ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ واپس آ رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیچھے اونٹوں کو بہت مارنے اور ڈانٹنے کی آوازیں سنیں تو آپ نے اپنے کوڑے سے ان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا :’’ لوگو ! سکینت اختیار کرو کیونکہ سواریوں کو تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عرفات سے مزدلفہ تک اسامہ بن زید ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھے تھے ، پھر آپ نے مزدلفہ سے منیٰ تک فضل بن عباس ؓ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا ، ان دونوں نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرہ عقبی کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پکارتے رہے ۔ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب و عشا کی نمازیں مزدلفہ میں اکٹھی پڑھیں اور ہر نماز کے لیے اقامت کہی ، آپ نے ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نفل نماز پڑھی نہ ان میں سے کسی کے بعد ۔ رواہ البخاری ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ، مزدلفہ میں دو نمازوں ، نمازِ مغرب اور عشا کو جمع کرنے اور اسی روز نمازِ فجر کو اس کے وقت سے پہلے پڑھنے کے سوا ، ہمیشہ نمازوں کو ان کے اوقات میں پڑھتے ہوئے دیکھا ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں بھی ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ کی رات اپنے اہل خانہ کے ضعیف افراد کے ساتھ پہلے (منیٰ) روانہ کر دیا تھا ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ ، فضل بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں سے ، جبکہ وہ واپس آ رہے تھے ، فرمایا :’’ آرام سے آؤ ۔‘‘ جبکہ آپ اپنی اونٹنی کو (تیز چلنے سے) روک رہے تھے ، حتی کہ آپ وادی محسر میں داخل ہو گئے جو کہ منیٰ کے قریب ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’جمرہ کی رمی کرنے کے لیے چھوٹی چھوٹی کنکریاں لے لو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پکارتے رہے ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ سے واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سکینت و اطمینان تھا ، اور آپ نے صحابہ کو بھی آرام سے چلنے کا حکم فرمایا ، جبکہ وادی محسر میں آپ تیز چلے اور انہیں حکم فرمایا کہ انگلی پر رکھ کر ماری جانے والی کنکری کے برابر کنکریاں مارو ، اور فرمایا :’’ شاید اس سال کے بعد میں تمہیں نہ دیکھ سکوں ۔‘‘ میں نے یہ حدیث تقدیم و تاخیر کے ساتھ جامع ترمذی کے علاوہ صحیحین میں نہیں پائی ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
محمد بن قیس بن مخرمہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا تو فرمایا :’’ اہل جاہلیت عرفات سے اس وقت لوٹا کرتے تھے جب سورج غروب ہونے سے پہلے اس طرح ہو جیسے آدمیوں کی پگڑیاں ان کے چہروں پر ہوں ، اور مزدلفہ سے طلوعِ آفتاب کے بعد جیسے آدمیوں کی پگڑیاں ان کے چہروں پر ہوں ۔ جبکہ ہم غروب آفتاب کے بعد عرفات سے لوٹتے ہیں اور طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے واپس آتے ہیں ، ہمارا طریقہ ، بتوں کے پجاریوں اور مشرکوں کے طریقے سے مختلف ہے ۔‘‘ بیہقی ۔ اور فرمایا : ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا ، اور باقی حدیث ویسے ہی بیان کی ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی سنن الکبریٰ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مزدلفہ کی رات بنو عبدالمطلب کے بچوں کے ہمراہ گدھوں پر بٹھا کر پہلے ہی روانہ کر دیا تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیار سے ہماری رانوں پر مار رہے تھے اور فرما رہے تھے :’’ میرے پیارے بچو ! جب تک سورج طلوع نہ ہو جائے جمرہ کو کنکریاں نہ مارنا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام سلمہ ؓ کو قربانی کی رات ہی بھیج دیا تھا ، انہوں نے فجر سے پہلے ہی جمرہ کو کنکریاں مار لی تھیں ، پھر وہ (منیٰ سے) چلی گئیں اور طواف افاضہ کیا ، اور یہ وہ دن تھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، مقیم (مکے کا رہنے والا) یا عمرہ کرنے والا حجر اسود کے استلام تک تلبیہ پکارتا رہتا تھا ۔ ابوداؤد ۔ اور فرمایا : اور یہ عبداللہ بن عباس ؓ پر موقوف روایت کی گئی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
یعقوب بن عاصم بن عروہ سے روایت ہے کہ انہوں نے شرید ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ میں عرفات سے مزدلفہ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ واپس آیا تو مزدلفہ پہنچنے تک آپ کے قدم مبارک زمین پر نہیں لگے ۔ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر آئے) اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن شہاب بیان کرتے ہیں ، سالم نے مجھے بتایا کہ جس سال حجاج بن یوسف ، ابن زبیر کے مدمقابل آیا تو اس نے عبداللہ بن عمر ؓ سے مسئلہ دریافت کیا ، ہم عرفہ کے دن وقوف میں (نمازوں کا) کیا کریں ؟ سالم نے کہا : اگر تم سنت کی اتباع کرنا چاہتے ہو تو پھر عرفہ کے دن نماز کو جلدی پڑھو ، عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے ، وہ ظہر و عصر کو سنت کے مطابق ہی جمع کیا کرتے تھے ۔ میں نے سالم سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کیا ؟ تو سالم نے کہا : وہ (صحابہ ؓ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہی کی اتباع کرتے ہیں ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے قربانی کے دن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ، اپنی سواری پر بیٹھے ہوئے کنکریاں مارتے دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :’’ تم اپنے حج کے طریقے سیکھ لو ، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ شاید میں اپنے اس حج کے بعد حج نہ کر سکوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چٹکی میں لے کر چلائی جانے والی کنکری کے برابر کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن چاشت کے وقت کنکریاں ماریں ، جبکہ اس کے بعد سورج ڈھل جانے کے بعد ماریں ۔ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ وہ جمرہ کبری (بڑے شیطان) کے پاس پہنچے ، بیت اللہ کو اپنی دائیں جانب اور منیٰ کو اپنی بائیں جانب رکھا اور سات کنکریاں ماریں ، وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے ، پھر انہوں نے فرمایا : جس ذاتِ اقدس پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی ، انہوں نے بھی اسی طرح کنکریاں ماریں تھیں ۔ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ استنجا کے لیے ڈھیلے استعمال کرنے کی تعداد طاق ہے ، کنکریاں مارنا طاق ہے ، صفا مروہ کے درمیان سعی طاق ہے اور طواف طاق ہے ، جب تم میں سے کوئی استنجا کے لیے ڈھیلے استعمال کرے تو وہ طاق عدد میں ڈھیلے استعمال کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
قدامہ بن عبداللہ بن عمار ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قربانی کے دن اپنی سرخی مائل سفید اونٹنی پر بیٹھ کر کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ، وہاں کسی کو روکا جا رہا تھا نہ ہٹایا جا رہا تھا اور نہ ہی یہ کہا جا رہا تھا کہ ہٹ جاو ٔ ! ہٹ جاؤ ! حسن ، رواہ الشافعی و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
عائشہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کنکریاں مارنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا اللہ کا ذکر قائم کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے ۔‘‘ ترمذی ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔