ابن مسعود ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنے مال کی زکوۃ ادا نہیں کرتا تو اللہ روز قیامت اسے اس کی گردن میں اژدھا بنا دے گا ، پھر آپ نے اس کے مصداق اللہ عزوجل کی کتاب سے تلاوت فرمائی :’’ جو لوگ اللہ کے عطا کیے ہوئے مال میں بخل کرتے ہیں ، وہ گمان نہ کریں ،،،،،‘ آخر تک ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس مال میں زکوۃ خلط ملط ہو جائے تو وہ (زکوۃ) اس کو ختم کر دیتی ہے ۔‘‘ شافعی ، امام بخاری نے اسے اپنی تاریخ میں روایت کیا ہے ، اور امام حمیدی نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : اگر تم پر زکوۃ واجب ہو اور پھر تم اسے ادا نہ کرو تو اس طرح حرام ، حلال کو تباہ کر دے گا ، اس سے ان لوگوں نے دلیل لی ہے جو سمجھتے ہیں کہ زکوۃ عین مال سے ادا کرنا فرض ہے ۔ مثقیٰ میں بھی اسی طرح ہے ۔ بیہقی نے امام احمد بن حنبل سے اپنی سند سے عائشہ ؓ تک شعب الایمان میں بیان کیا ہے اور امام احمد نے ’’ زکوۃ کا مال ملانے ۔‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی مال دار شخص زکوۃ وصول کرے جبکہ یہ فقراء کا حق ہے ۔ ضعیف ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پانچ وسق سے کم کھجور پر ، پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر اور پانچ سے کم اونٹوں پر زکوۃ نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مسلمان پر اس کے غلام اور اس کے گھوڑے پر زکوۃ نہیں ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ اس کے غلام پر صدقہ فطر کے سوا کوئی صدقہ واجب نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ جب ابوبکر ؓ نے انہیں بحرین کی طرف بھیجا تو انہوں نے مجھے یہ تحریر دی :’’ شروع اللہ کے نام کے ساتھ جو بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ فریضہ زکوۃ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا ، جس کے متعلق اللہ نے اپنے رسول کو حکم فرمایا ، جس مسلمان سے اس طریقے پر زکوۃ کا مطالبہ کیا جائے تو وہ اسے ادا کرے اور جس سے اس مشروع طریقے سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے تو وہ نہ دے ۔ چوبیس اور اس سے کم اونٹ پر زکوۃ میں بکریاں لی جائیں گی ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری ہے ، جب اونٹ پچیس سے پینتیس ہو جائیں تو پھر ان پر اونٹ کا ایک سالہ مؤنث بچہ بطور زکوۃ لیا جائے گا ، جب اونٹ چھتیس سے پنتالیس تک پہنچ جائیں تو ان پر دو برس کی اونٹنی واجب ہے ، جب چھیالیس سے ساٹھ تک پہنچ جائیں تو ان پر تین برس مکمل ہونے کے بعد چوتھے سال والی اونٹنی واجب ہے جو گابھن ہونے کے قابل ہو ، جب اکسٹھ سے پچھتر ہو جائیں تو ان پر چار برس مکمل ہونے کے بعد پانچویں برس والی اونٹنی واجب ہے ، جب وہ چھہتر سے نوے ہو جائیں تو ان پر دو دو سال کی دو اونٹنیاں واجب ہیں ، اور جب اکانوے سے ایک سو بیس ہو جائیں تو پھر ان پر تین برس مکمل کر کے چوتھے سال کی دو اونٹنیاں واجب ہیں جو کہ گابھن ہونے کے قابل ہوں ، اور جب ایک سو بیس سے زائد ہو جائیں تو پھر ہر چالیس پر دو سالہ اونٹنی اور ہر پچاس پر ایک تین اور چار سال کے درمیان والی اونٹنی واجب ہے ، اور جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو اس پر کوئی زکوۃ فرض نہیں ہوتی البتہ اگر ان کا مالک چاہے (تو نفلی صدقہ کر سکتا ہے) جب پانچ ہو جائیں تو پھر ان پر ایک بکری واجب ہے ، اور جس شخص پر صدقہ میں چار اور پانچ برس کے درمیان کی اونٹنی فرض ہو لیکن اس کے پاس اس کے بجائے تین اور چار سال کے درمیان کی اونٹنی ہو تو اس سے یہ قبول کر لی جائے گی اور اگر اسے میسر ہو تو وہ اس کے ساتھ دو بکریاں ملائے گا ، یا پھر بیس درہم ، اور جس شخص پر صدقہ میں تین اور چار سال کے درمیان کی اونٹنی فرض ہو لیکن اس کے پاس اس بجائے چار اور پانچ سال کے درمیان کی اونٹنی ہو تو اس سے یہ وصول کی جاے گی اور صدقہ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے گا ، اور جس شخص پر تین اور چار سال کے درمیان کی اونٹنی فرض ہوتی ہو اس کے پاس یہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس دو سال کی اونٹنی ہو تو اس سے یہ قبول کر لی جائے گی اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم ادا کرے گا ، اور جس شخص پر صدقہ میں دو سال کی اونٹنی فرض ہو لیکن اس کے پاس تین اور چار سال کے درمیان کی اونٹنی ہو تو اس سے یہی قبول کر لی جائے گی لیکن صدقہ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے گا ، اور جس شخص پر صدقہ میں دو سال کی اونٹنی فرض ہو لیکن اس کے پاس یہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس ایک سال کی اونٹنی ہو تو اس سے یہی ایک سال کی اونٹنی قبول کی جائے گی اور وہ اس کے ساتھ بیس درہم یا دو بکریاں ادا کرے گا ، اور اسی طرح جس شخص پر صدقہ میں ایک سال کی اونٹنی ہو تو اس سے یہی قبول کر لی جائےگی لیکن صدقہ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں عطا کرے گا ، اگر فرض کریں اس کے پاس ایک سال کی اونٹنی نہیں بلکہ اس کے پاس ایک سال کا اونٹ ہو تو اس سے اسے وصول کر لیا جائے گا اور اس کے ساتھ کچھ اور نہیں ہو گا ، اور چرنے والی بکریوں کے بارے میں صدقہ کی شرح اس طرح ہے کہ جب وہ چالیس سے ایک سو بیس تک ہوں تو ان پر ایک بکری صدقہ ہے ، اور جب ایک سو اکیس سے دو سو تک ہوں تو ان پر دو بکریاں ہیں ، اور جب دو سو سے تین سو تک ہوں تو ان پر تین بکریاں ہیں ، اور جب تین سو سے زائد ہو جائیں تو پھر ہر سو پر ایک بکری ہے ، اور اگر کسی چرواہے کی بکریاں چالیس سے کم (انتالیس بھی) ہو گئیں تو ان پر زکوۃ نہیں ہاں اگر ان کا مالک اپنی مرضی سے چاہے تو نفلی صدقہ کر سکتا ہے ، صدقہ میں بوڑھی بکری ، عیب دار اور سانڈ نہیں دیا جائے گا مگر جو صدقہ وصول کرنے والا چاہے ، اور صدقہ کے اندیشے کے پیش نظر متفرق مال کو جمع کیا جائے نہ اکٹھے مال کو متفرق کیا جائے ، اور جو مال دو شریکوں کا اکٹھا ہو تو وہ زکوۃ بقدر حصہ برابر ادا کریں ، چاندی میں چالیسواں حصہ ہے ، اور اگر چاندی صرف ایک سو نوے درہم ہو تو اس پر کوئی زکوۃ نہیں الاّ کہ اس کا مالک ادا کرنا چاہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عبداللہ بن عمر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس کھیتی کو بارش یا چشمہ سیراب کرتا ہو یا وہ کھیتی خود بخود سیراب ہو تو اس میں عشر (دسواں حصہ) ہے اور جسے کنویں کے پانی سے سینچا جائے تو اس میں نصف عشر (بیسواں) حصہ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جانور کا زخم معاف ہے (اس پر کوئی دیت و تاوان نہیں) ، کنویں میں اور کان میں موت واقع ہو جائے تو اس پر کوئی معاوضہ نہیں ، اور دفینے پر پانچواں حصہ زکوۃ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے گھوڑے اور غلام (کی زکوۃ) کے بارے میں درگزر فرمایا ، تم ہر چالیس درہم چاندی پر ایک درہم زکوۃ دو ، ایک سو نوے درہم پر کوئی زکوۃ نہیں ، جب دو سو درہم ہو جائیں تو ان پر پانچ درہم ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور حارث الاعورعن علی کی سند سے ابوداؤد کی روایت ہے ، زہیر بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ چالیسواں حصہ لاؤ ، ہر چالیس درہم پر ایک درہم ہے ، اور جب تک دو سو درہم نہ ہو جائیں تم پر کچھ بھی فرض نہیں ، جب دو سو درہم ہو جائیں تو ان پر پانچ درہم زکوۃ ہے ، جب درہم زیادہ ہوتے جائیں تو پھر اسی حساب سے زکوۃ ہو گی ، بکریوں کے بارے میں ہے کہ ہر چالیس بکریوں پر ایک بکری ہے ، اور یہ ایک سو بیس بکریوں تک ایک ہی ہے ، اور ایک سو اکیس سے دو سو تک دو بکریاں ہیں ، دو سو ایک سے تین سو تک تین بکریاں ہیں ، جب تین سو سے زائد ہو جائیں تو پھر ہر سو پر ایک بکری ہے ، اگر انتالیس بکریاں ہوں تو ان پر تمہارے ذمہ کوئی زکوۃ نہیں ، اور گائے کے بارے میں ہر تیس گائے پر گائے کا ایک سالہ بچہ ہے ، اور چالیس پر دو سالہ بچہ ہے ، جبکہ کھتی باڑی وغیرہ کا کام کرنے والے جانوروں پر زکوۃ واجب نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
معاذ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف بھیجا تو آپ نے انہیں (مجھے) گائے کے متعلق حکم فرمایا کہ ہر تیس پر گائے کا ایک سالہ نر یا مادہ بچہ وصول کرے اور ہر چالیس پر دو سالہ بچہ ۔‘‘ ضعیف ۔
موسی بن طلحہ ؒ بیان کرتے ہیں ، ہمارے پاس معاذ بن جبل ؓ کی وہ تحریر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں عطا کی تھی ، جس میں انہوں نے ان کو حکم فرمایا تھا کہ گندم ، جو ، منقی اور کھجور میں سے زکوۃ لی جائے ۔ ضعیف ۔
عتاب بن اسید ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوروں کی زکوۃ کے متعلق فرمایا :’’ کھجوروں کی طرح ان کا اندازہ کیا جائے گا پھر ان کی زکوۃ منقی سے ادا کی جائے گی جس طرح کھجوروں کی زکوۃ چھوہاروں سے ادا کی جاتی ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
سہیل بن ابی حشمہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ جب تم اندازہ کر لو تو پھر زکوۃ وصول کرو تہائی حصہ چھوڑ دو ، اگر تم تہائی حصہ نہ چھوڑو تو پھر چوتھائی چھوڑ دو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبداللہ بن رواحہ ؓ کو یہودیوں کے پاس بھیجا کرتے تھے ، جب کھجوروں میں مٹھاس آ جاتی اور وہ ابھی کھانے کے قابل نہ ہوتیں تو وہ ان کا اندازہ کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہد کے بارے میں فرمایا :’’ ہر دس مشکیزوں (کنستروں) پر ایک مشکیزہ زکوۃ ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : اس کی سند پر کلام کیا گیا ہے ، اور اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی زیادہ صحیح چیز ثابت نہیں ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ زینب ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا تو فرمایا :’’ خواتین کی جماعت ! صدقہ کرو ، خواہ اپنے زیورات سے کرو ، کیونکہ روز قیامت جہنم میں تم زیادہ ہوں گی ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ دو عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو ان کے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا :’’ کیا تم اس (سونے) کی زکوۃ ادا کرتی ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، جی نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’ـ’ کیا تم پسند کرتی ہو کہ اللہ تمہیں آگ کے دو کنگن پہنا دے ؟ انہوں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تو پھر اس سونے کی زکوۃ ادا کرو ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : مثنی بن صباح نے اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے اسی طرح روایت کیا ہے ، جبکہ مثنی بن صباح اور ابن لہیعہ دونوں حدیث میں ضعیف ہیں ، اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی چیز صحیح ثابت نہیں ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں سونے کے پازیب پہنا کرتی تھی ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا یہ بھی خزانہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو مال نصاب زکوۃ کو پہنچ جائے اور اس کی زکوۃ ادا کر دی جائے تو پھر وہ خزانہ نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم تجارت کے لیے تیار کیے گئے مال کی زکوۃ ادا کریں ۔ ضعیف ۔