`Abdullah (bin Mas`ud) رضی اللہ عنہ said:
While observing prayer behind the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) we used to recite: Peace be upon Allah, peace be upon so and so. One day the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to us: Verily Allah is Himself Peace. When any one of you sits during the prayer, he should say: All services rendered by words, by acts of worship, and all good things are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allah's mercy and blessings. Peace be upon us and upon Allah's upright servants, for when he says this it reaches every upright servant in the heavens and the earth. (And say further): I testify that there is no god but Allah and I testify that Muhammad is His servant and Messenger. Then he may choose any supplication which pleases him and offer it.
ہم سے زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسحاق نے بیان کیا اور باقی دو نے کہا,جریر نے منصور سے ، انہوں نے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
ہم نماز میں رسول اللہﷺ کے پیچھے کہتے تھے : اللہ پر سلام ہو ، فلاں پر سلام ہو ۔ ( بخاری کی روایت میں جبریل پر میکائیل پر سلام ہو ۔ ) تو ایک دن رسول اللہﷺ نے ہم سے فرمایا : ’’بلاشبہ اللہ خود سلام ہے ، لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے : بقا وبادشاہت ، اختیار وعظمت اللہ ہی کےلیے ہے ، اور ساری دعائیں اور ساری پاکیزہ چیزیں ( بھی اسی کےلیے ہیں ) ، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ جب کوئی شخص یہ ( دعائیہ ) کلمات کہے گا تو یہ آسمان و زمین میں اللہ کے ہر نیک بندے تک پہنچیں گے ۔ ( پھر کہے : ) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کےبندے اور رسول ہیں ، پھر جو مانگنا چاہے اس کا انتخاب کر لے ۔ ‘ ‘
Shu'ba has narrated this on the authority of Mansur with the same chain of transmitters, but he made no mention of this:
Then he may choose any supplication which pleases him.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا،( جریر کے بجائے ) شعبہ نے منصور سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی اور انہوں ( شعبہ ) نے
’’پھر جو مانگنا چاہے اس کا انتخاب کر لے ‘ ‘ ( کے کلمات ) بیان نہیں کیے ۔
This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters and he made a mention of this:
Then he may choose any supplication which pleases him or which he likes.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین الجعفی نے بیان کیا، زیدہ رضی اللہ عنہ سے,منصور کے ایک اور شاگرد زائدہ نے ان سے اسی سند کے ساتھ ان دونوں ( جریر اور شعبہ ) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی
لیکن آخری کلمات میں ماشاء ( جو چاہے ) کی جگہ ما أحب ( جو پسند کرے ) کے الفاظ کہے ۔
Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ reported:
We were sitting with the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in prayer, and the rest of the hadith is the same as narrated by Mansur He (also said): After (reciting tashahud) he may choose any prayer.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا۔اعمش نے ( ابو وائل ) شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
جب ہم نماز میں نبیﷺ کے ساتھ بیٹھتے تھے .... ( آگے ) منصور کی حدیث کی طرح ( ہے ) اور کہا : ’’ اس کے بعد دعا کا انتخاب کر لے ۔ ‘ ‘
Ibn Mas'ud is reported to have said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) taught me tashahhud taking my hand within his palms, in the same way as he taught me a Sura of the Qur'an, and he narrated it as narrated above.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سیف بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک مجاہد کو یہ کہتے ہوئے سنا, عبد اللہ بن سخبرہ نے کہا , میں نے حضرت ابن مسعود سے سنا ، کہہ رہے تھے
رسول اللہﷺ نے مجھے تشہد سکھایا ، میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھی ، ( بالکل اسی طرح ) جیسے آپ مجھے قرآنی سورت کی تعلیم دیتے تھے ۔ اور انہوں نے ( ابن سخبرہ ) نے تشہد اسی طرح بیان کیا جس طرح سابقہ راویوں نے بیان کیا ۔
Ibn `Abbas رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to teach us tashahhud just as he used to teach us a Surah of the Qur'an, and he would say: All services rendered by words, acts of worship, and all good things are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allah's mercy and blessings. Peace be upon us and upon Allah's upright servants. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is the Messenger of Allah. In the narration of Ibn Rumh (the words are): As he would teach us the Qur'an.
امام مسلم نے قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح بن مہاجر کی سندوں سے لیث سے ، انہوں نے ابو زبیر سے ، انہوں نے سعید بن جبیر اور طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہﷺ ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے ، چنانچہ آپ فرماتے تھے : ’’بقا وبادشاہت ، عظمت و اختیار اور کثرت خیر ، ساری دعائیں اور ساری پاکیزہ چیزیں اللہ ہی کےلیے ہیں ۔ آپ پر سلام ہو اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ ‘ ‘
Tawus narrated it on the authority of Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ that he said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to teach us tashahhud as he would teach us a Sura of the Qur'an.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا,عبد الرحمن بن حمید نے کہا : مجھے ابو زبیر نے طاؤس کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہﷺ ہمیں تشہد یوں سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے ۔
Hattan bin `Abdullah al-Raqashi reported:
I observed prayer with Abu Musa al-Ash`ari رضی اللہ عنہ and when he was in the qa`dah, one among the people said: The prayer has been made obligatory along with piety and Zakat. He (the narrator) said: When Abu Musa رضی اللہ عنہ had finished the prayer after salutation he turned (towards the people) and said: Who amongst you said such and such a thing? A hush fell on the people. He again said: Who amongst you has said such and such a thing? A hush fell on the people. He (Abu Musa رضی اللہ عنہ ) said: Hattan, it is perhaps you that have uttered it. He (Hattan) said No. I have not uttered it. I was afraid that you might be annoyed with me on account of this. A person amongst the people said: It was I who said it, and in this I intended nothing but good. Abu Musa said: Don't you know what you have to recite in your prayers? Verily the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) addressed us and explained to us all its aspects and taught us how to observe prayer (properly). He (the Holy Prophet) said: When you pray make your rows straight and let anyone amongst you act as your Imam. Recite the takbir when he recites it and when he recites: Not of those with whom Thou art angry, nor of those who go astray, say: Amin. Allah would respond you. And when he (the Imam) recites the takbir, you may also recite the takbir, for the Imam bows before you and raises himself before you. Then the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The one is equivalent to the other. And when he says: Allah listens to him who praises Him, you should say: O Allah, our Lord, to Thee be the praise, for Allah, the Exalted and Glorious, has vouchsafed (us) through the tongue of His Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that Allah listens to him who praises Him. And when he (the Imam) recites the takbir and prostrates, you should also recite the takbir and prostrate, for the Imam prostrates before you and raises himself before you. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The one is equivalent to the other. And when he (the Imam) sits for Qa`da (for tashahhud) the first words of every one amongst you should be: All services rendered by words, acts of worship and all good things are due to Allah. Peace be upon you, O Apostle, and Allah's mercy and blessings. Peace be upon us and upon the upright servants of Allah. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and His Messenger.
ہم سے سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، ابو کامل الجہدری اور محمد بن عبد الملک الامّی نے بیان کیا اور یہ الفاظ ابو کامل کا ہے، انہوں نے کہاابو عوانہ نے قتادہ سے ، انہوں نے یونس بن جبیر سے اور انہوں نے حطان بن عبد اللہ رقاشی سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک نماز پڑھی ، جب وہ قعدہ ( نماز میں تشہد کے لیے بیٹھنے ) کے قریب تھے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : نماز کو نیکی اور زکاۃ کے ساتھ رکھا گیا ہے؟ جب ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے نماز پوری کر لی تو مڑے اور کہا : تم میں سے یہ یہ بات کہنے والا کون تھا؟ تو سب لوگ مارے ہیبت کے چپ رہے ، انہوں نے پھر کہا : تم میں سے یہ یہ بات کہنے والا کون تھا؟ تو لوگ ہیبت کے مارے پھر چپ رہے تو انہوں نے کہا : اے حطان! لگتا ہے تو نے یہ بات کہی؟ انہوں نے کہا : میں نے یہ نہیں کہا ، البتہ مجھے ڈر تھا کہ آپ اس کے سبب میری سرزنش کریں گے ۔ تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : میں نے یہ بات کہی تھی اور میں نے اس سے بھلائی کے سوا اور کچھ نہ چاہا تھا ۔ تو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم نہیں جانتے کہ تمہیں اپنی نماز میں کیسے کہنا چاہیے؟ رسول اللہﷺ نے ہمیں خطبہ دیا ، آپ نے ہمارے لیے ہمارا طریقہ واضح کیا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی ۔ آپ نے فرمایا : ’’جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفوں کو سیدھا کرو ، پھر تم میں سے ایک شخص تمہاری امامت کرائے ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ ﴿غير المغضوب عليهم والا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو ، اللہ تمہاری دعا قبول فرمائے گا ۔ پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع کرے تو تم تکبیر کہو اور رکوع کرو ، امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تو ( مقتدی کی طرف سے رکوع میں جانےکی ) یہ ( تاخیر ) اس ( تاخیر ) کا بدل ہو کی ( جو رکوع سے سر اٹھانے میں ہو گی ) اور جب امام سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ربنا لك الحمد کہو ، اللہ تمہاری ( بات ) سنے گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فرمایا ہے : اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی اور جب امام تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم تکبیر کہو اور سجدہ کرو ، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تو یہ ( تاخیر ) اس ( تاخیر ) کابدل ہو گی اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تمہارا پہلا بول ( یہ ) ہو : بقا وبادشاہت ، اختیار وعظمت ، سب پاک چیزیں اور ساری دعائیں اللہ کےلیے ہیں ۔ اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کےسوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ ‘ ‘
Qatada has narrated a hadith like this with another chain of transmitters. In the hadith transmitted by Jarir on the authority of Sulaiman, Qatada's further words are:
When (the Qur'an) is recited (in prayer), you should observe silence, and (the following words are) not found in the hadith narrated by anyone except by Abu Kamil who heard it from Abu 'Awina (and the words are): Verily Allah vouchsafed through the tongue of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) this: Allah listens to him who praises Him. Abu Ishaq (a student of Imam Muslim) said: Abu Bakr the son of Abu Nadr's sister has (critically) discussed this hadith. Imam Muslim said: Whom can you find a more authentic transmitter of hadith than Sulaiman? Abu Bakr said to him (Imam Muslim): What about the hadith narrated by Abu Huraira, i.e. the hadith that when the Qur'an is recited (in prayer) observe silence? He (Abu Bakr again) said: Then, why have you not included it (in your compilation)? He (Imam Muslim) said: I have not included in this every hadith which I deem authentic; I have recorded only such ahadith on which there is an agreement (amongst the Muhaddithin apart from their being authentic).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا,ابو اسامہ نے سعید بن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی ، نیز معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، اسی طرح جریر نے سلیمان تیمی سے خبر دی ، ان سب ( ابن ابی عروبہ ، ہشام اور سلیمان ) نے قتادہ سے اسی ( سابقہ ) حدیث کے مانند روایت کی ، البتہ قتادہ سے سلیمان اور ان سے جریر کی بیان کردہ حدیث میں یہ اضافہ ہے
’’ جب امام پڑھے تو تم غور سے سنو ۔ ‘ ‘ اور ابو عوانہ کے شاگرد کامل کی حدیث کے علاوہ ان میں سے کسی کی حدیث میں : ’’اللہ عزوجل نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فرمایا ہے : ’’ اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد کی ۔ ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ہیں ۔ ابو اسحاق نے کہا : ابو نضر کے بھانجے ابو بکر نے اس حدیث کے متعلق بات کی تو امام مسلم نے کہا : آپ کو سلیمان سے بڑا حافظ چاہیے؟ اس پر ابو بکر نے امام مسلم سے کہا : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث؟ پھر ( ابو بکر نے ) کہا : وہ صحیح ہے ، یعنی ( یہ اضافہ کہ ) جب امام پڑھے تو تم خاموش رہو ۔ امام مسلم نے ( جوابا ) کہا : وہ میرے نزدیک بھی صحیح ہے ۔ تو ابو بکر نے کہا : آپ نے اسے یہاں کیوں نہ رکھا ( درج کیا ) ؟ ( امام مسلم نے جواباً ) کہا : ہر وہ چیز جو میرے نزدیک صحیح ہے ، میں نے اسے یہاں نہیں رکھا ۔ یہاں میں نے صرف ان ( احادیث ) کو رکھا جن ( کی صحت ) پر انہوں ( محدثین ) نے اتفاق کیا ہے ۔
This hadith has been transmitted by Qatida with the same chain of transmitters (and the words are):
Allah, the Exalted and the Glorious, commanded it through the tongue of His Apostle (ﷺ): Allah listens to him who praises Him.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے عبد الرزاق کی سند سے اور معمر کی سند سے بیان کیا,قتادہ کے ایک اور شاگرد معمر نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث روایت کی اور ( اپنی ) حدیث میں کہا :
’’چنانچہ اللہ نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فیصلہ کر دیا ( کہ ) اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی ( قال کے بجائے قضى کالفظ روایت کیا ۔ )
Abdullah bin Zaid-he who was shown the call (for prayer in a dream) narrated it on the authority of Abu Mas'ud al-Ansari who said: We were sitting in the company of Sa'id bin 'Ubida when the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to us. Bashir bin S'ad رضی اللہ عنہ said:
Allah has commanded us to bless you. Messenger of Allah! But how should we bless you? He (the narrator) said: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) kept quiet (and we were so much perturbed over his silence) that we wished we had not asked him. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) then said: (For blessing me) say: 0 Allah, bless Muhammad and the members of his household as Thou didst bless the mernbers of Ibrahim's household. Grant favours to Muhammad and the members of his household as Thou didst grant favours to the members of the household of Ibrahim in the world. Thou art indeed Praiseworthy and Glorious; and salutation as you know.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی نے بیان کیا، کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ کو پڑھا,نعیم بن عبد اللہ مجمر سے روایت ہے کہ محمد بن عبد اللہ بن زید انصاری نے ( محمد کے والد عبد اللہ بن زید وہی ہیں جن کو نماز کے لیے اذان خواب میں دکھائی گئی تھی ) انہیں ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے متعلق بتایا کہ انہوں نے کہا : ہم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تھے کہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، چنانچہ بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کی
اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ انہوں نے کہا : اس پر رسول اللہﷺ خاموش ہوگئے حتیٰ کہ ہم نے تمنا کی کہ انہوں نے آپ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا ، پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ کہو : اے اللہ! رحمت فرما محمد اور محمد کی آل پر ، جیسے تو نے رحمت فرمائی ابراہیم کی آل پر اور برکت نازل فرما محمد اور محمد کی آل پر ، جیسے تو نے سب جہانوں میں برکت نازل فرمائی ابراہیم کی آل پر ، بلاشبہ تو سزا وار حمد ہے ، عظمتوں والا ہے اور سلام اسی طرح ہے جیسے تم ( پہلے ) جان چکے ہو ۔ ‘ ‘
Ibn Abi Laila reported: Ka'b bin 'Ujra رضی اللہ عنہ met me and said:
Should I not offer you a present (and added): The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to us and we said: We have learnt how to invoke peace upon you; (kindly tell us) how we should bless you. He (the Holy Prophet) said: Say: O Allah: bless Muhammad and his family as Thou didst bless the family of Ibrahim. Verily Thou art Praiseworthy and Glorious, O Allah.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور محمد بن بشار نے بیان کیا اور یہ قول ابن المثنیٰ کا ہے انہوں نے کہا,محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حَکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے
کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟ رسول اللہﷺ ہماری طرف تشریف لائے تو ہم نے عرض کی : ہم تو جان چکے ہیں کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں ، ( یہ بتائیں ) ہم آپ پر صلاۃ کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا : ’’کہو : اے اللہ! محمد اور محمد کی آل پر رحمت فرما ، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر رحمت فرمائی ، بلاشبہ تو سزاوار حمد ، عظمتوں والا ہے ۔ اے اللہ! محمد پر اور محمد کی آل پر برکت نازل فرما ، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر برکت نازل فرمائی ، بلاشبہ تو سزاوار حمد ہے ، عظمتوں والا ہے ۔ ‘ ‘
A hadith like this has been narrated by Mis'ar on the authority of al-Hakam, but in the hadith transmitted by Mis'ar these words are not found:
Should I not offer you a present?
ہم سے زہیر بن حرب اور ابو کریب نے بیان کیا, وکیع نے شعبہ اور مسعر سے اسی سند کے ساتھ حکم سے اسی کی مانند روایت کی اور مسعر کی حدیث میں یہ جملہ نہیں ہے
کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟
A hadith like this has been narrated by al-Hakam except that he said:
Bless Muhammad ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he did not say: (Allahhummah) O Allah.
اسماعیل بن زکریا نے اعمش ، مسعر اور مالک بن مغول سے روایت کی اور ان سب نے حکم سے اسی سند کے ساتھ سابقہ حدیث کی مانند روایت کی ، البتہ اس نے کہا :
وبارك على محمد اور ( اس سے پہلے ) اللهم نہیں کہا ۔
Abu Humaid as-Sa'idi رضی اللہ عنہ reported:
They (the Companions of the Holy Prophet) said: Apostle of Allah, how should we bless you? He (the Holy Prophet) observed: Say: O Allah! bless Muhammad, his wives and his offspring as Thou didst bless Ibrahim, and grant favours to Muhammad, and his wives and his offspring as Thou didst grant favours to the family of Ibrahim; Thou art Praiseworthy and Glorious.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ہم سے روح نے بیان کیا، اور ہم سے عبداللہ بن نافع، ایچ، اسحق بن ابراہیم نے بیان کیا - اور اس کا تلفظ - انہوں نے کہا: اخبہ رانا روح، مالک بن انس رضی اللہ عنہ سے۔ عبداللہ بن ابی بکر کی سند سے، اپنے والد کی سند سے،عمرو بن سلیم نے کہا : مجھے حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ
انہوں ( صحابہ ) نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر صلاۃ کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا : ’’کہو : اے اللہ! رحمت فرما محمد پر اور آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر ، جیسے تو نے ابراہیم کی آل پر رحمت فرمائی اور برکت نازل فرما محمد پر اور آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر ، جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم کی آل پر ، بلاشبہ تو سزا وار حمد ہے ، عظمتوں والا ہے ۔ ‘ ‘
Abu Huraira reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who blesses me once, Allah would bless him ten times.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے اسماعیل نے جو ابن جعفر ہیں، انہوں نے اپنے والد سے علاء کی سند سے بیان کیا, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہﷺ نےفرمایا : جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت نازل فرمائے گا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When the Imam says: Allah listens to him who praises Him. you should say: O Allah, our Lord for Thee is the praise. for if what anyone says synchronises with what the angels say, his past sins will be forgiven.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ سے پڑھا,سمی نے ابو صالح سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب امام سمع الله لمن حمده ( اللہ نے سن لیا جس نے اس کی تعریف کی ) کہے تو تم کہو : اللهم ، ربنا لك الحمد ( اے اللہ! ہمارے رب! سب تعریف تیرے لیے ہے ) کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو گیا اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
A hadith similar to that of Summayy was from Abu Huraira رضی اللہ عنہ from the prophet ﷺ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب نے، یعنی ابن عبدالرحمٰن نے بیان کیا, سہیل نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے ( مذکورہ بالا راوی ) سمی کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Say Amin when the Imam says Amin, for it anyone's utterance of Amin synchronises with that of the angels, he will be forgiven his past sins.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا, مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت کی کہ ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے گی ، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ said:
I heard from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) the hadith like one transmitted by Malik, but he made no mention of the words of Shihab.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا,( مالک کے بجائے ) یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا
میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ... ( آگے ) مالک کی مذکورہ بالا روایت کی طرح ہے ، البتہ یونس نے ابن شہاب کا قول بیان نہیں کیا ۔