It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
He came to Ubayy bin Ka'b رضی اللہ عنہ accompanied by 'Umar رضی اللہ عنہ . Ubayy came out to them and said: I noticed some prostatic fluid, so I washed my penis and performed ablution. 'Umar رضی اللہ عنہ said: Is that sufficient? He said: Yes. He ('Umar) asked: Did you hear that from the messenger of Allah? He said: Yes.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے مصعب بن شیبہ نے اور ابو حبیب بن یعلی بن منیہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
وہ عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے۔ وہ ( گھر سے ) باہر تشریف لائے۔ ( بات چیت کے دوران ان میں ابی نے ) فرمایا: مجھے مذی آ گئی تھی تو میں نے عضو خاص کو دھو کر وضو کیا ہے ( اس لیے باہر آنے میں دیر ہوئی ) عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا یہ ( وضو کر لینا ) کافی ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: کیا آپ نے یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( خود ) سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet got up during the night and went to the toilet and relieved himself, then he washed his face and hands, and went back to sleep. (Sahih) Another chain with similar wording
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سفیان کو لزایدہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ سے کہتے سنا: اے ابو الصلت، کیا تم نے اس کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم سے سلمہ بن کہیل نے کریب کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے، بیت الخلاء گئے اور قضائے حاجت کی، پھر اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر سو گئے۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah used to perform ablution for every prayer, and we used to perform all of the prayers with one ablution.
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے شریک نے بیان کیا، عمرو بن عامر کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور ہم ساری نماز ایک وضو سے پڑھ لیا کرتے تھے.
Sulaiman bin Buraidah رضی اللہ عنہ narrated from his father that:
The Prophet used to perform ablution for every prayer, but on the day of the conquest of Makkah, he performed all of the prayers with one ablution
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا, ہم سے وکیع نے بیان کیا، سفیان کی سند سے، محارب بن دثر نے سلیمان کی سند سے, بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنے والد کے سند سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے، لیکن فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وضو سے ساری نماز پڑھیں ۔
Fadl bin Mubashshir said:
I saw Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہما performing every prayer with one ablution, and I said: 'What is this?' He said: 'I saw the Messenger of Allah doing this, and I am doing as the Messenger of Allah did.'
ہم سے اسماعیل بن توبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زیاد بن عبداللہ نے بیان کیا, فضل بن مبشر کہتے ہیں کہ
میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو ایک ہی وضو سے کئی نماز پڑھتے دیکھا، تو میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، چنانچہ میں بھی ویسے ہی کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے ۔
It was narrated that Abu Ghutaif Al-Hudhali said:
I was listening to 'Abdullah bin 'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہما in the mosque, and when the time for prayer came, he got up, performed ablution, and offered prayer, then he went back to where he had been sitting. When the time for 'Asr (Afternnon prayer) came, he got up, performed ablution, and offered prayer, then he went back to where he had been sitting. When the time for Maghrib (Sunset prayer) came, he got up, performed ablution, and offered prayer, then he went back to where he had been sitting. I said: 'May Allah improve you (i.e., your condition) Is it obligatory or Sunnah to perform ablution for every prayer?' He said: 'Did you notice that?' I said: 'Yes.' He said: 'No (it is not obligatory). If I perform ablution for Morning prayer I can perform all of the prayers with this ablution, so as long as I do not get impure. But I heard the Messenger of Allah say: Whoever performs ablution while he is pure, he will have ten merits. So I wanted to earn the merits.'
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن یزید مقری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن زیاد نے بیان کیا, ابوغطیف ہذلی کہتے ہیں کہ
میں نے مسجد میں عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے ان کی مجلس میں سنا، پھر جب نماز کا وقت ہوا، تو وہ اٹھے وضو کیا، اور نماز ادا کی، پھر مجلس میں دوبارہ حاضر ہوئے، پھر جب عصر کا وقت آیا تو اٹھے وضو کیا، اور نماز پڑھی، پھر اپنی مجلس میں واپس آئے، پھر جب مغرب کا وقت ہوا تو اٹھے وضو کیا، اور نماز ادا کی پھر اپنی مجلس میں دوبارہ حاضر ہوئے تو میں نے کہا: اللہ آپ کو سلامت رکھے، کیا یہ وضو ( ہر نماز کے لیے ) فرض ہے یا سنت؟ کہا: کیا تم نے میرے اس کام کو سمجھ لیا اور یہ سمجھا ہے کہ یہ میں نے اپنی طرف سے کیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، بولے: نہیں، ( ہر نماز کے لیے وضو کرنا فرض نہیں ) اگر میں نماز فجر کے لیے وضو کرتا تو اس سے وضو نہ ٹوٹنے تک ساری نماز پڑھتا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص نے وضو ہوتے ہوئے وضو کیا، تو اس کے لیے دس نیکیاں ہیں ، اور مجھ کو ان نیکیوں ہی کا شوق ہے۔
Abbad bin Tamim narrated that his paternal uncle said:
A complaint was made to the Prophet about a man who sensed something (some doubt about his ablution) during prayer. He said: 'No (he does not have to perform ablution) unless he notices a smell or hears a sound.'
ہم سے محمد بن الصباح نے بیان کیا، کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے الزہری کی سند سے اور سعید کی سند سے خبر دی, عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس شخص کا معاملہ لے جایا گیا جس نے نماز میں ( حدث کا ) شبہ محسوس کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، شک و شبہ سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک کہ وہ گوز کی آواز نہ سن لے، یا بو نہ محسوس کرے ۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
The Prophet was asked about doubts (concerning ablution) during prayer. He said: 'he should not leave until he hears a sound or detects an odor.'
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے المحاربی نے بیان کیا، انہیں معمر بن راشد نے، وہ الزہری کی سند سے، انہیں سعید بن المسیب نے خبر دی، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں حدث کا شبہ ہو جانے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک کہ آواز نہ سن لے یا بو نہ محسوس کر لے نماز نہ توڑے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'No ablution (is needed) unless there is an odor or a sound.'
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر اور عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے سہیل بن ابی صالح سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بغیر آواز یا بو کے وضو واجب نہیں ہے ۔
It was narrated that 'Amr bin 'Ata' said:
I saw Sa'ib bin Yazid رضی اللہ عنہما sniffing his garment, and I said: 'Why (are you doing) that?' He said: 'I heard the Messenger of Allah say: No ablution (is needed) unless there is an odor or a sound.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، وہ عبدالعزیز بن عبید اللہ کی سند سے, محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ
میں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہما کو اپنا کپڑا سونگھتے دیکھا، میں نے پوچھا: اس کا سبب کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بغیر بو سونگھے یا آواز سنے وضو واجب نہیں ہے ۔
It was narrated from 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Umar that his father said:
I heard the Messenger of Allah being asked about water in the wilderness that is frequented by beasts and predators. The Messenger of Allah said: If the water reaches the amount of two Qullah, nothing can make it impure (Najis).' (Sahih) Another chain with similar wording.
ہم سے ابوبکر بن خلد باہلی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا: ہمیں محمد بن اسحاق نے خبر دی، وہ محمد بن جعفر بن الزبیر نے، انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر کی سند سے، انہوں نے اپنے والد سے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحراء اور میدان میں واقع ان گڈھوں کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا جن سے مویشی اور درندے پانی پیتے رہتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ( دو بڑے مٹکے کے برابر ) ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔
It was narrated from 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہما that his father said:
The Messenger of Allah said: 'If the water is the amount of two or three Qullah, nothing can make it impure (Najis).' (Sahih) Another chain with similar wording.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے عاصم بن المنذر نے، وہ عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو یا تین قلہ ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
The Prophet was asked about the water basins located between Makkah and Al-Madinah, which were visited by wild animals, dogs and donkeys, and about using them for means of purification. He said: Whatever they (the animals) have carried in their bellies is for them, and whatever is left over is for us, and is pure.
ہم سے ابو مصعب مدنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم نے اپنے والد سے اور عطاء بن یسار سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان جو حوض و تالاب واقع ہیں، اور ان پر درندے، کتے اور گدھے پانی پینے آتے ہیں، تو ایسے حوضوں و تالابوں کا اور ان کے پانی سے طہارت حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ انہوں نے اپنی تہ میں سمیٹ لیا، وہ ان کا حصہ ہے، اور جو پانی حوض ( تالاب ) میں بچا، وہ ہمارے لیے پاک کرنے والا ہے ۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہما said:
We came to a pond in which there was the carcass of a donkey, so we refrained from using the water until the Messenger of Allah came to us and said: 'Water is not made impure by anything.' Then we drank from it and gave it to our animals to drink, and we carried some with us.
ہم سے احمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم سے شریک نے بیان کیا، وہ طائف بن شہاب کی سند سے، انہوں نے کہا: میں نے ابو نضرۃ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم ایک تالاب پر پہنچے تو دیکھا کہ اس میں ایک گدھے کی لاش پڑی ہوئی ہے ہم اس ( کے استعمال ) سے رک گئے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ( یہ سنا ) تو ہم نے پیا پلایا، اور پانی بھر کر لاد لیا۔
It was narrated that Abu Umamah Al-Bahili رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Water is not made impure by anything except that which changes its smell, taste and color.'
ہم سے محمود بن خالد اور عباس بن الولید دمشقیان نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے رشدین نے بیان کیا، ہمیں معاویہ بن صالح نے راشد بن سعد کی سند سے خبر دی, ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی مگر جو چیز اس کی بو، مزہ اور رنگ پر غالب آ جائے ۔
It was narrated that Lubabah bint Harith رضی اللہ عنہا said:
Husain bin 'Ali رضی اللہ عنہما urinated in the lap of the Prophet and I said: 'O Messenger of Allah, give me your garment and put on another garment.' He said: 'Water should be sprinkled on the urine of a baby boy, and the urine of a baby girl should be washed away.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاحواس نے سماک بن حرب سے اور قابوس بن ابی المخارق کی سند سے, لبابہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے اپنا کپڑا دے دیجئیے اور دوسرا کپڑا پہن لیجئیے ( تاکہ میں اسے دھو دوں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کے پیشاب پہ پانی چھڑکا جاتا ہے، اور بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے ۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
A baby boy was brought to the Prophet who then urinated on him. He sprinkled over it with water and did not wash it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا، اس نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، آپ نے اس پر صرف پانی بہا لیا، اور اسے دھویا نہیں.
It was narrated that Umm Qais bint Mihsan رضی اللہ عنہا said:
I came to the Messenger of Allah with a son of mine who was not yet eating solid food, and he (the baby) urinated on him. He called for water and sprinkled it over (the urine).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور محمد بن الصباح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری کی سند سے اور عبید اللہ بن عبد اللہ کی سند سے بیان کیا, ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں اپنے ایک شیرخوار بچے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، آپ نے پانی منگوا کر اس پر چھڑک دیا۔
It was narrated from 'Ali رضی اللہ عنہ that:
The Prophet said concerning the urine of a nursing infant: Water should be sprinkled over the urine of a boy, and the urine of a girl should be washed. Abul-Hasan bin Salamah said: Ahmad bin Musa bin Ma'qil narrated to us that Abul-Yaman Al-Misri said: 'I asked Shafi'i about the Hadith of the Prophet, Water should be sprinkled over the urine of a baby boy, and the urine of a baby girl should be washed, when the two types of water (urine) are the same. He said, This is because the urine of the boy is of water and clay, but the urine of the girl is of flesh and blood. Then he said to me: Did you understand? I said: No. He said: When Allah the Most High created Adam, He created Eve (Hawwa') from his short rib, so the boy's urine is from water and clay, and the girl's urine is from flesh and blood. Then he said to me: Did you understand? I said: Yes. He said: May Allah cause you benefit from this.
ہم سے حوثرہ بن محمد اور محمد بن سعید بن یزید بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، انہیں میرے والد نے قتادہ کی سند سے، ابو حرب بن ابی اسود الدلی سے، اپنے والد سے,علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
دودھ پلانے والے بچے کے پیشاب کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکنا چاہیے اور لڑکی کے پیشاب کو دھونا چاہیے۔ ابوالحسن بن سلمہ نے کہا کہ ہم سے احمد بن موسیٰ بن معقل نے بیان کیا کہ ابوالایمان المصری نے کہا کہ میں نے شافعی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے بارے میں پوچھا کہ بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکنا چاہیے اور بچی کے پیشاب کو دھونا چاہیے جب کہ دونوں قسم کا پانی ایک ہی ہو۔ فرمایا اس لیے کہ لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی کا ہے لیکن لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون کا ہے۔پھر مجھ سے فرمایا: کیا تم سمجھ گئے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو حوا کو ان کی چھوٹی پسلی سے پیدا کیا، تو لڑکے کا پیشاب پانی اور مٹی سے ہے اور لڑکی کا پیشاب گوشت اور خون سے ہے۔ پھر مجھ سے فرمایا: کیا تم سمجھ گئے؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے فائدہ دے۔
Abu Samh رضی اللہ عنہ said:
I was a servant of the Prophet, and Hasan and Husain was brought to him and (the infant) urinated on his chest. They wanted to wash it, but the Messenger of Allah said: 'Sprinkle water on it, for the urine of a girl should be washed, but the urine of a boy should be sprinkled over with water.'
ہم سے عمرو بن علی، مجاہد بن موسیٰ اور عباس بن عبد العظیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے محال بن خلیفہ نے بیان کیا, ابوسمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم تھا، آپ کے پاس حسن یا حسین کو لایا گیا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا، لوگوں نے اسے دھونا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر پانی چھڑک دو، اس لیے کہ بچی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جاتا ہے ۔