عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم (صحابہ کی جماعت) آپ کے سایہ کے لیے منی میں کوئی کمرہ (سائبان) نہ بنا دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، منیٰ پہلے پہنچ جانے والے کے لیے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
نافع ؒ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ پہلے دو جمروں کے پاس بہت دیر تک ٹھہرتے ، اللہ کی کبریائی بیان کرتے ، اس کی تسبیح و تحمید بیان کرتے اور اللہ سے دعائیں کرتے ، لیکن وہ جمرہ عقبی (بڑے شیطان) کے پاس کھڑے نہیں ہوتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ظہر ذوالحلیفہ کے مقام پر ادا کی ، پھر آپ نے اپنی اونٹنی منگوائی ، آپ نے اس کی کوہان کے دائیں پہلو پر ہلکا سا زخم لگایا ، وہاں سے خون بہنے لگا ، آپ نے وہ خون صاف کر دیا اور اس کی گردن میں دو جوتے ڈال دیے ، پھر آپ اپنی سواری پر سوار ہو گئے ، جب وہ بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے حج کے لیے تلبیہ پکارا ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ چند بکریاں بطور قربانی ، بیت اللہ بھجوائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قلادہ (ہار وغیرہ) پہنایا ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عائشہ ؓ کی طرف سے قربانی کے روز ایک گائے ذبح کی ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے حج کے موقع پر اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ایک گائے ذبح کی ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قربانی کے اونٹوں کے قلادے خود اپنے ہاتھوں سے بٹے ، پھر آپ نے انہیں قلادے پہنائے ، ان کا شعار کیا اور انہیں قربانی کے لیے بھیجا ، اور جو چیز آپ کے لیے حلال کی گئی وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حرام نہیں ہوئی تھی ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے ان کے قلادے ، اون سے تیار کیے جو کہ میرے پاس موجود تھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں میرے والد کے ساتھ (بیت اللہ) روانہ کیا ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو قربانی کا اونٹ ہانکتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس پر سوار ہو جا ۔‘‘ اس نے عرض کیا : یہ تو قربانی کا اونٹ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس پر سوار ہو جا ۔‘‘ اس نے عرض کیا : یہ تو قربانی کا اونٹ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری یا تیسری مرتبہ فرمایا :’’ تجھ پر افسوس ہو ! اس پر سوارہو جا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوزبیر بیان کرتے ہیں ، میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے سنا ، ان سے قربانی کے اونٹ پر سواری کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب تو اس پر سواری کرنے پر مجبور ہو جائے تو پھر سواری ملنے تک بھلے طریقے سے اس پر سواری کر ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ قربانی کے سولہ اونٹ بھیجے اور اسے ان پر امیر مقرر کیا ، تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اگر ان میں سے کوئی چلنے سے عاجز آ جائے تو پھر میں کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے نحر کر دینا اور اس (کےقلادے) کے جوتے اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر نشان لگا دینا اور اس میں سے تم اور تمہارے ساتھی نہ کھائیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اونٹ اور گائے کو سات سات آدمیوں کی طرف سے (بطور قربانی) نحر کیا ۔ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک آدمی کے پاس آئے جو اپنے قربانی کے اونٹ کو بٹھا کر نحرکر رہا تھا ، تو انہوں نے اسے فرمایا :’’ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق اسے کھڑا کرو اور اس کی ٹانگ کو باندھو (پھر نحر کرو) ۔ متفق علیہ ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کروں اور ان کی لگاموں ، چمڑوں اور پالانوں کو صدقہ کر دوں اور قصاب کو اس میں سے کچھ نہ دوں ، فرمایا :’’ ہم اسے اپنے پاس سے دیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم اپنے قربانی کے اونٹوں کا گوشت تین دن سے زائد نہیں کھایا کرتے تھے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں رخصت دی تو فرمایا :’’ کھاؤ اور زادِراہ کے طور پر ساتھ بھی لے جاؤ ۔‘‘ پس ہم نے کھایا اور زادِراہ کے طورپر ساتھ بھی لائے ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے سال قربانی کے جانور بھیجے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قربانی کے جانوروں میں ابوجہل کا اونٹ بھی تھا جس کی ناک میں چاندی کا اورایک دوسری روایت میں ہے کہ سونے کا ایک کڑا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے مشرکین کو غصہ دلانا چاہتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ناجیہ خزاعی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! قربانی کے اونٹوں میں سے کوئی چلنے سے عاجز آ جائے تو کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے نحر کر دینا پھر اس (کے قلادے) کے جوتے اس کے خون میں ڈبو دینا (اور اس کے پہلو پر نشان لگا دینا) پھر اسے لوگوں کے لیے چھوڑدینا تاکہ وہ اسے کھا لیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابوداؤد اور دارمی نے اسے ناجیہ اسلمی سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
عبداللہ بن قرط ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے نزدیک سب سے عظیم دن قربانی کا دن ہے ، پھر (منیٰ میں) قرار پکڑنے (گیارہ ذوالحجہ) کا دن ہے ۔‘‘ ثور ؒ نے فرمایا : اس سے قربانی کا دوسرا دن مراد ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانچ یا چھ قربانی کے اونٹ پیش کیے گئے ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہونے لگے کہ آپ کس سے ابتدا فرمائیں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ پہلوں کے بل گر پڑیں تو آپ نے کوئی ہلکی سی بات کی جسے میں سمجھ نہ سکا ، تو میں نے (اپنے پاس والے شخص سے) کہا : آپ نے کیا فرمایا ہے ؟ اس نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے :’’ جو شخص چاہے اس سے گوشت کاٹ کر لے جائے ۔‘‘ ابوداؤد ۔ عبداللہ بن عباس ؓ اور جابر ؓ سے مروی حدیث باب الاضحیۃ میں ذکر کی گئی ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے جس نے قربانی کی ہے ۔ تیسرے دن کے بعد (یعنی چوتھے روز) اس کے گھر میں قربانی کا گوشت نہیں ہونا چاہیے ۔‘‘ جب آئندہ سال آیا تو صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جس طرح ہم نے پچھلے سال کیا تھا کیا اس سال بھی ہم ویسے ہی کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کھاؤ ، کھلاؤ اور ذخیرہ بھی کرو ، کیونکہ گزشتہ سال لوگ قحط سالی کی وجہ سے تکلیف میں تھے ، اس لیے میں نے ارادہ کیا کہ تم ان کی اعانت کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔