ربیعہ بن ابی عبدالرحمن ؒ بہت سے صحابہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال بن حارث المزنی ؓ کو قبلیہ کی کانیں عطا فرمائیں اور یہ فرع کی طرف ہیں ، اور ان سے آج تک صرف زکوۃ ہی وصول کی جاتی ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سبزیوں ، عطیہ کردہ پھل دار درختوں ، پانچ وسق سے کم اناج ، استعمال میں آنے والے مویشیوں اور ’’ جبھہ ‘‘ پر زکوۃ نہیں ۔‘‘ صقر راوی نے بتایا :’’ جبھہ ‘‘ سے گھوڑے ، خچر اور غلام مراد ہیں ۔ ضعیف ۔
طاؤس ؒ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل ؓ کے پاس نصاب سے کم گائیں لائی گئیں تو انہوں نے فرمایا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں مجھے کچھ نہیں فرمایا ۔ دارقطنی ، شافعی ، اور انہوں نے فرمایا :’’ وقص ‘‘ سے مراد وہ تعداد ہے جو نصاب تک نہ پہنچے ۔ ضعیف ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کے ہر غلام و آزاد ، مرد و عورت اور چھوٹے بڑے پر ، ایک صاع کھجور یا ایک صاع (تقریباً اڑھائی کلو ) جو صدقہ فطر فرض فرمایا ، اور اس کے متعلق حکم فرمایا کہ اسے نماز عید کے لیے روانہ ہونے سے پہلے ادا کر دیا جائے ۔ متفق علیہ ۔
Hadith 1816
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَو صَاعا من شعير أَو صَاعا من تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مَنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا من زبيب
Urdu
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک صاع اناج ، یا ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع کشمش صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ نے رمضان کے آخر میں فرمایا : اپنے روزوں کا صدقہ نکالو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صدقہ کو ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا نصف صاع گندم پر ، آزاد یا غلام ، ہر مرد و عورت اورہر چھوٹے بڑے پر فرض فرمایا ۔ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ فطر ، روزوں کو لغو ، فحش باتوں سے طہارت اور مساکین کے لیے کھانے کے طور پر فرض فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک منادی کرنے والے کو مکہ کے بازاروں میں بھیجا کہ وہ اعلان کرے :’’ سن لو ! صدقہ فطر دو مد (تقریباً سوا کلو ) گندم یا ایک صاع دوسرا اناج ہر مسلمان مرد و زن ، آزاد و غلام اور چھوٹے بڑے پر واجب ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
عبداللہ بن ثعلبہ یا ثعلبہ بن عبداللہ بن ابی صعیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک صاع گندم ہر دو پر واجب ہے ، چھوٹا ہو یا بڑا ، آزاد ہو یا غلام ، مرد ہو یا عورت ، رہا تمہارا مال دار شخص تو اللہ اس کا تزکیہ فرما دے گا اور رہا تمہارا محتاج شخص تو اس کو دیے ہوئے سے زیادہ دیا جائے گا ۔‘‘ ضعیف ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستے میں پڑی ہوئی ایک کھجور دیکھی تو فرمایا :’’ اگر مجھے اس کے صدقہ کے ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اسے کھا لیتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، حسن بن علی ؓ نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لی اور اسے منہ میں ڈال لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ٹھہرو ، ٹھہرو ۔‘‘ تاکہ وہ اسے پھینک دیں ، پھر فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبدالمطلب بن ربیعہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ صدقات تو لوگوں (کے مال کا) میل کچیل ہے ، اور یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آل محمد کے لیے حلال نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کوئی کھانے کی چیز پیش کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے :’’ کیا یہ ہدیہ ہے یا صدقہ ؟‘‘ اگر بتایا جاتا کہ صدقہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ سے فرماتے :’’ تم کھاؤ ۔‘‘ اور آپ خود نہ کھاتے ، اور اگر بتایا جاتا کہ ہدیہ ہے تو آپ اپنا ہاتھ بڑھاتے اور ان کے ساتھ کھاتے ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، بریرہ ؓ کی وجہ سے تین احکام شریعت کا پتہ چلا ، انہیں آزاد کیا گیا تو انہیں اپنے خاوند کے متعلق اختیار دیا گیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ولاء (حق وراثت) آزاد کرنے والے کو ملے گا ۔‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لائے تو ہنڈیا میں گوشت ابل رہا تھا ، پس روٹی اور گھر کا سالن آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں نے ہنڈیا میں گوشت نہیں دیکھا ؟ اہل خانہ نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، ضرور دیکھا ہے ، لیکن وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں دیا گیا ہے جبکہ آپ صدقہ تناول نہیں فرماتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ اس کے لیے صدقہ ہے جبکہ ہمارے لیے ہدیہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر مجھے دستی کے گوشت کی دعوت دی جائے تو میں ضرور قبول کروں گا اور اگر مجھے دستی کا گوشت بطور ہدیہ پیش کیا جائے تو میں قبول کروں گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مسکین وہ نہیں جو ایک یا دو لقموں یا ایک دو کھجوروں کی خاطر لوگوں سے سوال کرتا پھرے ، لیکن مسکین وہ ہے جو اس قدر خوشحال نہیں کہ وہ اسے بے نیاز کر دے اور اس کے متعلق پتہ بھی نہ چلے کہ اس پر صدقہ کیا جا سکے اور وہ لوگوں سے مانگے بھی نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابورافع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مخزوم قبیلے کے ایک شخص کو صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا تو اس نے ابورافع سے کہا ، آپ میرے ساتھ چلیں تاکہ آپ بھی اس میں سے حاصل کریں ، تو انہوں نے کہا : نہیں ، حتیٰ کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے دریافت کر لوں ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ، کیونکہ قوم کے آزاد کردہ غلام بھی انہی (قوم) کے زمرے میں آتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کسی مال دار شخص اور طاقت ور صحیح الخلقت شخص کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔