Back to Mishkat Al-Masabih

Zakat

كتاب الزكاة

Chapter 6

Hadith 1912
sahih
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْمَاءُ» . فَحَفَرَ بِئْرًا وَقَالَ: هَذِهِ لأم سعد. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
Urdu

سعد بن عبادہ ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ام سعد ؓ وفات پا چکی ہیں ، (ان کے لیے) کون سا صدقہ کرنا افضل ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پانی ۔‘‘ انہوں نے ایک کنواں کھدوایا اور فرمایا : یہ ام سعد کے لیے ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 1913
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا مُسْلِمٍ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا عَلَى عُرْيٍ كَسَاهُ اللَّهُ مِنْ خُضْرِ الْجَنَّةِ وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَطْعَمَ مُسْلِمًا عَلَى جُوعٍ أَطْعَمَهُ اللَّهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ. وَأَيُّمَا مُسلم سقا مُسْلِمًا عَلَى ظَمَأٍ سَقَاهُ اللَّهُ مِنَ الرَّحِيقِ الْمَخْتُوم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو مسلمان کسی ننگ بدن مسلمان کو لباس پہنائے تو اللہ اسے جنت کا سبز لباس پہنائے گا اور جو مسلمان کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے تو اللہ اسے جنت کے میوے کھلاے گا اور جو مسلمان کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے تو اللہ اسے کستوری سے سیل بند خالص شراب پلائے گا ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1914
sahih
وَعَن فَاطِمَة بنت قبيس قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الْمَالِ لَحَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ» ثُمَّ تَلَا: (لَيْسَ الْبَرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قبل الْمشرق وَالْمغْرب) الْآيَة. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي
Urdu

فاطمہ بنت قیس ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مال میں زکوۃ کے علاوہ بھی حق ہے ۔‘‘ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ نیکی یہی نہیں کہ تم اپنے چہرے مشرق و مغرب کی طرف کر لو ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1915
sahih
وَعَنْ بُهَيْسَةَ عَنْ أَبِيهَا قَالَتْ: قَالَ: يَا رَسُول الله مَا لشَيْء الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: «الْمَاءُ» . قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: «الْمِلْحُ» . قَالَ: يَا نَبِيَّ الله مَا لاشيء الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: «أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْر خير لَك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

بہیسہ اپنے والد سے روایت کرتی ہیں ، انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہ کون سی چیز ہے جس سے روکنا جائز نہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پانی ۔‘‘ انہوں نے پھر عرض کیا : اللہ کے نبی ! وہ کون سی چیز ہے جس سے روکنا جائز نہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نمک ۔‘‘ انہوں نے پھر عرض کیا ، اللہ کے نبی ! وہ کون سی چیز ہے جس سے روکنا جائز نہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ کہ تم بھلائی کے کام کرو ، وہ تمہارے لیے بہتر ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1916
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من أحيى أَرْضًا مَيِّتَةً فَلَهُ فِيهَا أَجْرٌ وَمَا أَكَلَتِ الْعَافِيَةُ مِنْهُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ والدارمي
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بنجر زمین کاشت کرتا ہے تو اس کے لیے اس (کاشت کرنے) میں اجر ہے ، اور ہر طالب رزق اس میں سے جو کھا جائے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الدارمی ۔

Hadith 1917
sahih
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَنَحَ مِنْحَةَ لَبَنٍ أَو روق أَوْ هَدَى زُقَاقًا كَانَ لَهُ مِثْلَ عِتْقِ رَقَبَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

براء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دودھ والا جانور عاریۃً دے دے یا کوئی قرض دے دے یا کسی کو راستہ بتا دے تو اس کے لیے غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 1918
sahih
وَعَنْ أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَرَأَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ لَا يَقُولُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوا عَنْهُ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ قَالَ: «لَا تقل عَلَيْك السَّلَام فَإِن عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ قُلِ السَّلَامُ عَلَيْكَ» قلت: أَنْت رَسُول الله؟ قَالَ: «أَنا رَسُول الله الَّذِي إِذا أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْض قفراء أَوْ فَلَاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ» . قُلْتُ: اعْهَدْ إِلَيَّ. قَالَ: «لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا» قَالَ فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً. قَالَ: «وَلَا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْرُوفِ وَارْفَعْ إِزَاَرَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ وَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تعيره بِمَا تعلم فِيهِ فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ حَدِيثَ السَّلَامِ. وَفِي رِوَايَةٍ: «فَيَكُونَ لَكَ أَجْرُ ذَلِكَ وَوَبَالُهُ عَلَيْهِ»
Urdu

ابوجری جابر بن سلیم بیان کرتے ہیں ، میں مدینہ آیا تو میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ، وہ جو کہتا ہے وہ اس پر عمل کرتے ہیں ، میں نے پوچھا : یہ کون شخص ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ اللہ کے رسول ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے دو مرتبہ کہا : علیک السلام یا رسول اللہ ! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ علیک السلام نہ کہو ، علیک السلام تو میت کے لیے دعا و سلام ہے ، کہو ، السلام علیک ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا :’’ میں اس اللہ کا رسول ہوں کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے اور تو اس سے دعا کرے تو وہ تکلیف کو تجھ سے دور کر دے ، اور اگر تو قحط سالی میں مبتلا ہو جائے اور اس سے دعا کرے تو وہ تجھے سرسبزی و شادابی عطا فرما دے ، جب تو کسی ریگستان یا صحرا میں ہو اور تیری سواری گم ہو جائے ، پھر تو اس سے دعا کرے تو وہ اسے واپس لوٹا دے ، میں نے عرض کیا : مجھے کوئی وصیت فرمائیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کسی کو گالی نہ دینا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے پھر اس کے بعد کسی آزاد کو گالی دی نہ کسی غلام کو نہ کسی اونٹ کو نہ ہی کسی بکری کو ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نیکی کے کسی کام کو حقیر نہ جاننا ، اگر تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے گفتگو کرے تو یہ بھی نیکی ہے ، اپنا ازار نصف پنڈلی تک رکھ ، اگر تو ایسے نہ کرے تو پھر ٹخنوں تک ، اور (ٹخنوں سے نیچے) ازار (تہبند ، شلوار ، پاجامہ وغیرہ) لٹکانے سے اجتناب کر ، کیونکہ یہ تکبر ہے ، اور اللہ تکبر پسند نہیں کرتا اور اگر کوئی آدمی تجھے گالی دے اور تجھ پر عیب لگائے جس کے متعلق وہ جانتا ہو کہ وہ (عیب) تم میں موجود ہے ، تو اس کے متعلق جو تم جانتے ہو ، اس پر عیب نہ لگاؤ اس کا وبال اسی پر ہو گا ۔‘‘ ابوداؤد ، امام ترمذی نے اس حدیث سے سلام والا حصہ روایت کیا ہے اور ایک روایت میں ہے :’’ تمہیں اس کا اجر ملے گا جبکہ اس پر وبال ہو گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔

Hadith 1919
sahih
وَعَن عَائِشَة إِنَّهُمْ ذَبَحُوا شَاةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَقِيَ مِنْهَا؟» قَالَتْ: مَا بَقِي مِنْهَا إِلَّا كتفها قَالَ: «بَقِي كلهَا غير كتفها» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَصَححهُ
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں (یعنی اہل بیت) نے ایک بکری ذبح کی تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا :’’ اس سے کچھ بچا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اس کی دستی بچی ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کی دستی کے سوا باقی سب بچ گیا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 1920
sahih
وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ ك سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا إِلَّا كَانَ فِي حفظ من الله مادام عَلَيْهِ مِنْهُ خرقَة» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب کوئی مسلمان کسی مسلمان کو لباس فراہم کرتا ہے تو جب تک اس لباس کا ایک ٹکڑا اس پر رہتا ہے تو وہ شخص اللہ کی حفاظت میں رہتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1921
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَرْفَعُهُ قَالَ: ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ: رَجُلٌ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتْلُوا كِتَابَ اللَّهِ وَرَجُلٌ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا أُرَاهُ قَالَ: مِنْ شِمَالِهِ وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ فَاسْتَقْبَلَ الْعَدُوَّ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ أَحَدُ رُوَاتِهِ أَبُو بكر بن عَيَّاش كثير الْغَلَط
Urdu

عبداللہ بن مسعود ؓ مرفوع روایت بیان کرتے ہیں ، فرمایا :’’ تین اشخاص ہیں جنہیں اللہ پسند کرتا ہے ، دوران تہجد قرآن کی تلاوت کرنے والا ، دائیں ہاتھ سے صدقہ کرنے والا جو اسے اپنے بائیں ہاتھ سے بھی مخفی رکھتا ہے ، اور ایک وہ آدمی جو کسی لشکر میں ہو اوراس کے ساتھی شکست کھا جائیں لیکن وہ پھر بھی دشمن کے سامنے سینہ سپر رہے ۔‘‘ ترمذی اورانہوں نے فرمایا : یہ حدیث محفوظ نہیں ، اس کا ایک راوی ابوبکر بن عیاش ، کثرت کے ساتھ غلطیاں کرتا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 1922
sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ فَأَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّه وَلم يسألهم بِقرَابَة بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَمَنَعُوهُ فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْيَانِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا لَا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلَّا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ فَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّة فلقي الْعَدو فهزموا وَأَقْبل بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لَهُ وَالثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ الشَّيْخُ الزَّانِي وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ والغني الظلوم» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تین اشخاص ایسے ہیں جنہیں اللہ پسند کرتا ہے اور تین ایسے ہیں جنہیں اللہ نا پسند کرتا ہے ، رہے وہ جنہیں اللہ پسند کرتا ہے تو ان میں سے ایک وہ آدمی ہے جو کسی قوم کے پاس جائے اور اللہ کے نام پر ان سے سوال کرے ، وہ ان سے اپنی باہمی قرابت کی وجہ سے سوال نہ کرے ، لیکن وہ اسے کچھ نہ دیں ، ایک آدمی نے اپنے ساتھیوں سے الگ ہو کر مخفی طور پر اسے کچھ دے دیا جسے صرف اللہ جانتا ہے اور وہ لینے والا جانتا ہے ، اور ایک وہ قوم جو ساری رات چلتی رہی حتیٰ کہ جب نیند انہیں تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہو گئی تو وہ سو گئے اس اثنا میں ایک آدمی کھڑا ہو کر خشوع و خضوع کے ساتھ مجھ سے دعا کرنے لگا اور میری آیات کی تلاوت کرنے لگا اور (تیسرا) وہ شخص جو کسی لشکر میں دشمن سے برسر پیکار ہو لیکن وہ شکست کھا جائیں تو یہ پھر بھی سینہ سپر رہے حتیٰ کہ اسے شہید کر دیا جائے یا اسے فتح حاصل ہو جائے ، اور وہ تین جنہیں اللہ نا پسند کرتا ہے : بوڑھا زانی ، متکبر فقیر اور ظالم مالدار ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی ۔

Hadith 1923
sahih
وَعَن أنس بن مَالك عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِيدُ فَخَلَقَ الْجِبَالَ فَقَالَ بِهَا عَلَيْهَا فَاسْتَقَرَّتْ فَعَجِبَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ شِدَّةِ الْجِبَالِ فَقَالُوا يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنِ الْجِبَالِ قَالَ نعم الْحَدِيد قَالُوا يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْحَدِيدِ قَالَ نَعَمِ النَّارُ فَقَالُوا يَا رب هَل من خلقك شَيْء أَشد من النَّار قَالَ نعم المَاء قَالُوا يَا رب فَهَل مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْمَاءِ قَالَ نَعَمِ الرِّيحُ فَقَالُوا يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الرِّيحِ قَالَ نَعَمِ ابْن آدم تصدق بِصَدقَة بِيَمِينِهِ يخفيها من شِمَالِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَذُكِرَ حَدِيثُ مُعَاذٍ: «الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ» . فِي كتاب الْإِيمَان
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب اللہ نے زمین پیدا فرمائی تو وہ ہلنے لگی ، تو پھر اس نے پہاڑ پیدا کیے اور انہیں اس (زمین) پر رکھنے کا حکم فرمایا تو وہ ٹھہر گئی ، فرشتوں کو پہاڑوں کی شدت پر تعجب ہوا تو انہوں نے عرض کیا : رب جی ! کیا تیری مخلوق میں پہاڑوں سے شدید تر کوئی چیز ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہاں ، لوہا ، تو انہوں نے پھر عرض کیا ، رب جی ! کیا تیری مخلوق میں لوہے سے بھی شدید تر کوئی چیز ہے ؟ فرمایا : ہاں ، آگ ، انہوں نے عرض کیا ، کیا تیری مخلوق میں آگ سے بھی شدید تر کوئی چیز ہے ؟ فرمایا : ہاں ، پانی ، انہوں نے عرض کیا : رب جی ! کیا تیری مخلوق میں پانی سے شدید تر کوئی چیز ہے ؟ فرمایا : ہاں ، ہوا ، پھر انہوں نے عرض کیا : رب جی ! کیا تیری مخلوق میں ہوا سے بھی شدید تر کوئی چیز ہے ؟ فرمایا : ہاں ، وہ ابن آدم جو اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ کرتا ہے تو اسے اپنے بائیں ہاتھ سے مخفی رکھتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور معاذ ؓ سے مروی حدیث :’’ صدقہ خطائیں مٹا دیتا ہے ۔‘‘ کتاب الایمان میں ذکر کی گئی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 1924
sahih
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ» . قُلْتُ: وَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «إِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ وَإِنْ كَانَت بقرة فبقرتين» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو بندہ مسلم اپنے سارے مال سے جوڑا جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو جنت کے تمام دربان اپنی اپنی نعمتوں کے ساتھ اس کا استقبال کرتے ہیں ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، وہ کیسے خرچ کرے ؟ فرمایا :’’ اگر اونٹ ہوں تو دو اونٹ اور اگر گائے ہوں تو دو گائے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔

Hadith 1925
sahih
وَعَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ ظِلَّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَة صدقته» . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

مرثد بن عبداللہ ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کسی صحابی نے مجھے حدیث بیان کی کہ اس نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ روز قیامت مومن کا صدقہ ہی اس کے لیے باعث سایہ ہو گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد ۔

Hadith 1926
sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَسَّعَ عَلَى عِيَالِهِ فِي النَّفَقَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ سَائِرَ سَنَتِهِ» . قَالَ سُفْيَانُ: إِنَّا قَدْ جربناه فوجدناه كَذَلِك. رَوَاهُ رزين
Urdu

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص عاشورہ کے دن اپنے اہل و عیال پر فراخی کے ساتھ خرچ کرتا ہے تو اللہ پورا سال اسے فراخی عطا فرما دیتا ہے ۔‘‘ سفیان (ثوری ؒ) نے فرمایا : ہم اس کا تجربہ کر چکے ہیں ، اور ہم نے اسے اسی طرح پایا ہے ۔ ضعیف جذا ، رواہ رزین (لم اجدہ) ۔

Hadith 1927
sahih
وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنْهُ وَعَنْ أبي هُرَيْرَة وَأبي سعيد وَجَابِر وَضَعفه
Urdu

اور امام بیہقی نے ابن مسعود ؓ ، ابوہریرہ ؓ ، ابوسعید ؓ اور جابر ؓ سے اسے شعب الایمان میں ذکر کیا ہے ، اور انہوں (امام بیہقی) نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ضعیف ۔

Hadith 1928
sahih
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الصَّدَقَةُ مَاذَا هِيَ؟ قَالَ: «أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ وَعِنْدَ اللَّهِ الْمَزِيدُ» . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوذر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! مجھے بتائیں کہ صدقہ کا کتنا ثواب ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ زیادہ سے زیادہ (سات سو گنا) اور اللہ کے ہاں مزید ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1929
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَحَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وأبدأ بِمن تعول» . رَوَاهُ البُخَارِيّ وَمُسلم عَن حَكِيم وَحده
Urdu

ابوہریرہ ؓ اور حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بہترین صدقہ وہ ہے جس کے پیچھے غنا ہو اور صدقہ کی ابتدا اپنے زیر کفالت افراد سے کر ۔‘‘ بخاری ، مسلم نے صرف حکیم ؓ سے روایت کی ہے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1930
sahih
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذا أَنْفَقَ الْمُسْلِمُ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَت لَهُ صَدَقَة»
Urdu

ابومسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب مسلمان اللہ کی رضا اور حصول ثواب کی نیت سے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1931
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دِينَار أنفقته فِي سَبِيل الله ودينار أنفقته فِي رَقَبَةٍ وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أنفقته على أهلك» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ، ایک دینار جو تو نے گردن آزاد کرنے میں خرچ کیا ایک دینار وہ ہے جسے تو نے کسی مسکین پر خرچ کیا اور ایک دینار وہ ہے جسے تو نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا ، ان میں سے سب سے زیادہ باعث اجر وہ ہے جو تو نے اپنے اہل وعیال پر خرچ کیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔