It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Were it not that it would be too difficult for my Ummah (nation), I would have commanded them to use the tooth stick at every time of prayer.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ اور عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ بن عمر سے اور سعید بن ابی سعید المقبری کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah used to pray in the night (Qiyamul-Lail) two Rak'ah by two, then when he finished he would use the tooth stick.
ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے عثام بن علی نے العمش کی سند سے، حبیب بن ابی ثابت کی سند سے، سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے، پھر ہر دو رکعت کے بعد لوٹتے اور مسواک کرتے ۔
It was narrated from Abu Umamah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah said: Use the tooth stick, for the tooth stick purifies the mouth and is pleasing to the Lord. Jibril never came to me but he advised me to use the tooth stick, until I feared that it would be made obligatory for me and my Ummah. Were it not that I fear that it would be too difficult for my Ummah, I would have enjoined it upon them. And I use the tooth stick until I fear that I may make the front of my mouth sore.' (i.e. my gums) (or cause my teeth to fall out due to brushing them so often).
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن شعیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن ابی عاتکقہ نے بیان کیا، وہ علی بن یزید کی سند سے، وہ القاسم کی سند سے, ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسواک کرو اس لیے کہ مسواک منہ کو پاک کرنے کا ذریعہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا سبب ہے، جبرائیل جب بھی میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے مسواک کی وصیت کی، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں میرے اور میری امت کے اوپر اسے فرض نہ کر دیا جائے، اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ مجھے ڈر ہے کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو امت پر مسواک کو فرض کر دیتا، اور میں خود اس قدر مسواک کرتا ہوں کہ مجھے ڈر ہونے لگتا ہے کہ کہیں میں اپنے مسوڑھوں کو نہ چھیل ڈالوں ۔
It was narrated from Miqdam bin Shuraih bin Hani' that his father said:
I said to 'Aishah رضی اللہ عنہا : 'Tell me, what was the first thing that the Messenger of Allah did when he entered upon you?' She said: 'The first thing he would do would be to use the tooth stick.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے شارق نے بیان کیا، مقدام بن شریح بن ہانی نے، اپنے والد سے
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ مجھے بتائیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں آپ کے پاس جاتے تھے تو سب سے پہلے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ جب بھی آتے تھے پہلے مسواک کرتے تھے۔
It was narrated that 'Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ said:
Your mouths are the paths of the Qur'an, so perfume them with the tooth stick.
ہم سے محمد بن عبد العزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے بحر بن کنیز نے بیان کیا، وہ عثمان بن سج سے اور سعید بن جبیر سے, علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
تمہارے منہ قرآن کے راستے ہیں ( تم اپنے منہ سے قرآن کی تلاوت کرتے ہو ) لہٰذا اسے مسواک کے ذریعہ پاک رکھا کرو۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'The deeds connected to the Fitrah are five (or five things are connected to the Fitrah): circumcision, shaving the pubic hairs, clipping the nails, plucking the armpit hairs and trimming the mustache.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے، وہ سعید بن مسیب کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت ہیں ، یا پانچ باتیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، ناخن تراشنا، بغل کے بال اکھیڑنا، مونچھوں کے بال تراشنا ۔
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah said: 'Ten things are connected to the Fitrah: trimming the mustache, letting the beard grow, using the tooth stick, rinsing out the nostrils with water, clipping the nails, washing the joints, plucking the armpit hairs, shaving the pubic hairs, washing the private parts with water.' (One of the narrators) Zakariyya said: Mus'ab said: 'I have forgotten the tenth thing, but it may have been rinsing out the mouth.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زکریا بن ابی زیدہ نے بیان کیا، وہ مصعب بن شیبہ سے، طلق بن حبیب نے ابو الزبیر سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس چیزیں فطرت میں سے ہیں: مونچھوں کے بال تراشنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، موئے زیر ناف صاف کرنا، اور پانی سے استنجاء کرنا ۔ زکریا نے کہا کہ مصعب کہتے ہیں: میں دسویں چیز بھول گیا، ہو سکتا ہے وہ کلی کرنا ہو۔
It was narrated from 'Ammar bin Yasir رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah said: Part of the Fitrah is rinsing out the mouth, rinsing out the nostrils, using the tooth stick, trimming the mustache, clipping the nails, plucking the armpit hairs, shaving the pubic hairs, washing the joints, washing the private parts and circumcision.' (Da'if) Another chain with similar wording.
ہم سے سہل بن ابی سہل اور محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الولید نے بیان کیا, ہم سے حماد نے علی بن زید سے اور سلمہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے, عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا، مونچھ کاٹنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کا بال صاف کرنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، اور وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارنا، اور ختنہ کرانا فطرت میں سے ہیں ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
We were given a time limit with regard to trimming the mustache, shaving the pubic hairs, plucking the armpit hairs and clipping the nails. We were not to leave that for more than forty days.
ہم سے بشر بن ہلال الصو اف نے بیان کیا، کہا ہم سے جعفر بن سلیمان نے بیان کیا، وہ ابو عمران الجونی کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہمارے لیے مونچھوں کے تراشنے، موئے زیر ناف مونڈنے، بغل کے بال اکھیڑنے، اور ناخن تراشنے کے بارے میں وقت کی تعیین کر دی گئی ہے کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۔
It was narrated that Zaid bin Arqam رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'These Hushush (waste areas) are visited (by devils), so when anyone of you enters, let him say: 'Allahumma inni a`udhu bika minal-khubthi wal-khaba'ith (O Allah, I seek refuge with You from male and female devils).' (Sahih) Other chains with similar wording.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے قتادہ کی سند سے اور نضر بن انس کی سند سے بیان کیا, زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پاخانہ جنوں کے حاضر ہونے کی جگہیں ہیں، لہٰذا جب کوئی پاخانہ میں جائے تو کہے:«اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» یعنی: اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور جنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔
It was narrated that 'Ali رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'The screen between the Jinn and the nakedness of the sons of Adam is that when a person enters the Kanif, he should say: Bismillah (in the name of Allah).'
ہم سے محمد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے الحکم بن بشیر بن سلمان نے بیان کیا، کہا ہم سے خلاد الصفار نے بیان کیا، انہیں الحکم النصری نے، ابو اسحاق کی سند سے، وہ ابو جحیفہ کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنوں اور بنی آدم ( انسانوں ) کی شرمگاہوں کے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو «بسم اللہ» کہے ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
Whenever the Messenger of Allah entered the toilet, he would say: 'A'udhu Billahi minal-khubthi wa'l-khaba'ith (I seek refuge with Allah from male and female devils).'
ہم سے عمرو بن رافع نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، وہ عبدالعزیز بن صہیب کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ میں داخل ہوتے تو فرماتے: «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» یعنی: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جنوں اور جنیوں کے شر سے ۔
It was narrated from Abu Umamah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah said: None of you should fail to say, when he enters his toilet: 'Allahumma inni a`udhu bika minar-rijsin-najis, al-khabithil-mukhbith, ash-Shaitanir-rajim (O Allah, I seek refuge with You from the filthy and impure, the evil one with evil companions, the accursed Shaitan).' (Da'if) Another chain with a slightly different wording from Ibn Abi Maryam who mentioned similar, but he did not say in his narration: Minar-rijsin-najis (From the filthy and the impure) he only said: Minal-khabithil-mukhbith, ash-Shaitanir-rajim (From the evil one with evil companions, the accursed Shaitan).
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا، وہ عبید اللہ بن زحر کی سند سے، علی بن یزید سے، وہ القاسم کی سند سے, ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو اس دعا کے پڑھنے میں کوتاہی نہ کرے: «اللهم إني أعوذ بك من الرجس النجس الخبيث المخبث الشيطان الرجيم» یعنی: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ناپاک، گندے، برے بدکار راندے ہوئے شیطان کے شر سے ۔
Yusuf bin Abi Burdah رضی اللہ عنہ narrated:
I heard my father say: 'I entered upon 'Aishah رضی اللہ عنہا , and I heard her say: When the Messenger of Allah exited the toilet, he would say: Ghufranaka (I seek Your forgiveness).' (Sahih) Another chain with similar wording.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے یوسف بن ابی بردہ نے بیان کیا، کہا:ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ سے نکلتے تو کہتے:«غفرانك» یعنی: اے اللہ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
Whenever the Prophet exited the toilet, he would say: 'Al-hamdu lillahilladhi adhhaba 'annial-adha wa 'afani (Praise is to Allah Who has relieved me of impurity and given me good health).'
اسے ہارون بن اسحاق نے روایت کیا، اسے عبدالرحمٰن المحربی نے، اسماعیل بن مسلم کی سند سے، حسن اور قتادہ کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ سے نکلتے تو فرماتے: «الحمد لله الذي أذهب عني الأذى وعافاني» یعنی: تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھ سے تکلیف دور کی، اور مجھے عافیت بخشی ۔
Urwah narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah used to remember Allah in all circumstances.
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا بن ابی زیدہ نے اپنے والد سے، وہ خالد بن سلمہ سے، عبداللہ البحیی سے، عروہ کے واسطہ سے,ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا ذکر ہر وقت کرتے تھے ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
When the Prophet entered the toilet, he would take off his ring.
ہم سے نصر بن علی الجھضمی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر حنفی نے بیان کیا، انہیں ہمام بن یحییٰ نے ابن جریج کی سند سے، وہ الزہری کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تھے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے تھے ۔
It was narrated that 'Abdullah bin Mughaffal رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'None of you should urinate in his wash area for most of the insinuating thoughts come from that.' (Da'if) Abu 'Abdullah bin Majah said: ( Abul-Hasan said: 'I heard Muhammed bin Yazid saying:) ''Ali bin Muhammed At-Tanafisi said: 'This (prohibition) applies to cases where the ground (in the place used for washing) was soft. But nowadays this does not apply, because the baths you use now are built of plaster, Saruj and tar; so if a person urinates there then pours water over it, that clears it away, and that is fine.'
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا: ہمیں معمر نے اشعث بن عبداللہ کی سند سے، انہوں نے حسن رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی شخص اپنے غسل خانہ میں قطعاً پیشاب نہ کرے، اس لیے کہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ ابو عبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے علی ابن محمد التنفیسی کو کہتے سنا: یہ صرف حوض پر لاگو ہوتا ہے، لیکن آج نہیں۔ ان کے حمام پلاسٹر، مارٹر اور تارکول سے بنے ہیں۔ اگر کوئی پیشاب کر کے اس پر پانی ڈال دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
It was narrated from Hudhaifah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah came to the garbage dump of some people and he urinated on it standing up.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے شر یک، ہشیم اور وکیع نے، العمش کی سند سے اور ابو وائل کی سند سے بیان کیا, حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے، اور اس پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
Shu'bah narrated from 'Asim from Abu Wa'il from Mughirah bin Shu'bah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah came to the garbage dump of some people and urinated while standing up. (Hasan) Shu'bah said: That day, 'Asim said: 'Amash reported this from Abu Wa'il, from Hudhaifah رضی اللہ عنہ , but he did not remember it (correctly). So I asked Mansur about it, and he narrated it to me from Abu Wa'il, from Hudhaifah رضی اللہ عنہ, that the Prophet came to a dump of some people and urinated while standing.'
اسے اسحاق بن منصور نے روایت کیا ہے، اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے، اسے شعبہ نے روایت کیا ہے، عاصم کی سند سے، ابو وائل کی سند سے, مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑا خانہ پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ شعبہ نے کہا کہ عاصم نے اس دن کہا تھا اور یہ العمش ہیں جنہوں نے ابو وائل کی سند سے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور اسے یاد نہیں تھا۔ چنانچہ میں نے منصور سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے ابو وائل سے حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کوڑے کے ڈھیر پر تشریف لائے جو کچھ لوگوں کے پاس تھا اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔