Al-Bara' bin 'Azib رضی اللہ عنہ reported:
I noticed the prayer of Muhammad ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and saw his Qiyam (standing), his bowing, and then going back to the standing posture after bowing, his prostration, his sitting between the two prostrations, and his prostration and sitting between salutation and going away, all these were nearly equal to one another.
ہم سے حمید بن عمر البکراوی اور ابو کامل فضیل بن حسین الجہداری نے بیان کیا، ان دونوں نے ابو عوانہ کی سند سے کہا: ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا,ہلال بن ابی حمید نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
میں نے محمدﷺ کی معیت میں ( پڑھی جانے والی ) نماز کو غور سے دیکھا تو میں نے آپ کے قیام ، رکوع ، رکوع کے بعد اعتدال اور آپ کے سجدے ، دونوں سجدوں کے درمیان جلسے ( بیٹھنا ) اور آپ کے دوسرے سجدے اور اس کے بعد سلام اور رخ پھیرنے کے درمیان وقفے کو تقریبا برابر پایا ۔
Hakam reported:
There dominated in Kufa a man whose name was men- tioned as Zaman b. al-Ash'ath, who ordered Abu 'Ubaidah b. 'Abdullah to lead people in prayer and he accordingly used to lead them. Whenever he raised his head after bowing, he stood up equal to the time that I can recite (this supplication): O Allah! our Lord! unto Thee be the praise which would fill the heavens and the earth, and that which will please Thee besides them I Worthy art Thou of all praise and glory. None can prevent that which Thou bestowest, and none can bestow that whichthou preventest. And the greatness of the great will not avail him against Thee. Hakam (the narrator) said: I made a mention of that to Abd al-Rahman ibn Abi Laila who reported: I heard al-Bara' b. 'Azib say that the prayer of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and his bowing, and when he lifted his head from bowing, and his prostration, and between the two prostrations (all these acts) were nearly proportionate. I made a mention of that to 'Ar b. Murrah and he said: I saw Ibn Abi Laili (saying the prayer), but his prayer was not like this.
عبید اللہ کے والجد معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا کہ
ابن اشعث کے زمانے میں ایک شخص ( حکم نے اس کا نام لیا ) کوفہ ( کے اقتدار ) پر قابض ہو گیا ، اس نے ابو عبیدہ بن عبد اللہ ( بن مسعود ) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، وہ نماز پڑھاتے تھے ، جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے ہوتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیتا : ’’ اے اللہ! ہمارب ! حمد تیرے ہی لیے ہے جس سے آسمان و زمین بھر جائیں اور کے سوا جو چیز تو چاہے بھر جائے ۔ اے عظمت وثنا کے سزا وار! جو تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی بھی دینے والا نہیں اور نہ ہی کسی مرتبے والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے ۔ ‘ ‘ ( صرف تیری رحمت ہے جو فائدہ دے سکتی ہے ۔ ) حکم نے کہا : میں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا : میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہﷺ کی نماز ( قیام ) ، آپ کا رکوع اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے ، آپ کے سجدے اور دونوں سجدوں کے درمیان ( والا بیٹھنے ) کا وقفہ تقریباً برابر تھے ۔ شعبہ نے کہا : میں نے اس کا ذکر عمرو بن مرہ سے کیا تو انہوں نے کہا : میں نے عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ کو دیکھا ہے ، ان کی نماز اس طرح نہیں ہوتی تھی ۔ ( وہ ثقہ تھے ۔ ان کی روایت قابل اعتماد ہے چاہے وہ اس پر پوری طرح عمل نہ کر سکتے ہوں
Hakam reported:
When Matar bin Najiya dominated Kufa he ordered Abu Ubaida to lead people in prayer, and the rest of the hadith is the same.
ہم سے محمد بن المثنی اور ابن بشار نے بیان کیا، کہامحمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی کہ
جب مطر بن ناجیہ کوفہ پر قابض ہو گیا تو اس نے ابو عبیدہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ... اور ( پوری ) حدیث بیان کی ۔
Thabit reported it on the authority of Anas رضی اللہ عنہ :
While leading you in prayer I do not shorten anything in the prayer. I pray as I saw the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) leading us. He (Thabit) said: Anas used to do that which I do not see you doing; when he lifted his head from bowing he stood up (so long) that one would say: He has forgotten (to baw down in prostration). And when he lifted his head from prostration, he stayed in that position, till someone would say: He has forgotten (to bow down in prostration for the second sajda).
خلف بن ہشام نے حماد بن زید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ثابت سے اور انہوں نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا
میں تمہیں ایسی نماز پڑھانے میں کوتاہی نہیں کرتا ، جیسی میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ( کہ وہ ) ہمیں پڑھاتے تھے ۔ ثابت نے کہا : انس رضی اللہ عنہ ایک ایسا کام کیا کرتے تھے جو میں تمہیں کرتے ہوئے نہیں دیکھتا ۔ جب وہ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا کہ وہ بھول گئے ہیں اور جب وہ سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو ٹھہرے رہتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا : وہ بھول گئے ہیں ۔
Thabit reported it on the authority of Anas رضی اللہ عنہ :
I have never said such a light and perfect prayer as I said behind the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). The prayer of the Messenger. of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was well balanced. And so too was the prayer of Abu Bakr رضی اللہ عنہ well balanced. When it was the time of 'Umar bin al-Khattab he prolonged the morning prayer. When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Allah listened to him who praised Him, he stood erect till we said: He has forgotten. He then prostrated and sat between two prostration till we said: He has forgotten.
ابوبکر بن نافع العبدی نے مجھ سے کہا,بہز بن حماد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا
میں نے کسی کے پیچھے نبی اکرمﷺ سے زیادہ ہلکی نماز نہیں پڑھی جو کامل ہو ۔ رسول اللہﷺ کی نماز ( میں ارکان کی طوالت ) قریب قریب تھی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نماز بھی قریب قریب ہوتی تھی ۔ جب عمر رضی اللہ عنہ ( امیر مقرر ) ہوئے تو انہوں نے نماز فجر ( میں قراءت ) لمبی کر دی ۔ اور رسول اللہﷺ جب سمع الله لمن حمده کہتے تو کھڑے رہتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ ( شاید سر اٹھانا ) بھول گئے ہیں ، پھر سجدہ کرتے اور دو سجدوں کے درمیان بیٹھے رہتے حتیٰ کہ ہم سمجھتے ( کہ شاید ) آپ بھول گئے ہیں ۔
Al-Bara' (bin 'Azib) رضی اللہ عنہ , and he was no liar (but a truthful Companion of the Holy Prophet), reported:
They used to say prayer behind the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). I never saw anyone bending his back at the time when he (the Holy Prophet) raised his head, till the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) placed his forehead on the ground. They then fell in prostration after him.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، ابو خیثمہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ابو اسحاق سے اور انہوں نے عبد اللہ بن یزید سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت براء رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے کہ
وہ لوگ ( صحابہ کرام ) رسول اللہﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے ۔ جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھا لیتے تو میں کسی کو نہ دیکھتا کہ وہ اپنی پشت جھکاتا ہو یہاں تک کہ رسول اللہﷺ اپنی پیشانی زمین پر رکھ دیتے ، اس کے بعد آپ کے پیچھے والے سجدے میں گرتے ۔
Al-Bara' رضی اللہ عنہ reported, and he was no liar:
When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Allah listened to him who praised Him, none of us bent his back till he (the Holy Prophet) prostrated; we then, afterwards, went down in prostration.
مجھ سے ابوبکر بن خلاد الباہلی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، یعنی ابن سعید نے,سفیان نے ابو اسحاق سے ، انہوں نے عبد اللہ بن یزید سے اور انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی اور وہ جھوٹ بولنے والے نہ تھے ، انہوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ جب سمع الله لمن حمدہ کہتے تو ہم میں سے کوئی ایک بھی اس وقت تک اپنی پشت نہ جھکاتا جب تک رسول اللہﷺ سجدے میں نہ چلے جاتے ، پھر ہم آپ کے بعد سجدے میں جاتے.
Al-Bara' رضی اللہ عنہ reported:
They (the Companions) said prayer with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and they bowed when he (the Holy Prophet ﷺ) bowed. and when he raised his head after bowing, he pronounced: Allah listened to him who praised Him, and we kept standing till we saw him placing his face on the ground and then we followed him.
ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن سہم الانطَاکی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن محمد ابو اسحاق الفزاری نے ابواسحاق الشیبانی کی سند سے بیان کیا,محارب بن دثار نے کہا کہ میں نے عبد اللہ بن یزید کو منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : براء رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا کہ
وہ لوگ ( صحابہ کرام ) رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ، جب آپ رکوع میں چلے جاتے تو وہ رکوع کرتے اور جب آپ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو آپ سمع الله لمن حمده کہتے ، ہم کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہم آپ کو دیکھتے کہ آپ نے اپنا چہرہ مبارک زمین پر رکھ دیا ہے ، پھر ہم آپ کی پیروی کرتے ( سجدے میں جاتے ۔ )
Al-Bara' رضی اللہ عنہ reported:
When we were (in prayer) with the Messenger of Allah Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) none of us benfft his back till we saw he prostrated. Zuhair and others reported: till we saw him prostrating .
زہیر بن حرب اور ابن نمیر نے کہا : ہم سے سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابان وغیرہ نے حکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
ہم ( نماز میں ) نبی اکرمﷺ کے ساتھ ہوتے ، ہم میں سے کوئی ایک بھی اپنی پشت نہ جھکاتا یہاں تک کہ ہم آپ کو دیکھ لیتے کہ آپ سجدے میں جا چکے ہیں ۔
Amr bin Huraith رضی اللہ عنہ reported:
I said the dawn prayer behind the Apostle of ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and heard him reciting: 'Nay. I call to witness the stars, running their courses and setting (al-Qur'an, lxxxi. 15-16) and Done of us bent his back till he completed prostration.
ہم سے مہریز بن عون بن ابی عون نے بیان کیا، کہا ہم سے خلف بن خلیفہ اشجعی ابو احمد نے بیان کیا، وہ ولید بن ساری کی سند سے,حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
میں نے نبی اکرمﷺ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی تو میں نے آپ کو ﴿فلا أقسم بالخنس0 الجوار الكنس﴾ ’’میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے ، سیدھے چلنے ، دبک جانے والے ( ستاروں ) کی ‘ ‘ پڑھتے ہوئے سنا اور ہم میں سے کوئی آدمی اپنی پشت نہیں جھکاتا تھا حتیٰ کہ آپ پوری طرح سجدے میں چلے جاتے تھے ۔
('Abdullah bin ) Ibn Abi Aufa reported:
When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) raised his back from the rukd' he pronounced: Allah listened to him who praised Him. O Allah! our Lord! unto Thee be praise that would fill the heavens and the earth and fill that which will please Thee besides them.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ اور وکیع نے بیان کیا,اعمش نے عبید بن حسن سے اور انہوں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہﷺجب رکوع سے اپنی پشت اٹھاتے تو کہتے ، ’’ اللہ نے سن لی جس نے اس کی حمد کی ، اے اللہ ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف وتوصیف ہے آسمان بھر ، زمین بھر اور ان کے سوا جو تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ ‘ ‘
Abdullah bin Aufa reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to recite this supplication: O Allah! our Lord, unto Thee be praise that would fill the heavens and the earth and fill that which will please Thee besides them.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا،شعبہ نے عبیدبن حسن سے انہوں نے عبد اللہ بن اوفیٰ سے روایت ےکی ہے انہوں نے کہا
رسو ل اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کیا کرتے تھے’’اے اللہ ہمارے رب تیر ی ہی تعریف ہےآسمان اور زمین تک اور اس علاوہ جہاں تک تو چاہے اس چیز کی وسعت تک ۔
Abdullah bin Abu Aufa رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to recite (this supplication): O Allah! our Lord, unto Thee be praise that would fill the heavens and the earth and fill that which will please Thee besides (them). O Allah! purify me with snow, (water of) hail and with cold water; O Allah. cleanse me from the sins and errors just as a white garment is cleansed from dirt.
مجھ سے محمد بن المثنی اور ابن بشار نے بیان کیا, محمد بن جعفر نے شعبہ سے ، انہوں نے مجزاہ بن زاہر سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ نبی اکرمﷺ سے بیان کر رہے تھے کہ
آپ فرمایا کرتے تھے : ’’اے اللہ! تیرے لیے ہے حمد آسمان بھر ، زمین بھر اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ اے اللہ! مجھے پاک کر دے برف کے ساتھ ، اولوں کے ساتھ اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ ۔ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے ۔ ‘ ‘
This hadith with the same chain of transmitters has been narrated by Shu'ba, and in the narration of Mu'adh the words are: just as the white garment is cleansed from filth, and in the narration of Yazid: from dirt .
عبید اللہ کے والد معاذ عنبری اور یزید بن ہارون دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔ معاذ کی روایت میں ( من الوسخ کے بجائے ) من الدرن اور یزید کی روایت میں من الدنس کے الفاظ ہیں ( تینوں لفظوں کے معنیٰ ایک ہی ہیں ۔ )
Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) raised his head after bowing, he said: O Allah! our Lord, to Thee be the praise that would fill all the heavens and the earth, and all that it pleases Thee besides (them). O, thou art worthy of praise and glory, most worthy of what a servant says, and we all are Thy servants, no one can withhold what Thou givest or give what Thou with holdest, and riches cannot avail a wealthy person against Thee.
ہم سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن محمد الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن عبدالعزیز نے، عطیہ بن قیس کی سند سے، قزعة، کے بارے میں,حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے : ’’اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف ہے آسمان بھر ، زمین بھر اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ ثنا اورعظمت کے حق دار! ( یہی ) صحیح ترین بات ہے جو بندہ کہہ سکتا ہے اور ہم سب تیری ہی بندے ہیں ۔ اے اللہ! جو کچھ تو عنایت فرمانا چاہے ، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سےتو محروم کر دے ، وہ کوئی دے نہیں سکتا اور نہ ہی کسی مرتبہ والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے ۔ ‘ ‘
Ibn Abbas رضی اللہ عنہ reported:
When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) raised his head after bowing, he said: Allah! our Lord, to Thee be the praise that would fill the heavens and the earth and that which is between them, and that which will please Thee besides (them). Worthy art Thou of all praise and glory. No one can withhold what Thou givest, or give what Thou withholdest. And the greatness O! the great availeth not against Thee.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا,ہشیم نے بشیر نے بیان کیا : ہمیں ہشام بن حسان نے قیس بن سعد سے خبر دی ، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی اکرمﷺ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے : ’’اے اللہ ، اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے آسمان اور زمین بھر اور ان دونوں کے درمیان کی وسعت بھر اور ان کی بعد جو تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ اے تعریف اور بزرگی کے سزاوار! جو توعنایت فرمائے اسے کوئی چھین نہیں سکتا اور جس سے تو محروم کر دے وہ کوئی دے نہیں سکتا اور نہ کسی مرتبے والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے ۔ ‘ ‘
Ibn Abbas رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) the words: And that would fill that which will please Thee besides (them)! and he did not mention the subsequent (portion of supplication).
ابن نمیر نے ہم سے کہا,حفص نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشام بن حسان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی
انہوں نے نبیﷺ سے ان الفاظ تک روایت کی : ’’اور ان کے بعد جو تو چاہے اس کی وعست بھر ۔ ‘ انہوں ( حفص ) نے آگے کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) drew aside the curtain (of his apartment) and (he saw) people in rows (saying prayer) behind Aba Bakr رضی اللہ عنہ . And he said: Nothing remains of the glad tidings of apostlehood, except good visions which a Muslim sees or someone is made to see for him. And see that I have been forbidden to recite the Qur'an in the state of bowing and prostration. So far as Ruk'u is concerned, extol in it the Great and Glorious Lord, and while prostrating yourselves be earnest in supplication, for it is fitting that your supplications should be answered.
سعید بن منصور ، ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی کہ مجھے سلیمان بن سحیم نے خبر دی ، انہوں نے ابراہیم بن عبد اللہ بن معبد سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا
رسول اللہﷺ نے ( دروازے کا ) پردہ اٹھایا ( اس وقت ) لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے ۔ آپ نے فرمایا : ’’لوگو! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو مسلمان خود دیکھے گا یا اس کے لیے کسی دوسرے کو ) دکھایا جائے گا ۔ خبردار رہو! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ، جہاں تک رکوع کا تعلق ہے اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت وکبریائی بیان کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے اس میں خوب دعا کرو ، ( یہ دع اس ) لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کر لی جائے ۔ ‘ ‘ امام مسلم کے اساتذہ میں سے ایک استاد ابو بکر بن ابی شیبہ نے حدیث یبان کرتے ہوئے ( ’’مجھے سلیمان نے خبر دی ‘ ‘ کے بجائے ) سلیمان سے روایت ہے ، کہا ۔ ‘ ‘
Abdullah bin 'Abbas رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) drew aside the curtain and his head was bandaged on account of illness in which he died. He said: O Allah, have I not delivered (Thy Message)? (He repeated it) three times. Nothing has been left out of the glad tidings of apostlebood, but good vision. which a pious servant (of Allah) sees or someone else is made to see for him. He then narrated like the hadith transmitted by Sufyan.
ابوبکر نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، سلیمان سے، ہم سے یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا, اسماعیل بن جعفر نے سلیمان سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہﷺ نے پردہ اٹھایا ، اس مرض کے عالم میں جس میں آپ کا انتقال ہوا ، آپ کا سر پٹی سے بندھا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ’’اے اللہ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ ‘ ‘ تین بار ( یہ الفاظ کہے ، پھر فرمایا : ) ’’نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو کوئی نیک انسان خود دیکھے گا یا اس کے لیے ( دوسرے کو ) دکھائے جائیں گے ... ‘ ‘ اس کے بعد اسماعیل نے سفیان کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade me to recite (the Qur'an) in a state of bowing and prostration.
مجھ سے ابو الطاہر اور حرملہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن وہب نے یونس کی سند سے بیان کیا,ابن شہاب زہری نے کہا : مجھے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین نے حدیث سنائی کہ ان کے والد نے ان سے بیان کیا ، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ
مجھے رسول اللہﷺ نے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ۔