Back to Mishkat Al-Masabih

Zakat

كتاب الزكاة

Chapter 6

Hadith 1872
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: خصلتان لَا تجتمعان فِي مُؤْمِنٍ: الْبُخْلُ وَسُوءُ الْخُلُقِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بخل اور بد اخلاقی جیسی خصلتیں کسی مومن میں جمع نہیں ہو سکتیں ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1873
sahih
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ خِبٌّ وَلَا بَخِيلٌ وَلَا منان» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوبکر صدیق ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ فساد و لڑائی پیداکرنے والا ، بخیل اور احسان جتلانے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1874
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَرُّ مَا فِي الرَّجُلِ شُحٌّ هَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: «لَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ» فِي كِتَابِ الْجِهَاد إِن شَاءَ الله تَعَالَى
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آدمی میں انتہائی حرص اور انتہائی بزدلی جیسی خصلتیں بری ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 1875
sahih
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا؟ قَالَ: أَطْوَلُكُنَّ يَدًا فَأَخَذُوا قَصَبَةً يَذْرَعُونَهَا فَكَانَت سَوْدَة أَطْوَلهنَّ يدا فَعلمنَا بعد أَنما كَانَت طُولُ يَدِهَا الصَّدَقَةَ وَكَانَتْ أَسْرَعَنَا لُحُوقًا بِهِ زَيْنَبُ وَكَانَتْ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أَسْرَعكُنَّ لُحُوقا بَين أَطْوَلكُنَّ يَدًا» . قَالَتْ: فَكَانَتْ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ؟ لِأَنَّهَا كَانَت تعْمل بِيَدِهَا وَتَتَصَدَّق
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعض ازواج مطہرات نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا ، ہم میں سے سب سے پہلے آپ سے کون ملیں گی ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے جس کے ہاتھ زیادہ دراز ہیں ۔‘‘ وہ لکڑی لے کر اپنے بازو ناپنے لگیں ، تو سودہ ؓ کے ہاتھ ان میں سے زیادہ دراز تھے ، پھر ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ ان کے ہاتھ لمبے ہونے سے مراد ، صدقہ تھی ، اور ہم میں سے زینب ؓ سب سے پہلے آپ سے جا ملیں ، اور وہ صدقہ کرنا پسند کیا کرتی تھیں ۔ بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے : عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں لمبے ہاتھ والی مجھے سب سے پہلے ملے گی ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں : وہ یہ جاننے کے لیے ان میں سے کس کے ہاتھ دراز ہیں وہ باہم ہاتھ ناپا کرتی تھیں ، پس زینب ؓ کے ہم میں سے ہاتھ زیادہ لمبے تھے ، کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کیا کرتی تھیں ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1876
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تصدق عَلَى سَارِقٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى سَارِقٍ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدي زَانِيَةٍ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدقَة فَخرج بِصَدَقَتِهِ فوضعها فِي يَدي غَنِي فَأَصْبحُوا يتحدثون تصدق عَلَى غَنِيٍّ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى سَارِق وعَلى زَانِيَة وعَلى غَنِي فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ أَمَّا صَدَقَتُكَ عَلَى سَارِقٍ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعِفَّ عَنْ سَرِقَتِهِ وَأَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا أَنْ تَسْتَعِفَّ عَنْ زِنَاهَا وَأَمَّا الْغَنِيُّ فَلَعَلَّهُ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقَ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَلَفظه للْبُخَارِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کسی آدمی نے کہا : میں صدقہ کروں گا ، وہ اپنا صدقہ لے کر باہر نکلا تو اس نے اسے کسی چور کے ہاتھ میں تھما دیا ، صبح ہوئی تو باتیں ہونے لگیں کہ رات کسی چور پر صدقہ کر دیا گیا ، تو اس آدمی نے کہا : اے اللہ ! ہر قسم کی حمد تیرے ہی لیے ہے ، کسی چور پر (صدقہ کر دیا گیا)، میں ضرور صدقہ کروں گا ، وہ صدقہ لے کر نکلا اور اسے کسی زانیہ کے ہاتھ پر رکھ دیا ، صبح ہوئی تو باتیں ہونے لگیں کہ رات کسی زانیہ پر صدقہ کر دیا گیا ، پھر اس آدمی نے کہا : اے اللہ ! ہر قسم کی حمد تیرے ہی لیے ہے ، (میں نے) کسی زانیہ پر (صدقہ کر دیا)، میں ضرور صدقہ کروں گا ، وہ صدقہ لے کر نکلا اور اور کسی مال دار شخص کے ہاتھ میں دے دیا ، صبح ہوئی تو لوگ بڑے تعجب سے باتیں کرنے لگے کہ رات کسی مال دار پر صدقہ کر دیا گیا ، اس نے کہا : اے اللہ ! ہر قسم کی حمد تیرے ہی لیے ہے ، (میں نے) چور ، زانیہ اور مال دار شخص پر (صدقہ کر دیا) اسے خواب میں بتایا گیا ، تم نے جو چور پر صدقہ کیا تو ممکن ہے کہ وہ چوری کرنے سے باز آ جائے ، رہی زانیہ تو ممکن ہے کہ وہ زنا کاری سے باز آ جائے ، اور رہا مال دار شخص تو شاید کہ وہ عبرت حاصل کرے اور اللہ کے عطا کردہ مال میں سے خرچ کرے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ، اور الفاظ حدیث امام بخاری کے ہیں ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1877
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَيْنَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِي سَحَابَةٍ اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ فَتَنَحَّى ذَلِكَ السَّحَابُ فَأَفْرَغَ مَاءَهُ فِي حَرَّةٍ فَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشِّرَاجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتْ ذَلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ فَتَتَبَّعَ الْمَاءَ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي حَدِيقَتِهِ يُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ فَقَالَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا اسْمُكَ فَقَالَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ لِمَ تَسْأَلُنِي عَنِ اسْمِي فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهُ يَقُول اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ لِاسْمِكَ فَمَا تَصْنَعُ فِيهَا قَالَ أما إِذْ قُلْتَ هَذَا فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثًا وأرد فِيهَا ثلثه» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس اثنا میں ایک آدمی صحرا میں تھا کہ اس نے بادلوں میں ایک آواز سنی کہ فلاں شخص کے باغ کو سیراب کرو ، وہ بادل (وہاں سے) الگ ہوا اور اس نے اپنا پانی سنگریزوں والی زمین پر برسایا ، تو ان نالیوں میں سے ایک نالی نے وہ سارا پانی سمیٹ لیا ، پھر وہ آدمی پانی کے پیچھے پیچھے گیا تو دیکھا کہ ایک آدمی اپنے باغ میں کھڑا اپنی کسّی کے ذریعے پانی کے (بہاؤ کے) رخ بدل رہا ہے ، اس آدمی نے اس سے دریافت کیا : اللہ کے بندے ! تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا : فلاں ، اس نے بالکل وہی نام بتایا جو اس نے بادلوں میں سنا تھا ، اس آدمی نے کہا : اللہ کے بندے ! تم نے میرا نام کیوں پوچھا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے اس بادل میں ، جس کا یہ پانی ہے ، ایک آواز سنی کہ وہ تمہارا نام لے کر کہہ رہا تھا ، فلاں شخص کے باغ کو سیراب کرو ، تم اس میں کیا کرتے ہو ؟ اس نے کہا : جو تم نے کہہ دیا ، تو اب سنو ، میں اس کی پیداوار کا تہائی حصہ صدقہ کرتا ہوں ، تہائی حصہ میں اور میرے اہل و عیال کھاتے ہیں اور اس کا تہائی حصہ اس (باغ) پر خرچ کر دیتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1878
sahih
وَعَن أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ ثَلَاثَة فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَى فَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا فَأَتَى الْأَبْرَصَ فَقَالَ أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ لَوْنٌ حَسَنٌ وَجِلْدٌ حَسَنٌ وَيَذْهَبُ عَنِّي الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ» قَالَ: «فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ قَذَرُهُ وَأُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا وَجِلْدًا حَسَنًا قَالَ فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ الْإِبِلُ - أَوْ قَالَ الْبَقر شكّ إِسْحَق - إِلَّا أَنَّ الْأَبْرَصَ أَوِ الْأَقْرَعَ قَالَ أَحَدُهُمَا الْإِبِلُ وَقَالَ الْآخَرُ الْبَقَرُ قَالَ فَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ فَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا» قَالَ: «فَأتى الْأَقْرَع فَقَالَ أَي شَيْء أحب إِلَيْك قَالَ شَعَرٌ حَسَنٌ وَيَذْهَبُ عَنِّي هَذَا الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ» . قَالَ: فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ وَأُعْطِيَ شَعَرًا حَسَنًا قَالَ فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ الْبَقَرُ فَأُعْطِيَ بَقَرَةً حَامِلًا قَالَ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا» قَالَ: «فَأَتَى الْأَعْمَى فَقَالَ أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ أَنْ يَرُدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَأُبْصِرَ بِهِ النَّاسَ» . قَالَ: «فَمَسَحَهُ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ بَصَرَهُ قَالَ فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ الْغَنَمُ فَأُعْطِيَ شَاة والدا فأنتج هَذَانِ وَولد هَذَا قَالَ فَكَانَ لِهَذَا وَادٍ مِنِ الْإِبِلِ وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْبَقَرِ وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْغَنَمِ» . قَالَ: «ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى الْأَبْرَصَ فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِسْكِينٌ قَدِ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي فَلَا بَلَاغَ لِيَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ أَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الْحسن وَالْجَلد الْحسن وَالْمَال بَعِيرًا أتبلغ عَلَيْهِ فِي سَفَرِي فَقَالَ الْحُقُوق كَثِيرَة فَقَالَ لَهُ كَأَنِّي أَعْرِفُكَ أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ فَقِيرًا فَأَعْطَاكَ اللَّهُ مَالًا فَقَالَ إِنَّمَا وَرِثْتُ هَذَا الْمَالَ كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ» . قَالَ: «وَأَتَى الْأَقْرَعَ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِهَذَا وَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ عَلَى هَذَا فَقَالَ إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ» . قَالَ: «وَأَتَى الْأَعْمَى فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي فَلَا بَلَاغَ لِيَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ أَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ شَاةً أَتَبَلَّغُ بِهَا فِي سَفَرِي فَقَالَ قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَخُذْ مَا شِئْتَ وَدَعْ مَا شِئْتَ فَوَاللَّهِ لَا أجهدك الْيَوْم شَيْئا أَخَذْتَهُ لِلَّهِ فَقَالَ أَمْسِكْ مَالَكَ فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ فقد رَضِي عَنْك وَسخط على صاحبيك»
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بنی اسرائیل کے تین آدمی تھے ، برص میں مبتلا شخص ، گنجا اور اندھا ، اللہ نے انہیں آزمانے کا ارادہ فرمایا تو ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا ، وہ برص کے مریض شخص کے پاس آیا تو کہا تمہیں کون سی چیز زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا : اچھا رنگ اور خوبصورت جلد ، اور یہ بیماری مجھ سے ہٹا دی جائے ، جس کی وجہ سے لوگ مجھے نا پسند کرتے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، اس نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کا مرض جاتا رہا ، اور اسے بہترین رنگت اور بہترین جلد عطا کر دی گئی ، اس (فرشتے) نے پوچھا : تمہیں کون سا مال زیادہ محبوب ہے ؟ اس نے کہا : اونٹ یا اس نے کہا گائے ۔‘‘ اسحاق راوی کو شک ہوا کہ برص کے مریض اور گنجے ان دونوں میں سے ایک نے اونٹ کہا اور دوسرے نے گائے کہا ، فرمایا :’’ اسے دس ماہ کی حاملہ اونٹنی دے دی گئی تو اس (فرشتے) نے کہا : اللہ ان کے بارے میں تمہیں برکت عطا فرمائے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں :’’ پھر وہ گنجے کے پاس گیا تو اس نے کہا : تمہیں کون سی چیز زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا : خوبصورت زلفیں اور مجھ سے یہ تکلیف دور کر دی جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھے نا پسند کرتے ہیں ۔‘‘ راوی نے کہا :’’ اس نے اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ تکلیف جاتی رہی ، اسے خوبصورت زلفیں عطا کر دی گئیں ، پھر اس نے پوچھا : تمہیں کون سا مال زیادہ محبوب ہے ؟ اس نے کہا : گائے ، اسے ایک حاملہ گائے دے دی گئی اور فرشتے نے کہا : اللہ اس میں تمہیں برکت عطا فرمائے ، راوی نے کہا : پھر وہ نابینے شخص کے پاس گیا تو کہا : تمہیں کون سی چیز زیادہ محبوب ہے ؟ اس نے کہا : اللہ مجھے میری بصارت لوٹا دے تاکہ میں اس کے ذریعے لوگوں کو دیکھ سکوں ۔‘‘ راوی نے کہا :’’ اس نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اللہ نے اسے اس کی بصارت لوٹا دی ، پھر اس نے پوچھا : تمہیں کون سا مال زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا بکریاں ، پھر اسے حاملہ بکری دے دی گئی ، پھر اونٹ ، گائے اور بکری نے بچے دیے ، تو اس (برص والے) کے ہاں وادی بھر اونٹ ہو گئے ، اس کے ہاں وادی بھر گائے ہو گئیں اور اس (نابینے) کے ہاں وادی بھر بکریاں ہو گئی ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں :’’ پھر وہ (فرشتہ) اسی صورت و ہیئت میں برص میں مبتلا شخص کے پاس آیا تو اس نے کہا : مسکین آدمی ہوں ، دوران سفر اسباب ختم ہو چکے ہیں ، آج مجھے صرف اللہ کا سہارا ہے یا پھر میں تم سے اس ذات کے واسطے سے سوال کرتا ہوں ، جس نے تجھے بہترین رنگت اور بہترین جلد اور مال عطا کیا ، کہ تم مجھے ایک اونٹ دے دو جس کے ذریعے میں اپنی منزل پر پہنچ جاؤں گا ، اس شخص نے کہا : حقوق بہت زیادہ ہیں ، (کس کس کو دوں )، اس (فرشتے) نے کہا : ایسے لگتا ہے کہ میں تمہیں پہچانتا ہوں ، کیا تم برص میں مبتلا نہیں تھے ، لوگ تجھے نا پسند کرتے تھے اور تم فقیر تھے ، اللہ نے تمہیں مال عطا کیا ، اس شخص نے کہا : یہ مال تو مجھے آباؤو اجداد سے ملا ہے ، اس فرشتے نے کہا : اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تمہیں پہلے کی طرح کر دے گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں :’’ پھر وہ اپنی اسی صورت میں گنجے شخص کے پاس گیا تو اس نے اسے بھی وہی بات کہی جو اس نے اس (برص والے) سے کہی تھی ، اور اس نے ویسے ہی جواب دیا جیسے اس شخص نے جواب دیا تھا ، فرشتے نے کہا : اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تمہیں پھر پہلے کی طرح کر دے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں :’’ پھر وہ اپنی اسی صورت و ہیئت میں نابینے شخص کے پاس گیا تو کہا : مسکین آدمی اور مسافر ہوں ، میرے دوران سفر اسباب منقطع ہو گئے ہیں ، آج منزل تک پہنچنے کے لیے مجھے اللہ کا سہارا ہے ، اور پھر میں تم سے اس ذات کا وسیلہ بنا کر سوال کرتا ہوں جس نے تمہاری بینائی لوٹائی کہ تم ایک بکری دے دو ، جس کے ذریعے میں اپنی منزل پر پہنچ جاؤں گا ، اس شخص نے کہا : یقیناً میں ایک نابینا شخص تھا ، اللہ نے میری بینائی لوٹا دی ، جو چاہو لے جاؤ اور چاہو چھوڑ جاؤ ، اللہ کی قسم ! آج جو کچھ تم اللہ کی خاطر اٹھاؤ گے اس پر میں تم پر کوئی سختی نہیں کروں گا ، اس (فرشتے) نے کہا : اپنا مال اپنے پاس رکھو ، تمہاری تو آزمائش کی گئی تھی ، اللہ تعالیٰ تم پر راضی ہو گیا اور تیرے دو ساتھیوں پر ناراض ہو گیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1879
sahih
وَعَن أم بجيد قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لِيَقِفُ عَلَى بَابِي حَتَّى أَسْتَحْيِيَ فَلَا أَجِدُ فِي بَيْتِي مَا أَدْفَعُ فِي يَدِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْفَعِي فِي يَدِهِ وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
Urdu

ام بجید ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہو جاتا ہے حتیٰ کہ مجھے حیا آتی ہے کہ میں اس کے ہاتھ پر رکھنے کے لیے گھر میں کوئی چیز نہیں پاتی ، تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو خواہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، اور امام ترمذی نے فرمایا :’’ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و الترمذی ۔

Hadith 1880
sahih
وَعَن مولى لعُثْمَان رَضِي الله عَنهُ قَالَ: أُهْدِيَ لِأُمِّ سَلَمَةَ بُضْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ اللَّحْمُ فَقَالَتْ لِلْخَادِمِ: ضَعِيهِ فِي الْبَيْتِ لَعَلَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ فَوَضَعَتْهُ فِي كَوَّةِ الْبَيْتِ. وَجَاءَ سَائِلٌ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ: تَصَدَّقُوا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ. فَقَالُوا: بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ. فَذَهَبَ السَّائِلُ فَدَخَلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَمَّ سَلَمَةَ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ أَطْعَمُهُ؟» . فَقَالَتْ: نَعَمْ. قَالَتْ لِلْخَادِمِ: اذْهَبِي فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكِ اللَّحْمِ. فَذَهَبَتْ فَلَمْ تَجِدْ فِي الْكَوَّةِ إِلَّا قِطْعَةَ مَرْوَةٍ فَقَالَ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «فَإِن ذَلِك اللَّحْمَ عَادَ مَرْوَةً لِمَا لَمْ تُعْطُوهُ السَّائِلَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّة
Urdu

عثمان ؓ کے آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں ، ام سلمہ ؓ کو گوشت کا ایک ٹکڑا بطور ہدیہ پیش کیا گیا جبکہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو گوشت پسند تھا ، تو انہوں نے خادمہ سے فرمایا : اسے گھر میں رکھو شاید کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے تناول فرمائیں ، اس نے اسے گھر کے طاق میں رکھا ، اور اتنے میں سائل دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا : اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے ، صدقہ کرو ۔ اہل خانہ نے بھی کہا : اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے (یعنی تمہارا بھلا ہو)، وہ سائل چلا گیا ، تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے ، آپ نے فرمایا :’’ ام سلمہ ! کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے کہ میں اسے کھا لوں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، جی ہاں ، اور خادمہ سے فرمایا : جاؤ اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے وہ گوشت لاؤ ، وہ گئی تو وہاں طاق میں (گوشت کے بجائے) صرف ایک سفید پتھر پڑا ہوا تھا ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ گوشت ، سفید پتھر بن گیا ، تم نے اسے سائل کو کیوں نہ دیا ؟‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1881
sahih
وَعَن ابْن عَبَّاس رَضِي الله عَنْهُمَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلًا؟ قِيلَ: نَعَمْ قَالَ: الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں مقام و مرتبہ کے لحاظ سے بدترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟‘‘ عرض کیا گیا ، جی ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس سے اللہ کے نام پر سوال کیا جائے اور وہ نہ دے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔

Hadith 1882
sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى عُثْمَانَ فَأَذِنَ لَهُ وَبِيَدِهِ عَصَاهُ فَقَالَ عُثْمَانُ: يَا كَعْبُ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ مَالًا فَمَا تَرَى فِيهِ؟ فَقَالَ: إِنْ كَانَ يَصِلُ فِيهِ حَقَّ اللَّهِ فَلَا بَأْسَ عَلَيْهِ. فَرَفَعَ أَبُو ذَرٍّ عَصَاهُ فَضَرَبَ كَعْبًا وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا أُحِبُّ لَوْ أَنَّ لِي هَذَا الْجَبَلَ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ وَيُتَقَبَّلُ مِنِّي أَذَرُ خَلْفِي مِنْهُ سِتَّ أَوَاقِيَّ» . أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا عُثْمَانُ أَسَمِعْتَهُ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ: نعم. رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عثمان ؓ سے اندر جانے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے انہیں اجازت دے دی ، اور ان کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی ، تو عثمان ؓ نے فرمایا : کعب ! عبدالرحمن ؓ وفات پا گئے اور انہوں نے مال چھوڑا ہے ، اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ انہوں نے کہا : اگر تو وہ اس بارے میں اللہ کا حق ادا کیا کرتے تھے تو پھر کوئی حرج نہیں ، ابوذر ؓ نے لاٹھی اٹھائی اور کعب کو دے ماری ، اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ اگر میرے پاس اس پہاڑ برابر سونا ہو اور میں اسے خرچ کر دوں اور وہ مجھ سے قبول بھی ہو جائے اور پھر میں اپنے پیچھے چھ اوقیہ چھوڑ جاؤں ۔‘‘ عثمان ! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ، کیا آپ نے اسے سنا ہے ؟ تین مرتبہ کہا ، انہوں نے فرمایا : ہاں ۔ ضعیف ۔

Hadith 1883
sahih
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ مُسْرِعًا فَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ إِلَى بَعْضِ حُجَرِ نِسَائِهِ فَفَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِهِ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَرَأَى أَنَّهُمْ قَدْ عَجِبُوا مِنْ سُرْعَتِهِ قَالَ: «ذَكَرْتُ شَيْئًا مِنْ تِبْرٍ عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يَحْبِسَنِي فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ قَالَ: «كُنْتُ خَلَّفْتُ فِي الْبَيْتِ تِبْرًا مِنَ الصَّدَقَةِ فَكَرِهْتُ أَنْ أبيته»
Urdu

عقبہ بن حارث ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے مدینہ میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز عصر ادا کی تو آپ سلام پھیر کر کھڑے ہوئے اور تیزی کے ساتھ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اپنی بعض ازواج مطہرات کے حجروں کی طرف تشریف لے گئے ، صحابہ کرام آپ کی اس تیزی اور جلدی سے پریشان ہو گئے جب آپ ان کے پاس واپس تشریف لائے اور آپ نے دیکھا کہ انہوں نے آپ کی تیزی پر تعجب کیا ہے ، آپ نے فرمایا :’’ مجھے سونے کی ایک ڈلی (ٹکڑا) یاد آ گئی جو ہمارے پاس تھی ، مجھے ناگوار گزرا کہ وہ مجھے اللہ کی یاد سے روکے رکھے ، لہذا میں نے اس کی تقسیم کا حکم فرما دیا ۔‘‘ بخاری ، اور صحیح بخاری کی دوسری روایت میں ہے ، فرمایا :’’ میں نے صدقہ کی سونے کی ڈلی گھر چھوڑی تھی ، میں نے اسے رات بھر گھر رکھنا نا پسند کیا ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 1884
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي فِي مَرضه سِتَّةُ دَنَانِيرَ أَوْ سَبْعَةٌ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُفَرِّقَهَا فَشَغَلَنِي وَجَعُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا: «مَا فَعَلَتِ السِّتَّةُ أَوِ السَّبْعَة؟» قلت: لَا وَالله لقد كَانَ شَغَلَنِي وَجَعُكَ فَدَعَا بِهَا ثُمَّ وَضَعَهَا فِي كَفِّهِ فَقَالَ: «مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ؟» . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوئے تو میرے پاس آپ کے چھ یا سات دینار تھے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں انہیں تقسیم کر دوں ، لیکن نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تکلیف نے مجھے مصروف رکھا ، آپ نے ان کے متعلق پھر مجھ سے پوچھا :’’ آپ نے ان چھ یا سات دیناروں کا کیا کیا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کی قسم ! آپ کی تکلیف نے مجھے مصروف کر دیا ، انہوں نے وہ منگائے ، پھر انہیں اپنی ہتھیلی میں رکھا ، فرمایا :’’ اللہ کا نبی کیا گمان کرے کہ وہ اللہ عزوجل سے ملاقات کرے اور یہ اس کے پاس ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔

Hadith 1885
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى بِلَالٍ وَعِنْدَهُ صُبْرَةٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا بِلَالُ؟» قَالَ: شَيْءٌ ادَّخَرْتُهُ لِغَدٍ. فَقَالَ: «أَمَا تَخْشَى أَنْ تَرَى لَهُ غَدًا بخارا فِي نَار جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْفِقْ بِلَالُ وَلَا تَخْشَ من ذِي الْعَرْش إقلالا»
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بلال ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو اس وقت کھجوروں کا ایک ڈھیر ان کے پاس تھا ، آپ نے فرمایا :’’ بلال ! یہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، میں نے کل کے لیے کچھ ذخیرہ کیا تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم ڈرتے نہیں کہ کل روز قیامت تو اسے جہنم کی آگ دیکھے گا ، بلال ! خرچ کر اور عرش والی ذات سے مفلسی کا اندیشہ نہ کر ۔‘‘ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 1886
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّخَاءُ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ فَمَنْ كَانَ سَخِيًّا أَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْهَا فَلَمْ يَتْرُكْهُ الْغُصْنُ حَتَّى يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ. وَالشُّحُّ شَجَرَةٌ فِي النَّارِ فَمَنْ كَانَ شَحِيحًا أَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْهَا فَلَمْ يَتْرُكْهُ الْغُصْنُ حَتَّى يُدْخِلَهُ النَّارَ» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سخاوت ، جنت میں ایک درخت ہے ، پس جو شخص سخی ہو گا تو وہ اس کی ایک شاخ کو پکڑ لے گا ، پھر شاخ اسے نہیں چھوڑے گی حتیٰ کہ وہ اسے جنت میں لے جائے گی ، جبکہ بخیلی و طمع جہنم کا ایک درخت ہے جو شخص بخیل ہو گا تو وہ اس کی ایک شاخ پکڑ لے گا ، اور وہ شاخ اسے نہیں چھوڑے گی حتیٰ کہ اسے جہنم میں لے جائے گی ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1887
sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَادِرُوا بِالصَّدَقَةِ فَإِنَّ الْبَلَاءَ لَا يَتَخَطَّاهَا» . رَوَاهُ رَزِينٌ
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ صدقہ کرنے میں جلدی کیا کرو ، کیونکہ بلاء و مصیبت اس سے آگے نہیں پہنچ سکتی ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔

Hadith 1888
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَل»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص حلال کمائی سے کھجور کے برابر صدقہ کرتا ہے ، جبکہ اللہ صرف حلال مال ہی قبول کرتا ہے ، تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں قبول فرماتا ہے ، پھر اسے اس کے مالک کے لیے اس طرح بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے کی پرورش کرتا ہے ، حتیٰ کہ وہ پہاڑ کی مانند ہو جاتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1889
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نقصت صَدَقَة من مَال شَيْئا وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا ، درگزر کرنے اور معاف کر دینے سے اللہ بندے کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے ، اور جو کوئی اللہ کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کو رفعت عطا فرماتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1890
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَاب الْجنَّة واللجنة أَبْوَابٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَاد دعِي من بَاب الْجِهَاد وَمن كَانَ مَنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ» . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا؟ قَالَ: «نعم وَأَرْجُو أَن تكون مِنْهُم»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے کسی چیز کا جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کیا تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا ، اور جنت کے (آٹھ) دروازے ہیں ، جو شخص نمازی ہو گا اسے باب الصلوۃ سے دعوت دی جائے گی ، جو مجاہد ہو گا اسے باب الجہاد سے آواز دی جائے گی ، جو اہل صدقہ میں سے ہو گا اسے باب الصدقہ سے بلایا جائے گا ، روزہ دار کو باب الریان سے آواز دی جائے گی ۔‘‘ ابوبکر ؓ نے عرض کیا ، ویسے ضروری تو نہیں کہ کسی کو ان سب دروازوں سے بلایا جائے ، پھر بھی کیا کسی کو ان تمام دروازوں سے دعوت دی جائے گی ؟ آپ نے فرمایا :’’ ہاں ، میں امید کرتا ہوں کہ آپ انہی میں سے ہوں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1891
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟» قَالَ أَبُو بكر: أَنا قَالَ: «فن تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جِنَازَةً؟» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: «فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: «فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟» . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آج تم میں سے کون روزے سے ہے ؟‘‘ ابوبکر ؓ نے عرض کیا : میں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آج تم میں سے کون جنازے کے ساتھ شریک ہوا ؟‘‘ ابوبکر ؓ نے عرض کیا : میں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آج تم میں سے کس نے مسکین کو کھانا کھلایا ؟‘‘ ابوبکر ؓ نے عرض کیا ، میں نے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آج تم میں سے کس نے مریض کی عیادت کی ؟‘‘ ابوبکر ؓ نے عرض کیا : میں نے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص میں یہ خصلتیں جمع ہو جائیں تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔