کے لیے صدقہ حلال نہیں : اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ، صدقات وصول کرنے والا ، کسی شخص کو تاوان دینا پڑ جائے ، وہ شخص جو اپنے مال کے ذریعے اس (صدقہ کی چیز) کو خرید لے ، یا وہ شخص جس کا پڑوسی مسکین ہو اور اسے صدقہ دیا جائے اور وہ مسکین شخص مال دار شخص کو بطور ہدیہ بھیج دے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و ابوداؤد ۔
اور ابوداؤد کی ابوسعید ؓ سے مروی روایت میں ہے :’’ یا مسافر ۔‘‘ ضعیف ۔
زیاد بن حارث صدائی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کی بیعت کی ، انہوں نے ایک طویل حدیث بیان کی ، ایک آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، مجھے صدقہ میں سے کچھ دیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ صدقات کے معاملے میں اللہ نے کسی نبی یا اس کے علاوہ کسی شخص کی تقسیم کے حکم کو پسند نہیں فرمایا ، بلکہ اس معاملے میں اس نے خود حکم فرمایا تو اسے آٹھ اجزاء میں تقسیم فرمایا ، اگر تو تم بھی ان آٹھ اجزاء (مصارف) میں سے ہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں ۔‘‘ ضعیف ۔
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے دودھ پیا تو وہ انہیں پسند آیا ، انہوں نے اس دودھ پلانے والے شخص سے پوچھا : یہ دودھ کہاں سے (حاصل کیا) ہے ؟ اس نے بتایا کہ وہ فلاں گھاٹ پر گیا تھا ، وہاں صدقہ کے کچھ اونٹ تھے اور وہ (چرواہے) انہیں پانی پلا رہے تھے ، انہوں نے ان کا دودھ دھویا تو میں نے اسے اپنے برتن میں ڈال لیا ، یہ وہ ہے ۔ عمر ؓ نے اپنا ہاتھ (حلق میں) ڈالا اور قے کر دی ۔ ضعیف ۔
قبیصہ بن مخارق ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے ایک ضمانت کی ذمہ داری لے لی ، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ اس کے لیے میں آپ سے سوال کروں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم ٹھہرو حتیٰ کہ ہمارے پاس صدقہ آ جائے تو پھر ہم تمہاری خاطر صدقہ کا حکم دیں گے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ قبیصہ ! صرف تین اشخاص کے لیے سوال کرنا جائز ہے ، وہ آدمی جس نے ضمانت کی حامی بھری تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے حتیٰ کہ وہ اسے ادا کر دے ، اور پھر سوال نہ کرے ، ایک وہ آدمی جس کو ایسی آفت آ جائے کہ وہ اس کے مال کو تباہ کر دے تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے حتیٰ کہ وہ اپنی گزران درست کر لے ، اور ایک اس آدمی کے لیے سوال کرنا جائز ہے کہ وہ فاقہ میں مبتلا ہے ، حتیٰ کہ اس کی قوم میں سے تین دانا آدمی گواہی دے دیں کہ فلاں آدمی واقعتاً فاقہ میں مبتلا ہے تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے حتیٰ کہ وہ اپنی گزران درست کر سکے ، اور قبیصہ ! ان تین صورتوں کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے ، اور اگر کوئی سوال کرتا ہے تو وہ حرام کھاتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص مال بڑھانے کی خاطر لوگوں کے مال میں سے سوال کرتا ہے تو وہ انگارے مانگ رہا ہے ، وہ کم مانگے یا زیادہ ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے حتیٰ کہ جب وہ روز قیامت پیش ہو گا تو اس کے چہرے پر کوئی گوشت نہیں ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سوال کرنے میں پیچھے نہ پڑ جایا کرو ، اللہ کی قسم ! جب تم میں سے کوئی شخص سوال کر کے مجھ سے کوئی چیز حاصل کر لیتا ہے ، جبکہ میں اسے نا پسند کرتا ہوں تو پھر میں وہ چیز اسے دے بھی دوں تو اس میں برکت نہیں ہوتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
زبیر بن عوام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی رسی لے کر (جنگل میں جائے) اپنی پشت پر لکڑیوں کا گٹھا لا کر فروخت کرے ، اور اس طرح اللہ اس کے چہرے کو سوال کرنے سے بچا لے ، تو یہ اس کے لیے سوال کرنے سے بہتر ہے ، ممکن ہے کہ وہ اسے کچھ دیں یا نہ دیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے مجھے عطا کر دیا ، پھر میں نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے مجھے عطا کر دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ حکیم ! یہ مال سرسبزو شیریں ہے ، جس نے سخاوت نفس کے ساتھ اسے حاصل کیا تو اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے ، اور جس نے حرص و طمع کے ساتھ اسے حاصل کیا تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں دی جاتی ، اور وہ اس شخص کی مانند ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا ، اور اوپر والا ہاتھ نچلے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔‘‘ حکیم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! میں آپ کے بعد زندگی بھر کسی سے کوئی چیز نہیں مانگوں گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے ، اور آپ نے صدقہ کرنے اور سوال کرنے سے بچنے کے لیے فضائل بیان کرتے ہوئے فرمایا :’’ اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے ، اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے جبکہ نچلا ہاتھ سوال کرنے والا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ نے انہیں عطا کر دیا حتیٰ کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا وہ ختم ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے پاس جو مال ہوتا ہے میں اسے تم سے بچا کر نہیں رکھتا ، اور جو شخص سوال کرنے سے بچتا ہے تو اللہ اسے بچا لیتا ہے ، اور جو شخص بے نیاز رہنا چاہے تو اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے ، جو شخص صبر کرتا ہے تو اللہ اسے صابر بنا دیتا ہے ، اور کسی شخص کو صبر سے بہتر اور وسیع تر کوئی چیز عطا نہیں کی گئی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی مال عطا کرتے تو میں عرض کرتا ، آپ اسے مجھ سے زیادہ ضرورت مند کو عطا کر دیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے :’’ اسے لے لو ، اور اسے اپنے مال میں شامل کر لو اور اسے صدقہ کرو ، اور اگر بن مانگے اور بغیر انتظار کیے تمہارے پاس مال آ جائے تو اسے لے لیا کرو اور جو ایسا نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سوال کرنا خراش ہے ، آدمی ان کی وجہ سے اپنے چہرے پر خراشیں ڈالتا ہے ، جو چاہے انہیں اپنے چہرے پر باقی رکھے اور جو چاہے انہیں ترک کر دے ، البتہ آدمی بادشاہ سے سوال کرے یا کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو پھر سوال کرنا جائز ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اس قدر ملکیت رکھنے کے باوجود لوگوں سے سوال کرے جو اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر دے تو وہ روز قیامت آئے گا تو وہ سوال اس کے چہرے پر خراش کی طرح ہو گا ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہ کتنی مقدار ہے جو اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر سکتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پچاس درہم یا اس کے مساوی سونا ۔‘‘ ضعیف ۔
سہیل بن خظلیہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اس قدر ملکیت رکھنے کے باوجود سوال کرے جو اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر سکتی ہو تو پھر وہ آگ میں اضافہ کر رہا ہے ۔‘‘ اور نفیلی جو اس روایت کے راوی ہیں ، انہوں نے دوسرے مقام پر فرمایا : وہ مال کی کتنی مقدار ہے جس کے ہوتے ہوئے سوال کرنا مناسب نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو صبح و شام کھانے کی مقدار ۔‘‘ اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا :’’ جس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی صبح شام کی شکم سیری کے لیے کافی ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عطاء بن یسار ؒ بنو اسد قبیلے کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص اوقیہ یا اس کے مساوی چاندی کی ملکیت رکھنے کے باوجود سوال کرتا ہے تو وہ چمٹ کر سوال کرنے والوں کے زمرے میں آتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و ابوداؤد و النسائی ۔
حبشی بن جنادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مال دار شخص کے لیے سوال کرنا جائز ہے نہ کام کرنے کی طاقت رکھنے والے صحیح الخلقت شخص کے لیے ، البتہ اس شخص کے لیے سوال کرنا جائز ہے جو انتہائی محتاج ہو یا تاوان تلے دب گیا ہو ، اور جو شخص اپنا مال بڑھانے کی خاطر لوگوں سے سوال کرتا ہے تو روز قیامت اس کے چہرے پر خراش ہو گی ، اور وہ جہنم میں گرم پتھر کھائے گا ، جو چاہے کم کرے جو چاہے زیادہ کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی سوال کرنے کی غرض سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہارے گھر میں کوئی چیز نہیں ؟ اس نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، ایک ٹاٹ ہے جو ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے اور ایک پیالہ ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انہیں میرے پاس لاؤ ۔‘‘ وہ انہیں آپ کے پاس لایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا :’’ انہیں کون خریدتا ہے ؟‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا ، میں انہیں ایک درہم میں خریدتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ فرمایا :’’ درہم سے زیادہ کون بڑھتا ہے ؟‘‘ پھر کسی اور آدمی نے کہا : میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں ، آپ نے وہ دونوں چیزیں اسے دے دیں اور دو درہم لے کر اس انصاری کو دیے اور فرمایا :’’ ان میں سے ایک کا کھانا لے کر اپنے گھر والوں کے سپرد کرو اور دوسرے سے ایک کلہاڑا لے کر میرے پاس آؤ ۔‘‘ پس وہ اسے لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اس میں دستہ لگایا ، پھر فرمایا :’’ جا اور لکڑیاں اکٹھی کر اور فروخت کر اور میں پندرہ روز تک تمہیں نہ دیکھوں ۔‘‘ وہ آدمی گیا اور لکڑیاں اکٹھی کر کے فروخت کرتا رہا ، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس کے پاس دس درہم ہو چکے تھے ، اس نے کچھ رقم کے کپڑے خریدے اور کچھ سے غلہ خریدا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :‘‘ یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ تم سوال کرو اور روز قیامت تمہارے چہرے پر نکتہ ہو ، کیونکہ صرف تین اشخاص ، انتہائی محتاج شخص ، تاوان تلے دبے ہوئے شخص اور دیت کی تکلیف سے دوچار شخص کے لیے سوال کرنا جائز ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، اور ابن ماجہ نے ’’ روز قیامت ‘‘کے الفاظ تک بیان کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔