ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص فاقے میں مبتلا ہو جائے اور وہ اسے لوگوں پر پیش کرے تو اس کا فاقہ دور نہیں ہو گا ، اور جو شخص اس کے متعلق اللہ سے عرض کرے تو قریب ہے کہ اللہ جلد موت دے کر یا بدیر دولت مندی دے کر اسے غنی عطا فرما دے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
ابن فراسی اپنے باپ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں سوال کر لیا کروں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، اگر تم نے ضرور ہی مانگنا ہو تو پھر صالح لوگوں سے سوال کیا کر ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن ساعدی ؒ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے مجھے صدقات وصول کرنے پر مامور فرمایا ، جب میں اس (کام) سے فارغ ہوا ، اور وہ ان کے سپرد کر دیے تو انہوں نے تنخواہ لینے کے لیے مجھے حکم فرمایا ، تو میں نے عرض کیا ، میں نے تو محض اللہ کی خاطر یہ کام کیا تھا اور میرا اجر اللہ کے ذمے ہے ، انہوں نے فرمایا ، جو دیا جائے اسے قبول کر ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں یہ کام کیا تھا تو آپ نے بھی مجھے تنخواہ پیش کی تو میں نے بھی تمہاری طرح ہی عرض کیا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا تھا :’’ جب بن مانگے کوئی چیز تمہیں دی جائے تو اسے کھاؤ اور صدقہ کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرفہ کے روز ایک آدمی کو لوگوں سے سوال کرتے ہوئے سنا تو انہوں نے فرمایا : کیا تم اس روز اس جگہ اللہ کو چھوڑ کر کسی اور سے مانگ رہے ہو ، انہوں نے دُرّے کے ساتھ اس کی پٹائی کی ۔ لا اصل لہ ، رواہ رزین (لم اجدہ) ۔
عمر ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : لوگو ! تم جان لو کہ طمع فقر ہے ، جبکہ (لوگوں سے) نا امیدی غنی ہے ، کیونکہ جب آدمی کسی چیز سے نا امید ہو جاتا ہے تو وہ اس سے بے نیاز ہو جاتا ہے ۔ لا اصل لہ ، رواہ رزین (لم اجدہ) ۔
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص مجھے ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کوئی چیز نہیں مانگے گا تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ‘‘ ثوبان ؓ نے عرض کیا ، میں (ضمانت دیتا ہوں) اور آپ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا جبکہ آپ مجھ سے شرط قائم کر رہےتھے کہ تم نے لوگوں سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرنا ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تمہارا کوڑا گر جائے تو اس کا سوال بھی نہیں کرنا حتیٰ کہ تم نیچے اتر کر خود اسے پکڑو ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر احد پہاڑ جتنا سونا میرے پاس ہو تو مجھے خوشی ہو گی کہ تین دن کے بعد اس میں سے کچھ بھی میرے پاس باقی نہ بچے بجز اس کے جسے میں قرض کی ادائیگی کے لیے رکھ لوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر روز صبح کے وقت دو فرشتے آسمان سے نازل ہوتے ہیں تو ان میں سے ایک کہتا ہے : اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو بدل عطا فرما جبکہ دوسرا کہتا ہے : اے اللہ ! بخیل کو تباہی سے دوچار کر ۔‘‘ متفق علیہ ۔
اسماء ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ خرچ کر لیکن شمار نہ کر ورنہ اللہ تجھے بھی گن گن کر دے گا ، (مال کو) روک کر نہ رکھ ورنہ اللہ تجھ سے روک لے گا اور جتنا ہو سکے عطا کرتی رہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ابن آدم ! خرچ کر ، میں تجھ پر خرچ کروں گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ابن آدم ! اگر تو زائد از ضروریات خرچ کر دے تو وہ تیرے لیے بہتر ہے ، اور اگر تو اسے روک رکھے تو وہ تیرے لیے برا ہے ، لیکن ضرورت کے مطابق رکھ لینے پر تجھ پر کوئی ملامت نہیں ، اور اپنے زیر کفالت افراد پر پہلے خرچ کر ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی مثال ہے جن پر لوہے کی زرہیں ہیں ، اور ان کے ہاتھ ان کے سینے اور ہنسلی تک بندھے ہوئے ہیں ، جب صدقہ کرنے والا صدقہ کرتا ہے تو وہ زرہ کشادہ ہوتی چلی جاتی ہے ، اور جب بخیل صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ تنگ ہو جاتی ہے اور ہر کڑی اپنی جگہ پر آ جاتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ظلم سے بچو ، کیونکہ ظلم روز قیامت اندھیروں کا باعث ہو گا ، اور مزید کی حرص (بخل) سے بچو کیونکہ اس نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا ، اور باہم قتل و غارت کرنے اور محارم کو حلال کرنے پر انہیں آمادہ کیا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
حارثہ بن وہب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ صدقہ کیا کرو کیونکہ تم پر ایسا وقت بھی آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لیے پھرے گا لیکن وہ ایسا شخص نہیں پائے گا جو اسے قبول کر لے ، آدمی (جس کے پاس وہ جائے گا) کہے گا : اگر تم کل اسے لے آتے تو میں اسے قبول کر لیتا جبکہ آج مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اجر و ثواب کے لحاظ سے کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ صدقہ جو تو تندرستی میں کرے جبکہ مال کی حرص تم پر غالب ہو ، اور تجھے فقر کا اندیشہ بھی ہو اور تونگری کا طمع بھی ، اور (صدقہ کرنے میں) دیر نہ کر حتیٰ کہ جب سانس حلق تک پہنچ جائے اور تو کہے : اتنا مال فلاں کے لیے اور اتنا فلاں کے لیے جبکہ وہ تو (ازخود) فلاں کا ہو چکا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ کعبہ کے سائے تلے تشریف فرما تھے ، جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا :’’ رب کعبہ کی قسم ! وہ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، وہ کون ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ زیادہ مال والے ، لیکن وہ لوگ جنہوں نے کہا : اس طرف بھی ، اس طرف بھی اور اس طرف بھی ، اپنے آگے ، اپنے پیچھے اور اپنے دائیں ، اپنے بائیں ، جبکہ ایسے لوگ کم ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سخی شخص اللہ کے قریب ہے ، جنت کے قریب اور لوگوں کے قریب ہے اور جہنم سے بعید ہے ، جبکہ بخیل شخص اللہ سے دور ، جنت سے بعید ، لوگوں سے بعید اور جہنم کے قریب ہے ، اور جاہل سخی اللہ کو عابد بخیل سے زیادہ پسند ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں ایک درہم صدقہ کرتا ہے تو یہ اس کے لیے قریب المرگ سو درہم صدقہ کرنے سے بہتر ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ شخص جو اپنی موت کے قریب صدقہ کرتا ہے یا غلام آزاد کرتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو شکم سیر ہونے کے بعد ہدیہ کرے ۔‘‘ احمد ، نسائی ، دارمی ، اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و النسائی و الدارمی ۔