Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ said:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to place his camel (towards the Ka'ba) and said prayer in its direction.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، انہوں نے کہامعتمر بن سلیمان نے عبید اللہ سے ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی اکرمﷺ ( بوقت ضرورت ) اپنی سواری کو سامنے کر کے ( بٹھا لیتے اور ) اس کی طرف ( منہ کر کے ) نماز پڑھ لیتے
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to say prayer towards his camel. Ibn Numair said: The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said prayer towards the camel.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں ابو خالد احمر نے عبید اللہ سے ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی اکرمﷺ ( کبھی کبھی ) اپنی سواری کو سامنے رکھتے ہوئے نماز پڑھ لیتے تھے ۔ اور ( محمد ) بن نمیر نے کہا : نبی اکرمﷺ نے اونٹ کو سامنے رکھتے ہوئے ( قبلہ رو ہو کر ) نماز پڑھی ۔
Abu Juhaifa reported it on the authority of his father:
I came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in Mecca and he was (at that time) at al- Abtah in a red leather tent. And Bilal رضی اللہ عنہ stepped out with ablution water for him. (And what was left out of that water) some of them got it (whereas others could not get it) and (those who got it) rubbed themselves with it. Then the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stepped out with a red mantle on him and I was catching a glimpse of the whiteness of his shanks. The narrator said: He (the Holy Prophet) performed the ablution. and Bilal رضی اللہ عنہ pronounced Adhan and I followed his mouth (as he turned) this side and that as he said on the right and the left: Come to prayer, come to success. ' A spear was then fixed for him (on the ground). He stepped forward and said two rak'ahs of Zuhr, while there passed in front of him a donkey and a dog, and these were not checked. He then said two rak'ahs of the 'Asr prayer, and he then continued saying two rak'ahs till he came back to Medina.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے وکیع کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے زہیر وکیع نے بیان کیا, سفیان نے بیان کیا : ہمیں عون بن ابی جحیفہ نے اپنے والد ( حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
میں مکہ میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا ، آپ ابطح کے مقام پر چمڑے کے ایک سرخ خیمے میں ( قیام پذیر ) تھے ۔ ( ابو جحیفہ نے ) کہا : بلال رضی اللہ عنہ آپ کے وضو کا پانی لے کر باہر آئے ( بعد ازاں جب آپ نے وضو کر لیا تو ) اس میں سے کسی کو پانی مل گیا اور کسی نے ( دوسرے سے اس کی ) نمی لے لی ۔ انہوں نے کہا : پھر نبی اکرمﷺ سرخ حلہ ( لباس کے اوپر لمبا چوغہ ) پہنے ہوئے نکلے ، ( ایسا لگتا ہے ) جیسے ( آج بھی ) میں آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں ۔ آپ نے وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی ، انہوں نے کہا : میں بھی ان کے منہ پیچھے اس طرح اور اس طرف رخ کرنے لگا ، ( جب ) وہ حي على الصلاة اور حي على الفلاح کہہ رہے تھے تو انہوں نے دائیں بائیں رخ کیا ، کہا : پھر آپ کے لیے نیزہ گاڑا گیا اور آپ نے آگے بڑھ کر ظہری کی دو رکعتیں ( قصر ) پڑھائیں ، آپ کے آگے سے گدھا اور کتا گزر تا تھا ، انہیں روکا نہ جاتا تھا ، پھر آپ نے عصر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر مدینہ واپسی تک مسلسل دو رکعتیں ہی پڑھاتے رہے ۔
Abu Juhaifa reported on the authority of his father:
I saw the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (in Mecca at al-Abtah) in a red leather tent. and I saw Bilal take the ablution water (left by Allah's Messenger), and I saw the people racing, with one another to get that ablution water. If anyone got some of it, he rubbed himself with it, and anyone who did not get any got some of the moisture from his companion's hand. I then saw Bilal take a staff and fix it in the ground, after which the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came out quickly in a red mantle and led the people in two rak'ahs facing the staff, and I saw people and animals passing in front of the staff.
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے اس کے متعلق بیان کیا, عمر بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہ مجھے عون بن ابی جحیفہ نے حدیث بیان کی کہ
ان کے والد نے رسول اللہﷺ کو چمڑے کے سرخ خیمے میں دیکھا ( کہا : ) اور میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ آپ کے وضو کا پانی باہر لے آئے تو میں نے دیکھا لوگ اس پانی کو لینے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں ، جس کو اس سے کچھ پانی مل گیا اس نے اس کو بدن پر مل لیا اور جس کو اس سے نہ ملا تو اس نے اپنے ساتھ کے ہاتھ کی نمی سے نمی حاصل کر لی ، پھر میں نے بلال کو دیکھا انہوں نے ایک نیزہ نکالا اور کو گاڑ دیا ، رسول اللہﷺ سرخ حلہ پہنے ہوئے نکلے جو آپ نے پنڈلیوں تک اونچا کیا ہوا تھا ، آپ نے نیزے کی طرف رخ کر کے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور میں نے لوگوں اور چوپایوں کو نیزے کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا ۔
Aun bin Abu Juhaifa narrated from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on the authority of his father a hadith like that of Sufyan, and 'Umar bin Abu Za'ida made this addition: Some of them tried to excel the others (in obtaining water), and in the hadith transmitted by Malik bin Mighwal (the words are):
When it was noon, Bilal came out and summoned (people) to (noon) prayer.
مجھ سے اسحاق بن منصور اور عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا,ابو عمیس نے اور مالک بن مغول دونوں نے اپنی اپنی سند سے عون بن ابی جحفہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرمﷺ سے سفیان اور عمرو بن ابی زائدہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ہے ۔ ان ( چاروں سفیان ، عمر ، ابو عمیس اور مالک ) میں بعض دوسروں سے زائد الفاظ بیان کرتے ہیں ۔ مالک بن مغول کی حدیث میں ہے
جب دوپہر کا وقت ہوا تو بلال نکلے اور نماز کے لیے اذان دی ۔
Abu Juhaifa رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) went at noon towards al-Batha', he performed ablution, and said two rak'ahs of the Zuhr prayer and two of the 'Asr prayer, and there was a spear in front of him. Shu'ba said and Aun made this addition to it on the authority of his father Abu Juhaifa: And the woman and the donkey passed behind it.
ہم سے محمد بن المثنی اور محمد بن بشار نے بیان کیا, محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا
سخت گرمی کے وقت رسول اللہﷺ بطحا کی طرف نکلے ، وضو کر کے اس عالم میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے سامنے نیزہ تھا ۔ شعبہ نے کہا : عون نے اپنے والد ابو جحیفہ سے ( روایت کرتے ہوئے ) یہ اضافہ کیا کہ نیزے کی دوسری طرف سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے ۔
Shu'ba narrated the same on the basis of two authorities and in the hadith transmitted by Hakam (the words are):
The people began to get water that was left out of his (the Prophet's) ablution.
مجھ سے زہیر بن حرب اور محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا, ( عبد الرحمان ) بن مہدی نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) شعبہ نے ہمیں ( حکم اور عون کی ) دونوں سندوں کے ساتھ سابقہ حدیث کی مانند حدیث بیان کی اور انہوں نے ( ابن مہدی ) نے حکم کی حدیث میں یہ اضافہ کیا
تو لوگ آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی میں سے ( پانی ) لینے لگے ۔
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما reported:
I came riding on a she-ass, and I was on the threshold of maturity, and the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was leading people in prayer at Mina. I passed in front of the row and got down, and sent the she-ass for grazing and joined the row, and nobody made any objection to it.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا,مالک نے ابن شاب سے ، انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں گدھی پر سوار ہو کر آیا ، ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا ، رسول اللہﷺ منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، میں صف کے سامنے سے گزرا اور اتر کر گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا اور صف میں داخل ہو گیا تو مجھے کسی نے اس پر نہیں ٹوکا ۔
Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما reported:
He came riding on a donkey, and the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was leading the people in prayer at Mina on the occasion of the Farewell Pilgrimage and (the narrator) reported: The donkey passed in front of the row and then he got down from it And joined the row along with the people.
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ انہیں حضرت عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے جبکہ رسول اللہﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، انہوں نے کہا : گدھا صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرا ، پھر وہ اس سے اتر کر لوگوں کے ساتھ صف میں مل گئے.
This hadith has been narrated by Ibn 'Uyaina on the authority of al-Zuhri with the same chain of transmitters and he reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was leading prayer at 'Arafa.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، عمرو النقید اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا,سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ روایت بیان کی ، کہا
نبی اکرمﷺ عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے ۔ ( ابن عباس اپنی سواری پر حج کر رہے تھے ۔ یہ واقعہ ان کے ساتھ غالبا منیٰ اور عرفہ دونوں مقامات پر پیش آیا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺ کےلیے ہر جگہ سترے کا اہتمام کیا جاتا تھا ۔ )
This hadith has been reported by Ma'mar on the authority of al-Zuhri with the came chain of transmitters:
But here no mention has been made of Mina or 'Arafa, and he said: It was in the Farewell Pilgrimage or on the Day of Victory.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا,معمر نے بھی زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ہے اور
اس میں منیٰ یا عرفہ کا تذکرہ کرنے کے بجائے حجۃ الوداع یا فتح مکہ کے دن کا ذکر کیا ہے
Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When any one of you prays he should not let anyone pass in front of him (if there is no sutra), and should try to turn him away as far as possible, but if he refuses to go, he should turn him away forcibly for he is a devil.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے مالک کو پڑھا,عبد الرحمان بن ابی سعید نے ( اپنے والد ) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو آگے سے نہ گزرنے دے اور جہاں تک ممکن ہو اس کو ہٹائے اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ ‘ ‘ ( مقصود یہ تھا کہ لوگوں کو اس گناہ سے ہر قیمت پر بچایا جائے اور نماز کی حرمت کا اہتمام کیا جائے ۔ )
Abu Salih al-Samman reported:
I narrate to you what I heard and saw from Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ : One day I was with Abu Sa'id رضی اللہ عنہ and he was saying prayer on Friday turning to a thing which concealed him from the people when a young man from Banu Mu'ait came there and he tried to pass in front of him; he turned him back by striking his chest. He looked about but finding no other way to pass except in front of Abu Sa'id رضی اللہ عنہ , made a second attempt. He (Abu Sa'id) turned him away by Striking his chest more vigorously than the first stroke. He stood up and had a scuffle with Abu Sa'id. Then the people gathered there He came out and went to Marwan and complained to him what had happened to him. Abu Sa'id too came to Marwan. Marwin said to him: What has happened to you and the son of your brother that he came to complain against you? Abu Sa'id رضی اللہ عنہ said: I heard from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying: When any one of you prays facing something which conceals him from people and anyone tries to pass in front of him, he should be turned away, but if he refuses, he should be forcibly restrained from it, for he is a devil.
ہم سے شیبان بن فرخ نے بیان کیا، ہم سے سلیمان بن مغیرہ نے بیان کیا، ہم سےابن ہلال ، یعنی حمید نے کہا ایک دن میں اور میرا ایک ساتھی ایک حدیث کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے کہ ابو صالح سمان کہنے لگے
میں تمہیں حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے سنی اور ( ان کا عمل ) جو ان سے دیکھا ۔ کہا : ایک موقع پر ، جب میں حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کےساتھ تھا اور وہ جمعہ کے دن کسی چیز کی طرف ( رخ کر کے ) ، جو انہیں لوگوں سے ستر ہ مہیا کر رہی تھی ، نماز پڑھ رہے تھے ، اتنے میں ابو معیط کے خاندان کا ایک نوجوان آیا ، اس نے ان کے آگے سے گزرنا چاہا تو انہوں نے اسے اس کے سینے سے ( پیچھے ) دھکیلا ۔ اس نے نظر دوڑائی ، اسے ابو سعید رضی اللہ عنہ کے سامنے سے ( گزرنے ) کے سوا کوئی راستہ نہ ملا ، اس نے دوبارہ گزرنا چاہا تو انہوں نے اسے پہلی دفعہ سے زیادہ شدت کے ساتھ اس کے سینے سے پیچھے دھکیلا ، وہ سیدھا کھڑا ہو گیا اور ابو سعید رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا ، پھر لوگوں کی بھیڑ میں گھستا ہوا نکل کر مروان کےسامنے پہنچ گیا اور جو ان کے ساتھ بیتی تھی اس کی شکایت کی ، کہا : ابو سعید رضی اللہ عنہ بھی مروان کے پاس پہنچ گئے تو اس نے ان سے کہا : آپ کا اپنے بھتیجے کا ساتھ کیا معاملہ ہے؟ وہ آ کر آپ کی شکایت کر رہا ہے ۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب تم میں سے کوئی لوگوں سے کسی چیز کی اوٹ میں نماز پڑھے اور کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو وہ اسے اس کے سینے سے دھکیلے اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ یقیناً شیطان ہے ۔ ‘ ‘
Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When any one of you prays, he should not allow anyone to pass before him, and if he refuses, he should be then forcibly resisted, for there is a devil with him.
مجھ سے ہارون بن عبداللہ اور محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا,اسماعیل بن ابی فدیک نے ضحاک بن عثمان سے ، انہوں نے صدقہ بن یسار سے ، اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے ، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے کیونکہ اس کی معیت میں ( اس کا ) ہمراہی ( شیطان ) ہے ۔
This hadith has been narrated by Ibn Umar رضی اللہ عنہما by another chain of transmitters.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو بکر حنفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ضحاک بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے صدقہ بن یسار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، کچھ ایسا ہی کہا۔
Busr bin Sa'id reported that Zaid bin Khalid al-Juhani sent him to Abu Juhaim in order to ask him what he had heard from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) with regard to the passer in front of the worshipper. Abu Juhaim رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If anyone who passes in front of a man who is praying knew the responsibility he incurs, he would stand still forty (years) rather than to pass in front of him Abu Nadr said: I do not know whether he said forty days or months or years.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا امام مالک کے ابو نضر سے اور انہوں نے بسر بن سعید سے روایت کی کہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے انہیں ابو جہیم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا تاکہ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا تھا؟ ابو جہیم رضی اللہ عنہ نے کہا
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کس قدر ( گناہ ) ہے تو اسے چالیس ( سال ) تک کھڑے رہنا ، اس کے آگے گزرنے سے بہتر ( معلوم ) ہو ۔ ‘ ‘ ابو نضر نے کہا : مجھے معلوم نہیں ، انہوں نے چالیس دن کہا یا ماہ یا سال ۔ ( مسند بزار میں چالیس سال کے الفاظ ہیں ۔ )
This hadith has been narrated from Abu Juhaim Ansari رضی اللہ عنہ by another chain of transmitters.
ہم سے عبداللہ بن ہاشم بن حیان العبدی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا,سفیان نے ابو نضر سالم سے اور انہوں نے بسر بن سعید سے روایت کی کہ زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے ( انہیں ) ابو جہیم انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ( تاکہ پوچھے ) کہ آپ نے نبی اکرمﷺ کو کیا فرماتے سنا .... پھر ( سفیان نے ) مالک کی روایت کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی ۔
Sahl b. Sa'd al-Si'idi reported: Between the place of worship where the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) prayed and the wall, there was a gap through which a goat could pass.
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ کے سجدے کی جگہ اور دیوار کی درمیان بکری گزرنے کے برابر فاصلہ تھا ۔
Salama bin Akwa' رضی اللہ عنہ reported:
He sought the place (in the mosque) where the copies of the Qur'an were kept and glorified Allah there, and the narrator made a mention that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sought that place and that was between the pulpit and the qibla-a place where a goat could pass.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن المثنی نے بیان کیا اور یہ قول ابن المثنیٰ نے کہا: انہوں نے ہمیں خبر دی، اور ابن المثنی نے کہا, حماد بن مسعدہ نے یزید بن ابی عبید سے اور انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
وہ ( سلمہ رضی اللہ عنہ ) کوشش کر کے ( مسجد نبوی میں ) اس جگہ نفلی نماز پڑھتے جہاں مصحف ( رکھا ہوا ) تھا اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ اسی جگہ کی کوشش فرماتے تھے اور ( یہاں ) منبر اور قبلے کی دیوار کے درمیان بکری کے راستے کے برابر فاصلہ تھا ۔
Yazid reported:
Salama رضی اللہ عنہ sought to say prayer near the pillar which was by that place where copies of the Qur'an were kept. I said to him: Abu Muslim. I see you striving to offer your prayer by this pillar. He said: I saw the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) seeking to pray by its side.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا مکی ( بن ابراہیم ) نے کہا : ہمیں یزید بن ابی عبید نے خبر دی ، انہوں نے کہا
حضرت سلمہ ( بن اکوع ) رضی اللہ عنہ اس ستون کے پاس نماز پڑھنے کی جستجو کرتے جو مصحف کے پاس تھا ۔ میں نے ان سے کہا : اے ابو مسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ اس ستون کے پاس نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ کو اس کے قریب نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے دیکھا ہے