It was narrated from Umm Kurz رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah said: The urine of a boy should be sprinkled over and the urine of a girl should be washed.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر حنفی نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ بن زید نے بیان کیا، عمرو بن شعیب کی سند سے, ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جائے، اور بچی کا پیشاب دھویا جائے ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
A Bedouin urinated in the mosque, and some of the people rushed at him. The Messenger of Allah said: Do not interrupt him. Then he called for a bucket of water and poured it over (the urine).
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم کو حماد بن زید نے خبر دی، کہا ہم سے ثابت نے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا، تو کچھ لوگ اس کی جانب لپکے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پیشاب نہ روکو اطمینان سے کر لینے دو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگایا، اور اس پر بہا دیا۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
A Bedouin entered the mosque when the Messenger of Allah was sitting there, and (the man) said: 'O Allah, forgive me and Muhammed, and do not forgive anyone else with us.' The Messenger of Allah smiled and said: 'You have placed restrictions on something that is vast.' Then the Bedouin turned away, went to a corner of the mosque, spread his legs and began to urinate. After he had a better understanding, the Bedouin said: 'He got up and came to me, and may my father and mother be ransomed for him, he did not rebuke me nor revile me. He said: This mosque is not for urinating in. Rather it is built for the remembrance of Allah and prayer.' Then he called for a large vessel of water and poured it over the place where he had urinated.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے علی بن مسہر نے، محمد بن عمرو کی سند سے، وہ ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک اعرابی ( دیہاتی ) مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: اے اللہ! میری اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت فرما دے، اور ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز ( یعنی اللہ کی مغفرت ) کو تنگ کر دیا ، پھر وہ دیہاتی پیٹھ پھیر کر چلا، اور جب مسجد کے ایک گوشہ میں پہنچا تو ٹانگیں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، پھر دین کی سمجھ آ جانے کے بعد ( یہ قصہ بیان کر کے ) دیہاتی نے کہا: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، مجھے نہ تو آپ نے ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، صرف یہ فرمایا: یہ مسجد پیشاب کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے ذکر اور نماز کے لیے بنائی گئی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا، تو وہ اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا۔
It was narrated that Wathilah bin Asqa' رضی اللہ عنہ said:
A Bedouin came to the Prophet and said: 'O Allah, have mercy on me and Muhammed, and do not allow anyone else to share in your Mercy.' The Prophet said: 'You have placed restrictions on something that is vast, woe to you!' Then he (the Bedouin) spread his legs and urinated, and the Companions of the Prophet told him to stop, but the Messenger of Allah said: 'Let him be,' then he called for a vessel of water and poured it over (the urine).
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، وہ عبید اللہ ہذلی کی سند سے۔ محمد بن یحییٰ نے کہا: ہمارے نزدیک وہ ابن ابی حمید ہے۔ ہمیں ابو الملیح ہذلی نے اطلاع دی, واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک اعرابی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اے اللہ مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ اپنی رحمت میں کسی کو شریک نہ کر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا، افسوس ہے تم پر یا تمہارے لیے خرابی ہے ، واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ پاؤں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: رکو، رکو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو ( پیشاب کر لینے دو ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگایا اور اس پر بہا دیا ۔
It was narrated that Umm Salamah, the wife of the Prophet, said:
I am a woman whose hem is lengthy, and I may walk through a dirty place. The Messenger of Allah said: 'That which comes after it purifies it.'
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن انس نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عمرہ بن عمرو بن حزم نے بیان کیا, ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کی ام ولد سے روایت ہے کہا
انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ سے پوچھا: میرا دامن بہت لمبا ہے، اور مجھے گندی جگہ میں چلنا پڑتا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ناپاک زمین کے بعد والی زمین اس دامن کو پاک کر دیتی ہے.
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
It was said: O Messenger of Allah, we want to come to the mosque, but the path that we walk upon is impure. The Messenger of Allah said: Some parts of the earth purify others.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن اسماعیل یشکوری نے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی حبیبہ کی سند سے، داؤد بن حصین نے ابو سفیان کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم مسجد جاتے ہیں تو ناپاک راستے پر ہمارے پیر پڑ جاتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین کا دوسرا ( پاک ) حصہ اسے پاک کر دیتا ہے ۔
It was narrated that a woman from (the tribe of) Banu 'Abdul-Ashhal said:
I said to the prophet: 'Between the mosque and I there is a filthy path.' He said: 'After that is there a cleaner path?' I said: 'Yes.' He said: 'This is (a remedy) for that.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شریک نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن عیسیٰ سے اور موسیٰ بن عبداللہ بن یزید سے, قبیلہ بنو عبدالاشہل کی ایک عورت کہتی ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: میرے اور مسجد کے مابین ایک گندا راستہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے بعد اس سے صاف راستہ ہے ، میں نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کے بدلے ہے ۔
It was narrated from Abu Rafi' that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
He was met by the Prophet in one of the streets of Al-Madinah when he was in a state of sexual impurity, so he slipped away. The Prophet missed him, so when he came (later on), he said: 'Where were you O Abu Hurairah?' He said: 'O Messenger of Allah, you met me when I was in a state of sexual impurity, and I did not want to sit with you until I had a bath. The Messenger of Allah said: 'The believer does not become impure.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن الیہ نے بیان کیا، انہوں نے حمید کی سند سے، وہ بکر بن عبداللہ نے، ابو رافع کی سند سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ جنبی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کے کسی راستے میں انہیں ملے، تو وہ چپکے سے نکل لیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غائب پایا، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟ ، کہا: اللہ کے رسول! آپ سے ملاقات کے وقت میں جنبی تھا، اور بغیر غسل کئے آپ کی محفل میں بیٹھنا مجھے اچھا نہیں لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ناپاک نہیں ہوتا ۔
It was narrated that Hudhaifah رضی اللہ عنہ said:
The Prophet came out and met me when I was sexually impure, so I kept away from him. Then I had a bath and came to him. He said: 'What is the matter with you?' I said: 'I was sexually impure.' The Messenger of Allah said: 'The Muslim does not become impure.'
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا اور ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی، ان سب نے مسعر کی سند سے، واصل الاحدب کی سند سے، ابو وائل کی سند سے, حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ کی مجھ سے ملاقات ہو گئی اور میں جنبی تھا، میں کھسک لیا، پھر غسل کر کے حاضر خدمت ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا تھا؟ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ۔
It was narrated that 'Amr bin Maimun said:
I asked Sulaiman bin Yasar about a garment which gets semen on it. 'Should I wash it off or wash the entire garment?' Sulaiman said: 'Aishah رضی اللہ عنہا said: Semen used to get on the garment of the Messenger of Allah and he would wash it off his garment, then he would go out to pray wearing that garment, and I could see the marks left on it by washing.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا, عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ
میں نے سلیمان بن یسار سے سوال کیا: اگر کپڑے میں منی لگ جائے تو ہم صرف اتنا ہی حصہ دھوئیں یا پورے کپڑے کو؟ سلیمان نے کہا: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں منی لگ جاتی تو اس حصے کو دھو لیتے، پھر اسی کو پہن کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے، اور میں اس کپڑے میں دھونے کا نشان دیکھتی تھی۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
I often scraped it (semen) from the garment of the Messenger of Allah with my hand.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن طریف نے بیان کیا، ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سب نے العمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے اور ہمام بن حارث کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
بعض اوقات میں اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچ دیا کرتی تھی۔
Hammam bin Harith narrated:
A guest came and stayed with 'Aishah رضی اللہ عنہا , and she ordered that he be given a yellow blanket of hers. He had a nocturnal emission on it, and he felt too shy to send it back to send it back to her when it had the traces of that emission on it, so he dipped it in water and then sent it to her. 'Aishah رضی اللہ عنہا said: 'Why did he spoil our garment? It would have been sufficient for him to scrape it off with his finger. I often scraped it (semen) from the garment of the Messenger of Allah with my finger.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو معاویہ نے العمش کی سند سے اور ابراہیم کی سند سے بیان کیا, ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مہمان آیا، انہوں نے مہمان کے لیے اپنی پیلی چادر دینے کا حکم دیا، اسے اس چادر میں احتلام ہو گیا، اسے شرم محسوس ہوئی کہ وہ چادر کو اس حال میں بھیجے کہ اس میں احتلام کا نشان ہو، اس نے چادر پانی میں ڈبو دی، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا؟ اسے تو انگلی سے کھرچ دینا کافی تھا، میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی اپنی انگلی سے کھرچی ہے۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
I remember when I found it (semen) on the garment of the Messenger of Allah and I scratched it off.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشیم نے مغیرہ کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، اسود سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
اگر میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں منی لگی دیکھتی تو اسے کھرچ دیتی تھی ۔
It was narrated from Mu'awiyah bin Abu Sufyan رضی اللہ عنہما that:
He asked his sister Umm Habibah رضی اللہ عنہا , the wife of the Prophet: Did the Messenger of Allah ever offered prayer in a garment in which he had sexual intercourse? She said: Yes, if there was nothing noxious on it.
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، وہ یزید بن ابی حبیب سے، سوید بن قیس نے معاویہ بن حدیج کی سند سے, معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھتے تھے؟ کہا: ہاں، لیکن ایسا تب ہوتا تھا جب کپڑوں میں گندگی نہ لگی ہوتی تھی۔
It was narrated that Abu Darda' رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah came out to us with water dripping from his head, and he led us in prayer wearing a single garment, placing its one end on the right shoulder, and the other end on the other shoulder. When he finished praying, 'Umar bin Khattab said to him: 'O Messenger of Allah, did you lead us in prayer wearing a single garment? He said: 'Yes, I perform prayer in it, and in it I (i.e. I had sexual intercourse in it).
ہم سے ہشام بن خالد الازرق نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بن یحییٰ خشنی نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن واقد نے بیان کیا، وہ بسر بن عبید اللہ سے اور ابو ادریس خولانی کی سند سے, ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، آپ نے ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھائی، جسے آپ اس طرح لپیٹے ہوئے تھے کہ اس کا داہنا کنارا بائیں کندھے پر اور بایاں داہنے کندھے پر تھا، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھا لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، میں میں اس کو پہن کر نماز پڑھ لیتا ہوں، اگرچہ اسے پہن کر مباشرت بھی کی ہو ۔
It was narrated that Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ said:
A man asked the Prophet whether he could perform prayer in a garment in which he had intercourse with his wife. He said: 'Yes, unless he sees something on it, in which case he should wash it.'
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن یوسف الزیمی نے بیان کیا اور ہم سے احمد بن عثمان بن حکیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے سلیمان بن عبید اللہ رقی نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا: ہم سے عبید اللہ بن عمرو نے عبد الملک بن عمیر کی سند سے بیان کیا, جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا وہ اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے جس میں بیوی سے صحبت کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مگر یہ کہ اس میں کسی گندگی کا نشان دیکھے تو اسے دھو لے ۔
It was narrated that Hammam bin Harith رضی اللہ عنہ said:
Jarir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ urinated, then he performed ablution and wiped over his leather socks. Someone asked him: 'Do you do this?' He said: 'Why shouldn't I? I saw the Messenger of Allah doing this.' Ibrahim (who narrated it from Hammam) said: They were pleased by the Hadith of Jarir رضی اللہ عنہ because he accepted Islam after the revelation of Ma'idah.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے اور ابراہیم کی سند سے, ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا، ان سے پوچھا گیا: کیا آپ ایسا کرتے ہیں؟ کہا: میں ایسا کیوں نہ کروں جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں: لوگ جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث پسند کرتے تھے، اس لیے کہ انہوں نے سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا، ( کیونکہ سورۃ المائدہ میں پیر کے دھونے کا حکم تھا ) ۔
It was narrated from Hudhaifah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah performed ablution and wiped over his leather socks
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر اور علی بن محمد نے بیان کیا, ہم سے وکیع نے بیان کیا اور ہم سے ابو ہمام الولید بن شجاع بن الولید نے بیان کیا : ہم سے میرے والد ابن عیینہ اور ابن ابی زیدہ نے عماش کی سند سے اور ابو وائل کی سند سے بیان کیا , حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔
It was narrated from 'Urwah bin Mughirah bin Shu'bah from his father Mughirah bin Shu'bah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah went out to relieve himself, and Mughirah followed him with a vessel of water. When he finished relieving himself, he performed ablution and wiped over his leather socks
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، وہ یحییٰ بن سعید نے، وہ سعد بن ابراہیم سے، وہ نافع بن جبیر نے، وہ عروہ بن مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے والد شعبہ کے واسطہ سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، وہ ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لیے، جب آپ اپنی ضرورت سے فارغ ہو گئے، تو وضو کیا، اور موزوں پر مسح کیا۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما that:
He saw Sa'd bin Malik رضی اللہ عنہما wiping over his leather socks and said: Is it you doing this? They both went to 'Umar and Sa'd رضی اللہ عنہ said to 'Umar رضی اللہ عنہ : Give my brother's son a verdict regarding wiping over leather socks. 'Umar رضی اللہ عنہ said: We used to wipe over our leather socks when we were with the Messenger of Allah and we do not see anything wrong with that. Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما said: Even if that is after one has defecated? He said: Yes.
ہم سے عمران بن موسیٰ لیثی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سواع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، وہ ایوب کے واسطہ سے اور نافع سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے سعد بن مالک ( سعد بن مالک ابن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو کہا: کیا آپ لوگ بھی ایسا کرتے ہیں؟ وہ دونوں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اکٹھا ہوئے اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے بھتیجے کو موزوں پر مسح کا مسئلہ بتائیے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہوتے تھے، اور اپنے موزوں پر مسح کرتے تھے، اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: خواہ کوئی بیت الخلاء سے آئے؟ فرمایا: ہاں۔