امام احمد اور ابن ماجہ نے عمر ؓ سے ((خبث الحدید)) تک روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وجوبِ حج کی شرط کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ زادراہ اور سواری ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا : حاجی کی صفت کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پراگندہ ، بکھرے ہوئے بال اور میل کچیل ۔‘‘ پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کون سا حج افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بلند آواز سے تکبیریں کہنا اور قربانی کا خون بہانا ۔‘‘ پھر ایک اور کھڑا ہوا تو اس نے عرض کیا ، راستے سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ زادراہ اور سواری ۔‘‘ شرح السنہ ، اور امام ابن ماجہ نے اسے اپنی سنن میں روایت کیا لیکن انہوں نے آخری بات (راستے سے کیا مراد ہے ؟) ذکر نہیں کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی شرح السنہ و ابن ماجہ ۔
ابورزین عقیلی ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والد بہت بوڑھے ہیں ، وہ حج و عمرے کی استطاعت رکھتے ہیں نہ سواری کر سکتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے والد کی طرف سے حج و عمرہ کر ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی آدمی کو شُبرمہ کی طرف سے تلبیہ (لبیک) کہتے ہوئے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ شبرمہ کون ہے ؟‘‘ اس نے کہا : میرا بھائی ہے یا میرا کوئی قریبی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے خود حج کیا ہوا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پہلے اپنی طرف سے حج کرو ، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا ۔‘‘ حسن ، رواہ الشافعی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مشرق کے لیے عقیق کو میقات قرار دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق کو میقات قرار دیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام کے لیے حج یا عمرہ کا احرام باندھے تو اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں یا اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، اہل یمن حج کرتے تو وہ زادراہ ساتھ نہیں لیتے تھے اور وہ کہتے تھے ہم توکل کرنے والے ہیں ۔ لیکن جب وہ مکہ پہنچ جاتے تو پھر لوگوں سے سوال کرتے ، تب اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی :’’ زادراہ لے لیا کرو ، اور بہترین زادراہ تقویٰ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا عورتوں پر جہاد فرض ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ، ان پر جہاد فرض ہے لیکن ان میں قتال نہیں ، اور وہ جہاد حج و عمرہ ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو کوئی ظاہری حاجت (زادِراہ اور سواری کی عدم دستیابی) یا ظالم بادشاہ یا (سفر سے) روکنے والا مرض ، حج سے نہ روکے اور وہ پھر بھی حج کیے بغیر فوت ہو جائے تو پھر اگر وہ چاہے تو یہودی ہو کر مرے اور اگر چاہے تو نصرانی ہو کر ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حج اور عمرہ کرنے والے ، اللہ کے تقرب کا قصد کرنے والے ہیں ۔ اگر وہ اس سے دعا کریں تو وہ ان کی دعا قبول فرمائے اور اگر وہ اس سے مغفرت طلب کریں تو وہ انہیں بخش دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تین قسم کے لوگ ، مجاہد ، حاجی اور عمرہ کرنے والے ، اللہ کے تقرب کا قصد کرنے والے ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی و البیھقی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم حاجی سے ملو تو اسے سلام کرو ، اس سے مصافحہ کرو اور اس سے پہلے کے وہ اپنے گھر میں داخل ہو ۔ اس سے درخواست کرو کہ وہ تمہارے لیے مغفرت طلب کرے ، کیونکہ اس کی مغفرت ہو چکی ہے (اور ایسے شخص کی دعا قبول ہوتی ہے) ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص حج یا عمرہ یا جہاد کرنے کے لیے روانہ ہو ، پھر وہ اس کے راستے میں (عمل کرنے سے پہلے) فوت ہو جائے تو اللہ اس کے لیے جہاد کرنے والے ، حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے کا اجر عطا فرماتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ، آپ کے احرام باندھنے سے پہلے ، خوشبو لگایا کرتی تھی ، اور اسی طرح جب طواف (افاضہ) سے پہلے احرام کھول دیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کستوری کی خوشبو لگایا کرتی تھی گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مانگ میں جبکہ آپ حالت احرام میں تھے ، خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں ۔ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلبیہ کہتے ہوئے سنا ، جبکہ آپ بال جمائے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :’’ میں حاضر ہوں ، اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، آپ کا کوئی شریک نہیں ، بے شک ہر قسم کی تعریف ، تمام نعمتیں اور بادشاہت تیرے ہی لیے ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کلمات میں کوئی اضافہ نہیں کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا پاؤں رکاب میں رکھ لیتے اور آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی تو آپ ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس تلبیہ پکارتے ۔ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (حج کے لیے) روانہ ہوئے تو ہم بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکارتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ابوطلحہ ؓ کے پیچھے سواری پر سوار تھا اور وہ (صحابہ کرام) حج اور عمرہ کا اکٹھا تلبیہ کہہ رہے تھے ۔ رواہ البخاری ۔