Zainab, the wife of Abdullah (bin 'Umar رضی اللہ عنہ ), reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to us: When any one of you comes to the mosque, she should not apply perfume.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید القطان نے بیان کیا,( مخرمہ کے بجائے ) محمد بن عجلان نے بکیر بن عبد اللہ بن اشج سے ، انہوں نے بسر بن سعید سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا : ’’ جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو وہ خوشبو کو ہاتھ نہ لگائے ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Whoever (woman) fumigates herself with perfume should not join us in the 'Isha' prayer.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن ابی فروا نے بیان کیا، وہ یزید بن خصیفہ کی سند سے، وہ بسر بن سعید کی سند سے,حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جس عورت کو ( بخور ) خوشبودار دھواں لگ جائے ، وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں حاضر نہ ہو ۔ ‘ ‘
Amra, daughter of Abdul-Rahman, reported:
I heard 'A'isha رضی اللہ عنہا , the wife of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: If the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had seen what new things the women have introduced (in their way of life) he would have definitely prevented them from going to the mosque, as the women of Bani Isra'il were prevented. She said: "Yes."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا,سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے اور انہوں نے عمرہ بنت عبد الرحمان سے روایت کی کہ
انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ فرماتی تھیں کہ عورتوں نے ( بناؤ سنگھار کے ) جو نئے انداز نکال لیے ہیں اگر رسول اللہﷺ دیکھ لیتے تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے ، جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا ۔ میں نے عمرہ سے پوچھا : کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔
This hadith has been narrated by Yahya bin Sa'id with the same chain of transmitters.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا,( سلیمان بن بلال کے بجائے ) عبد الوہاب ثقفی ، سفیان بن عیینہ ، ابو خالد احمر اورعیسیٰ بن یونس سبھی نے یحییٰ بن سعید سے ( باقی ماندہ ) اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث روایت کی ہے.
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما reported:
The word of (Allah) Great and Glorious: 'And utter not thy prayer loudly, nor be low in it (xvii. 110) was revealed as the Messenger of Allah (ﷺ) was hiding himself in Mecca. When he led his Companions in prayer he raised his voice (while reciting the) Qur'an. And when the polytheists heard that, they reviled the Qur'an and Him Who revealed it and him who brought it. Upon this Allah, the Exalted, said to His Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ): Utter not thy prayer so loudly that the polytheists may hear thy recitation and (recite it) not so low that it may be inaudible to your Companions. Make them hear the Qur'an, but do not recite it loudly and seek a (middle) way between these. Recite between loud and low tone.
ابو جعفر محمد بن الصباح اور عمرو نقید نے ہشیم کی سند سے بیان کیا، کہا, ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ہم سے ابو بشر نے بیان کیا,سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان
﴿ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها﴾ ’’ اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھیں اور نہ اسے پست کریں ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی ، انہوں نے کہا : یہ آیت اس وقت اتری جب رسول اللہﷺ مکہ میں پوشیدہ ( عبادت کرتے ) تھے ۔ جب آپ اپنے ساتھیوں کو جماعت کراتے تو قراءت بلند آواز سے کرتے تھے ، مشرک جب یہ قراءت سنتے تو قرآن کو ، اس کے نازل کرنے والے کو اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو ہدایت کی : ’’ اپنی نماز میں ( آواز کو اس قدر ) بلند نہ کریں ‘ ‘ کہ آپ کی قراءت مشرکوں کو سنائی دے ’’ اور نہ اس ( کی آواز ) کو پست کریں ‘ ‘ اپنے ساتھیوں سے ، انہیں قرآن سنائیں اور آواز اتنی زیاد اونچی نہ کریں ’’اور ان ( دونوں ) کے درمیان کی راہ اختیار کریں ۔ ‘ ‘ ( اللہ تعالیٰ ) فرماتا ہے : بلند اور آہستہ کے درمیان ( میں رہیں ۔ )
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
So far as these words of (Allah) Glorious and High are concerned: And utter not thy prayer loudly, not be low in it relate to supplication (du'a').
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا, یحییٰ بن زکریا نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے
اللہ تعالیٰ کے اسی فرمان : ’’ نہ اپنی نماز میں ( قراءت ) بلند کریں اور نہ آہستہ ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی کہ انہوں نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے کہا کہ یہ آیت دعا کے بارے میں اتری ہے ۔
A hadith like this has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا,حماد بن زید ، ابو اسامہ ، وکیع اور ابو معاویہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ہشام سے اسی سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی ہے ۔
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما reported with regard to the words of Allah, Great and Glorious:
Move not thy tongue therewith that when Gabriel brought revelation to him (the Holy Prophet) he moved his tongue and lips (with a view to committing it to memory instantly). This was something hard for him and it was visible (from his face). Then Allah, the Exalted. revealed this a Move not thy tongue therewith to make haste (in memorising it). Surely on us rests the collecting of it and the reciting of it (ixxv. 16), i. e. Verily it rests with Us that We would preserve it in your heart and (enable you) to recite it You would recite it when We would recite it and so follow its recitation, and He (Allah) said: We revealed it, so listen to it attentively. Verily its exposition rests with Us. i. e. We would make it deliver by your tongue. So when Gabriel came to him (to the Holy Prophet), he kept silence, and when he went away he recited as Allah had promised him.
ہم سے قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے جریر رضی اللہ عنہ سے کہا, جریر بن عبد الحمید نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان
﴿ولا تحرك به لسانك لتعجل به﴾ ’’آپ اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیں تاکہ اسے جلدی حاصل کر لیں ۔ ‘ ‘ کے بارے میں روایت بیان کی کہا : جب جبرائیل رضی اللہ عنہ نبیﷺ کے پاس وحی لے کر آتے تو آپ ( اس کو پڑھنے کے لیے ساتھ ساتھ ) اپنی زبان اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے ، ایسا کرنا آپ پر گراں گزرتا تھا اور یہ آپ ( کے چہرے ) سے معلوم ہو جاتا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں : ’’ آپ اس ( وحی کے پڑھنے ) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں ۔ بے شک اس کو ( آپ کے دل میں ) سمیٹ رکھنا اور ( آپ کی زبان سے ) اس کی قراءت ہمارا ذمہ ہے ۔ ‘ ‘ یعنی ہمارا ذمہ ہے کہ ہم اسے آپ کو سینۂ مبارک میں جمع کریں اور اس کی قراءت ( بھی ہمارے ذمے ہے ) تاکہ آپ قراءت کریں ۔ ’’پھر جب ہم اسے پڑھیں ( فرشتہ ہماری طرف سے تلاوت کرے ) تو آپ اس کے پڑھنے کی اتباع کریں ۔ ‘ ‘ فرمایا : یعنی ہم اس کو نازل کریں تو آپ اس کو غور سے سنیں ۔ ’’ اس کا واضح کر دینا بھی یقیناً ہمارے ذمے ہے ‘ ‘ کہ آ پ کی زبان س ( لوگوں کے سامنے ) بیان کر دیں ، پھر جب جبرائیل رضی اللہ عنہ آپ کے پاس ( وحی لے کر ) آتے تو آپ سر جھکا کر غور سے سنتے اور جب وہ چلے جاتے تو اللہ کے وعدے کے مطابق آپ اس کی قراءت فرماتے ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہ reported with regard to the words:
Do not move thy tongue there with to make haste, that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) felt it hard and he moved his lips. Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ said to me (Sa'id bin Jubair): I move them just as the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) moved them. Then said Sa'id: I move them just as Ibn 'Abbas moved them, and he moved his lips. Allah, the Exalted, revealed this: Do not move your tongue therewith to make haste. It is with US that its collection rests and its recital (al-Qur'an, ixxv. 16). He said: Its preservation in your heart and then your recital. So when We recite it, follow its recital. He said: Listen to it, and be silent and then it rests with Us that you recite it. So when Gabriel came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), he listened to him attentively, and when Gabriel went away, the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) recited as he (Gabriel) had recited it.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا,( جریر بن عبد الحمید کے بجائے ) ابو عوانہ نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اللہ کے فرمان
’’آپ اس ( وحی کو پڑھنے ) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں ‘ ‘ کے بارے میں روایت کی کہ نبی اکرمﷺ وحی کے نزول کی وجہ سے بہت مشقت برداشت کرتے ، آپ ( ساتھ ساتھ ) اپنے ہونٹ ہلاتے تھے ( ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا : میں تمہیں رسول اللہﷺ کی طرح ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں ، تو انہوں نے اپنے ہونٹوں کو حرکت دی اور سعید بن جبیر نے ( اپنے شاگرد سے ) کہا : میں اپنے ہونٹوں کو اسی طرح ہلاتا ہوں جس طرح ابن عباس رضی اللہ عنہ انہیں ہلاتے تھے ، پھر اپنے ہونٹ ہلائے ) اس پر اللہ تعالیٰ یہ آیت اتاری : ’’ آپ اس ( وحی کو پڑھنے ) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں ۔ بےشک ہمارا ذمہ ہے اس کو ( آپ کے دل میں ) سمیٹ کر رکھنا اور ( آپ کی زبان سے ) اس کی قراءت ۔ ‘ ‘ کہا : آپ کے سینے میں اسے جمع کرنا ، پھر یہ کہ آپ اسے پڑھیں ۔ ’’ پھر جب ہم پڑھیں ( فرشتہ ہماری طرف سے تلاوت کرے ) تو آپ اس کے پڑھنے کی اتباع کریں ۔ ‘ ‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : یعنی اس کو غور سےسنیں اور خاموش رہیں ، پھر ہمارے ذمے ہے کہ آپ اس کی قراءت کریں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : اس کے بعد جب آپ کے پاس جبرائیل رضی اللہ عنہ ( وحی لے کر ) آتے تو آپ غور سے سنتے اور جب جبرائیل رضی اللہ عنہ چلے جاتے تواسے آپ اسی طرح پڑھتے جس طرح انہوں نے آپ کو پڑھایا ہوتا ۔
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) neither recited the Qur'an to the Jinn nor did he see them. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) went out with some of his Companions with the intention of going to the bazaar of 'Ukaz And there had been (at that time) obstructions between satans and the news from the Heaven, and there were flung flames upon them. So satan went back to their people and they said: What has happened to you? They said: There have been created obstructions between us and the news from the Heaven. And there have been flung upon us flames. They said: It cannot happen but for some (important) event. So traverse the eastern parts of the earth and the western parts and find out why is it that there have been created obstructions between us and the news from the Heaven. So they went forth and traversed the easts of the earth and its wests. Some of them proceeded towards Tihama and that is a nakhl towards the bazaar of 'Ukaz and he (the Holy Prophet) was leading his Companions in the morning prayer. So when they heard the Qur'an. they listened to it attentively and said: It is this which has caused obstruction between us and news from the Heaven. They went back to their people and said: O our people, we have heard a strange Qur'an which directs us to the right path; so we affirm our faith in it and we would never associate anyone with our Lord. And Allah, the Exalted and Glorious, revealed to His Apostle Muhammad ( صلی اللہ علیہ وسلم ): It has been revealed to me that a party of Jinn listened to it (Qur'an, lxxii. 1).
ہم سے شیبان بن فرخ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عونہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو بشر کی سند سے,سعید نے جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ ﷺ نے جنوں کو قرآن سنایا نہ ان کو دیکھا ۔ ( اصل واقعہ یہ ہے کہ ) رسول اللہﷺ اپنے چند ساتھیوں کو ساتھ عکاظ کے بازار کی طرف جانے کے ارادے سے چلے ( ان دنوں ) آسمانی خبر اور شیطانوں کے درمیان رکاوٹ پیدا کر دی گئی تھی ( شیطان آسمانی خبریں نہ سن سکتے تھے ) اور ان پر انگارے پھینکے جانے لگے تھے تو شیاطین ( خبریں حاصل کیے بغیر ) اپنی قوم کے پاس واپس آئے ۔ اس پر انہوں نے پوچھا : تمہارے ساتھ کیا ہوا؟ انہوں ( واپس آنے والوں ) نے کہا : ہمیں آسمان کی خبریں لینے سے روک دیا گیا اور ہم پر انگارے پھینکے گئے ۔ انہوں نے کہا : اس کے سوا یہ کسی اور سبب سے نہیں ہوا کہ کوئی نئی بات ظہور پذیر ہوئی ہے ، اس لیے تم زمین کے مشر ق ومغرب میں پھیل جاؤ اور دیکھو کہ ہمارے آسمانی خبر کے درمیان حائل ہونے والی چیز ( کی حقیقت ) کیا ہے؟ وہ نکل کر زمین کے مشرق اور مغرب میں پہنچے ۔ وہ نفری جس نے تہامہ کا رخ کیا تھا ، گزری ، تو آپ عکاظ کی طرف جاتے ہوئے کجھوروں ( والے مقام نخلہ ) میں تھے ، اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ، جب جنوں نے قرآن سنا تو اس پر کان لگا دیے اور کہنے لگے : یہ ہے جو ہمارے اور آسمانوں کی خبر کے درمیان حائل ہو گیا ہے ۔ اس کے بعد وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور کہا : اے ہماری قوم! ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے ، اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور ہم اپنے رب کے ساتھ ہرگز کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمدﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی : ’’ کہہ دیجیئے : میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے کان لگا کر سنا ۔ ‘ ‘
Dawud reported from 'Amir who said:
I asked 'Alqama if Ibn Mas'ud رضی اللہ عنہ was present with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on the night of the Jinn (the night when the Prophet met them). He (Ibn Mas'uad رضی اللہ عنہ ) said: No, but we were in the company of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) one night and we missed him. We searched for him in the valleys and the hills and said. He has either been taken away (by jinn) or has been secretly killed. He (the narrator) said. We spent the worst night which people could ever spend. When it was dawn we saw him coming from the side of Hiri'. He (the narrator) reported. We said: Messenger of Allah, we missed you and searched for you, but we could not find you and we spent the worst night which people could ever spend. He (the Holy Prophet) said: There came to me an inviter on behalf of the Jinn and I went along with him and recited to them the Qur'an. He (the narrator) said: He then went along with us and showed us their traces and traces of their embers. They (the Jinn) asked him (the Holy Prophet) about their provision and he said: Every bone on which the name of Allah is recited is your provision. The time it will fall in your hand it would be covered with flesh, and the dung of (the camels) is fodder for your animals. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Don't perform istinja with these (things) for these are the food of your brothers (Jinn).
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا عبد الاعلیٰ نے داؤد سے اور انہوں نے عامر ( بن شراحیل ) سے روایت کی ، کہا
میں نے علقمہ سے پوچھا : کیا جنوں ( سے ملاقات ) کی رات عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ کے ساتھ تھے؟ کہا : علقمہ نے جواب دیا : میں نے خود ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ لوگوں میں سے کوئی لیلۃ الجن میں رسول اللہﷺ کے ساتھ موجود تھا؟ انہوں نے کہا : نہیں ، لیکن ایک رات ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے تو ہم نے آپ کو گم پایا ، ہم نے آپ کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا ، ( آپ نہ ملے ) تو ہم نے کہا کہ آپ کو اڑا لیا گیا ہے یا آپ کو بے خبری میں قتل کر دیا گیا ہے ، کہا : ہم نے بدترین رات گزاری جو کسی قوم نے ( کبھی ) گزاری ہو گی ۔ جب ہم نے صبح کی تو اچانک دیکھا کہ آپ حراء کی طرف سے تشریف لا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کوگم پایا تو آپ کی تلاش شروع کر دی لیکن آپ نہ ملے ، اس لیے ہم نے وہ بدترین رات گزاری جو کوئی قوم ( کبھی ) گزار سکتی ہے ۔ اس پر آپ نے فرمایا : ’’ میرے پاس جنوں کی طرف سے دعوت دینے والا آیا تو میں اس کے ساتھ گیا اور میں نے ان کے سامنت قرآن کی قراءت کی ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : پھر آپ ( ﷺ ) ہمیں لے کر گئے اور ہمیں ان کے نقوش قدم اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے ۔ جنوں نے آپ سے زاد ( خوراک ) کا سوال کیا تو آپ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے ہر وہ ہڈی ہے جس ( کے جانور ) پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور تمہارے ہاتھ لگ جائے ، ( اس پر لگا ہوا ) گوشت جتنا زیادہ سے زیادہ ہو اور ( ہر نرم قدموں والے اونٹ اور کٹے سموں والے ) جانور کی لید تمہارے جانوروں کا چارہ ہے ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے ( انسانوں سے ) فرمایا : ’’ تم ان دونوں چیزوں سے استنجا نہ کیا کرو کیونکہ یہ دونوں ( دین میں ) تمہارے بھائیوں ( جنوں اور ان کے جانوروں ) کا کھانا ہیں ۔ ‘ ‘
This hadith has been reported by Dawud with the same chain of transmitters up to the word (s): The traces of their embers. Sha'bi said:
They (the Jinn) asked about their provision, and they were the Jinn of al-jazira, up to the end of the hadith, and the words of Sha'bi have been directly transmitted from the hadith of Abdullah رضی اللہ عنہ .
علی بن حجر السعدی نے مجھ سے کہا,اسماعیل بن ابراہیم نے داؤد سے اسی سند کے ساتھ وآثار نيرانهم ( ان کی آگ کے نشانات ) تک بیان کیا ۔ شعبی نے کہا
جنوں نے آپ سے خوراک کا سوار کیا اور وہ جزیرہ کے جنوں میں سے تھے ... حدیث کے آخری حصے تک جو شعبی کا قول ہے ، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے الگ ہے ۔
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah from the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) up to the words:
It was narrated from 'Abdullah from the prophet ﷺ, up to the words: and the traces of their fires; he did not mention what come after that (from no. 1008).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا,عبد اللہ بن ادریس نے داؤد سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ نبی ﷺسے وآثار نيرانهم تک روایت کیا اور بعد والا حصہ بیان نہیں کیا ۔
Abdullah (bin Mas'ud) said:
I was not with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) but I wish I were with him.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، وہ خالد کے واسطہ سے، وہ ابو معشر کی سند سے,(شعبی کے بجائے ) ابراہیم ( نخعی ) نے علقمہ سے اور انہوں نے عبد اللہ سے روایت کی ، کہا
میں لیلۃ الجن کو رسول اللہﷺ کے ساتھ نہ تھا اور میری خواہش تھی کہ میں آپ کے ساتھ ہوتا
Ma'n reported.. I heard it from my father who said:
I asked Masruq who informed the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about the night when they heard the Qur'an. He said: Your father, Ibn Mas'ud رضی اللہ عنہ , narrated it to me that a tree informed him about that.
ہم سے سعید بن محمد الجرمی اور عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو اسامہ نے ,مسعر کی سند سے بیان کیا,معن ( بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود ہذلی ) سے روایت ہے ، کہا : میں نے اپنے والد سے سنا ، کہا
میں نے مسروق سے پوچھا : جس رات جنوں نے کان لگا کر ( قرآن ) سنا ، اس کی اطلاع نبیﷺ کو کس نے دی؟ انہوں نے کہا : مجھے تمہارے والد ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے بتایا کہ آپ کو ان جنوں کی اطلاع ایک درخت نے دی تھی ۔ ( یہ آپﷺ کا معجزہ تھا ۔ )
Abu Qatada رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) led us in prayer and recited in the first two rak'ahs of the noon and afternoon prayers Surat al-Fitiha and two (other) surahs. And he would sometimes recite loud enough for us the verses. He would prolong the first rak'ah more than the second. And he acted similarly in the morning prayer.
ہم سے محمد بن المثنیٰ العنزی نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا،حجاج صواف نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ اور ابو سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں ( ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد ایک سورت ) پڑھتے اور کبھی کبھار ہمیں کوئی آیت سنا دیتے ۔ ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری رکعت مختصر کرتے اور صبح کی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے ۔
Abu Qatada reported it on the authority of his father:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) would recite in the first two rak'ahs of the noon and afternoon prayers the opening chapter of the Book and another surah. He would sometimes recite loud enough to make audible to us the verse and would recite in the last two rak'ahs Surat al-Faitiha (only).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا,(حجاج کے بجائے ) ہمام اور ابان بن یزید نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ
نبیﷺ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ( سے ہر رکعت میں ) سورۃ فاتحہ اور ایک سورت پڑھتے اور کبھی کبھار ہمیں بھی کوئی آیت سنا دیتے اور آخری دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھا کرتے تھے ۔
Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
We used to estimate how long Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stood in the noon and afternoon prayers, and we estimated hat he stood in the first two rak'ahs of the noon prayer as long as it takes to recite Alif Lam Mim, Tanzil, i. e. as-Sajda. We estimated that he stood half that time in the last two rak'ahs; that he stood in the first two of the afternoon as long as he did in the last two at noon; and in the last two of the afternoon prayer about half that time. Abu Bakr in his narration has made no mention of Alif Lam Mim, Tanzil, but said: As long as it takes to recite thirty verses.
یحییٰ بن یحییٰ اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے ہشیم سے ، انہوں نے منصور سے ، انہوں نے ولید بن مسلم سے ، انہوں نے ابو صدیق ( ناجی ) سے اور انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ر وایت کی ، انہوں نے کہا
ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہﷺ کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے تو ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ ﴿الم 0 تنزيل﴾ ( السجدہ ) کی قراءت کے بقدر لگایا اور اس کی آخری دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ اس سے نصف کے بقدر لگایا اور ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ لگایا کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر تھا اور عصر کی دو رکعتوں کا قیام اس سے آدھا تھا ۔ امام مسلم رضی اللہ عنہ کے استادہ ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں ﴿الم 0 تنزيل﴾ ( کا نام ) ذکر نہیں کیا ، انہوں نے کہا : تیس آیات کےبقدر.
Abu Sa'id al-Khudri reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to recite in every rak'ah of the first two rak'ahs of the noon prayer about thirty verses and in the last two about fifteen verses or half (of the first rak'ah) and in every rak'ah of the 'Asr prayer of the first two rak'ahs about fifteen verses and in the last two verses half (of the first ones).
ہم سے شیبان بن فرخ نے بیان کیا,ابو عوانہ نے منصور سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے بقدر قراءت فرماتے تھے اور آخری دو میں پندرہ آیتوں کے بقدر یا یہ کہا : اس ( پہلی دو ) سے نصف ۔ اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر اور آخری دو میں اس سے نصف ۔
Jabir bin Samura رضی اللہ عنہ reported:
The people of Kufa complained to Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ about Sa'id and they made a mention of his prayer. 'Umar رضی اللہ عنہ sent for him. He came to him. He ('Umar رضی اللہ عنہ) totd him that the people had found fault with his prayer. He said: I lead them in prayer in accorance with the prayer of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). I make no decrease in it. I make them stand for a longer time in the first two (rak'ahs) and shorten it in the last two. Upon this 'Umar رضی اللہ عنہ remarked: This is what I deemed of thee, O Abu Ishaq.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا,ہشیم نے عبد الملک بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
کوفہ والوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حضرت حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی اور ( اس میں ) ان کی نماز کا بھی ذکر کیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا ، وہ آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے ، کوفہ والوں نے ان کی نماز پر جو اعتراض کیا تھا ، اس کا تذکرہ کیا ، تو انہوں نے کہا : یقیناً میں انہیں رسول اللہﷺ کی نماز کی طرف نماز پڑھاتا ہوں ، اس میں کمی نہیں کرتا ۔ میں انہیں پہلی دو رکعتوں لمبی پڑھاتا ہوں اور آخری میں دو تخفیف کرتا ہوں ۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابو اسحاق! آپ کے بارے میں گمان ( بھی ) یہی ہے ۔