Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
One day the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) led the prayer. Then turning (towards his Companions) he said: O you, the man, why don't you say your prayer well? Does the observer of prayer not see how he is performing the prayer for he performs it for himself? By Allah, I see behind me as I see In front of me.
ہم سے ابو کریب محمد بن علاء الہمدانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے الولید کی سند سے بیان کیا، یعنی ابن کثیر نے,سعید کے والد ابو سعید مقبری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ایک دن رسول اللہﷺ نے ( ہمیں ) نماز پڑھائی ، پھر سلام پھیرا اور فرمایا : ’’اے فلاں! تم اپنی نماز اچھی طرح نہیں پڑھ سکتے؟ کیا نمازی نماز پڑھتے وقت یہ نہیں دیکھتا ( غور کرتا ) کہ وہ نماز کیسے پڑھتا ہے؟ وہ اپنے ہی لیے نماز پڑھتا ہے ( کسی دوسرے کےلیے نہیں ۔ ) اللہ کی قسم! میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہون جس طرح سامنے دیکھتا ہوں.
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Do you find me seeing towards the Qibla only? By Allah, your bowing and your prostrating are not hidden from my view. Verily I see them behind my back.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے مالک بن انس سے اور ابو الزناد کی سند سے بیان کیا,اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’کیا تم سمجھتے ہو کہ میرا رخ ادھر ( سامنے ) ہی ہے؟ اللہ کی قسم! مجھ پر نہ تمہارا رکوع مخفی ہے اور نہ تمہارا سجدہ ، یقینا میں تمہیں اپنے پیچھے بھی دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘
Anas رضی اللہ عنہ reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Complete the bowing and prostration well. By Allah, I see you behind my back as to how you bow and prostrate or when you bow and prostrate.
مجھ سے ابو غسان المسمعی نے بیان کیا، کہا کہ معاذ یعنی ابن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد حذیفہ نے بیان کیا، اور ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے ص کے ہاتھ سے بیان کیا, میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے کہ
نبیﷺ نے فرمایا : ’’ رکوع اور سجدہ پوری طرح کیا کرو ، اللہ کی قسم! میں تمہیں اپنے پیچھے ( بھی ) دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ ( بلکہ ) غالباً آپ نے اس طرح فرمایا : ’’ جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو تو میں تمہیں اپنی پیٹھ پیچھے بھی دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ :
The prophet of Allah ﷺ said: "Complete the bowing and prostration, for by Allah, I can see you behind my back when you bow and prostrate."
مجھ سے ابوغسان المسمعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے معاذ یعنی ابن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد حذیفہ نے بیان کیا، اور ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے ہاتھ کی سند سے بیان کیا,قتادہ سے ( شعبہ کے بجائے دستوائی والے ) ہشام اور سعید نے اپنی اپنی سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ رکوع اور سجدہ کو مکمل کرو ، اللہ کی قسم! جب بھی تم رکوع کرتے ہو اور جب بھی تم سجدہ کرتے ہو تو میں اپنی پیٹھ پیچھے تمہیں دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ اور سعید کی روایت میں ( إذا ما ركعتم وإذا ما سجدتم کے بجائے ) إذا ركعتم وسجدتم ’’جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو ۔ ‘ ‘ کے الفاظ ہیں ۔ یعنی سعید کی روایت میں اذا کے بعد دونوں جگہ ما کا لفظ نہیں ہے ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) one day led us in the prayer. and when he completed the Prayer he turned his face towards us and said: O People, I am your Imam, so do not precede me in bowing and prostration and in standing and turning (faces, i. e. In pronouncing salutation), for I see you in front of me and behind me, and then said: By Him in Whose hand Is the life of Muhammad, if you could see what I see, you would have laughed little and wept much more. They said: What did you see, Messenger of Allah? He replied: (I saw) Paradise and Hell.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن حجر نے بیان کیا - اور یہ قول ابوبکر کا ہے ابن حجر نے کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا اور ابوبکر نے کہا - ہم سے علی نے مختار بن فلفل سے بیان کیا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھانے کے فوراً ہی بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”لوگو! میں تمہارا امام ہوں۔ اس لئے مجھ سے پہلے رکوع، سجدہ، قومہ اور سلام نہ پھیرو۔ میں آگے اور پیچھے سے تم کو دیکھتا ہوں۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو چیزیں میں دیکھتا ہوں اگر تم انہیں دیکھ لو تو ہنسو کم اور روؤ زیادہ“، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ ارشاد ہوا ”میں نے جنت اور دوزخ دیکھی ہے۔“
This hadith is narrated by Anas رضی اللہ عنہ with another chain of transmitters, and in the hadith transmitted by Jarir there is no mention of turning (faces) .
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا,( علی بن مسہر کے بجائے ) جریر اور ابن فضیل دونوں نے اپنی اپنی سند سے مختار بن فلفل سے روایت کی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور انہوں نے نبیﷺ سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ، جریر کی حدیث میں ’’نہ سلام پھیرنے میں ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Does the man who lifts his head ahead of the Imam (from prostration) not fear that Allah may change his head into the head of an ass?
ہم سے خلف بن ہشام، ابو الربیع الزہرانی اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, حماد بن زید نے محمد بن زیاد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ
محمدﷺ نے فرمایا : ’’جو شخص امام سے پہلے ( رکوع وسجود سے ) سر اٹھاتا ہے کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سرکو گدھے کے سر جیسا بنا دے؟ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Does the man who lifts his head before the Imam not fear that Allah may change his face into that of an ass?
ہم سے عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا,یونس نے محمد بن زیاد سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص اپنی نماز میں امام سے پہلے سر اٹھاتا ہے وہ اس بات سے محفوظ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی صورت گدھے کی صورت میں بدل دے
This hadith has been narrated by Abu Huraira رضی اللہ عنہ by another chain of transmitters except for the words narrated by Rabi' bin Muslim:
Allah may make his face like the face of an ass.
ہم سے عبدالرحمٰن بن سلام الجمعی اور عبدالرحمٰن بن ربیع بن مسلم نے بیان کیا، ربیع بن مسلم ، شعبہ اور حماد بن سلمہ سب نے مختلف سندوں سے محمد بن زیاد سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور انہوں نے یہی روایت نبیﷺ سے بیان کی ۔ ( ان راویوں میں سے ) ربیع بن مسلم کی حدیث میں ( اس کی صورت بدل دے کے بجائے )
’’اور اللہ اس کا چہرہ گدھے کا چہرہ بنا دے ‘ ‘ کے الفاظ ہیں ۔
Jabir bin Samura رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The people who lift their eyes towards the sky in Prayer should avoid it or they would lose their eyesight.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو معاویہ نے الاعمش کی سند سے، مسیب کی سند سے، تمیم بن طَرفہ سے,حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جو لوگ نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں وہ ہر صورت ( اپنی اس حرکت سے ) باز آ جائیں ورنہ ( ہو سکتا ہے ان کی نظر ) ان کی طرف نہ لوٹے ( سلب کر لی جائے ۔ ) ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ﷺ said: People should avoid lifting their eyes towards the sky while supplicating in prayer, otherwise their eyes would be snatched away.
مجھ سے ابو الطاہر اور عمرو بن سواد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں لیث بن سعد نے، جعفر بن ربیعہ سے، انہوں نے عبدالرحمٰن العراج کی طرف سے, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ لوگ نماز میں دعا کے وقت اپنی نظریں آسمان کی طرف بلند کرنے سے لازما باز آ جائیں یا ( پھر ایسا ہو سکتا ہے کہ ) ان کی نظریں اچک لی جائیں ۔ ‘ ‘
Jabir bin Samura رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to us and said: How is it that I see you lifting your hands like the tails of headstrong horses? Be calm in prayer. He (the narrator) said: He then again came to us and saw us (sitting) in circles; he said: How is it that I see you in separate groups? He (the narrator) said: He again came to us and said: Why don't you draw yourselves up in rows as angels do in the presence of their Lord? We said: Messenger of Allah, bow do the angels draw themselves up in rows in the presence of their Lord? He (the Holy Prophet) said: They make the first rows complete and keep close together in the row.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا,ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مسیب بن رافع سے ، انہوں نے تمیم بن طرفہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہﷺ نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’ کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں نماز میں اس طرح ہاتھ اٹھاتے دیکھ رہا ہوں ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں؟ ( ہاتھ اٹھا کر دائیں بائیں گھوڑے کی دم کی طرح کیوں ہلاتے ہو ۔ دیکھیے ، حدیث : 970 ۔ 971 ) نماز میں پرسکون رہو ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : پھر آپ ( ایک اور موقع پر ) تشریف لائے اور ہمیں مختلف حلقوں میں بیٹھے دیکھا تو فرمایا : ’’ کیا وجہ ہے کہ تمہیں ٹولیوں میں ( بٹا ہوا ) دیکھ رہا ہوں؟ ‘ ‘ پھر ( ایک اور موقع پر ) تشریف لائے تو فرمایا : ’’ تم اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح بارگاہ الٰہی میں فرشتے صف بستہ ہوتے ہیں؟ ‘ ‘ ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! فرشتے صف بستہ ہوتے ہیں؟ ‘ ‘ ہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! فرشتے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا : ’’ وہ پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ ‘ ‘
This hadith has been narrated by A'mash with the same chain of transmitters.
مجھ سے ابو سعید اشجج نے بیان کیا، انہوں نے وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے ( اپنی اپنی سند سے روایت کرتے ہوئے ) کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث بیان کی.
Jabir bin Samura رضی اللہ عنہ reported:
When we said prayer with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), we pronounced: Peace be upon you and Mercy of Allah, peace be upon you and Mercy of Allah, and made gesture with the hand on both the sides. Upon this the Messenger of Allah (may peace be upon him said: What do you point out with your hands as if they are the tails of headstrong horses? This is enough for you that one should place one's hand on one's thigh and then pronounce salutation upon one's brother on the right side and then on the left.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا, مسعر نے کہا , مجھ سے عبید اللہ ابن قبطیہ نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ، انہوں نے کہا کہ
جب ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تو ہم کہتے : السلام عليكم ورحمة الله ، السلام عليكم ورحمة الله اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے دونوں جانب اشارہ کیا ، چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اپنے ہاتھوں کے ساتھ اشارہ کیوں کرتے ہو ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں؟ تم میں سے ( ہر ) ایک کے لیے بس یہی کافی ہے کہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھے ، پھر اپنے بھائی کو سلام کرے جو دائیں جانب ہے اور ( جو ) بائیں جانب ( ہے ۔ ) ‘ ‘
Jabir bin Samura رضی اللہ عنہ reported:
We said our prayer with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and, while pronouncing salutations, we made gestures with our hands (indicating) Peace be upon you, peace be upon you. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) looked towards us and said: Why is it that you make gestures with your hands like the tails of headstrong horses? When any one of you pronounces salutation (in prayer) he should only turn his face towards his companion and should not make a gesture with his hand.
ہم سے القاسم بن زکریا نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل کے بارے میں,فرات قزاز نے عبید اللہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہم لوگ جب سلام پھیرتے تو ہاتھوں کے اشارے سے السلام عليكم ، السلام عليكم کہتے تھے ، رسول اللہﷺ نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا : ’’کیا وجہ ہے کہ تم ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہو ، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دمیں ہوں؟ تم میں سے کوئی جب سلام پھیرے تو اپنے ساتھی کی طرف رخ کرے اور ہاتھ سے اشارہ نہ کرے ۔ ‘ ‘
Abu Mas'ud رضی اللہ عنہ reported: The Messenger of Allah (may peace he upon him) used to touch our shoulders in prayer and say:
Keep straight, don't be irregular, for there would be dissension in your hearts. Let those of you who are sedate and prudent be near me, then those who are next to them, then those who are next to them. Abu Mas'ud رضی اللہ عنہ said: Now-a-days there is much dissension amongst you.
عبد اللہ بن ادریس ، ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے روایت کی ، انہوں نے عمارہ بن عمیر تیمی سے ، انہوں نے ابو معمر سے اور انہوں نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہﷺ نماز میں ( ہمیں برابر کھڑا کرنے کے لیے ) ہمارے کندھوں کو ہاتھ لگا کر فرماتے : ’’برابر ہو جاؤ اور جدا جدا کھڑے نہ ہو کہ اس سے تمہارے دل باہم مختلف ہو جائیں ، میرے ساتھ تم میں سے پختہ عقل والے دانش مند ( کھڑے ) ہوں ، ان کے بعد وہ جو ( دانش مندی میں ) ان کے قریب ہوں ، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ۔ ‘ ‘ ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آج تم ایک دوسرے سے شدید ترین اختلاف رکھتے ہو ۔
This hadith is narrated by Ibn Uyaina with the same chain of transmitters.
جریر ، عیسیٰ بن یونس اور سفیان بن عیینہ نے ( اعمش سے ) باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔
Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Let those who are sedate and prudent be near me, then those who are next to them (saying it tliree tinies), and beware of the tumult of the markets.
ہم سے یحییٰ بن حبیب الحارثی اور صالح بن حاتم بن وردان نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یزید بن زرعی نے بیان کیا، مجھ سے خالد الحدیث نے بیان کیا، انہوں نے ابو معشر کی سند سے، انہوں نے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی سند سے, علقمہ،حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ میرے ساتھ تم میں سے پختہ عقل والے اور دانش مند کھڑے ہوں ، پھر وہ جو ( اس میں ) ان کے قریب ہوں ( پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ) تین بار فرمایا : اور تم بازاروں کے گڈ مڈ گروہ ( بننے ) سے بچو ۔ ‘ ‘
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Straighten your rows. for the straightening of a row is a part of the perfection of prayer.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا,قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’اپنی صفوں کو برابر کیا کرو کیونکہ صفوں کا برابر کرنا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Complete the rows, for I can see you behind my back.
ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا,عبد العزیز نے ، جو صہیب کے بیٹے ہیں ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’صفیں پوری کرو ، میں اپنی پیٹھ پیچھے تمہیں دیکھتا ہوں ۔ ‘ ‘