Back to Mishkat Al-Masabih

The Rites of Pilgrimage

كتاب المناسك

Chapter 10

Hadith 2685
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ محرم
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حالت احرام میں پچھنے لگوائے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2686
sahih
وَعَن عُثْمَان حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَيْهِ وَهُوَ محرمٌ ضمدهما بِالصبرِ. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عثمان ؓ نے اس آدمی کے بارے میں جس کی حالت احرام میں آنکھیں دکھتی ہوں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے حدیث بیان کی کہ وہ اپنی آنکھوں پر مصبر کا لیپ کر سکتا ہے ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 2687
sahih
وَعَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَتْ: رَأَيْتُ أُسَامَةَ وَبِلَالًا وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ من الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
Urdu

ام الحصین ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے اسامہ ؓ اور بلال ؓ کو دیکھا کہ ان میں سے ایک رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی کی مہار تھامے ہوئے تھا جبکہ دوسرا (چھتری کی طرح) اپنا کپڑا بلند کیے ، آپ کو گرمی سے بچانے کے لیے ، آپ پر سایہ کیے ہوئے تھا حتی کہ آپ نے جمرہ عقبی کو کنکریاں مار لیں ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 2688
sahih
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ وَالْقَمْلُ تهافت عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ: «أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟» . قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ» . وَالْفَرَقُ: ثَلَاثَةُ آصُعٍ: «أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّام أوانسك نسيكة»
Urdu

کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں حدیبیہ کے مقام پر تھا کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے ، میں نے احرام باندھ رکھا تھا اور ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا جبکہ جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہاری جوئیں تمہیں تکلیف دیتی ہیں ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنا سر منڈا لو اور چھ مساکین کو ایک فرق (تقریباً سات کلو) اناج دو یا تین روزے رکھو یا ایک بکری ذبح کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2689
sahih
عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى النِّسَاءَ فِي إِحْرَامِهِنَّ عَنِ الْقُفَّازَيْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثِّيَابِ وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذَلِكَ مَا أحبَّتْ من ألوانِ الثيابِ معصفر أوخز أَو حلي أَو سروايل أَو قميصٍ أَو خُفٍّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عورتوں کو حالت احرام میں دستانے پہننے ، نقاب کرنے اور ورس و زعفران سے رنگ کیے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرماتے ہوئے سنا ، اس کے علاوہ ، وہ زرد رنگ کے یا ریشم کے بنے ہوئے جو کپڑے چاہیں پہن لیں ، یا زیور ، شلوار ، قمیض اور موزے پہن سکتی ہیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2690
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمَاتٌ فَإِذَا جَاوَزُوا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلَى وجهِها فإِذا جاوزونا كشفناهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَلابْن مَاجَه مَعْنَاهُ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوئے تھے ، سوار ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم اپنی چادریں سر سے چہرے پر لٹکا لیتیں اور جب وہ ہمارے پاس سے گزر جاتے تو ہم چہروں سے چادریں اٹھا لیتیں تھیں ۔ ابوداؤد ۔ اور ابن ماجہ میں اس معنی کی روایت ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 2691
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدَّهِنُ بالزيت وَهُوَ محرمٌ غيرَ المقنّتِ يَعني غيرَ المطيَّبِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حالت احرام میں اپنے سر پر ایسا تیل لگا لیا کرتے تھے جس میں خوشبو نہیں ہوتی تھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 2692
sahih
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَجَدَ الْقُرَّ فَقَالَ: ألق عَليّ ثوبا نَافِعُ فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا فَقَالَ: تُلْقِي عَلَيَّ هَذَا وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهُ الْمُحْرِمُ؟ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد؟
Urdu

نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ نے ٹھنڈک محسوس کی تو فرمایا : نافع ! مجھ پر کوئی کپڑا ڈالو ، میں نے ایک جبہ ان پر ڈال دیا تو انہوں نے فرمایا : تم مجھ پر یہ ڈال رہے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محرِم کو اسے پہننے سے منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2693
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ بن بُحَيْنَةَ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِلَحْيِ جَمَلٍ مِنْ طريقِ مكةَ فِي وسط رَأسه
Urdu

عبداللہ بن مالک بن بحینہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حالت احرام میں لحی جمل کے مقام (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) پر اپنے سر کے وسط میں پچھنے لگوائے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2694
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حالت احرام میں پاؤں کی پشت پر تکلیف کی وجہ سے پچھنے لگوائے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 2695
sahih
وَعَن أبي رافعٍ قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ وَبَنَى بِهَا وَهُوَ حَلَالٌ وَكُنْتُ أَنَا الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ
Urdu

ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میمونہ ؓ سے شادی کی تو آپ حالت احرام میں نہیں تھے ، اور جب آپ نے ان سے خلوت کی تب بھی آپ حالت احرام میں نہیں تھے ، اور میں دونوں کے درمیان قاصد و واسطہ تھا ۔ احمد ، ترمذی ۔ اور فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔

Hadith 2696
sahih
عَن الصعب بن جثامة أَنه أهْدى رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّ عَلَيْهِ فَلَمَّا رأى مَا فِي وَجْهَهُ قَالَ: «إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أنَّا حُرُمٌ»
Urdu

صعب بن جثامہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مقام ابواء یا مقام ودان پر ایک جنگلی گدھا رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا آپ نے اسے قبول نہ فرمایا ، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے چہرے پر افسردگی کے آثار دیکھے تو فرمایا :’’ ہم نے اس لیے تمہیں واپس کیا ہے کہ ہم حالت احرام میں ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2697
sahih
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَخَلَّفَ مَعَ بَعْضِ أَصْحَابِهِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَوْا حِمَارًا وَحْشِيًّا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ فَلَمَّا رَأَوْهُ تَرَكُوهُ حَتَّى رَآهُ أَبُو قَتَادَةَ فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ فَسَأَلَهُمْ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا فَتَنَاوَلَهُ فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَعَقَرَهُ ثُمَّ أَكَلَ فَأَكَلُوا فَنَدِمُوا فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ. قَالَ: «هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟» قَالُوا: مَعَنَا رِجْلُهُ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم فَأكلهَا وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا؟ أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا؟» قَالُوا: لَا قَالَ: «فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحمهَا»
Urdu

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ (حدیبیہ کے سال) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے تو وہ اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے ، وہ حالت احرام میں تھے جبکہ وہ خود حالت احرام میں نہیں تھے ، انہوں نے میرے دیکھنے سے پہلے ایک جنگلی گدھا دیکھا ، جب انہوں نے اسے دیکھا تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا حتی کہ ابوقتادہ نے اسے دیکھ لیا ، وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور ان (اپنے ساتھیوں) سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے اس کا کوڑا پکڑا دیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا ، انہوں نے خود اسے لیا اور اس پر حملہ کر دیا اور اسے زخمی کر دیا ، پھر انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اسے کھایا ، لیکن انہیں ندامت و پریشانی ہوئی ، جب وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے تو انہوں نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا اس کا کوئی حصہ تمہارے پاس ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اس کا ایک پاؤں ہمارے پاس ہے ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے لیا اور اسے کھایا ۔ اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی دوسری روایت میں ہے : جب وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم میں سے کسی نے اسے کہا تھا کہ اس پر حملہ کرو ؟ یا اس کی طرف اشارہ کیا ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کا جو گوشت باقی بچا ہے اسے کھاؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2698
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى من قتلَهُنّ فِي الْحل وَالْإِحْرَامِ: الْفَأْرَةُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ
Urdu

ابن عمر ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں حرم میں حالت احرام میں قتل کر دینے پر کوئی گناہ نہیں : چوہیا ، کوّا ، چیل ، بچھو اور کاٹنے والا کتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2699
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحُدَيَّا
Urdu

عائشہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پانچ قسم کے جانور فاسق (نقصان دہ) ہیں ، انہیں حل و حرم ہر حالت میں قتل کیا جائے گا ، سانپ ، کوّا جو سیاہ و سفید ہو ، چوہیا ، کاٹنے والا کتا اور چیل ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2700
sahih
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَحْمُ الصَّيْدِ لَكُمْ فِي الْإِحْرَامِ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَادُ لَكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
Urdu

جابر ؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس شکار کا گوشت تمہارے لیے حالت احرام میں حلال ہے جسے تم نے شکار کیا ہو نہ وہ تمہاری خاطر شکار کیا گیا ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔

Hadith 2701
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْجَرَادُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ٹڈی (مکڑی) سمندری شکار کے زمرے میں ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔

Hadith 2702
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ السَّبُعَ الْعَادِيَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
Urdu

ابوسعید خدری ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مُحرِم چیر پھاڑ کرنے والے درندے کو مار سکتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 2703
sahih
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِيِ عَمَّارٍ قَالَ: سَأَلت جابرَ بنَ عبدِ اللَّهِ عَنِ الضَّبُعِ أَصَيْدٌ هِيَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقُلْتُ: أَيُؤْكَلُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ فَقُلْتُ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حديثٌ حسنٌ صَحِيح
Urdu

عبدالرحمن بن ابی عمار بیان کرتے ہیں ، میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے بجو کے بارے میں سوال کیا وہ شکار ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، میں نے کہا : کیا وہ کھایا جاتا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، میں نے کہا : آپ نے اسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، ترمذی ، نسائی ، شافعی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔

Hadith 2704
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبُعِ؟ قَالَ: «هُوَ صَيْدٌ وَيُجْعَلُ فِيهِ كَبْشًا إِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه والدارمي
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے بجو کھانے کے بارے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ شکار ہے ، اور جب مُحرِم اس کا شکار کرے تو اس کے بدلے اس پر ایک مینڈھا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔