Back to Mishkat Al-Masabih

Zakat

كتاب الزكاة

Chapter 6

Hadith 1892
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مسلمان خواتین ! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے کسی ہدیے کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کا کھر ہی ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1893
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ وَحُذَيْفَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مَعْرُوف صَدَقَة»
Urdu

جابر ؓ اور حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر معروف (بھلی بات ، بھلا کلام) صدقہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1894
sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طليق» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نیکی کے کسی بھی کام کو معمولی مت سمجھو ، خواہ تم اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1895
sahih
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ» . قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ: «فَلْيَعْمَلْ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعَ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقَ» . قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟ أَوْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: «فيعين ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ» . قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْهُ؟ قَالَ: «فيأمر بِالْخَيرِ» . قَالُوا: فَإِن لمي فعل؟ قَالَ: «فَيمسك عَن الشَّرّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَة»
Urdu

ابوموسی اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر مسلمان پر صدقہ کرنا واجب ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اگر وہ نہ پائے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنے ہاتھوں سے کمائی کرے اور اپنے آپ کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ کرے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اگر وہ استطاعت نہ رکھے یا نہ کر پائے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ضرورت مند مجبور شخص کی مدد کرے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نیکی کا حکم کرے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اگر نہ کر سکے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ برائی سے رک جائے کیونکہ یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1896
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ: كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ يَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَيُعِينُ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ فَيَحْمِلُ عَلَيْهَا أَوْ يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ والكلمة الطّيبَة صَدَقَة وكل خطْوَة تخطوها إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَيُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَة
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ انسان کے ہر جوڑ پر ہر روز صدقہ کرنا واجب ہے ، دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا صدقہ ہے ، آدمی کی اس کی سواری کے بارے میں مدد کرنا ، وہ اسے سواری پر بٹھائے یا اس کا سامان اس پر رکھوائے ، یہ بھی صدقہ ہے ، اچھی بات کرنا صدقہ ہے ، نماز کی طرف ہر قدم اٹھانا صدقہ ہے ، اور راستے سے تکلیف دہ چیز دور کر دینا صدقہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1897
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَلَقَ كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلَاثِمِائَةِ مَفْصِلٍ فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَهَلَّلَ اللَّهَ وَسَبَّحَ اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ شَوْكَةً أَوْ عَظْمًا أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلَاثِمِائَةِ فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر انسان کے تین سو ساٹھ جوڑ ہیں جس شخص نے اللہ اکبر ، الحمد للہ ، لا الہ الا اللہ ، سبحان اللہ اور استغفر اللہ کہا ، اور لوگوں کے راستے سے پتھر یا کانٹے یا ہڈی کو دور کر دیا یا نیکی کا حکم یا برائی سے منع کیا اور یہ کام تین سو ساٹھ عدد کے برابر کیا تو وہ اس روز اس طرح چلتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو جہنم سے بچا لیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1898
sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: «أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهِ وِزْرٌ؟ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أجر» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر تسبیح صدقہ ہے ، ہر تکبیر صدقہ ہے ، ہر تمحید صدقہ ہے ، ہر تہلیل (لا الہ الا اللہ کہنا) صدقہ ہے ، امر بالمعروف صدقہ ہے ، برائی سے منع کرنا صدقہ ہے اور تمہارا اپنی اہلیہ سے جماع کرنا صدقہ ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرتا ہے تو اس پر اسے اجر ملے گا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے بتاؤ ، اگر وہ حرام طریقے سے شہوت پوری کرتا تو کیا اس پر گناہ ہوتا ؟ اسی طرح جب وہ حلال طریقے سے اسے پورا کرے گا تو اسے اجر ملے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1899
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ الصَّدَقَةُ اللِّقْحَةُ الصَّفِيُّ مِنْحَةً وَالشَّاةُ الصَّفِيُّ مِنْحَةً تَغْدُو بِإِنَاءٍ وَتَرُوحُ بِآخَرَ»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دودھ دینے والی بہترین اونٹنی عاریۃً دینا اور دودھ دینے والی بہترین بکری ، جو صبح و شام برتن بھر دیتی ہو ، عاریۃً دینا بہترین صدقہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1900
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ طَيْرٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَت لَهُ صَدَقَة»
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب کوئی مسلمان شجرکاری کرتا ہے یا کاشتکاری کرتا ہے ، پھر کوئی انسان یا پرندہ یا کوئی حیوان اس میں سے کھا لیتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1901
sahih
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ جَابِرٍ: «وَمَا سُرِقَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَة»
Urdu

اور صحیح مسلم میں جابر ؓ سے روایت ہے :’’ جو اس میں سے چوری ہو جائے تو وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1902
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غُفِرَ لِامْرَأَةٍ مُومِسَةٍ مَرَّتْ بِكَلْبٍ عَلَى رَأْسِ رَكِيٍّ يَلْهَثُ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ فَنَزَعَتْ خُفَّهَا فَأَوْثَقَتْهُ بِخِمَارِهَا فَنَزَعَتْ لَهُ مِنَ الْمَاءِ فَغُفِرَ لَهَا بِذَلِكَ» . قِيلَ: إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا؟ قَالَ: «فِي كُلِّ ذَاتِ كبد رطبَة أجر»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ایک بدکار عورت کو بخش دیا گیا کہ وہ کنویں کے کنارے ایک کتے کے پاس سے گزری جو کہ اپنی زبان باہر نکالے ہانپ رہا تھا ، قریب تھا کہ شدت پیاس اسے ہلاک کر ڈالے ، اس نے اپنا جوتا اتارا اور اسے اپنے دوپٹے سے باندھ کر اس کے لیے پانی نکالا تو اسے اس وجہ سے بخش دیا گیا ۔‘‘ عرض کیا گیا ، کیا حیوانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے بھی ہمارے لیے اجر ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر جان دار چیز کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں اجر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1903
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ أَمْسَكَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ مِنَ الْجُوعِ فَلَمْ تَكُنْ تُطْعِمُهَا وَلَا تُرْسِلُهَا فَتَأْكُلَ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ»
Urdu

ابن عمر ؓ اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کیا گیا ، اس نے اسے باندھ رکھا تھا ، حتیٰ کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی ، اس نے خود اسے کھلایا نہ اسے چھوڑا کہ وہ حشرات الارض کھا لیتی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1904
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَةٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقٍ فَقَالَ: لِأُنَحِّيَنَّ هَذَا عَنْ طَرِيقِ الْمُسلمين لَا يؤذيهم فَأدْخل الْجنَّة
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ایک آدمی ایک درخت کی شاخ کے پاس سے گزرا جو کہ راہ گزر پر تھی ، اس نے کہا : میں اسے مسلمانوں کی راہ سے ہٹا دیتا ہوں تاکہ یہ انہیں تکلیف نہ پہنچائے ، اسے (اس بنا پر) جنت میں داخل کر دیا گیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1905
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا يَتَقَلَّبُ فِي الْجَنَّةِ فِي شَجَرَةٍ قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِيقِ كَانَتْ تُؤْذِي النَّاس» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نے ایک آدمی کو ، ایک درخت کی وجہ سے ، جنت میں ادھر ادھر پھرتے دیکھا کہ اس نے راہ گزر سے اسے کاٹ دیا تھا جو کہ لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث تھا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1906
sahih
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعْ بِهِ قَالَ: «اعْزِلِ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَسَنَذْكُرُ حَدِيث عدي ابْن حَاتِمٍ: «اتَّقُوا النَّارَ» فِي بَابِ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ
Urdu

ابوبرزہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! مجھے کوئی نفع مند چیز بتائیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مسلمانوں کی گزر گاہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے ۔‘‘ عنقریب ہم عدی بن حاتم سے مروی حدیث :’’ دوزخ سے بچاؤ اختیار کرو ۔‘‘ کو ان شاء اللہ تعالیٰ باب علامات نبوۃ میں ذکر کریں گے ۔ رواہ مسلم

Hadith 1907
sahih
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جِئْتُ فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ. فَكَانَ أَوَّلُ مَا قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلام» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي
Urdu

عبداللہ بن سلام ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ تشریف لائے تو میں بھی (آپ کی زیارت کے لیے) آیا ، جب میں نے غور کے ساتھ آپ کا چہرہ مبارک دیکھا تو میں نے پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے شخص کا چہرہ نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلے فرمایا :’’ لوگو ! اسلام عام کرو ، کھانا کھلاؤ ، صلہ رحمی کرو اور رات کے وقت ، جبکہ لوگ سو رہے ہوں ، نماز پڑھو ، (اس طرح) تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 1908
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَأَفْشُوا السَّلَامَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلام» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه
Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ رحمن کی عبادت کرو ، کھانا کھلاؤ اور سلام عام کرو ، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

Hadith 1909
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السَّوْءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک صدقہ ، رب کے غضب کو ختم کرتا ہے اور بری موت کو دور کرتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1910
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ أَخِيكَ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہر معروف صدقہ ہے ، تمہارا اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملنا اور تمہارا اپنی بالٹی سے اپنے بھائی کے برتن میں پانی ڈال دینا بھی نیکی میں سے ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔

Hadith 1911
sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيك صَدَقَة وأمرك بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَة ن وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَإِرْشَادُكَ الرَّجُلَ فِي أَرْضِ الضَّلَالِ لَكَ صَدَقَةٌ وَنَصْرُكَ الرَّجُلَ الرَّدِيءَ الْبَصَرِ لَكَ صَدَقَةٌ وَإِمَاطَتُكَ الْحَجَرَ وَالشَّوْكَ وَالْعَظْمَ عَن الطَّرِيقِ لَكَ صَدَقَةٌ وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارا اپنے بھائی کو دیکھ کر تبسم فرمانا ، نیکی کا حکم کرنا ، برائی سے روکنا ، راہ بھولے شخص کی راہنمائی کرنا ، نابینا شخص کی مدد کرنا ، پتھر ، کانٹے اور ہڈی کو راستے سے ہٹا دینا اور اپنے ڈول سے کسی بھائی کے ڈول میں پانی ڈالنا بھی صدقہ ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔