Back to Sahih Muslim

The Book of Prayers

كتاب الصَّلَاةِ

Chapter 4

Hadith 937
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ -، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ: أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِهَا وَأَذِنَّ لَهُ قَالَتْ: فَخَرَجَ وَيَدٌ لَهُ عَلَى الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَيَدٌ لَهُ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ، وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الْأَرْضِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: «أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ هُوَ عَلِيٌّ».
English

It was in the house of Maimuna رضی اللہ عنہا that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) first fell ill. He asked permission from his wives to stay in her ('A'isha's) house during his illness. They granted him permission. She ('A'isha) narrated: He (the Holy Prophet) went out (for prayer) with his hand over al-Fadl bin 'Abbas رضی ‌اللہ ‌عنہ and on the other hand there was another person and (due to weakness) his feet dragged on the earth. 'Ubaidullah said: I narrated this hadith to the son of 'Abbas ('Abdullah bin 'Abbas رضی ‌اللہ ‌عنہ) and he said: Do you know who the man was whose name 'A'isha رضی اللہ عنہا did not mention? It was 'Ali رضی ‌اللہ ‌عنہ .

Urdu

ہم سے محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے بیان کیا - اور یہ لفظ ابن رافع کا ہے - انہوں نے کہا: ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا،معمر نے بیان کیا کہ زہری نے کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے خبر کہ

رسول اللہﷺ کی بیماری کا آغاز میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے ہوا ، آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت مانگی کہ آپ کی تیمار داری میرے گھر میں کی جائے ، انہوں نے اجازت دے دی ۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) فرمایا : آپ اس طرح نکلے کہ آپ کا ایک ہاتھ فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ( کے کندھے ) پر اور دوسرا ہاتھ ایک دوسرے آدمی پر تھا اور ( نقاہت کی وجہ سے ) آپ اپنے باؤں سے زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے ۔ عبید اللہ نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو سنائی تو انہوں نے کہا : کیا تم جانتے ہو وہ آدمی ، جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا ، کون تھے؟ وہ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تھا

Hadith 938
Sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ، بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ» قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللهِ بِالَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ: «هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الْآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ؟» قَالَ: قُلْتُ: لَا. قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ: «هُوَ عَلِيٌّ».
English

A'isha رضی اللہ عنہا , the wife of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), said:

When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) fell ill and his illness became serious, he asked permission from his wives to stay in my house during his illness. They gave him permission to do so. He stepped out (of 'A'isha's apartment for prayer) supported by two persons. (He was so much weak) that his feet dragged on the ground and he was being supported by 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌and another person. 'Ubaidullah said: I informed 'Abdullah (bin 'Abbas) رضی اللہ عنہما about that which 'A'isha had said. 'Abdullah bin 'Abbas ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌said: Do you know the man whose name 'A'isha did not mention? He said: No. Ibn 'Abbas ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌said: It was 'Ali ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌.

Urdu

مجھ سے عبدالملک بن شعیب بن لیث نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، میرے دادا سے، انہوں نے کہا,عقیل بن خالد نے کہا : ابن شہاب ( زہری ) نے کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ

رسول اللہﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جب رسول اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ ان کی تیمار داری میرے گھر میں ہو ، انہوں نے اجازت دے دی ، پھر آپ دو آدمیوں کے درمیان ( ان کا سہارا لے کر ) نکلے ، آپ کے دونوں پاؤں زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے ( اور آپ ) عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اور ایک دوسرے آدمی کے درمیان تھے ۔ ( حدیث کے راوی ) عبید اللہ نے کہا : عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کہا تھا ، میں نے اس کا تذکرہ عبد اللہ ( بن عباس ) رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا : کیا تم جانتے ہو وہ آدمی کون تھا جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ انہوں نے کہا : میں نے کہا : نہیں ۔ حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : وہ حضرت علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تھے ۔

Hadith 939
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلًا، قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا، وَإِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ مَقَامَهُ أَحَدٌ إِلَّا تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ».
English

A'isha رضی اللہ عنہا , the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), said:

I tried to dissuade the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) from it (i. e. from appointing Abu Bakr as the Imam.) and my insistence upon it was not due to the fact that I entertained any apprehension in my mind that the people would not love the man who would occupy his (Prophet's) place (i. e. who would be appointed as his caliph) and I feared that the people would be superstitious about one who would occupy his place. I, therefore, desired that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) should leave Abu Bakr aside in this matter.

Urdu

ہم سے عبدالملک بن شعیب بن لیث نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، مجھ سے میرے دادا عقیل بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابن شہاب نے کہا,عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ نبیﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ

میں نے ( حضرت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو امام بنانے کے ) اس معاملے میں رسول اللہ ﷺ سے بار بار بات کی ۔ میں نے اتنی بار آپ سے صرف اس لیے رجوع کیا کہ میرے دل میں یہ بات بیٹھتی نہ تھی کہ لوگ آپ کے بعد کبھی اس شخص سے محبت کریں گے جو آپ کا قائم مقام ہو گا اور اس کے برعکس میرا خیال یہ تھا کہ آپ کی جگہ پر جو شخص بھی کھڑا ہو گا لوگ اسے برا ( برے شگون کا حامل ) سمجھیں گے ، اس لیے میں چاہتی تھی کہ رسول اللہﷺ امامت ( کی ذمہ داری ) ابو بکر سے ہٹا دیں ۔

Hadith 940
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي قَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: وَاللهِ، مَا بِي إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ يَتَشَاءَمَ النَّاسُ، بِأَوَّلِ مَنْ يَقُومُ فِي مَقَامِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَرَاجَعْتُهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ: «لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ».
English

A'isha رضی اللہ عنہا reported:

When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to my house, he said: Ask Abu Bakr to lead people in prayer. 'A'isha رضی اللہ عنہا narrated: I said, Messenger of Allah, Abu Bakr رضی اللہ عنہ is a man of tenderly feelings; as he recites the Qur'an, he cannot help shedding tears: so better command anyone else to lead the prayer. By Allah, there is nothing disturbing in it for me but the idea that the people may not takeevil omen with regard to one who is the first to occupy the place of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌). I tried to dissuade him (the Holy Prophet) twice or thrice (from appointing my father as an Imam in prayer), but he ordered Abu Bakr to lead the people in prayer and said: You women are like those (who had) surrounded Yusuf رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌.

Urdu

ہم سے محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے بیان کیا - اور یہ لفظ ابن رافع نے بیان کیا ، کہا : ہم سے انہوں نے بیان کیا اور ابن رافع نے کہا - ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا ، ہمیں اخبر معمر نے دیکھا ، الزہری نے کہا , ( عبید اللہ بن عبد اللہ کے بجائے ) حمزہ بن عبد اللہ بن عمر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ

جب رسول اللہﷺ ( بیماری کے دوران میں ) میرے گھر تشریف لے آئے تو آپ نے فرمایا : ’’ابو بکر کو حکم پہنچاؤ کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ وہ کہتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ابو بکر نرم دل انسان ہیں ، جب وہ قرآن پڑھیں گے تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکیں گے ، لہٰذا اگر آپ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے بجائے کسی اور کو حکم دیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : اللہ کی قسم! میرے دل میں اس چیز کو ناپسند کرنے کی اس کے علاوہ اور کوئی بات نہ تھی کہ جو شخص سب سے پہلے آپ کی جگہ کھڑا ہو گا لوگ اسے برا سمجھیں گے ، اس لیے میں نے دو یا تین دفعہ اپنی بات دہرائی تو آپ نے فرمایا : ’’ابو بکر ہی لوگوں کو نماز پڑھائیں ، بلاشبہ تم یوسف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ ( معاملہ کرنے ) والی عورتیں ہی ہو ۔ ‘ ‘

Hadith 941
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ. فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعِ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» قَالَتْ: فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعِ النَّاسَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَتْ لَهُ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ» مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ، ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُمْ مَكَانَكَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي النَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ.
English

A'isha رضی اللہ عنہا reported:

When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was confined to bed, Bilal came to him to summon him to prayer. He (the Holy Prophet) said: Ask Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the people in prayer. She ('A'isha) reported: I said: Messenger of Allah, Abu! Bakr رضی اللہ عنہ is a tenderhearted man, go when ]be would stand at your place (he would be so overwhelmed by feelings) that he would not be able to make the people hear anything (his recitation would not be audible to the followers in prayer). You should better order Umar (to lead the prayer). He (the Holy Prophet) said: Ask Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead people in- prayer. She ('A'isha) said: I asked Hafsa to (convey) my impression to him (the Holy Prophet) that Abu Bakr رضی اللہ عنہ was a tenderhearted man, so when he would stand at his place, he would not be able to make the people bear anything. He better order Umar. Hafsa رضی اللہ عنہا conveyed this (message of Hadrat 'A'isha) to him (the Holy Prophet). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: (You are behaving) as if you are the females who had gathered around Yusuf. Order Abu Bakr to lead the people in prayer. She ('A'isha) reported: So Abu Bakr رضی اللہ عنہ was ordered to lead the people in prayer. As the prayer began, the Messenger of Allah (رضی اللہ عنہ) felt some relief; he got up and moved supported by two persons and his feet dragged on earth (due to excessive weakness). 'A'isha رضی اللہ عنہا reported: As he (the Holy Prophet) entered the mosque. Abu Bakr رضی اللہ عنہ perceived his (arrival). He was about to with. draw, but the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) by the gesture (of This hand) told him to keep standing at his place. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came and seated himself on the left side of Abu Bakr رضی اللہ عنہ . She ('A'isha) reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was leading people in prayer sitting. Abu Bakr رضی اللہ عنہ was following the prayer of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) in a standing posture and the people were following the prayer of Abu Bakr رضی اللہ عنہ .

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہاابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ

جب رسول اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ابو بکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ابو بکر جلد غم زدہ ہو جانے والے انسان ہیں اور وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قراءت بھی ) نہیں سنا سکیں گے ، لہٰذا اگر آپ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دے دیں ( تو بہتر بہتر ہو گا ۔ ) آپ ﷺ نے ( پھر ) فرمایا : ’’ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا : نم نبی اکرمﷺ سے کہو کہ ابو بکر جلد غمزدہ ہونے والے انسان ہیں ، جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قراءت ) نہ سنا سکیں ، چنانچہ اگر آپ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہہ دیا تو آپ نے فرمایا : ’’تم یوسف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ ( معاملہ کرنے ) والی عورتوں ہی طرح ہو ، ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : لوگوں نے ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم پہنچا دیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ جب ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے نماز شروع کر دی تو رسول اللہﷺ نے طبیعت میں قدرے تخفیف محسوس کی ، آپ اٹھے ، دو آدمی آپ کو سہارا دیے ہوئے تھے اور آپ کے پاؤں زمین پر لکیر کھینچتے جا رہے تھے ۔ وہ فرماتی ہیں : جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے آپ کی آہٹ سن لی ، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو ، پھر رسول اللہﷺ آگے بڑے اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی بائیں جانب بیٹھ گئے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کھڑے ہو کر ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہﷺ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی اقتدا کر رہے تھے ۔

Hadith 942
Sahih
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَفِي حَدِيثِهِمَا لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ فَأُتِيَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُجْلِسَ إِلَى جَنْبِهِ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُهُمُ التَّكْبِيرَ، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَبُو بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ وَأَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ.
English

A'mash reported:

When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) suffered from illness of which he died, and in the hadith transmitted by Ibn Mushir, the words are: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) was brought till he was seated by his (Abu Bakr's) side and the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) led the people in prayer and Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ was making takbir audible to them, and in the hadith transmitted by 'Isa the (words are): The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) sat and led the people in prayer and Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ was by his side and he was making (takbir) audible to the people.

Urdu

ہم سے منجاب بن الحارث التمیمی نے بیان کیا، ہم سے ابن مسْهر نے بیان کیا، اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, علی بن مسہر اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔ ان دونوں کی حدیث میں ہے کہ

جب رسول اللہﷺ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ نے وفات پائی ۔ ابن مسہر کی روایت میں ہے : رسول اللہﷺ کو لایا گیا یہاں تک کہ انہیں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا ۔ رسول اللہﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ لوگوں کو تکبیر سنا رہے تھے ۔ عیسیٰ کی روایت میں ہے : رسول اللہﷺ بیٹھ گئے اور لوگوں کو نماز پڑھانے لگے ، ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آپ کے پہلو میں تھے اور لوگوں کو ( آپ کی تکبیر ) سنا رہے تھے ۔

Hadith 943
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ«فَوَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ كَمَا أَنْتَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ».
English

`A'isha رضی اللہ عنہا reported:

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) ordered Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌that he should lead people in prayer during his illness, and he led them in prayer. `Urwa said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) felt relief and went (to the mosque) and Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌was leading the people in prayer. When Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌saw him he began to withdraw, but the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) signaled him to remain where he was. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) sat opposite to Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌by his side. Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌said prayer following the prayer of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌), and the people said prayer following the prayer of Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ہشام کی سند سے، ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، اور ان کا قول بھی اسی طرح ہے، انہوں نے کہا: ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ہشام نے اپنے والد سے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے کہا

انہوں نے فرمایا : رسول اللہﷺ نے اپنی بیماری میں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو وہ ان کو نماز پڑھاتے رہے ۔ عروہ نے کہا : پھر رسول اللہﷺ نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا ، تو آپ باہر تشریف لائے ، اس وقت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ لوگوں کی امت کر رہے تھے ۔ جب ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے ۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ جیسے ہو ویسے ہی رہو ۔ رسول اللہﷺ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے تو ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہﷺ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے ۔

Hadith 944
Sahih
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنِي، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلَاةِ «كَشَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سِتْرَ الْحُجْرَةِ، فَنَظَرَ إِلَيْنَا، وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ، ثُمَّ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا» قَالَ: «فَبُهِتْنَا وَنَحْنُ فِي الصَّلَاةِ مِنْ فَرَحٍ بِخُرُوجِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ، وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ لِلصَّلَاةِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ»، قَالَ: «ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْخَى السِّتْرَ» قَالَ: «فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ».
English

Anas bin Malik ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌reported:

Abu Bakr ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ led them in prayer due to the illness of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) of which be died. It was a Monday and they stood in rows for prayer. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) drew aside the curtain of ('A'isha's) apartment and looked at us while he was standing, and his (Prophet's) face was (as bright) as the paper of the Holy Book. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) felt happy and smiled. And we were confounded with joy while in prayer due to the arrival (among our midst) of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ), Abu Bakr ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ stepped back upon his heels to say prayer in a row perceiving that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had come out for prayer. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) with the help of his hand signed to them to complete their prayer. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) went back (to his apartment) and drew the curtain. He (the narrator) said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) breathed his last on that very day.

Urdu

مجھ سے عمرو ناقد، حسن الحلوانی اور عبد بن حمید نے بیان کیا - عبد نے کہا: اس نے مجھے بتایا، اور باقی دو نے کہا: یعقوب، جو ابراہیم بن سعد کے بیٹے ہیں - اور میرے والد نے مجھ سے کہا ،صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مجھے خبر دی کہ

رسول اللہﷺ کی بیماری دوران ، جس میں آپ نے وفات پائی ، ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے حتیٰ کہ جب سوموار کا دن آیا اور صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نماز میں صف بستہ تھے تو رسول اللہﷺ نے حجرے کا پردہ اٹھایا اور ہماری طرف دیکھا ، اس وقت آپ کھڑے ہوئے تھے ، ایسا لگتا تھا کہ آپ کا رخ انور مصحف کا ایک ورق ہے ، پھر آپ نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا ۔ انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کہتے ہیں کہ ہم نماز ہی میں اس خوشی کے سبب جو رسول اللہﷺ کے باہر آنے سے ہوئی تھی مبہوت ہو کر رہ گئے ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ الٹے پاؤں لوٹے تالکہ صف میں مل جائیں ، انہوں نے سمجھا کہ نبیﷺ نماز کے لیے باہر تشریف لا رہے ہیں ۔ نبیﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز مکمل کرو ، پھر آپ واپس حجرے میں داخل ہو گئے اور پردہ لٹکا دیا ۔ اسی دن رسول اللہﷺ وفات پا گئے.

Hadith 945
Sahih
وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. كَشَفَ السِّتَارَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، وَحَدِيثُ صَالِحٍ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ.
English

Anas ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌reported:

The last glance that I have had of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) (before his death) was that when he on Monday drew the curtain aside. The hadith transmitted by Salih is perfect and complete.

Urdu

مجھ سے عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا,سفیان بن عیینہ نے ( ابن شہاب ) زہری سے ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہﷺ کی طرف میں نے جو آخری نظر ڈالی ( وہ اس طرح تھی کہ ) سوموار کے دن آپ نے ( حجرے کا ) پردہ اٹھایا .... جس طرح اوپر واقعہ ( بیان ہوا ) ہے ۔ ( امام مسلم فرماتے ہیں : ) صالح کی حدیث کامل اور سیر حاصل ہے ۔

Hadith 946
Sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا.
English

Anas bin Malik رضی ‌اللہ ‌عنہ said:

"When it was the Monday..." a similar hadith (as no. 944).

Urdu

محمد بن رافع اور عبد بن حمید سب نے مجھے عبد الرزاق کی سند سے بیان کیا,معمر نے زہری کے حوالے سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے خبر دی کہ

جب سوموار کا دن آیا .... اوپر والے دونوں راویوں کے مطابق ۔

Hadith 947
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ فَقَالَ: نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ، فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا وَجْهُ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ، كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَحَ لَنَا، قَالَ: «فَأَوْمَأَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ، وَأَرْخَى نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ.
English

Anas رضی ‌اللہ ‌عنہ reported:

The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) did not come to us for three days. When the prayer was about to start. Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ stepped forward (to lead the prayer), and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) lifted the curtain. When the face of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) became visible to us, we (found) that no sight was more endearing to us than the face of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as it appeared to us. The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) with the gesture of his hand directed Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ to step forward (and lead the prayer). The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) then drew the curtain, and we could not see him till he died.

Urdu

ہم سے محمد بن مثنیٰ اور ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، کہا: میں نے اپنے والد کو یہ فرماتے ہوئے سنا, عبد العزیز نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی کہ

نبیﷺ ( بیماری کے ایام میں ) تین دن ہماری طرف تشریف نہ لائے ، ( انہی دنوں میں سے ) ایک دن نماز کھڑی کی گئی اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آگے بڑھنے لگے تو نبیﷺ ( کمرے کے ) پردے کی طرف بڑھے اور اسے اٹھا دیا ، جب ہمارے سامنے نبیﷺ کا رخ انور کھلا تو ہم نے کبھی ایسا منظر نہ دیکھا تھا جو ہمارے لیے ، نبیﷺ کے چہرہ مبارک کے نظارے سے ، جو ہمارے سامنے تھا ، زیادہ حسین اور پسندیدہ ہو ۔ وہ کہتے ہیں : پھر آپﷺ نے ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ آگے بڑھیں اور آپ نے پردہ گرا دیا ، پھر آپ وفات تک ایسا نہ کر سکے ۔

Hadith 948
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ، فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ: «مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ» قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ حَيَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
English

Abu Musa رضی ‌اللہ ‌عنہ reported:

When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) became ill and illness became serious he ordered Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the people in prayer. Upon this 'A'isha رضی اللہ عنہا said: Messenger of Allah, Abd Bakr رضی اللہ عنہ is a man of tenderly feelings: when he would stand in your place (he would be so much overwhelmed -by grief that) he would not be able to lead the people in prayer. He (the Holy Prophet) said: You order Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the people in prayer, and added: You are like the female companions of Yusuf. So Abu Bakr رضی اللہ عنہ led the prayer (during this period of illness) in the life of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین بن علی نے بیان کیا، انہوں نے زائِدہ کی سند سے، انہوں نے عبد الملک بن عمیر کی سند سے، انہوں نے ابو بردہ کی سند سے,حضرت ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ

رسول اللہﷺ بیمار ہو گئے اور آپ کی بیماری نے شدت اختیار کی تو آپ نے فرمایا : ’’ ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘ ‘ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : وہ نرم دل آدمی ہیں ، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھا سکیں گے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ( اے عائشہ! ) ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، تم تو یوسف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے ساتھ ( معاملہ کرنے ) والیوں کی طرح ہو ۔ ‘ ‘ انہوں ( ابو موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ ) نے کہا : اس طرح ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہﷺ کی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھانے لگے ۔

Hadith 949
Sahih
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ فَأُقِيمُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ؟ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ.
English

Sahl bin Sa'd al-Sa'idi رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌reported:

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) went to the tribe of Bani Amr bin Auf in order to bring reconciliation amongst (its members), and It was a time of prayer. The Mu'adhdhin came to Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ and said: Would you lead the prayer in case I recite takbir (tahrima, with which the prayer begins)? He (Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) said: Yes. He (the narrator) said: He (Abu Bakr) started (leading) the prayer. The people were engaged in observing prayer when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to come there and made his way (through the people) till he stood in a row. The people began to clap (their hands), but Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌paid no heed (to it) in prayer. When the people clapped more vigorously, he (Abu Bakr) then paid heed and saw the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) there. (He was about to withdraw when) the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) signed to him to keep standing at his place. Abu Bakr lifted his hands and praised Allah for what the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had commanded him and then Abu Bakr withdrew himself till he stood in the midst of the row and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stepped forward and led the prayer. When (the prayer) was over, he (the Holy Prophet) said: 0 Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌, what prevented you from standing (at that place) as I ordered you to do? Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌said: It does not become the son of Abu Quhafa to lead prayer before the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said (to the people) around him: What is it that I saw you clapping so vigorously? (Behold) when anything happens in prayer, say: Subha Allah, for when you would utter it, it would attract the attention, while clapping of hands is meant for women.

Urdu

مجھ سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا,امام مالک نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ

رسول اللہﷺ بنوعمرو بن عوف کے ہاں ، ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے ۔ اس دوران میں نماز کا وقت ہو گیا تو مؤذن ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آیا اور کہا : کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تاکہ میں تکبیر کہوں؟ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ہاں ۔ انہوں ( سہل بن سعد ) نے کہا : اس طرح ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے نماز شروع کر دی ، اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے جب کہ لوگ نماز میں تھے ، آپ بچ کر گزرتے ہوئے ( پہلی ) صف میں پہنچ کر کھڑے ہو گئے ۔ اس پر لوگوں نے ہاتھوں کو ہاتھوں پر مار کر آواز کرنی شروع کر دی ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اپنی نماز میں کسی اور طرف توجہ نہیں دیتے تھے ۔ جب لوگوں نے مسلسل ہاتھوں سے آواز کی تو وہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہﷺ کو دیکھا تو رسول اللہﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ کھڑے رہیں ، اس پر ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ رسول اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ان کو اس بات کا حکم دیا ، پھر اس کے بعد ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ پیچھے ہٹ کر صف میں صحیح طرح کھڑے ہو گئے اور رسول اللہﷺ آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی ۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا : ’’اے ابو بکر! جب میں نے تمہیں حکم دیا تو اپنی جگہ ٹکے رہنے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا؟ ‘ ‘ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ابو قحافہ کے بیٹے کے لیے زیبا نہ تھا کہ وہ رسول اللہﷺ کے آگے ( کھڑے ہو کر ) جماعت کرائے ، پھر رسول اللہﷺ نے ( صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی طرف متوجہ ہو کر ) فرمایا : ’’ کیا ہوا؟ میں نے تم لوگوں کو دیکھا کہ تم بہت تالیاں بجا رہے تھے؟ جب نماز میں تمہیں کوئی ایسی بات پیش آ جائے ( جس پر توجہ دلانا ضروری ہو ) تو سبحان اللہ کہو ، جب کہو سبحان اللہ کہے گا تواس کی طرف توجہ کی جائے گی ، ہاتھ پر ہاتھ مارنا ، صرف عورتوں کےلیے ہے ۔ ‘ ‘

Hadith 950
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَفِي حَدِيثِهِمَا فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللهَ، وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ.
English

This hadith is transmitted by Sahl bin Sa'd رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌in the same way as narrated by Malik, with the exception of these words:

Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ lifted his hands and praised Allah and retraced his (steps) till he stood in a row.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا,عبد العزیز بن ابی حازم اور یعقوب بن عبد الرحمن القادری دونوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے امام مالک کی روایت کی طرح روایت بیان کی ۔ ان دونوں کی حدیث میں یہ ہے کہ

ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور الٹے پاؤں واپس ہوئے حتیٰ کہ صف میں آ کھڑے ہوئے ۔

Hadith 951
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: ذَهَبَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ عِنْدَ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ وَفِيهِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجَعَ الْقَهْقَرَى.
English

Sahl bin Sa'd al-Sa'idi ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌reported:

The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) went to Bani Amr bin 'Auf in order to bring about reconciliation amongst them. The rest of the hadith is the same but with (the addition of these words): The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) came and made his way through the rows till he came to the first row and Abu Bakr رضی ‌اللہ ‌عنہ retraced his steps.

Urdu

ہم سے محمد بن عبداللہ بن بز یع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا,عبید اللہ نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا

نبیﷺ قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے تشریف لے گئے .... آگے مذکورہ بالا راویوں کے مانند ( حدیث بیان کی ) اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ رسول اللہﷺ آئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے پہلی صف کے قریب کھڑے ہو گئے ۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ الٹے پاؤں پیچھے لوٹ آئے ۔

Hadith 952
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ «أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ» قَالَ: الْمُغِيرَةُ «فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْغَائِطِ فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْجُبَّةِ، حَتَّى أَخْرَجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ»، ثُمَّ أَقْبَلَ قَالَ: الْمُغِيرَةُ «فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى نَجِدُ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّى لَهُمْ فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْآخِرَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ» ثُمَّ قَالَ: «أَحْسَنْتُمْ» أَوْ قَالَ: «قَدْ أَصَبْتُمْ» يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوُا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا.
English

He participated In the expedition of Tabuk along with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) went out to answer the call of nature before the morning prayer. and I carried along with him a jar (full of water). When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came back to me (after relieving himself). I began to pour water upon his hands out of the jar and he washed his hands three times, then washed his face three times. He then tried to tuck up the sleeves of his cloak upon his forearms but since the sleeves were tight he inserted his hands in the cloak and then brought out his forearms up to the elbow below the cloak, and then wiped over his shoes and then moved on. Mughira ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ said: I also moved along with him till he came to the people and (he found) that they had been saying their prayer under the Imamah of 'Abdul-Rahman bin 'Auf ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ . The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) could get one rak ah out of two and said (this) last rak'ah along with the people. When Abd al-Rahman bin 'Auf ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌pronounced the salutation, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) got up to complete the prayer. This made the Muslims terrified and most of them began to recite the glory of the Lord. When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) finished his prayer, he turned towards them and then said: You did well, or said with a sense of joy: You did the right thing that you said prayer at the appointed hour.

Urdu

مجھ سے محمد بن رافع اور حسن بن علی الحلوانی نے عبدالرزاق کی سند سے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم سے ابن جریج نے بیان کیا,عباد بن زیاد کو عروہ بن مغیرہ بن شعبہ خبر دی کہ مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں بتایا کہ

وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ غز وہ تبوک میں شریک ہوئے ۔ مغیرہ نے کہا : صبح کی نماز سے پہلے رسول اللہﷺ قضائے حاجت کے لیے باہر نکلے اور میں نے آپ کے ہمراہ پانی کا ایک برتن اٹھا لیا ۔ جب رسو ل اللہﷺ میر ی طرف لوٹے تو میں برتن سے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے لگا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے ، پھر اپنا چہرہ دھویا ، اس کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں سے جبہ نکالنے لگے ، جبے کی دونوں آستینیں تنگ ہوئیں تو آپ نے اپنے ہاتھ جبے کے اندر کر لیے حتیٰ کہ آپ نے اپنے بازور جبے کے نیچے سے نکال لیے اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے ، پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح ( کر کے ) وضو ( مکمل ) کیا ، پھر آپ آگے بڑھے ۔ مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں بھی آپ کے ساتھ آگے بڑھا یہاں تک کہ ہم لوگوں کو اس حال میں پایا کہ وہ عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو آگے کر چکے تھے ، انہوں نے نماز پڑھائی اور رسول اللہﷺ کو دو رکعتوں میں سے ایک ملی ۔ آپ نے آخری رکعت لوگوں کے ساتھ ادا کی ، چنانچہ جب حضرت عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے سلام پھیرا تو رسول اللہﷺ اپنی نماز کی تکمیل کے لیے کھڑے ہو گئے ، اس بات نے مسلمانوں کو گھبراہٹ میں مبتلا کر دیا اور انہوں نے کثرت سے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا ، جب نبیﷺ نے اپنی نماز پوری کر لی تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ’’ تم نے اچھا کیا ۔ ‘ ‘ یا فرمایا : ’’تم نے ٹھیک کیا ۔ ‘ ‘ آپ نے ان کی تحسین فرمائی کہ انہوں نے وقت پر نماز پڑھ لی تھی ۔

Hadith 953
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَالْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَأَرَدْتُ تَأْخِيرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «دَعْهُ».
English

This hadith is narrated by Hamza bin Mughira ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ by another chain of transmitters (but with the addition of these words):

I made up my mind to hold Abdul-Rahman bin 'Auf back, but the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: Leave him.

Urdu

ہم سے محمد بن رافع اور الحلوانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ابن جریج کی سند سے، مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا,اسماعیل بن محمد بن سعد نے حمزہ بن مغیرہ سے روایت کی جو عباد کی روایت کی طرح ہے ۔ ( اس میں یہ بھی ہے کہ ) مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا

میں نے عبد الرحمن بن عوف کو پیچھے کرنا چاہا تو نبیﷺ نے فرمایا : ’’اسے ( آگے ) رہنے دو ۔ ‘ ‘

Hadith 954
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سعيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ» زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَقَدْ رَأَيْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُسَبِّحُونَ وَيُشِيرُونَ.
English

Abu Huraira رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌reported:

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Glorification of Allah is for men and clapping of hands is meant for women (if something happens in prayer). Harmala added in his narration that Ibn Shihab told him: I saw some of the scholars glorifying Allah and making a gesture.

Urdu

ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو سلمہ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی ، نیز ہارون بن معروف اور حرملہ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں ابن وہب نے بتایا ، انہوں نے کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب کے حوالے سے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے

رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ ( امام و متنبہ کرنے کا طریقہ ) مردوں کے لیے تسبیح ( سبحان اللہ کہنا ) ہے اور عورتوں کے ہاتھ پر ہاتھ مارنا ہے ۔ ‘ ‘ حرملہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ ابن شہاب نے کہا : میں نے علم والے لوگوں کو دیکھا ، وہ تسبیح کہتے تھے او ر اشارہ کرتے تھے

Hadith 955
Sahih
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
English

This hadith is narrated on the authority of Abu Huraira رضی ‌اللہ ‌عنہ by another chain of transmitters.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے الفضیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیاض نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن ابرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ان سب نے الاعمش کی سند سے بیان کیا،ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( سابقہ روایت ) کے مانند روایت بیان کی ہے ۔

Hadith 956
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ «فِي الصَّلَاةِ.
English

A similar report was narrated from Abu Hurairah رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌, from the prophet ‌ﷺ, and he added: (The tasbih is for men and clapping is for women) while praying."

Urdu

ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، وہ ہمام نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کی بات اور مزید «نماز میں.