Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade to recite the Qur'an, while I am in the state of bowing and prostration.
ہم سے ابو کریب محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا,ولید بن کثیر سے روایت ہے کہ مجھے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین نے اپنے والد سے بیان کیا ، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے
مجھے رسول اللہﷺ نے ، جب میں رکوع یا سجدے میں ہوں ، قرآن پڑھنے سے روکا ۔
Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade me from the recitation (of the Qur'an) in bowing and prostration and I do not say that he forbade you.
مجھ سے ابوبکر بن اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا,زید بن اسلم نے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
مجھے رسول اللہﷺ نے رکوع اور سجدے میں ( قرآن کی ) قراءت کرنے سے منع کیا ۔ میں ( یہ ) نہیں کہتا : تمہیں منع کیا ۔ ( حضرت علی نے اپنے حوالےا سے جو سنا وہی بتایا ۔ پچھلی احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ حکم سب کے لیے ہے ۔ )
Ali رضی اللہ عنہ reported:
My loved one (the Holy Prophet) forbade me that I should recite (the Qur'an) in a state of bowing and prostration.
ہم سے زہیر بن حرب اور اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عامر عقدی نے بیان کیا،داؤد بن قیس نے کہا : مجھے ابراہیم بن عبد اللہ بن حنین نے اپنے والد ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ
میرے حبیبﷺ نے مجھے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ میں رکوع یا سجدے میں قرآن پڑھوں ۔
This hadith has been narrated by some other narrators, Ibn 'Abbas and others, and they all reported that 'Ali رضی اللہ عنہ said:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade me to recite the Qur'an while I am in a state of bowing and prostration, and in their narration (there is a mention of) forbiddance from that (recital) in the state of prostration as it has been transmitted by Zuhri, Zaid bin Aslam, al-Wahid bin Kathir, and Dawud bin Qais.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے نافع کی سند سے مالک کو پڑھا، اور مجھ سے عیسیٰ بن حماد المصری نے بیان کیا، انہیں لیث نے خبر دی, یزید بن ابی حبیب ، ضحاک بن عثمان ، ابن عجلان ، اسامہ بن زید ، محمد بن عمرو اور محمد بن اسحاق سب نے مختلف سندوں سے ابراہیم بن عبد اللہ حنین سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کی ، البتہ ان میں ضحاک اور ابن عجلان نے اضافہ کرتے ہوئے کہا ,حضرت ابن عباس سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت علی سے ، انہوں نے رسول اللہﷺ سے روایت کی کہ
آپ نے مجھے رکوع کی حالت میں قرآن کی قراءت سے روکا اور ان میں سے کسی نے اپنی روایت میں ( ابراہیم کے پچھلی روایتوں : 1076 ۔ 1079 میں مذکورہ شاگردوں ) زہری ، زید بن اسلم ، ولید بن کثیر اور داؤد بن قیس کی روایات کی طرح سجدے میں قراءت کرنے سے روکنے کا ذکر نہیں کیا.
This hadith is transmitted on the authority of 'Ali رضی اللہ عنہ , but he made no mention of while in prostration .
ہم سے قتیبہ نے حاتم بن اسماعیل کی سند سے، جعفر بن محمد سے، محمد بن المنکدر کی سند سے بیان کیا, عبد اللہ بن حنین کے ایک اور شاگرد محمد بن مکندر نے یہی حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی لیکن سجدے میں قراءت کا ذکر نہیں کیا ۔
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ reported:
I was forbidden to recite (the Qur'an) while I was bowing, and there is no mention of 'Ali رضی اللہ عنہ in the chain of transmitters.
مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابوبکر بن حفص رضی اللہ عنہ سے,عبد اللہ بن حنین نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا
مجھے رکوع کی حالت میں قراءت سے منع کیا گیا ہے ۔ اس سند میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The nearest a servant comes to his Lord is when he is prostrating himself, so make supplication (in this state).
ہم سے ہارون بن معروف اور عمرو بن سواد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے عمرو بن حارث کی سند سے، انہوں نے عمارہ بن غازیہ کی سند سے، وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خادم کا نام لیا گیا۔ کیونکہ اس نے ابو صالح کو سنا, ذکوان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے ، لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to say while prostrating himself: O Lord, forgive me all my sins, small and great, first and last, open and secret.
مجھ سے ابو الطاہر اور یونس بن عبد العلا نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، عمارہ بن غازیہ سے، سمیہ رضی اللہ عنہ سے جو ابوبکر کے موکل تھے,ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ سجدے میں کہا کرتے تھے : ’’ اللہ! میرے سارے گناہ بخش دے ، چھوٹے بھی اور بڑے بھی ، پہلے بھی اور پچھلے بھی ، کھلے بھی اور چھپے بھی ۔ ‘ ‘
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
The Messenger of Allah (ﷺ) often said while bowing and prostrating himself: Glory be to Thee, O Allah, our Lord, and praise be to Thee, O Allah, forgive me, thus complying with the (command in) the Qur'an.
ہم سے زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا,منصور نے ابو ضحیٰ ( مسلم بن صبیح القرشی ) سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں بکثرت ( یہ کلمات ) کہا کرتے تھے : ’’تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں اے میرے اللہ! ہمارے رب! تیری حمد کے ساتھ ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے ۔ ‘ ‘ آپ ( یہ کلمات ) قرآن مجید کی تاویل ( حکم کی تعمیل ) کے طور پر فرمایا کرتے تھے ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) before his death recited often: Hallowed be Thou, and with Thy praise, I seek forgiveness from Thee and return to Thee. She reported: I said: Messenger of Allah, what are these words that I find you reciting? He said: There has been made a sign for me in my Ummah; when I saw that, I uttered them (these words of glorification for Allah), and the sign is: When Allah's help and victory..... to the end of the surah.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا,ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مسلم ( بن صبیح سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول لالہﷺ وفات سے پہلے بکثرت یہ فرماتے تھے : ’’ ( اے اللہ! ) میں تیری حمد ے ساتھ تیری ستائش کرتاہوں ، تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! یہ کلمے کیا ہیں جو میں دیکھتی ہوں کہ آپ نے اب کہنے شروع کر دیے ہیں؟ آپ نے فرمایا : ’’میرے لیے میری امت میں ایک علامت مقرر کر دی گئی ہے کہ جب میں اسے دیکھ لوں تو یہ ( کلمے ) کہوں : ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے .... ) ‘ ‘ سورت کے آخر تک
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Never did I, see the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) after the revelation (of these verses): When Allah's help and victory came. observin- his prayer without making (this supplication) or he said in it (supplication): Hallowed be Thee, my Lord, and with Thy praise, O Allah, forgive me.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا,مفضل نے اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کےساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا
جب سے آپ پر ﴿إذا جاء نصر الله والفتح﴾ اتری ، اس وقت سے میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپ نے جو بھی نماز پڑھی اس میں یہ دعا مانگی یا یہ کہا : ’’اے میرے رب! میں تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں تیری حمد کے ساتھ ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے ۔ ‘ ‘
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) recited often these words: Hallowed be Allah and with His praise, I seek the forgiveness of Allah and return to Him. She said: I asked: Messenger of Allah, I see that you often repeat the saying subhan allahi bihamdihi astag firullahi watubuilaih whereupon he said: My Lord informed me that I would soon see a sign in my Ummah, so when I see it I often recite (these) words: Hallowed be Allah and with His Praise, I seek forgiveness of Allah and return to Him. Indeed I saw it (when this verse) was revealed: When Allah's help and victory came, it marked the victory of Mecca, and you see people entering into Allah's religion in troops, celebrate the praise of Thy Lord and ask His forgiveness. Surely He is ever returning to Mercy.
مجھ سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، مجھ سے عبد العلا نے بیان کیا، ہم سے داؤد نے بیان کیا,عامر ( شعبی ) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہﷺ کثرت سے یہ فرمایا کرتے تھے : ’’میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی حمد کے ساتھ ، میں اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ نے کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ بکثرت کہتے ہیں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تو آپ نے فرمایا : ’’میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلدی ہی اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا اور جب میں اس کو دیکھ لوں توبکثرت کہوں : سبحان الله وبحمده ، أستغفر الله وأتوب إليه تو ( وہ نشانی ) میں دیکھ چکا ہوں ۔ ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے ‘ ‘ ( یعنی ) فتح مکہ ’’ اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیں تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کریں اور اس سے بخشش طلب کریں بلاشبہ وہ توبہ قبول فرمانے والا ہے ۔ ‘ ‘
Ibn Juraij reported:
I asked 'Ata': What do you recite when you are in a state of bowing (in prayer)? He said: Hallowed be Thou, and with Thy praise, there is no god but Thou. Son of Abd Mulaika narrated to me on the anthority of 'A'isha (who reported): I missed one night the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (from his bed). I thought that he might have gone to one of his other wives. I searched for him and then came back and (found him) in a state of bowing, or prostration, saying: Hallowed be Thou and with Thy praise; there is no god but Thou. I said: With my father mayest thou be ransomed and with my mother. I was thinking of (another) affair, whereas you are (occupied) in another one.
مجھ سے حسن بن علی الحلوانی اور محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا۔ابن جریج نے کہا
میں نے عطاء سے پوچھا : آپ رکوع میں کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا : جہاں تک ( دعا ) سبحانك وبحمدك ، لا إله إلا أنت ’’تو پاک ہے ( اے اللہ! ) اپنی حمد کے ساتھ ، کوئی معبود برحق نہیں تیرے سوا ‘ ‘ کا تعلق ہے تو مجھے ابن ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی ، انہوں نے کہا : ایک رات میں نے نبی ﷺ کو گم پایا تو میں نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنی کسی ( اور ) بیوی کے پاس چلے گئے ہیں ، میں نے تلاش کیا ، پھر آپ رکوع یا سجدے میں تھے ، کہہ رہے تھے : سبحانك وبحمدك ، لا إله إلا أنت میں نے کہا : آپ پہ میرے ماں باپ قربان! میں ایک کیفیت میں تھی اور آپ ایک ہی کیفیت میں تھے ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
One night I missed Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) from the bed, and when I sought him my hand touched the soles of his feet while he was in the state of prostration; they (feet) were raised and he was saying: O Allah, I seek refuge in Thy pleasure from Thy anger, and in Thy forgiveness from Thy punishment, and I seek refuge in Thee from Thee (Thy anger). I cannot reckon Thy praise. Thou art as Thou hast lauded Thyself.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے العرج کی سند سے,حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں نے ایک رات رسول اللہﷺ کو بستر پر نہ پایا تو آپ کو ٹٹولنے لگی ، میرا ہاتھ آپ کے پاؤں کے تلوے پر پڑا ، اس وقت آپ سجدے میں تھے ، آپ کے دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ کہہ رہے تھے : ’’اے اللہ! میں تیری ناراضی سے تیری رضا مندی کی پناہ میں آتا ہوں اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ میں آتا ہوں ، میں تیری ثنا پوری طرح بیان نہیں کر سکتا ، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود بیان کی ۔ ‘ ‘
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to pronounce while bowing and prostrating himself: All Glorious, All Holy, Lord of the Angels and the Spirit.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر العبدی نے بیان کیا,سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے اور انہوں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ
رسول اللہﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں ( یہ کلمات ) کہتے تھے : ’’نہایت پاک ہے ، مقدس ہے فرشتوں اور روح ( جبریل علیہ السلام ) کا پروردگار ۔ ‘ ‘
This hadith has been narrated on the authority of 'A'isha رضی اللہ عنہا by another chain of transmitters.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہمیں ابوداؤد ( طیالسی ) نے شعبہ سے حدیث سنائی کہ قتادہ نے کہا : میں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے سنا ۔ ابوداؤد نے ( مزید ) کہا : اور ہشام نے مجھے حدیث سنائی انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے مطرف سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے یہ حدیث روایت کی ۔
Ma'dan bin Talha reported:
I met Thauban رضی اللہ عنہ , the freed slave. of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and asked him to tell me about an act for which, if I do it, Allah will admit me to Paradise, or I asked about the act which was loved most by Allah. He gave no reply. I again asked and he gave no reply. I asked him for the third time, and he said: I asked Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about that and he said: Make frequent prostrations before Allah, for you will not make one prostration without raising you a degree because of it, and removing a sin from you, because of it. Ma'dan said that then lie met Abu al-Darda' رضی اللہ عنہ and when he asked him, he received a reply similar to that given by Thauban رضی اللہ عنہ .
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے اوزاعی کو سنا، انہوں نے کہا: مجھ سے ولید بن ہشام المعیطی نے بیان کیا، انہوں نے کہا, معدان بن ابی طلحہ یعمری نے کہا
میں رسول اللہﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا : مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے کروں تو اللہ اس کی وجہ سے مجھے جنت میں داخل فرما دے ، یا انہوں نے کہا : میں نے پوچھا : جو عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہو ، تو ثوبان رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار فرمائی ( اور میری بات کا کوئی جواب نہ دیا ) پھر میں نے دوبارہ ان سے سوال کیا ، انہوں نے خاموشی اختیار کر لی ، پھر میں نے ان سے تیسری دفعہ یہی سوال کیا تو انہوں نے کہا : میں نے یہی سوال رسول اللہﷺ سے کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا : ’’تم اللہ کے حضور کثرت سے سجدے کیا کرو کیونکہ تم اللہ کے لیے جو بھی سجدہ کرو گے اللہ اس کے نتیجے میں تمہارا درجہ ضرور بلند کرے گا اور تمہارا کوئی گناہ معاف کر دے گا ۔ ‘ ‘ معدان نے کہا : پھر میں ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملا تو ان سے ( یہی ) سوال کیا ، انہوں نے بھی مجھ س وہی کہا جو ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا ۔
Rabi'a bin Ka'b رضی اللہ عنہ said:
I was with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) one night. and I brought him water and what he required. He said to me: Ask (anything you like). I said: I ask your company in Paradise. He (the Holy Prophet) said: Or anything else besides it. I said: That is all (what I require). He said: Then help me to achieve this for you by devoting yourself often to prostration.
ہم سے الحکم بن موسیٰ ابوصالح نے بیان کیا، کہا ہم سے حقل بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے اوزاعی سے سنا، انہوں نے کہا: مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا,حضرت ربیعہ بن کعب ( بن مالک ) اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا
میں ( خدمت کے لیے ) رسول اللہﷺ کے ساتھ ( صفہ میں آپ کے قریب ) رات گزارا کرتا تھا ، ( جب آپ تہجد کے لیے اٹھتے تو ) میں وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا ۔ ( ایک مرتبہ ) آپ نے مجھے فرمایا : ’’ ( کچھ ) مانگو ۔ ‘ ‘ تو میں نے عرض کی : میں آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ جنت میں بھی آپ کی رفاقت نصیب ہو ۔ آپ نے فرمایا : ’’یا اس کے سوا کچھ اور؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : بس یہی ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’تم اپنے معاملے میں سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو ۔ ‘ ‘
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had been commanded that he should prostrate on the seven (bones) and he was forbidden to fold back the hair and clothing. And in the narration transmitted by Abu Rabi' (the words are): on the seven bones and I was forbidden to fold back the hair and clothing . According to Abu'l-Rabi' (the seven bones are): The hands, the knees, and the (extremities) of the feet and the forehead.
یحییٰ اور ابو ربیع نے حدیث بیان کی ، یحییٰ نے کہا : حماد بن زید نے ’’ہمیں خبر دی ‘ ‘ اور ابو ربیع نے کہا : ’’ہمیں حدیث سنائی ‘ ‘ انہوں نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا
نبی اکرمﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ سات ہڈیوں ( والے اعضاء ) پر سجدہ کیا کریں ارو آپ کو بالوں اور کپڑوں کو اڑسنے سے منع کیا گیا ۔ یہ یحییٰ کی حدیث ہےاور ابو ربیع نے کہا : سات ہڈیوں ( والے اعضاء ) پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور اپنے بالوں اور اپنے کپڑوں کو اڑسنے سے منع کیا گیا ( سات اعضاء سے ) دونوں ہتھیلیاں ، دونوں گھٹنے ، دونوں قدم اور پیشانی ( مراد ہیں ۔ )
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ): I was commanded to prostrate myself on seven bones and not to fold back clothing or hair.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ محمد جو کہ ہم سے ابن جعفر نے بیان کیا،شعبہ نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے طاؤس اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا
نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’مجھے حکم دیا گیا کہ میں سات ہڈیوں ( والے اعضاء ) پر سجدہ کروں اور یہ کہ میں ( نماز میں ) نہ کپڑا اڑسوں اور نہ بال ۔ ‘ ‘