Back to Mishkat Al-Masabih

The Rites of Pilgrimage

كتاب المناسك

Chapter 10

Hadith 2725
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ حَمْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى الْحَزْوَرَةِ فَقَالَ: «وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ وَأَحَبُّ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خرجْتُ» . رَوَاهُ الترمذيُّ وَابْن مَاجَه
Urdu

عبداللہ بن عدی بن حمراء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حزورہ کے مقام پر کھڑے ہوئے دیکھا اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے :’’ اللہ کی قسم ! تو اللہ کی زمین کا سب سے بہترین ٹکڑا اور اللہ کی ساری زمین سے اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے ، اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں کبھی نہ نکلتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

Hadith 2726
sahih
عَن أبي شُريَحٍ العَدوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الغدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ: حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذِنَ لرَسُوله وَلم يَأْذَن لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أُذِنَ لِي فِيهَا سَاعَة نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ وَلْيُبْلِغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ . فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالُ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ أَنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي الْبُخَارِيِّ: الْخَرْبَةُ: الْجِنَايَة
Urdu

ابوشریح عدوی ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے ، جب کہ وہ مکہ کی طرف لشکر روانہ کر رہا تھا ، کہا : جناب امیر ! اگر تم مجھے اجازت دو تو میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے اگلے روز بیان فرمائی تھی ، جسے میرے کانوں نے سنا ، میرے دل نے اسے یاد کیا اور میری آنکھوں نے اسے دیکھا ، جب آپ نے وہ حدیث بیان کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ بے شک مکہ ایسی جگہ ہے جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے ، اور اسے کوئی لوگوں نے حرام قرار نہیں دیا ، جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس میں خون ریزی کرے اور اس کے درخت کاٹے ، ہاں اگر کوئی شخص اس میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قتال کرنے سے قتال کی اجازت و رخصت لے تو اسے کہو : بے شک اللہ نے اپنے رسول کو اس کی اجازت دی تھی اور تمہیں اجازت نہیں دی اور مجھے بھی ایک دن کے کچھ حصے کے لیے اجازت دی گئی تھی اور اس کی حرمت آج بھی ویسے ہی ہے جیسے کل تھی ، اور چاہیے کہ جو یہاں موجود ہے وہ غیر موجود تک یہ باتیں پہنچا دے ۔‘‘ ابوشریح ؓ سے پوچھا گیا کہ عمرو نے تمہیں کیا جواب دیا ؟ انہوں نے کہا : اس نے مجھے کہا : ابوشریح ! میں اسے تم سے زیادہ جانتا ہوں بے شک حرم کسی گناہ گار کو پناہ دیتا ہے نہ کسی مفرور قاتل کو اور نہ ہی کسی مفرور چور کو پناہ دیتا ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور صحیح بخاری میں ہے کہ الخربۃ کا معنی الجنایہ (قصور) ہے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2727
sahih
وَعَن عيَّاشِ بنِ أبي ربيعةَ المَخْزُومِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ هَذِهِ الْأُمَّةُ بِخَيْرٍ مَا عَظَّمُوا هَذِهِ الْحُرْمَةَ حَقَّ تَعْظِيمِهَا فَإِذَا ضَيَّعُوا ذلكَ هلَكُوا» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

عیاش بن ابی ربیعہ المخزومی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ اُمت خیر و بھلائی پر قائم رہے گی جب تک یہ اس حرمت (مکہ مکرمہ) کی اس کی تعظیم کے مطابق اس کی تعظیم کرتی رہے گی ، جب وہ اس کو ضائع کریں گے تو ہلاک ہو جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔

Hadith 2728
sahih
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ فمنْ أحدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ذمَّةُ المسلمينَ واحدةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عدل» وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صرف وَلَا عدل»
Urdu

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صرف قرآن اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے وہ لکھا ہے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مدینہ عیر سے ثور تک حرم ہے ، جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعت ایجاد کرنے والے کو پناہ دے تو اس پر اللہ تعالیٰ ، تمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اس کی نفل عبادت قبول ہو گی نہ فرض ۔ مسلمانوں کی امان ایک ہی ہے ، اور اس میں ادنی مسلمان کی امان کی بھی برابر حیثیت ہے ، جو شخص کسی مسلمان کے عہد کو توڑے تو اس پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اس کا نفل قبول ہو گا نہ فرض ، اور جو شخص اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے معاہدہ کر لے تو اس پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اور اس کا نفل قبول ہو گا نہ فرض ۔‘‘ اور صحیحین ہی کی روایت میں ہے :’’ جو شخص اپنے آپ کو باپ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کر لے یا اپنے مالکوں کے علاوہ کسی اور سے معاہدہ کر لے تو اس پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اس سے نفل قبول ہو گا نہ فرض ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2729
sahih
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ: أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا وَقَالَ: «الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يعلَمونَ لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَو شَهِيدا يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں مدینہ کے دونوں پتھریلے مقاموں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں ، اور اس علاقے کا درخت کاٹنا یا اس کا شکار قتل کرنا حرام ہے ۔‘‘ اور فرمایا :’’ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے کاش کہ وہ جانتے ، اگر کوئی شخص اس سے عدم رغبت کی وجہ سے اسے چھوڑ جائے گا تو اللہ اس میں اس کے بدلہ میں ایسے شخص کو آباد کرے گا ، جو اس سے بہتر ہو گا ، اور جو شخص اس کی بھوک اور تکلیف پر صبر کرے گا تو روز قیامت میں اس کی سفارش کروں گا یا میں اس کے حق میں گواہی دوں گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2730
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میری اُمت میں سے جو شخص مدینہ کی بھوک اور اس کی تکلیف پر صبر کرے گا تو روز قیامت میں اس کی سفارش کروں گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2731
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرَةِ جَاءُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَخَذَهُ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَأَنَا أدعوكَ للمدينةِ بمثلِ مَا دعَاكَ لمكةَ ومِثْلِهِ مَعَهُ» . ثُمَّ قَالَ: يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ فيعطيهِ ذَلِك الثَّمر. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب لوگ پہلا پہلا پھل دیکھتے تو اسے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے پکڑلیتے تو دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! ہمارے لیے پھلوں میں برکت فرما ، اے اللہ ! ہمارے لیے ہمارے مدینے میں برکت فرما ، ہمارے صاع اور ہمارے مد (ناپ تول کے پیمانے) میں برکت فرما ، اے اللہ ! بے شک ابراہیم ؑ تیرے بندے ، تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے ، اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں ، بے شک انہوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا فرمائی اور میں تجھ سے اسی مثل مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں اور اس کی مثل اس کے ساتھ مزید دعا کرتا ہوں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے کسی سب سے چھوٹے بچے کو بلاتے اور وہ پھل اسے دے دیتے ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 2732
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَامًا وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سلاحٌ لقتالٍ وَلَا تُخبَطَ فِيهَا شجرةٌ إِلَّا لعلف» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوسعید ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرام قرار دیا اور اس کی حرمت کو ثابت کیا ، اور میں مدینہ کو ، اس کے دو پہاڑوں کے درمیانی علاقے کو ، حرام قرار دیتا ہوں کہ اس میں خون ریزی کی جائے نہ قتال کے لیے اس میں اسلحہ اٹھایا جائے اور نہ ہی چارے کے علاوہ اس کے درختوں کے پتے جھاڑے جائیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2733
sahih
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ فَقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي أَنْ يرد عَلَيْهِم. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عامر بن سعد ؒ سے روایت ہے کہ سعد (بن ابی وقاص ؓ) موضع عقیق میں واقع اپنے محل کی طرف جا رہے تھے کہ انہوں نے کسی غلام کو درخت کاٹتے ہوئے یا اس کے پتے جھاڑتے ہوئے پایا تو انہوں نے اس کا کپڑا سلب کر لیا ، جب سعد ؓ واپس (مدینہ) آئے تو غلام کے مالک ان کے پاس آئے اور ان سے بات کی کہ انہوں نے غلام سے جو کچھ لیا ہے وہ اسے ان کے غلام کو یا ہمیں واپس لٹا دیں ، اس پر انہوں (سعد ؓ) نے فرمایا : اللہ کی پناہ کہ میں اس چیز کو واپس کر دوں جو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بطور غنیمت عطا فرمائی ہے ، اور انہوں نے انہیں وہ کپڑا واپس کرنے سے انکار کر دیا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 2734
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صاعها ومدها وانقل حماها فاجعلها بِالْجُحْفَةِ»
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر ؓ اور بلال ؓ بخار میں مبتلا ہو گئے ، میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور آپ کو بتایا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! جس طرح ہمیں مکہ محبوب ہے اس طرح یا اس سے بھی زیادہ مدینہ ہمیں محبوب بنا دے اور اسے صحت افزا بنا دے ، اس کے صاع و مد میں ہمارے لیے برکت فرما دے اور اس کے بخار کو منتقل فرما اور اسے جحفہ بھیج دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2735
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ: رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى نَزَلَتْ مَهْيَعَةَ فَتَأَوَّلْتُهَا: أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَى مَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مدینہ کے بارے میں خواب کے متعلق روایت ہے ، (آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا) :’’ میں نے ایک سیاہ فام پراگندہ بالوں والی عورت کو مدینہ سے نکل کر ’’ مھیعہ ‘‘ پر قیام کرتے ہوئے دیکھا ، میں نے اس کی تاویل کی کہ مدینہ کی وبا ’’ مھیعہ ‘‘ منتقل کر دی گئی ہے ، اور ’’ مھیعہ ‘‘ جحفہ کا ہی نام ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 2736
sahih
وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُفْتَحُ الْيَمَنُ فَيَأْتِي قومٌ يبُسُّونَ فيَتَحمَّلونَ بأهليهم وَمن أطاعهم وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَيُفْتَحُ الشَّامُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ وَيُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يعلمُونَ»
Urdu

سفیان بن ابی زہیر ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ یمن فتح ہو جائے گا تو کچھ لوگ اپنے اونٹوں کو تیز چلاتے ہوئے آئیں گے تو وہ اپنے اہل و عیال اور اپنے اطاعت گزار لوگوں کو سوار کر کے لے جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا کاش کہ وہ جانتے ، اور شام فتح ہو جائے گا تو کچھ لوگ اونٹوں کو تیز چلاتے ہوئے آئیں گے تو وہ اپنے اہل خانہ اور جو ان کی اطاعت اختیار کر لیں گے اُن کو سوار کر کے لے جائیں گے ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا کاش وہ جان لیتے ، اور عراق فتح ہو جائے گا تو کچھ لوگ اونٹوں کو تیز دوڑاتے ہوئے آئیں گے اور وہ اپنے اہل و عیال اور اپنے اطاعت گزار لوگوں کو سوار کر کے لے جائیں گے ، جبکہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا کاش کہ وہ جان لیتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2737
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى. يَقُولُونَ: يَثْرِبَ وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے ایک ایسی بستی میں قیام کرنے کا حکم دیا گیا جو دوسری بستیوں پر غالب آ جائے گی ، وہ اسے یثرب کہتے ہیں ، جبکہ وہ مدینہ ہے ، وہ لوگوں کو ایسے نکال باہر کرتی ہے جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل نکال باہر کرتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2738
sahih
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الله سمى الْمَدِينَة طابة» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2739
sahih
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعَكٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خبثها وتنصع طيبها»
Urdu

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تو اس اعرابی کو مدینہ میں بخار ہو گیا ، وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا : محمد ! (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) میری بیعت واپس کر دیں ، لیکن رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انکار کر دیا ، وہ پھر آیا اور کہا : میری بیعت واپس کر دیں ، لیکن آپ نے انکار فرمایا ، وہ پھر آپ کے پاس آیا تو اس نے کہا : میری بیعت توڑ دیں ، لیکن آپ نے انکار فرمایا ، وہ اعرابی (مدینہ) سے چلا گیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مدینہ بھٹی کی طرح ہے کہ وہ بُری چیز کو نکال دیتا ہے جبکہ اچھی چیز کو وہ خالص بنا دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2740
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيد» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ مدینہ بُرے لوگوں کو نکال باہر کرے گا جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل نکال باہر کرتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2741
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مدینہ کے داخلی راستوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں ، اس میں طاعون داخل ہو گا نہ دجال ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2742
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنْ بلدٍ إِلا سَيَطَؤهُ الدَّجَّالُ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ لَيْسَ نَقْبٌ مِنْ أَنِقَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ صَافِّينَ يَحْرُسُونَهَا فَيَنْزِلُ السَّبِخَةَ فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ»
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مکہ اور مدینہ کے علاوہ دجال ہر شہر کو خراب کر ڈالے گا ، ان دونوں شہروں کے تمام داخلی راستوں پر فرشتے صفیں باندھیں ان کی حفاظت کر رہے ہیں ، وہ (دجال) شور والی زمین پر اترے گا ، پھر مدینہ اپنے رہنے والوں کو تین بار خوب جھٹکا دے گا تو ہر کافر و منافق اس (دجال) کی طرف نکل جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2743
sahih
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَكِيدُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ إِلَّا انْمَاعَ كَمَا يَنْمَاعُ الْملح فِي المَاء»
Urdu

سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اہل مدینہ سے دھوکہ کرے گا تو وہ اس طرح پگھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2744
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَنَظَرَ إِلى جُدُراتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حركها من حبها. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے اور مدینہ کی دیواروں پر نظر پڑتی تو آپ مدینہ سے محبت کی وجہ سے اپنی اونٹنی کو ، اور اگر کسی اور سواری پر ہوتے تو اسے تیز دوڑاتے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔