Back to Mishkat Al-Masabih

Zakat

كتاب الزكاة

Chapter 6

Hadith 1932
sahih
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى أَصْحَابه فِي سَبِيل الله» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بہترین دینار وہ ہے جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے وہ اپنے جہادی گھوڑے پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے وہ اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1933
sahih
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِيَ أَجْرٌ أَنْ أَنْفِقَ عَلَى بَنِي أَبِي سَلَمَةَ؟ إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ فَقَالَ: «أَنَفِقِي عَلَيْهِمْ فَلَكِ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِم»
Urdu

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اگر میں ابوسلمہ کے بیٹوں پر خرچ کروں تو کیا مجھے اجر ملے گا جبکہ وہ میرے بھی بیٹے ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ان پر خرچ کرو ، تم ان پر جو خرچ کرو گی تو اس پر تمہیں اجر وثواب ملے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1934
sahih
وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ» قَالَتْ فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ فَإِنْ كَانَ ذَلِك يَجْزِي عني وَإِلَّا صرفتها إِلَى غَيْركُمْ قَالَت فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم حَاجَتي حَاجَتهَا قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قد ألقيت عَلَيْهِ المهابة. فَقَالَت فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا لَهُ ائْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأتَيْنِ بِالْبَابِ تسألانك أتجزئ الصَّدَقَة عَنْهُمَا على أَزْوَاجِهِمَا وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ. قَالَتْ فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هما» . فَقَالَ امْرَأَة من الْأَنْصَار وَزَيْنَب فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ الزَّيَانِبِ» . قَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَهما أَجْرَانِ أجر الْقَرَابَة وَأجر الصَّدَقَة» . وَاللَّفْظ لمُسلم
Urdu

عبداللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ زینب ؓ بیان کرتی ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ خواتین کی جماعت ! صدقہ کرو ، خواہ اپنے زیورات میں سے کرو ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں میں (اپنے شوہر) عبداللہ کے پاس واپس آئی تو میں نے کہا : آپ غریب آدمی ہیں ، جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ہے ، آپ ان کے پاس جا کر مسئلہ دریافت کریں ، اگر تو جائز ہو تو میں تم پر صدقہ کروں ورنہ پھر تمہارے علاوہ کسی اور پر کروں ؟ وہ بیان کرتی ہیں عبداللہ ؓ نے مجھے فرمایا : آپ خود ہی جائیں ، وہ بیان کرتی ہیں ، میں گئی تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے پر ایک انصاری خاتون کھڑی تھی اسے بھی میرے والا مسئلہ ہی درپیش تھا ، وہ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بڑی با رعب شخصیت تھے ، پس بلال ؓ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے انہیں کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ کہ دروازے پر دو عورتیں آپ سے مسئلہ دریافت کرتی ہیں کہ وہ اپنا صدقہ اپنے خاوندوں اور ان کے زیر پرورش یتیم بچوں کو دے سکتی ہیں ؟ لیکن انہیں ہمارے متعلق نہ بتانا کہ ہم کون ہیں ، زینب کہتی ہیں ، بلال ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے مسئلہ دریافت کیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا کہ وہ دونوں کون ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا ، ایک انصاری خاتون اور ایک زینب ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کون سی زینب ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، عبداللہ کی اہلیہ ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ان دونوں کے لیے دگنا اجر ہے ، قرابت داری کا اجر اور صدقے کا اجر ۔‘‘ بخاری ، مسلم ، الفاظ حدیث مسلم کے ہیں ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1935
sahih
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ: أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَوْ أَعْطَيْتِهَا أخوالك كَانَ أعظم لأجرك»
Urdu

میمونہ بنت حارث ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں ایک لونڈی آزاد کی ، انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا :’’ اگر تم اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتی تو تمہارے لیے زیادہ باعث اجر ہوتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1936
sahih
وَعَن عَائِشَة قَالَت: يَا رَسُول الله إِن لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي؟ قَالَ: «إِلَى أقربهما مِنْك بَابا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے دو پڑوسی ہیں ، میں ان میں سے کسے ہدیہ دوں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ان میں سے جس کا دروازہ تمہارے زیادہ قریب ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 1937
sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً فَأكْثر ماءها وتعاهد جيرانك» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم شوربہ بناؤ تو اس میں پانی زیادہ ڈالا کرو اور اپنے پڑوسی کا بھی خیال رکھا کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1938
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «جُهْدُ الْمُقِلِّ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ غریب آدمی کا محنت کی کمائی سے صدقہ کرنا ، اور اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کرنا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 1939
sahih
وَعَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ: صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ
Urdu

سلمان بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مسکین پر صدقہ کرنا صرف ایک صدقہ ہے ، جبکہ رشتہ دار پر دوھرا ہے ، صدقہ اور صلہ رحمی ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 1940
sahih
وَعَن أَي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: عِنْدِي دِينَار فَقَالَ: «أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ» قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: «أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ» قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: «أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ» قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: «أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ» . قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: «أَنْت أعلم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، میرے پاس ایک دینار ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے اپنی جان پر خرچ کر ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، میرے پاس ایک اور ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے اپنے اہل و عیال پر خرچ کر ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، میرے پاس ایک اور ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے اپنے خادم پر خرچ کر ۔‘‘ اس نے عرض کیا میرے پاس ایک اور بھی ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پھر تو بہتر جانتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 1941
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ؟ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَتْلُوهُ؟ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ فِيهَا. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ رَجُلٌ يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں بہترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامنے والا شخص ۔ کیا میں تمہیں اس کے قریب شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ آدمی جو اپنی کچھ بکریاں لے کر الگ تھلک رہتا ہے ، اور اس بارے میں اللہ کا حق ادا کرتا ہے ۔ کیا میں تمہیں بدترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ آدمی جس سے اللہ کے نام پر سوال کیا جائے اور وہ نہ دے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی و الدارمی ۔

Hadith 1942
sahih
وَعَن أم بحيد قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ مَعْنَاهُُُُُُُ
Urdu

ام بجید ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سوالی کو کچھ دے کر واپس کیا کرو خواہ کوئی جلی ہوئی کھری ہو ۔‘‘ مالک ، نسائی اورامام ترمذی اور امام ابوداؤد نے اس معنی میں روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔

Hadith 1943
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَعَاذَ مِنْكُمْ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ وَمَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تُرَوْا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص تم میں سے اللہ کے نام پر پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دو ، جو اللہ کے نام پر سوال کرے تو اسے عطا کرو جو شخص تمہیں دعوت دے تو اسے قبول کرو ، اور جس شخص نے تمہارے ساتھ کوئی نیکی کی ہو تو تم اسے بدلہ دو ، اگر تم بدلہ چکانے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اس کے لیے اس قدر دعا کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1944
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُسْأَلُ بِوَجْهِ اللَّهِ إِلَّا الْجنَّة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی ذات کا واسطہ دے کر جنت کے سوا کچھ نہ مانگا جائے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1945
sahih
عَن أنس بن مَالك قَالَ: كَانَ أَبُو طَلْحَة أَكثر أَنْصَارِي بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بيرحاء وَكَانَت مُسْتَقْبل الْمَسْجِدَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أنس فَلَمَّا نزلت (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ) قَامَ أَبُو طَلْحَة فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُول: (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ) وَإِنَّ أَحَبَّ مَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَاءُ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لله أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَخٍ بَخٍ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَإِنَّى أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ» . فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَّمَهَا أَبُو طَلْحَة فِي أَقَاربه وَفِي بني عَمه
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ابو طلحہ ؓ انصار مدینہ میں کھجوروں کے لحاظ سے سب سے زیادہ مال دار تھے ، اور انہیں اپنے اموال (باغات) میں بیر حاء نامی باغ سب سے زیادہ پسند تھا ، اور وہ مسجد کے بالمقابل تھا ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں تشریف لایا کرتے اور وہاں کا شیریں پانی نوش فرمایا کرتے تھے ، انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب یہ آیت نازل ہوئی :’’ تم نیکی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو ۔‘‘ تو ابوطلحہ ؓ نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :’’ تم نیکی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو ۔‘‘ بے شک بیرحاء باغ مجھے سب سے زیادہ پسند ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے لیے صدقہ ہے ، میں اس کے ثواب اور اس کے اللہ کے ہاں ذخیرہ ہونے کی امید رکھتا ہوں ، اللہ کے رسول ! اللہ کے حکم کے مطابق آپ جیسے اور جہاں چاہیں اسے استعمال کریں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بہت خوب ! یہ تو بہت نفع بخش مال ہے ، اور تم نے جو کہا میں نے اسے سن لیا اور میں تو یہی چاہتا ہوں کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دو ۔‘‘ ابوطلحہ ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں ایسے ہی کروں گا ، ابوطلحہ ؓ نے اسے اپنے رشتے داروں اور اپنے چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 1946
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَنْ تُشْبِعَ كَبِدًا جَائِعًا» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بہترین صدقہ یہ ہے کہ تو کسی بھوکے پیٹ کو سیر کر دے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1947
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِذْ أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا كَسَبَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بعض شَيْئا»
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب بیوی اسراف کیے بغیر اپنے گھر کے کھانے سے صدقہ کرے تو اسے خرچ کرنے کی وجہ سے ، اس کے شوہر کو کمانے کی وجہ سے اجر ملے گا اور خازن کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا اور کوئی کسی کے اجر میں کمی نہیں کرے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1948
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَلَهَا نِصْفُ أَجْرِهِ»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب عورت اپنے خاوند کی کمائی سے ، اس کی اجازت کے بغیر خرچ کرتی ہے تو اس کے لیے اس کے اجر سے نصف ملتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1949
sahih
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَازِنُ الْمُسْلِمُ الْأَمِينُ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ فَيَدْفَعُهُ إِلَى الَّذِي أَمر لَهُ بِهِ أحد المتصدقين»
Urdu

ابوموسی اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مسلمان امین خازن جو حکم کے مطابق خوش دلی سے ، جسے دینے کو کہا جائے ، مکمل طور پر پورا دیتا ہے تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں شمار ہوتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1950
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسَهَا وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقت عَنْهَا؟ قَالَ: نعم
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا کہ میری والدہ اچانک فوت ہو گئیں ، اور میرا ان کے بارے میں خیال ہے کہ اگر وہ بات کرتیں تو صدقہ کرتیں ، تو اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو انہیں اجر ملے گا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1951
sahih
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حُجَّةِ الْوَدَاعِ: «لَا تُنْفِقُ امْرَأَةٌ شَيْئًا مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا» . قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الطَّعَامَ؟ قَالَ: «ذَلِكَ أفضل أَمْوَالنَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرماتے ہوئے سنا :’’ کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے کوئی چیز خرچ نہ کرے ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! کھانا بھی نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ تو ہمارا بہترین مال ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔