Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When anyone amongst you utters Amin in prayer and the angels in the sky also utter Amin, and this (utterance of the one) synchronises with (that of) the other, all his previous sins are pardoned.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے عمرو نے بیان کیا,ابو یونس ( سلیم بن جبیر ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی نماز میں آمین کہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہیں اور ایک آمین دوسری کے موافق ہو جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔ ‘ ‘
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When anyone amongst you utters Amin and the angels In the heaven also utter Amin and (the Amin) of the one synchronises with (that of) the other, all his previous sins are pardoned.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعنبی نے بیان کیا، کہا ہم سے المغیرہ نے بیان کیا، ان سے ابو الزناد نے، ان سے العرج نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے ایک شخص آمین کہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہیں اور آمین دوسری کے موافق ہو جائے تو اس شخص کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں
A hadith like this is transmitted by Ma'mar from Hammam bin Munabbih on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ who reported it from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا,ہمام بن منبہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( گزشتہ حدیث ) کی طرح حدیث بیان کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When the reciter (Imam) utters: Not of those on whom (is Thine) wrath and not the erring ones, and (the person) behind him utters Amin and his utterance synchronises with that of the dwellers of heavens, all his previous sins would be pardoned.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب نے، یعنی ابن عبدالرحمٰن نے بیان کیا,سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب قاری ﴿غير المغضوب عليهم والا الضالين﴾ کہے اور جو اس کے پیچھے ہے وہ ( بھی ) آمین کہے اور اس کا کہنا آسمان والوں کی کہی ہوئی ( آمین ) کے موافق ہو جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔ ‘ ‘
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) fell down from a horse and his right side was grazed. We went to him to inquire after his health when the time of prayer came. He led us in prayer in a sitting posture and we said prayer behind him sitting, and when he finished the prayer hesaid: The Imam is appointed only to be followed; so when he recites takbir, you should also recite that; when he prostrates, you should also prostrate; when he rises up, you should also rise up, and when he said God listens to him who praises Him, you should say: Our Lord, to Thee be the praise, and when he prays sitting, all of you should pray sitting.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب اور ابو کریب نے ہم سے سفیان سے بیان کیا - ابوبکر نے کہا,سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ
نبیﷺ گھوڑے سے گر گئے تو آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ، ہم آپ کے ہاں آپ کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے ، نماز کا وقت ہو گیا تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی ، چنانچھ ہم نے ( آپ کے اشارے پر ، حدیث 926 ۔ 928 ) آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ، پھر جب آپ نے نماز پوری کی تو فرمایا : ’’امام اسی لیے بنایا گیا کہ اس کی اقتدا کی جائے ، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو ، جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو ، جب وہ ( سر ) اٹھائے تو تم ( سر ) اٹھاؤ اور جب وہ سمع الله لمن حمده ( اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی ) کہے تو تم ربنا لك الحمد ( اے ہمارے رب! تیری ہی لیے سب تعریف ہے ) کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) fell down from a horse and he was grazed and he led the prayer for us sitting, and the rest of the hadith is the same.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث ایچ نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا،( سفیان کے بجائے ) لیث نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ گھوڑے سے گر گئے اور آپ کا ایک پہلو چھل گیا تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی .... آگے سابقہ حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) fell down from a horse and his right side was grazed, and the rest of the hadith is the same with the addition of these words: When he (the Imam) says prayer standing, you should also do so.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا,یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
رسول اللہﷺ گھوڑے سے گر گئے اور آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ... پھر ان دونوں حضرات ( سفیان اور لیث ) کی روایت کے مانند روایت کی ، البتہ یونس نے یہ اضافہ کیا : ’’ اور جب وہ ( امام ) کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو.
Anas رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) rode a horse and fell down from it and his right side was grazed, and the rest of the hadith is the same, and (these words) are found in it: When he (the Imam) says prayer in an erect posture, you should also say it in an erect posture.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا,مالک بن انس نے زہری سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے اور اس سے گر پڑے ، اس سے آپ کا دایاں پہلو چھل گیا .... آگے مذکورہ بالا تینوں راویوں کی طرح روایت کی اور اس میں ( بھی یہ ) ہے : ’’ جب وہ ( امام ) کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) fell down from his horse and his right side was grazed, and the rest of the hadith is the same. In this hadith there are no additions (of words) as transmitted by Yunus and Malik.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی،معمر نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
نبیﷺ گھوڑے سے گر پڑے جس سے آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ... آگے سابقہ حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، اس میں یونس اور مالک والا اضافہ نہیں ہے ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) fell ill and some of his Companions came to inquire after his health. The Messenger of Allah (may peace he upon him) said prayer sitting, while (his Companions) said it (behind him) standing. He (the Holy Prophet) directed them by his gesture to sit down, and they sat down (in prayer). After finishing the (prayer) lie (the Holy Prophet) said: The Imam is appointed so that be should be followed, so bow down when lie bows down, and rise rip when he rises up and say (prayer) sitting when he (the Imam) says (it) sitting.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا,عبدہ بن سلیمان نے ہشام ( بن عروہ ) سے روایت کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ بیمار ہو گئے ، آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آپ کی بیمار پرسی کے لیے حاضر ہوئے ۔ رسول اللہﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھی تو انہوں نے آپ کی اقتدا میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنی شروع کی ۔ آپ نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گئے ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو آپ نے فرمایا : ’’ امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ، جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ ( رکوع وسجود سے سر ) اٹھائے تو ( پھر ) تم ( بھی سر ) اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
This hadith is narrated with the same chain of transmitters by Hisham bin 'Urwa.
ہم سے ابو الربیع الزہرانی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن زید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن نمیر نے ہشام بن عروہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was ill and we said prayer behind him and he was sitting. And Abu Bakr رضی اللہ عنہ was making audible to the people his takbir. As he paid his attention towards us he saw us standing and (directed us to sit down) with a gesture. So we sat down and said our prayer with his prayer in a sitting posture. After uttering salutation he said: You were at this time about to do an act like that of the Persians and the Romans. They stand before their kings while they sit, so don't do that; follow your Imams. If they say prayer standing, you should also do so, and if they say prayer sitting, you should also say prayer sitting.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث ایچ نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا،لیث نے ابو زبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ کی بیماری میں ہم نے آپ کے پیچھے اس طرح نماز پڑھی کہ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور حضرت صدیق ا کبر رضی اللہ عنہ مکبر ک کی حیثیت میں تکبیرات كہتے تھے . نماز میں ہمیں کھڑا دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھنے کا حکم دیا تو ہم بیٹھ گئے پھر بعد فراغت نماز ارشاد عالی ہوا تم نے اس وقت وہ کام کیا جیسا کہ فارس اور روم والے اپنے بادشاہ کے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور بادشاہ بیٹھا رہتا ہے . اب آئندہ ایسا نہ کرنا بلکہ ہمیشہ اپنے امام کی پیروی کرو اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو .
Jabir رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) led the prayer and Abu Bakr رضی اللہ عنہ was behind him. When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) recited the takbir, Abu Bakr رضی اللہ عنہ also recited (it) in order to make it audible to us. And the rest of the hadith is like one transmitted by Laith.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن الراوسی نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے اور ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے, حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے ۔ جب رسول اللہﷺ تکبیر کہتے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تکبیر کہتے تاکہ ہمیں سنائیں .... پھر لیث کی مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کیا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The Imam is appointed, so that he should be followed, so don't be at variance with him. Recite takbir when he recites it; bow down when he bows down and when he says: Allah listens to him who praises Him, say: O Allah, our Lord, to Thee be the Praise. And when he (the Imam) prostrates, you should also prostrate, and when he says prayer sitting, you should all observe prayer sitting.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے المغیرہ یعنی الحزامی نے، ہم سے ابو الزناد نے بیان کیا،اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’امام اقتدا ہی کے لیے بنایا گیا ہے ، اس لیے اس کی مخالفت نہ کرو ، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده كہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
A hadith like this has been transmitted by Hammam bin Munabbih from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ .
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا,ہمام بن منبہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت بیان کی ۔
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) while teaching us (the principles of faith), said: Do not try to go ahead of the Imam, recite takbir when he recites it. and when he says: Nor of those who err, you should say Amin, bow down when lie bows down, and when he says: Allah listens to him who praises Him, say: O Allah, our Lord, to Thee be the praise .
اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تعلیم دیتے تھے ، فرماتے تھے : ’’ امام سے آگے نہ بڑھو ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو ، جب وہ ﴿ولا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (a hadith) like it, except the words:
Nor of those who err, say Amin and added: And don't rise up ahead of him.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، یعنی الدراوردی نے,سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنیٰ روایت کی ، سوائے اس حصے کے
’’ جب وہ ﴿ولا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو ‘ ‘ اور یہ حصہ بڑھایا : ’’ اور تم اس سے پہلے ( سر ) نہ اٹھاؤ ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Verily the Imam is a shield, say prayer sitting when he says prayer sitting. And when he says: Allah listens to him who praises Him, say: O Allah, our Lord, to Thee be the praise. and when the utterance of the people of the earth synchronises with that of the beings of heaven (angels), all the previous sins would be pardoned.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، اور اس کا لفظ یہ ہے کہ ہم سے ابی نے بیان کیا، ہم سے شعب نے بیان کیا، ان کی سند سے۔ علی کا جو ابن عطا تھا,ابو علقمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ یقینا امام ایک ڈھال ہے ( تم اس کے پیچھے پیچھے رہو ) ، چنانچہ جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور جب وہ سمع الله لمن حمده كہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو کیونکہ جب زمین والے کا کہا ہوا آسمان والوں کے کہنے کے موافق ہو جائے گا تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying: The Imam is appointed to be followed. So recite takbir when he recites it, and bow down when he bows down and when he utters: Allah listens to him who praises Him, say O Allah, our Lord, for Thee be the praise. And when he prays, standing, you should pray standing. And when he prays sitting, all of you should pray sitting.
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے حیا کی سند سے بیان کیا کہ ,ابو یونس( ابو علقمہ کے بجائے ) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہﷺ سے روایت کرتے سنا کہ
آپﷺ نے فرمایا : ’’امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو ، اور جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی سب کے سب بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
Ubaidullah bin Abdullah reported:
I visited 'A'isha and asked her to tell about the illness of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). She agreed and said: The Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was seriously ill and he asked whether the people had prayed. We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: Put some water in the tub for me. We did accordingly and he (the Holy Prophet) took a bath;and, when he was about to move with difficulty, he fainted. When he came round, he again said: Have the people said prayer? We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) again said: Put some water for me in the tub. We did accordingly and he took a bag, but when he was about to move with difficultyhe fainted. When he came round, he asked whether the people had prayed. We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He said: Put some water for me in the tub. We did accordingly and he took a bath and he was about to move with difficulty when he fainted. When he came roundhe said: Have the people saidprayer? We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. She ('A'isha) said: The people were staying in the mosque and waiting for the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) to lead the last (night) prayer. She ('A'isha) said: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent (instructions) to Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the people in prayer. When the messenger came, he told him (Abd Bakr): The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has ordered you to lead the people in prayer. Abu Bakr رضی اللہ عنہ who was a man of very tenderly feelings asked Umar to lead the prayer. 'Umar said: You are more entitled to that. Abu Bakr led the prayers during those days. Afterwards the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) felt some relief and he went out supported by two men, one of them was al-'Abbas, to the noon prayer. Abu Bakr رضی اللہ عنہ was leading the people in prayer. When Abu Bakr رضی اللہ عنہ saw him. he began to withdraw, but the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) told him not to withdraw. He told his two (companions) to seat him down beside him (Abu Bakr رضی اللہ عنہ). They seated him by the side of Abu Bakr رضی اللہ عنہ. Abu Bakr رضی اللہ عنہ said the prayer standing while following the prayer of the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and the people Bald prayer (standing) while following the prayer of Abu Bakr رضی اللہ عنہ . The Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was seated. Ubaidullah said: I visited 'Abdullah bin 'Abbas رضی اللہ عنہ , and said: Should I submit to you what 'A'isha had told about the illness of the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم )? He said: Go ahead. I submitted to him what had been transmitted by her ('A'isha). He objected to none of it, only asking whether she had named to him the man who accompanied al-'Abbas رضی اللہ عنہ . I said: No. He said: It was 'Ali رضی اللہ عنہ.
ہم سے احمد بن عبداللہ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زائِدہ نے بیان کیا,موسیٰ بن ابی عائشہ نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا : کیا آپ مجھے رسول اللہﷺ کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں! جب ( بیماری کے سبب ) نبی ( کے حرکات وسکنات ) بوجھل ہونے لگے تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ‘ ‘ ہم نے عرض کی : اللہ کے رسول! نہیں ، وہ سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے پانی رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر آپ نے اٹھنے کی کوشش کی تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی ، پھر آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھی لی؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ آپ کے منتظر ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر آپ اٹھنے لگے توآپ پر غشی طاری ہو کئی ، پھر ہوش میں آئے تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’میرے لیے بڑے طشت میں پانی رکھو ۔ ‘ ‘ ہم نے رکھا تو آپ نے غسل فرمایا : پھر اٹھنے لگے تو بے شہوش ہو گئے ، پھر ہوش میں آئے تو فرمایا : ’’ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ‘ ‘ ہم نے کہا : نہیں ، اللہ کے رسول! وہ رسول اللہﷺ کا انتظار کرر ہے ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : لوگ مسجد میں اکٹھے بیٹھے ہوئے عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہﷺ کا انتظار کر رہے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : پھر رسول اللہﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ پیغام لانے والا ان کے پاس آیا اور بولا : رسول اللہﷺ آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا ، اور وہ بہت نرم دل انسان تھے : عمر! آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ ہی اس کے زیادہ حقدار ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ان دنوں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر یہ ہوا کہ رسول اللہﷺ نے کچھ تخفیف محسوس فرمائی تو دو مردوں کا سہارا لے کر ، جن میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے ، نماز ظہر کے لیے نکلے ، ( اس وقت ) ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے ، اس پر نبیﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور آپ نے ان دونوں سے فرمایا : ’’ مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو ۔ ‘ ‘ ان دونوں نے آپ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نبیﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور نبیﷺ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والے راوی ) عبید اللہ نے کہا : پھر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کی : کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش نہ کروں ، جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے نبی ﷺ کی بیماری کے بارے میں بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا : لاؤ ۔ تو میں نے ان کے سامنے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پیش کی ، انہوں نے اس میں سے کسی بات کا انکار نہ کیا ، ہاں! اتنا کہا : کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے تمہیں اس آدمی کا نام بتایا جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ۔